بدھ، 29 مئی، 2013

اسلام کا دائرہ

اسلام کا دائرہ !


ایک صاحب نے انشاء کی کتاب سے مولوی پر پھبتی کسی ،


دائرے کی تعریف یوں تو دائروں کی بہت سی قسمیں ہوا کرتی ہیں لیکن ہمیں ایک ہی قسم کا دائرہ مہیا ہے جسے " دائرہ اسلام " کہا جاتا ہے کہ جوں جوں ملاؤں کا پیٹ پھیلتا تو اس دائرے کا حدود اربعہ سکڑتا جاتا ہے . سنا ہے کہ پہلے کبھی اس دائرے میں اندراج بھی ہوا کرتا تھا مگر آجکل داخلہ سختی سے منح ہے صرف اخراج ہی اخراج ہوا کرتا ہے !


اور پھر دردمندی سے گویا ہوے...


 سچائی یہ ہے کہ هم اللہ تعالیٰ کی کتاب کو ایک مانیں تب نہایسا کیوں ہوتا ہے؟جب ہم مذھب کی بات کرتے ہیں تو دیگر مذاھب کے لوگ ہمیں جہنمی نظر آتے ہیں لیکن جب بات فرقوں کی ہوں تو دیگر فرقوں کے لوگ ہمیں کافر لگتے ہیں۔ حد تو یہ کہ ایک ہی فرقے کے کسی دوسرے گروہ کے ساتھ ایک ہی دسترخوان پربیٹھنا اور ایک دوسرے کی مسجد میں نماز پڑھنا ہمیں گوارا نہیں کہ اس سے ہمارے عقیدے پہ آنچ آتی ہے۔


ایک دوسرے کو جنت کا صحیح راستہ دکھانے کی دوڑ میں ہم اتنے آگے نکل آے ہیں کہ ہم نے دنیا کو ہی جہنم بنا کے رکھ دیا ہے۔ حالانکہ مذھب چاہے کوی بھی ہو بنیادی طور پر پیارومحبت اور انسانیت کا درس دیتا ہے۔ لیکن ہم ہیں کہ مذھب کی بات سامنے آتے ہی پیار و محبت اور انسانیت بھول جاتے ہیں، تمام قانونی اور اخلاقی حدیں پار کرلیتے ہیں اور معاملہ زور زبردستی سے حل کرنا شروع کر دیتے ہیں


اور پھر سارا ملبہ مولوی پر ڈال کر فتویٰ صادر  کیا!


(ان جاہل مولویوں نے وہ تمام کام جو دنیا میں "حرام" ہیں وہ جنت میں "حلال" ہوں گے۔ انہی حرام کاریوں کو سرانجام دینے کیلئے مومنین جنت جانا چاہتے ہیں۔)


انکے سوالات سن کر کچھ اور سوالات پیدہ ہوتے ہیں ،،،،



سوال بہت سادہ اور آسان ہے!


 جناب مٹی ڈالیے مولویوں پر یہ بھی دور جدید کا فیشن ہے دو گالیاں مولوی کو دے دیجئے اب اپکا شمار جدت پسندوں میں کیا جا سکتا ہے مبارک ہو !


جدت پسندوں سے توقع ہوتی ہے کہ وہ معقولیت  پسند بھی ہوں اور معقولیت  متقاضی ہے کچھ معقول سوالات کے جوابات کی خاص کر ان احباب سے جنہوں نے بزعم خود مذہب سدھار کا ٹھیکہ لیا ہوا ہے ،


مختلف اشیا اپنے  مخصوص اوصاف سے پہچانی جاتی ہیں اور تقسیم در تقسیم کا یہ عمل کسی  زنجیری ردعمل کی طرح بڑھتا چلا جاتا ہے پھل ،پھول ،پودے ،نباتات ،جمادات ،حیوانات اور انسان اپنے اوصاف کی وجہ سے ایک دوسرے سے ممتاز ہیں ...اسی طرح ایک ہی نوع کو لیجئے پہاڑی پتھر صحرائی ڈھیلے سے مختلف ہے سمندری پانی دریائی پانی سے ممتاز کتا اور شیر دونوں گوشت خور ہیں ،سب جانور ایک جیسے نہیں سب پرندے ایک جیسے نہیں اسی طرح سب انسان بھی کوئی کالا اور کوئی گورا کوئی موٹا کوئی دبلا ،پھر انسانی نفسیات کا مشاہدہ کیجئے کوئی غصیل تو کوئی نرم مزاج کوئی مسخرگی کی حد تک خوش مزاج اور کوئی کرختگی کی حد تک سنجیدہ ،پھر ایک ہی انسان کی زندگی کے ادوار میں اسکے احساسات و کیفیات کا مختلف ہونا  بوڑھا بچہ جوان یا نوجوان ایک ہی شخص کے الگ روپ ،اور پھر رشتوں کی تقسیم وہ باپ ہے یا ماں ہے بھائی ہے یا بہن بیٹا ہے یا بیٹی دوست ہے دشمن ہے استاد ہے شاگرد ہے نوکر ہے اور غلام ہے بیک وقت بہت کچھ ہے ...


اگر ان  رنگوں کو ختم کر دیا جاۓ تو  انفرادیت کی موت ہے اور یکسانیت کا ہونا تعارف یا پہچان کی موت مختلف اضداد اپنی ضد کی پہچان کا ذریعہ ہیں ،،،،


اب ذرا یہی اصول دین ،مذہب فکر یا نظریات پر  لاگو کریں کیا تمام ادیان ایک ہی ہیں کیا بت کی پرستش کرنے والا اور ایک خدا کو ماننے والا تثلیث کا قائل یا نروان کا متلاشی ایک جیسے ہیں ....پھر ایک ہی مذہب کو لیجئے کیا اسکے کچھ اوصاف و کمالات ہیں اگر ہیں تو کیا جس میں وہ اوصاف و کمالات نہ ہونگے اسکو اس مذہب سے الگ سمجھا جا سکتا ہے ....


کیا ریشم و ٹاٹ ایک ہی ہیں اور اگر نہیں تو کیوں نہیں کیا ٹاٹ کو ریشم نہ ماننا دقیانوسیت ،فرقہ  واریت یا انتہا پسندی کہلانے گی ......


سادہ پانی اور مشروب میں فرق ہے کیا اس فرق کو فرق کہا جا سکتا ہے کیونکہ تکنیکی بنیادوں پر پانی بھی تو مشروب ہی ہے .......کیا یہی فرق ادیان و مذاہب میں نہیں اور کیا یہی فرق درون  مذاہب نہیں ہو سکتا ایک کہتا ہے الله کے رسول آخری نبی صل الله علیہ وسلم ہیں دوسرا کہتا ہے نہیں نہیں انکے بعد بھی ایک آیا ہے کیا دونوں ایک جیسے ہیں ......ایک کہتا ہے الله کے رسول کے ساتھی سارے سچے دوسرا کہتا ہے نہیں سب جھوٹے کیا دونوں برابر ہیں ......ایک کہتا ہے تمام طاقتیں الله کی وہی مددگار ہے دوسرا کہتا ہے نہیں کچھ شرکا بھی ہیں کیا دونوں سچے ....یہی وہ دائرہ ہے یا دائرے ہیں کیا یہ عقلی اور فطری ہیں یا نہیں 


سوچنے کی بات ہے .


حسیب احمد حسیب 

ایک تبصرہ شائع کریں