اتوار، 23 دسمبر، 2012




اک مکالمے کا احوال جہاں اشاروں اور کنایوں میں تصور خدا کا انکار کیا گیا تھا اور جب اسپر تنقید کی گئی تو صاحب مضمون کا تاثر کچھ یوں تھا ،
Javed Sarwar مجھے ابھی تک اپ کے کسی سوال کی سمجھ نہیں آئی ؟؟؟؟ اور دوسری بات میں کسی سوال کے جواب دینے کا پابند نہیں اگر اپ کا عقیدے کے بل بوتے پر مجھ سے بحث کرنے کے خواہشمند ہیں تو میں آپ سے معذرت خواہ ہوں مذہبی لوگوں کے سوالوں کے جواب دینے سے میں قاصر ہوں
مضمون اور اسپر کی گئی تنقید !


تصور خدا اور تضاد ات
خدا کے بارے میں آج کا رائج تصور یہ ہے کہ وہ خدا کو خالق کائنات تسلیم کرتا ہے جس کا ہم خود بھی حصہ ہیں ۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ خالق اور مخلوق دو الگ الگ ہستیاں ہیں ۔ خالق اور مخلوق کی یہ حد بندی خدا کو ناگزیر طور پر محدود ہستی کا درجہ دے دیتی ہے ۔ ایک طرف خالق اور دوسری طرف مخلوق اس طرح خدا ایک متعین چیز بن جاتا ہے لیکن اگر خدا کو لا محدود مان لیا جائے تو پھر خدا اور کائنات دونوں الگ الگ نہیں ہو سکتے۔ محدود کا لا محدود میں شامل ہو جانا ضروری اور فطری امر ہے۔ لا محدود کا مطلب ہمہ جہت " ڈیمنشن" میں لا محدود اس طرح خالق و مخلوق کے بارے میں قائم قدیم روایتی تصور غلط ہو جاتا ہے یا دوسری صورت میں محدود بن جاتا ہے۔ صاف ظاہر ہے جو ہستی کے حساب سے محدود ہے تو اس کی دوسری صفات کس طرح لا محدود ہو سکتی ہیں ؟لا محدود غیر متعین ہوتا ہے جس کے بارے کوئی مزید بات چیت نہیں کی جا سکتی سوچ، خیال، زبان، شعور سب ساتھ چھوڑ جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ خدا کو لا محدود جانتے ہوئے بھی اسے ایک محدود ہستی کے طور پر استعمال کرنا لازمی ہو جاتا ہے جس سے وہ ایک شخصیت بن جاتا ہے جس میں تمام انسانی جذبات اور خصوصیات آ موجود ہوتی ہیں۔ باقاعدہ ایک فعال بادشاہ کی حیثیت سے کائنات کی سلطنت چلاتا ہے۔ کبھی دل چاہے تو کائنات کے نظام میں مداخلت بھی کرتا ہے اور فطرت کے رائج قوانین کو الٹ پلٹ دیتا ہے۔ اس کے باقاعدہ احساسات بھی ہیں وہ دعاؤں سے متاثر ہوتا ہے، دیکھتا ہے سنتا ہے اپنی مرضی کا مالک ہے۔ اس پر کوئی قانون، اصول لاگو نہیں ہوتا، پھر بھی اسے عادل کہا جاتا ہے جبکہ عادل کیلئے کسی قانون اور اصولوں کا پابند ہونا لازمی ہے! ورنہ وہ عادل ہو ہی نہیں سکتا کیونکہ مرضی کا مالک عادل نہیں ہوسکتاخدا کی صفت ہے وہ جو چاہے کرے اور جو اس طرح کی صفت کا حامل ہو وہ عادل کیسے سمجھا جا سکتا ہے ؟
دراصل عملی تقاضے خدا کو محدودیت کے دائرے میں لا کھڑا کرتے ہیں ظاہر ہے انسان خدا کا جو بھی مفہوم بیان کرے گا وہ اس کا اپنا تخیل ہو گا یعنی وہ اپنی دیکھی دنیا سے باہر اس کے بارے میں کوئی تصور نہیں بنا سکتا ۔ یہی وجہ ہے خدا کی آج تک کوئی ایسی صفت نہیں بنی یا بیان نہیں ہوئی ،جو انسان کی دیکھی یا محسوس کی ہوئی نہ ہو خدا کا ہر تصور انسان کی اپنی دنیا سے متعلق ہی بنا ۔ مزید براں مرنے کے بعد کی دنیا کے خود ساختہ تصوراتی نقشے میں بھی خود انسان کی اپنی دنیا کی چھاپ ملے گی۔
کیا یہ ایک حیرت کی بات نہیں ہے کہ خدا جو ماو رائے ہستی ہے اس کی کوئی بھی صفت ماورا ئی نہیں ۔ ناراض ہوتا ہے تو مادی چیزوں سے مادی نقصان پہنچاتا ہے اور اگر خوش ہوتا ہے تو اس دنیا کی دیکھی ہوئی مادی نوازشیں کرتا ہے ۔
جنت کی سب نعمتیں اور دوزخ کی سزائیں اسی مادی دنیا کا ہی عکس کیوں پیش کرتی ہیں؟
اس کی وجہ کہیں یہ تو نہیں کہ اس سارے ڈرامے کا مرکزی کردار، ہدایت کار اور پیشکار اس مادی دنیا کا محدود انسان ہی ہے۔ اب وہ ماورا ئی صفات لائے کہاں سے۔۔۔۔۔
اب دو ہی صورتیں سامنے آتی ہیں۔ خدا کو اس کائنات سے الگ ہستی کے طور پر مان لیا جائے تو پھر وہ اپنی ذات میں محدود ہو جاتا ہے اور محدود ہو جانے کی بنا پر وہ خدا ہی نہیں رہتا۔
اسی طرح لا محدود تصور کرلینے کی صورت میں شخصی خدا کا تصور اور اس کی تمام صفات کا خاتمہ ہو جاتا ہے اور انہی کی بنیاد پر آج کے رائج مذاہب نے اپنے اپنے خود ساختہ اعتقادات کی بلند و بالا عمارتیں کھڑی کر رکھی ہیں
ایک نہایت اہم بات یہ ہے کہ جہاں جتنی زیادہ ناخواندگی، لاعلمی، جہالت، اور معاشی پس ماندگی ہوتی ہے وہاں مذہب اپنے عروج پر ہوتا ہے یعنی لوگ اتنے ہی زیادہ مذہبی عقائد کی زنجیروں میں جکڑے نظر آتے ہیں۔
اور جو معاشرہ جتنا زیادہ ترقی یافتہ اور پڑھا لکھا ہو گا اتنا ہی خوبصورت اور مادی طور پر خوشحال معاشرہ ہو گا، وہاں کے لوگ اپنی روزمرہ کی سرگرمیوں اور فیصلوں میں مذہب کو دخل اندازی نہیں کرنے دیتے ۔
یعنی جہالت زدہ معاشرے میں اندھے اعتقاد، توہم پرستی، پوجا پرستش ماضی کی خود ساختہ روایات اور دوسری رسومات ایک غالب عنصر کی طرح موجود ہوتی ہیں۔ سائنس کی پیدا کی ہوئی مادی، روحانی اور ثقافتی ترقی کے ساتھ ہی جھوٹے اعتقاد بخارات بن کر انسانی زندگی سے رخصت ہو جاتے ہیں۔ کیا اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ عقائد کی دنیا انسانی شعور کے بچپن کی پیداوار اور قدیم اولین زمانے کی باقیات ہے۔ بالغ انسانی شعور اسے ایسے ہی چھوڑ دیتا ہے جیسے ہم بچپن کی حرکتیں چھوڑ دیتے ہیں ۔ مذہب میں خدا کو بطور شخصیت اور انسانی شکل " ہیومین فارمز" میں بیان کرنے کو " اینتھروپومورفیزم" کہتے ہیں ۔ آج کے مذہبی پیشواؤں کا کہنا ہے مذہبی کتابوں میں ایسی باتوں کو اپنے لغوی معنوں "لٹرلی" نہیں لینا چاہیے ۔ مثلاً خدا کی آواز کا مطلب سچ مچ کی خدا کی آواز نہیں ہے لیکن سوال پیدا ہوتا ہے کہ ایسی تفسیروں کا جنم اس وقت ہوتا ہے جب سائنسی علوم انسانی شعور کو اتنا آگے بڑھا دیتے ہے کہ مذہب کا بیانیہ قابل تشکیک ہو جاتا ہے چنانچہ پرانے مذہبی طرز بیان کو علم کی نئی روشنی کے مطابق ڈھالنا آج کے مذہبی دانشوروں کی مجبوری بن جاتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔
تمام مذاہب کا عمومی دعوی ہے کہ وہ خدا کا براہ راست یا بالواسطہ دیا ہوا علم ہے۔ یعنی ان مذاہب کی حیثیت قول خدا جیسی ہے۔ اب سوال یہ اٹھتا ہے کہ اگر مذاہب واقعی خدا کا براہ راست دیا ہوا علم ہے تو اس کائنات کے بارے میں مذاہب نے آج تک انسان کو جو معلومات بہم پہنچائیں ، وہ سائنس کی بیان کردہ حقیقتوں سے اتنی متضاد اور مبہم کیوں تھیں؟ ظاہر ہے سائنس ایک ایسا معروضی علم ہے جو ہمیں بتاتا ہے کہ خدا کی تخلیق کردہ دنیا کس ترتیب و ترکیب اور کن قوانین اور اصولوں کے تحت بنی ہوئی ہے۔ چنانچہ انسان بذریعہ سائنس اپنے ماحول کا صحیح علم حاصل کر کے ہی اپنے مقاصد کے لئے استعمال کرتا ہے اور اگر سائنس کے پاس چیزوں کا حقیقت پر مبنی علم نہ ہوتا تو انسان نے سائنس کے ذریعے جو نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں وہ ہرگز حاصل نہ ہوتیں۔ اب صورتحال یہ ہے کہ کائنات کو بجا طور پر خدا کا فعل "گاڈ ایکشن" کہہ سکتے ہیں یعنی کائنات اس کے سوا کیا ہے کہ " گاڈ ان ایکشن" ہے اور خدا کا یہ فعل کیسے اور کیونکر ہو رہا ہے ؟ اس علم کو سائنس کہتے ہیں اور مذاہب کے بقول ۔۔۔۔۔۔مذاہب خدا کا دیا ہوا زبانی علم ہے لیکن تاریخ اس موضوع پر ہماری رہنمائی نہیں کرتی کہ مذاہب نے انسان کو کائنات کے بارے صحیح، واضح اور غیر مبہم علم دیا ہو بلکہ اس کے برعکس قصے کہانیاں، مبہم باتیں اور غیر حقیقی تو جہات کی بھرمار کثیر تعداد میں نظر آتی ہے۔ انسان نے اس دنیا کے بارے میں جتنا علم بھی جمع کیا ہے مذاہب کا اس میں کوئی حصہ یا کسی قسم کا کردار نظر نہیں آتا بلکہ تاریخ ان واقعات سے بھری پڑی ہے (جہاں مذہب کا غلبہ ہے وہاں آج بھی ایسا ہی ہے) کہ عقائد اس دنیا کے بارے جاننے کی جستجو کے راستے کی ہمیشہ رکاوٹ بنے رہے۔ تقدس کے عقیدے نے انسانوں کی عقلوں اور سوچنے سمجھنے کی صلاحیت کو مفلوج کرد یا ہوا ہے ۔ بےشمار فلاسفر، مفکر اور سائنس دان مذہبی پیشواؤں کے کفر کے فتوں کا نشانہ بنے اگر یہ مذاہب حقیقت میں خدا کا بتایا ہوا علم ہوتے تو سائنسی انکشافات اور مذاہب کی بتائی ہوئی معلومات کا آپس میں کوئی تضاد نہ ہوتا لیکن خود ساختہ عقائد کی بنیاد پر آج کے رائج مذاہب انسان کو ایک ایسی مختلف دنیا کے زاویے "ور لڈ ویو" کی طرف لے جاتے ہیں جس کی سائنسی علم کے ٹھوس شواہد کی بنیاد پر انسانی شعور نفی کرتا ہے۔ مذہبی پیشوائیت مجموعی طور پر تجزیہ و تجربہ، ارتقاء و تغیر کی مخالفت کرتی ہے اور جمود و خود ساختہ کھوکھلی روایات و رسوم کی پیروی کی حمایت کرتی ہے۔ چونکہ ارتقاء و تغیر کائنات کا "اصل" ہے اور کوئی چیز اس سے نہیں بچ سکتی اس لئے جو معاشرہ جیسے جیسے مادی ترقی کی طرف بڑھتا ہے تو لوگ بدلتے حالات اور جدید علم کے مطابق مذہب کی مختلف قسم کی تعبیریں کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ اب سوال یہ اٹھتا ہے کہ اگر مذہبی علوم حقیقت میں سچائی پر مبنی ہے تو اس نے وہ بات پہلے اس طرح کیوں نا بتائی تاکہ وہ انسان کے علم و شعور کو ترقی دینے کا باعث بنتی۔ اب جبکہ انسانی کوشش پر مبنی علم سائنس جب آگے بڑھتا ہے اور کوئی بھی اس کے اثرات سے خود کو نہیں بچا پاتا تو نئے حالات میں ڈھل جانے کے لئے مذہب سے دلائل تلاش کرنے شروع کر دئیے جاتے ہیں۔ آج کے وقت میں سائنس نے اپنی حقیقت کو اس خد تک تسلیم کروا لیا ہے کہ دنیا کا کوئی بھی انسان چاہے وہ کتنا ہی بڑا مذہبی کیوں نہ ہو، وہ سائنسی علوم اور اس کی پیدا کردہ سہولیات سے خود کو محروم نہیں کر سکتا اور نہ ہی براہ راست سائنسی علوم کو چیلنج کر سکتا ہے ۔ لہذا ان کے پاس ایک یہی راستہ بچتا ہے مذہب کو سائنس کے مطابق قرار دے دیا جائے حالانکہ مذہب اور سائنس کو مطابقت دینا مذہب کی روح کے عین خلاف ہے کیوں کہ ہو سکتا ہے کہ کل کو سائنس اپنی ہی کہی ہوئی بات کو رد کر ڈالے یا تبدیل کردے کیونکہ کہ سائنس تو تحقیق پر مبنی ہے اس کی تحقیق کوئی نیا موڑ بھی لے سکتی ہے تو اس وقت کیا ہو گا؟؟
جب کہ آپ اسے عین مذہب قرار دے چکے ہونگے۔ مذہب اور سائنس انسانی تفہیم کے دو مختلف راستے ہیں چنانچہ مذہب کے زیر اثر معاشرے آج کل ایک قدم آگے اور دو قدم پیچھے کے نہ سمجھنے میں آنے والے دائرے کا شکار ہیں۔ مذہب کو چھوڑ بھی نہیں سکتے کہ وہ ان کی شناخت کا مسئلہ ہے اور سائنس کے کمالات سے وہ اپنی زندگی کو محروم بھی نہیں کر سکتے آج سائنس سے محرومی انفرادی اور قومی خود کشی کے سوا کچھ نہیں لہذا ملا (مذہبی پیشواء) لوگ سائنس کے ہر کمال اور انکشاف کو پہلے تو حیرت سے دیکھتے ہیں پھر دبے منہ خدا کے کاموں میں مداخلت قرار دیتے ہیں اور جب وہی سائنسی حقیقت روزمرہ کی زندگی کا معمول بن جاتی ہے تو پھر جھٹ سے کہتے ہیں کہ دیکھا مذہب کی فلاں فلاں شق کے مطابق بھی ایسا ہی تھا!
اصل میں ان سے کوئی یہ پوچھنے والا نہیں کہ اگر مذہب نے سینکڑوں سال پہلے اور ہزاروں سال پہلے ہی ایسا کہہ دیا تھا تو اس کے ماننے والوں نے ویسا کر کے کیوں نہیں دکھایا تھا ؟ یا اب سے پہلے اس شق کی تشریح ویسی کیوں نہیں کی گئی ؟
سیدھی سی بات ہے سائنس کی ایجادات اور انکشافات سے پہلے اس پہلو سے سوچا ہی نہیں جا سکتا تھا۔ عجیب بات تو یہ ہے کہ براہ راست نزول شدہ علم انسان کی ایسی رہنمائی نہ کرسکاجس سے قوانین فطرت کے پس منظر کو سمجھا جا سکتا ۔ جادوئی معجزوں کا ذکر مذاہب میں ایسے ملتا ہے جیسے یہ کائنات ایک منظم نظام کے تحت نہیں ، کسی شعبدہ بازی سے چل رہی ہو تمام کے تمام مذاہب اس طرح کی دیومالائی خود ساختہ قصوں کہانیوں سے بھرے پڑے ہیں ۔
اگر یہ مذاہب واقع سچے ہوتے تو ان کے عقائد انسان کو ان قوانین کے بارے میں حقیقی آگاہی فراہم کرتے جن سے یہ تمام کائنات روا دواں ہے تو اس صورت میں خدا پر انسان کا ایمان زیادہ ٹھوس بنیادوں پر ہوتا لیکن معاملہ اس کے الٹ ہے۔ مذہب اور سائنس کے اختلافات صرف دنیا اور کائنات کے علم تک ہی محدود نہیں ہیں ، بلکہ ان کے اختلافات کا اثر روزمرہ کی معاشرتی زندگی تک پھیلا ہوا ہے۔
قدامت پرستی ،جمود اور موجودہ حالت کی حمایت ہمیشہ مذہبی حلقوں کی طرف سے کی جائے گی۔ وہ اطوار حیات میں کسی قسم کی بھی تبدیلی کو نہایت ناگواریت سے قبول کرتے ہیں۔ وجہ یہ ہے کہ مذہب نے ہمیشہ ایک ٹھہری اور بنی بنائی دنیا کا تصور رکھا ہے۔ تغیر میں انہیں اپنا انجام نظر آتا ہے جیسا کہ اس کا ذکر ہو چکا ہے سائنس ہر وقت بننے اور بدلنے والی دنیا کا خاکہ پیش کرتی ہے ۔ اس کے نزدیک موت اور حیات دو الگ الگ حقائق نہیں، یہ ایک دوسرے کے ساتھ گتھے ہوئے عمل ہیں۔ ہر چیز ہر وقت بن بھی رہی ہوتی ہے اور بگڑ بھی رہی ہوتی ہے ۔
خدا سے براہ راست علم لینے والے زمین، سورج، چاند، ستارے، نباتات و حیوانات کے بننے کا ذکر یوں کرتے ہیں جیسی یہ آج دکھائی دے رہی ہیں تخلیق کے وقت بھی ایسے ہی تھیں، حالانکہ یہ سوچ سرا سر اندازوں پر مبنی ہے کیونکہ ان کو اس شکل میں آنے کے لئے کروڑوں اربوں سال لگ گئےاور یہ سب آج بھی تبدیلی کے عمل سے گذررہی ہیں مثلاً یہ کہنا کہ یہ زمین خدا نے بنائی تھی، پھر یہ سوال اٹھتا ہے کہ وہ کونسی زمین تھی ۔ موجودہ شکل تک پہنچنے سے قبل زمین کروڑوں سال تک مختلف حالتوں میں رہی۔ کبھی صرف گیس اور غبار تھی، کبھی بغیر پانی کے، کبھی اس کی فضا صرف زہریلی گیسوں پر مشتمل تھی اور کبھی یہ فقط برف کا گولہ تھی۔ مندرجہ بالا معروضات سے یہی نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ اگر کوئی اس کائنات کی خالق ہستی ہوتی تو اس کے قول اور فعل میں کوئی تضاد نہ ہوتا۔
اگر اسے لوگوں تک براہ راست علم پہنچانا ہو تاتو وہ اس دنیا کی بالکل صحیح تصویر کشی کرتا جبکہ معاملہ اس کے برعکس ہے خدا سے براہ راست علم حاصل کرنے کے دعوی دار حیات اور کائنات کے بارے میں بچگانہ قصے کہانیاں اور نہایت سطحی اور سادہ لو حی پر مبنی معلومات فراہم کرتے رہے ہیں اس طرح کی معلومات انسانی شعور کے بچگانہ خیالات کی نمائندگی کرتی ہیں۔
مذہب اور سائنس کے تضاد پر ہمیں غور و فکر کرنا ہو گا کہ اول الذ کر کی اس کائنات کے بارے میں معلومات کیوں ناقص ہیں اور کیا ایسے حالات میں اسے خدا کا براہ راست دئیے ہوئے علم کا درجہ دینا ایک صحیح یا دانشورانہ فیصلہ ہے ؟


بھائی صاحب سوال یہ ہے کہ کیا حقیقتاً مذہب اور سائنس باہم متعا رض و متحارب ہیں !
میرے خیال میں یہ تصور اک مغالطے سے زیادہ نہیں اپنی اصل میں ان دونوں کے راستے کبھی بھی اک دوسرے کو قطع نہیں کرتے مذہب جن امور سے بحث کرتا ہے سائنس انسے یکسر لاتعلق ہے اور سائنس جس میدان میں سرگرم عمل ہے مذہب اس میں دخیل ہی نہیں !
سائنس کا میدان مشاہدات کا اور تجربات کا میدان لیکن اسکی اپنی حدود و قیود بھی ہیں انسانی مشاہدہ اسکے حواس خمسہ (باصرہ، سامعہ، شامہ، ذائقہ، لامسہ) کے اندر مقید ہے اور یہ حواس خمسہ بھی اپنے معروضی حالات و واقعات کے اندر قید ،
دوسری چیز انسان کا فہم و ادراک اور سیکھنے کی صلاحیت یعنی اداپٹشن اور اپنے موجود رہنے کی جہد یعنی سرویول جسکے گرد اسکی پوری زندگی گردش کرتی ہے ،

دوسری طرف مذہب ان امور سے بحث کرتا ہے جو انسان کے تجربات مشاہدات تخیلات اور اسکل حواس کی زد میں نہیں آتے ،
وہ کون ہے ؟
کہاں سے آیا ہے ؟
اسکے انے کا مقصود ؟
وہ کہاں چلا جاتا ہے ؟
اسے کسنے بھیجا ہے ؟
یہ وہ بنیادی سوالات ہیں جو اسے پریشان کرتے ہیں اور انکی تشفی مذہب کرتا ہے !

مغرب میں جب اندھیرے چھٹے اور علم کی روشنی ای اور مذہب کی اجارہ داری کے خلاف تحریک چلی اور آخر کار جدّت پسندوں کو جنھیں اس دور میں شدت پسند سمجھا جاتا تھا غلبہ حاصل ہوا تو مذہب کو اک یادگار کے طور پر پریزرو کر لیا گیا (ویٹیکن ) اسکی اک اچھی مثال ہے ،
ہم کہ سکتے ہیں کے یہاں مادیت نے روحانیت کو مغلوب کر دیا تھا لیکن مادیت اپنے ساتھ کچھ شرور کو بھی لائی جس کا سب سے بڑا شاخسانہ سرمایہ دارانہ نظام ہے جسنے ہر شے کو "کمو ڈیٹی" بنا دیا اب ہر شے قابل فروخت اور قابل خرید ہے یعنی ہر شے کی اک بازاری قیمت ہے ،

پھر اک عجیب منظر آسمان نے دیکھا کہ جب مغرب نری مادیت کے بوجھ تلے کراہنے لگا تو پھر سے روحانیت کی طرف راغب ہوا فزکس سے آگے نکل کر میٹا فزکس کی بات ہونے لگی سیکولوجی سے بیزار پیرا سیکولوجی کی طرف راغب ہونا شروع ہو گے، آخر کونسی ایسی کمی تھی جسنے انکو پھر سے اسطرف پلٹنے پر مجبور کر دیا جسے وہ کہیں پیچھے چھوڑ اے تھے !
بھائی صاحب بر سبیل تذکرہ اک واقعہ نقل کرتا ہوں ،

عقل اور ہدایت
آیات الہی سے مندرجہ بالا نتائج ماخوذ کرنے کی تائید میں ہم یہاں ایک واقعہ درج کرتے ہیں جو علامہ عنایت اللہ خاں مشرقی کو اس دوران پیش آیا جب وہ انگلستان میں زیر تعلیم تھے، وہ کہتے کہ:
1909ء کا ذکر ہے۔ اتوار کا دن تھا اور زور کی بارش ہو رہی تھی۔ میں کسی کام سے باہر نکلا تو جامعہ چرچ کے مشہور ماہر فلکیات پروفیسر جیمس جینز بغل میں انجیل دبائے چرچ کی طرف جا رہے تھے، میں نے قریب ہو کر سلام کیا تو وہ متوجہ ہوئے اور کہنے لگے، "کیا چاہتے ہو؟" میں نے کہا، "دو باتیں، پہلی یہ کہ زور سے بارش ہو رہی ہے اور آپ نے چھاتہ بغل میں داب رکھا ہے۔" سر جیمس جینز اس بدحواسی پر مسکرائے اور چھاتہ تان لیا۔" پھر میں کہا، "دوم یہ کہ آپ جیسا شہرہ آفاق آدمی گرجا میں عبادت کے لئے جا رہا ہے۔" میرے اس سوال پر پروفیسر جیمس جینز لمحہ بھر کے لئے رک گئے اور میری طرف متوجہ ہو کر فرمایا، "آج شام میرے ساتھ چائے پیو۔"
چنانچہ میں چار بجے شام کو ان کی رہائش گاہ پر پہنچا، ٹھیک چار بجے لیڈی جیمس باہر آ کر کہنے لگیں، "سر جیمس تمہارے منتظر ہیں۔" اندر گیا تو ایک چھوٹی سی میز پر چائے لگی ہوئی تھی۔ پروفیسر صاحب تصورات میں کھوئے ہوئے تھے، کہنے لگے، "تمہارا سوال کیا تھا؟" اور میرے جواب کا انتظار کئے بغیر، اجرام سماوی کی تخلیق، اس کے حیرت انگیز نظام، بے انتہا پہنائیوں اور فاصلوں، ان کی پیچیدہ راہوں اور مداروں، نیز باہمی روابط اور طوفان ہائے نور پر ایمان افروز تفصیلات پیش کیں کہ میرا دل اللہ کی اس کبریائی و جبروت پر دہلنے لگا۔



ان کی اپنی یہ کیفیت تھی کہ سر کے بال سیدھے اٹھے ہوئے تھے۔ آنکھوں سے حیرت و خشیت کی دوگونہ کیفیتیں عیاں تھیں۔ اللہ کی حکمت و دانش کی ہیبت سے ان کے ہاتھ قدرے کانپ رہے تھے اور آواز لرز رہی تھی۔ فرمانے لگے، "عنایت اللہ خان! جب میں خدا کی تخلیق کے کارناموں پر نظر ڈالتا ہوں تو میری ہستی اللہ کے جلال سے لرزنے لگتی ہے اور جب میں کلیسا میں خدا کے سامنے سرنگوں ہو کر کہتا ہوں: "تو بہت بڑا ہے۔" تو میری ہستی کا ہر ذرہ میرا ہمنوا بن جاتا ہے۔ مجھے بے حد سکون اور خوشی نصیب ہوتی ہے۔ مجھے دوسروں کی نسبت عبادات میں ہزار گنا زیادہ کیف ملتا ہے، کہو عنایت اللہ خان! تمہاری سمجھ میں آیا کہ میں کیوں گرجے جاتا ہوں۔"



علامہ مشرقی کہتے ہیں کہ پروفیسر جیمس کی اس تقریر نے میرے دماغ میں عجیب کہرام پیدا کر دیا۔ میں نے کہا، "جناب والا! میں آپ کی روح پرور تفصیلات سے بے حد متاثر ہوا ہوں، اس سلسلہ میں قرآن مجید کی ایک آیت یاد آ گئی ہے، اگر اجازت ہو تو پیش کروں؟" فرمایا، "ضرور!" چنانچہ میں نے یہ آیت پڑھی۔
و مِنْ الْجِبَالِ جُدَدٌ بِيضٌ وَحُمْرٌ مُخْتَلِفٌ أَلْوَانُهَا وَغَرَابِيبُ سُودٌ۔ وَمِنْ النَّاسِ وَالدَّوَابِّ وَالأَنْعَامِ مُخْتَلِفٌ أَلْوَانُهُ كَذَلِكَ إِنَّمَا يَخْشَى اللَّهَ مِنْ عِبَادِهِ الْعُلَمَاءُ (فاطر 35:27-28)
"اور پہاڑوں میں سفید اور سرخ رنگوں کے قطعات ہیں اور بعض کالے سیاہ ہیں، انسانوں، جانوروں اور چوپایوں کے بھی کئی طرح کے رنگ ہیں۔ خدا سے تو اس کے بندوں میں سے وہی ڈرتے ہیں جو صاحب علم ہیں۔"
یہ آیت سنتے ہی پروفیسر جیمس بولے، "کیا کہا؟ اللہ سے صرف اہل علم ہی ڈرتے ہیں؟ حیرت انگیز، بہت عجیب، یہ بات جو مجھے پچاس برس کے مسلسل مطالعہ سے معلوم ہوئی، محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کو کس نے بتائی؟ کیا قرآن میں واقعی یہ بات موجود ہے؟ اگر ہے تو میری شہادت لکھ لو کہ قرآن ایک الہامی کتاب ہے، محمد تو ان پڑھ تھے، انہیں یہ حقیقت خود بخود نہ معلوم ہو سکتی تھی۔ یقیناً اللہ تعالی نے انہیں بتائی تھی۔ بہت خوب! بہت عجیب۔ (علم جدید کا چیلنج از وحید الدین خان)
·         
بھائی صاحب انسانی عقل نے جب سے شعور کی دنیا میں قدم رکھا ہے وہ اپنی اصل کی تلاش میں سرگرداں ہے اور جب کبھی انسانی عقل نے اسکو کھوجنے کی کوشش کی اسنے ٹھوکریں کھائیں ہیں !
انسانی عقل جب بھی مابعد طبیعیات کے میدان میں گھوڑے دوڑاتی ہے تو اسکا معاون مشاہدہ نہیں بلکہ اسکی فکری پرواز ہوتی ہے جب وہ ان گتھیوں کو سلجھاتا ہے جو مادی اصولوں سے ماورا ہوتی ہیں تو اسکو خیال کی قوت کو استعمال کرنا پڑتا ہے اور اس عمل کو "فلسفہ " کہتے ہیں ،

مذہب کا بنیادی حریف سائنس نہیں فلسفہ رہا ہے اور فلسفے کو سائنس کی ماں کہا جاتا ہے اسلئے مغالطہ یہ لگتا ہے کہ سائنس مذہب کے مغایر ہے ،
لغت میں فلسفہ کے معانی ہیں ۔ حُب دانش ، تجربہ ، مشاہدہ اور غورفکر سے اصول اخذ کرنا ، تلاش حقیقت ۔
سائنس موجودات کو استعمال کرتا ہے نئی اشکال تخلیق کرتی ہے جسے مودیفکشیون کہ سکتے ہیں لیکن فلسفہ خیال تخلیق کرتا ہے اور پھر اس خیال کی عمارت پر تحقیق کے دروازے وا ہوتے ہیں اور پھر تخلیق کا عمل شروع ہوتا ہے ،
تمام سائنسی ایجادات کی بنیاد کوئی نہ کوئی فلسفہ ہے یہ پھر کوئی فلسفی ،
سائنس اپنی ضروریات سے متعلق بات کرتی ہے انسان کو حرارت کی ضرورت محسوس ہوئی اگ دریافت ہو گئی لیکن کیا "پرواز " انسان کی ضرورت تھی ہرگز نہیں یہ اک خواہش اک خیال آرزو تصور یہ پھر فلسفیانہ فکر کی ضرورت تھی ،
اگر ٹھیٹ سائنسی اصولوں کو لیا جاتا تو انسان شاید کہیں بہت پیچھے ہوتا لیکن فلاسفہ کی فکر نے ان دروازوں کو وا کیا جو خواہش کے بحر بیکراں سے متعارف کرواتے ہے ،
کیا خوب کہا ہے شاعر نے ،
ہے کہاں تمنا کا دوسرا قدم یارب
ہم نے دشتِ امکاں کو ایک نقش پا پایا(غالب )

یہی بات اقبال نے کچھ اس انداز میں کہی ہے ،

وہ حرف راز کہ مجھ کو سکھا گیا ہے جنوں
خدا مجھے نفس جبرئیل دے تو کہوں
ستارہ کیا مری تقدیر کی خبر دے گا
وہ خود فراخی افلاک میں ہے خوار و زبوں
حیات کیا ہے ، خیال و نظر کی مجذوبی
خودی کی موت ہے اندیشہ ہائے گونا گوں
عجب مزا ہے ، مجھے لذت خودی دے کر
وہ چاہتے ہیں کہ میں اپنے آپ میں نہ رہوں
ضمیر پاک و نگاہ بلند و مستی شوق
نہ مال و دولت قاروں ، نہ فکر افلاطوں
سبق ملا ہے یہ معراج مصطفی سے مجھے
کہ عالم بشریت کی زد میں ہے گردوں
یہ کائنات ابھی ناتمام ہے شاید
کہ آرہی ہے دما دم صدائے ‘کن فیکوں’
علاج آتش رومی کے سوز میں ہے ترا
تری خرد پہ ہے غالب فرنگیوں کا فسوں
بھائی صاحب فلسفہ یونانی لفظ فلوسوفی یعنی حکمت سے محبت سے نکلا ہے۔ فلسفہ کو تعریف کے کوزے میں بند کرنا ممکن نہیں، لہذا ازمنہ قدیم سے اس کی تعریف متعین نہ ہوسکی۔
فلسفہ علم و آگہی کا علم ہے، یہ ایک ہمہ گیر علم ہے جو وجود کے اغراض اور مقاصد دریافت کرنے کی سعی کرتا ہے۔ افلاطون کے مطابق فلسفہ اشیاء کی ماہیت کے لازمی اور ابدی علم کا نام ہے۔ جبکہ ارسطو کے نزدیک فلسفہ کا مقصد یہ دریافت کرنا ہے کہ وجود بذات خود اپنی فطرت میں کیا ہیں۔ کانٹ اسے ادراک و تعقل کے انتقاد کا علم قرار دیتا ہے۔
فلسفہ کو ان معنوں میں ’’ام العلوم‘‘ کہہ سکتے ہیں کہ یہ موجودہ دور کے تقریباً تمام علوم کا منبع و ماخذ ہے۔ ریاضی، علم طبیعیات، علم کیمیا، علم منطق، علم نفسیات، معاشرتی علوم سب اسی فلسفہ کے عطایا ہیں۔
فلسفے کی آماجگاہ یونان کو قرار دیا جا سکتا ہے وہ سرزمین جہاں فلسفے یہ پھر فلاسفہ کی پیدائش ہوئی ،
ان فلاسفہ کے مختلف طبقات تھے !
دہرئے ۔ جو خدا کے وجود سے منکر تھے ۔

طبیعی ۔ جو کائنات کی تخلیق ، عناصر ، نور و ظلمت ، اور حرکت و تغیر وغیرہ پر پحث کرتے تھے ۔ مثلا ایک یونانی فلاسفر کا عقیدہ تھا کہ سب سے پہلے پانی زمین پر نمودار ہوا پھر نباتات اور آخر میں حیوان کا ظہور ہوا ۔ انہیں فلالسفہ میں ایک پلاطبی نامی فلاسفر نے کہا کہ زمین متحرک ہے ۔

الہی ۔ یہ فلسفی عموما خدا اور اس کی صفات سے بحث کرتے تھے ۔ مثلا زینو اور فیثا غورث جس کی تعلیمات مہاتما بدھ کی تعلیمات سے ملتی جلتی تھیں ۔ ان کے ہاں حقیقی دنیا اس دنیا سے الگ ہے اور حصول کمال کے لئے عبادت ، تجرد اور گوشت سے پرہیز ضروری ہے ۔ فیثا غورث پہلا فلسفی تھا جس نے اجرام فلکی کے درمیان کشش کا نظریہ پیش کیا ۔ انکسا غوریس کے ہاں خدا ایک قوت کا نام ہے جو کائنات میں جاری و ساری ہے ۔ یہ کہیں آواز ، کہیں حرکت ، کہیں روشنی اور کہیں رنگ و بو میں تبدیل ہو جاتی ہے ۔

یونانی فلاسفہ کے مسائل

1 ۔ خدا و صفات خدا

2 ۔ ٹائم اور سپیس کی حقیقت

3۔ کائنات کی ابتدا

4۔ کائنات کی ماہیت

5۔ خیر و شر

6۔ غم اور خوشی

7۔ روح

8۔ عقل

9۔ حیات و ممات

10۔ مقصد حیات
یہاں طبیعی یہ جنھیں مادیین کہا جاسکتا ہے جدید سائنس کے بنی قرار دے جا سکتے ہیں ،
ہماری حقیقی بحث ان فلاسفہ سے ہے جنہوں نے ان مضامین سے بحث کی جو حقیقت میں مذہب کے عنوانات تھے ،

جب فلسفے کا عالموں نے منطق کے گھوڑے پر سوار ہو کر وجودیت، الہیات و کونیات کے مسائل کو طے کرنے کی کوشش کی تو ٹھوکریں کھائیں اور فلسفیانہ مذاہب وجود میں اے ،
بھائی صاحب اب ہم تجزیہ کرتے ہیں کہ ان فلاسفہ نے کسطرح ان گتھیوں کو سلجھانے کی کوشش جن میں انسان کی حقیقت پوشیدہ تھی !
ہیوم کے نزدیک علم کا واحد ذریعہ ادراک ہے اور ادراک کو وہ دو اقسام پر مشتمل قرار دیتا ہے۔ ایک ارتسامات، دوسرا تصورات۔ اس کے قول کے مطابق ارتسامات ایسے ادراکات ہیں جو واضح اور براہ راست واقع ہوتے ہیں اور جو پوری قوت و شدت کے ساتھ نفس پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ اسکے برعکس تصورات وہ اداراکات ہیں جو ارتسامات کی بے حد دھندلی تصویریں ہیں۔ ارتسامات آلات حسی کے تہیجات سے اثرانداز ہوتے ہیں اور اس طرح یہ علم کا مواد فراہم کرتے ہیں۔ تصورات کچھ ایسے قوانین رابطہ کے واسطوں سے باہم اس طور پر مربوط و متصل ہوتے ہیں کہ ہمیں نتیجتا خارجی عالم کا علم ہوتا ہے۔ گویا ہماری نفس و ذہنی زندگی میں ارتسامات کو اولین اور اساسی حیثیت حاصل ہے، جبکہ تصورات ثانوی ماخوذ حیثیت رکھتے ہیں۔ اگر ہم تصورات کی صحت یا معقولیت کا جائزہ لینا چاہتے ہیں تو ہمیں ہمیشہ ان ارتسامات کی طرف لوٹنا ہوگا جن سے وہ نکلے ہیں۔ یعنی تصورات کی تصدیق متعلقہ ارتسامات کے ذریعہ عمل میں آتی ہے۔

"یہ طرز استدلال مابعد الطبعیات کے بعض روایتی تصورات کا یکبارگی ابطال کردیتا ہے۔ تجربہ کی مدد سے نہ تو زمانی اور نہ ہی مکانی لامتناہیت کا کوئی تصور حاصل ہو سکتا ہے۔ ہیوم اپنے طرز استدلال کو جوہرذات، دنیا اور خدا کے تصورات پر چسپاں کرتے ہوئے یہ دلیل پیش کرتا ہے کہ چونکہ ان تصورات میں سے کسی کا بھی سلسلہ حسی ارتسامات تک نہیں پہنچتا ہے، لہذا ان کا استرداد بالکل حق بجانب ہے۔"

ہیوم ہزاروں سال پہلے وہی بات کہ رہا ہے جو آج سائنس کے کھاتے میں ڈالی جا رہی ہے اب اگر اسکا تجزیہ کیا جانے تو معلوم پڑے گا کہ اس قدیم مغالطے جسکو جدت کا رنگ پہنانے کی کوشش کی جا رہی کیا حقیقت ہے ،

ہیوم کا اصول ہر جگہ ثابت نہیں ، کہیں پر چند شاہدین کی شہادت کو تسلیم کرتے ہوے کسی حقیقت کو حقیقت مانا جاتا ہے بیشمار سائنسی ایجادات اور سائنسی اصول و قوائد اسپر دال ہیں !
اپمیں سے کتنوں نے الیکٹران ،پروٹون کا یا کبھی خلیات کی ہیت یا جین کوڈ کا مشاہدہ کیا ہوگا اسی طرح ١ لکھ ٢٤ ہزار انبیا وحی پر شاہد ہیں اسلئے وحی کو بلا شبہ معروضی کہا جا سکتا ہے !

در اصل مغالطہ یہاں لگتا ہے کہ کسی چیز کے عقل میں انے اور کسی چیز کے عقل کو تسلیم کرنے کو یکساں سمجھ لیا جاتا ہے !
فزکس کے قوانین کو سمجھنے کے لیے خاص علمی استعداد اور ذہنی ساخت کی ضرورت ہے لکن انکو منانے کے لیے عقل کی جتنی مقدار چاہئیے وہ ہر انسان میں موجود ہے !
کسی شے کا عقل انسانی کو کشش کرنا اور کسی شے کو عقل انسانی کا محیط ہونا دو مختلف عنوانات ہیں ،
اسی طرح اشیا کا ادراک درجہ بدرجہ ہوتا ہے یہ پھر کسی چیز کے کل کو جان لینے کے بعد اسکے اجزا کا سمجھ آنا شروع ہوتے !
یہ پھر کسی بہت ہی بنیادی اور اساسی جز کو سمجھنے کا دروازہ کھلتا ہے اور پھر اس سے انسان کل کے فہم تک جاتا ہے عقل انسانی کا ارتقائی عمل اور اسکے کام کرنے کا انداز مسائل کا ادراک اور مفاہیم کو قبول کرنے کی صلاحیت ،
فطرت سلیم یہ جسے عقل سلیم کہا جاتا اجزا سے اشیا کا ادراک کرتی ہیں اور پھر سفر کل کی تفہیم کی طرف جاتا ہے ،
بحر حال اگر تسلیم حق کا مدار عقل انسانی پر چھوڑ دیا جانے تو بہت سے مضامین اور عنوانات اپنی اصل میں ختم ہو جاتے ہیں !
انسانی عقل مشاہدات ،تجربات محسوسات اور معروضی حالت کے اندر مقید ہوتی ہے ،
حق کو پہچان کر استک پوھنچنے کی صلاحیت بلاشک اسکے اندر ودیعت کردہ ہے لیکن اس عقل انسانی کے اندر بہکنے کی صلاحیت بدرجہ اتم موجود ہے ،
ہدایت کا مدار اگر عقل انسانی پر ہی منحصر ہو جانے تو پھر تمام اصحاب عقل کا ہدایت یافتہ تسلیم کرنا لازم اے،
ہر عقل مند کا ہدایت تک پوھنچنا لازم نہیں لیکن ہر ہدایت یافتہ کا عقل مند ہونا لازم ہے ،
بھائی صاحب تصور خدا میں تضادات مذاہب کا قصور نہیں بلکے عقلا کی کارستانی یہ یقینن وہ مبحیث ہیں جو عقل کے دائرہ کر میں اتے ہی نہیں انھیں جب خالص عقل سے طے کرنے کی کوشش کی جانے گی تو ٹھوکر کھانا لازم ہے ،

یہاں اک سوال یہ بھی اٹھایا جا سکتا ہے کہ جب تصور خدا میں فطور مادیت پسندوں کے ٹانگ پھنسانے کی وجہ سے ہوا تو پھر "اختلاف مذاہب " کی کیا حقیقت ہے ،
تو ہم سوال اٹھائینگے "اختلاف مذاہب " آخر ہوا ہی کیوں یہ بھی مذاہب میں عقلیات کے ٹانگ پھنسانے کا نتیجہ ہے ،

یہاں ملزم عقل نہیں بلا شبہ اوزاروں کو کبھی قصور وار نہیں ٹھہرایا جا سکتا اصل مجرم وہ مزدور ہے جو اوزار کو استعمال کرتا ہے ،

اک اور فلسفی کانت اک دوسرے ہی نتیجہ پر پوھنچا ہے ذرا اسکو دیکھتے ہیں ،
(نوٹ :یہ حضرات محض فلاسفہ نہیں بلکہ انکا شمار معقولات کے اماموں میں ہوتا ہے )

خود کانٹ نے ایک بار لکھا تھا. ”یہ میری خوش قسمتی ہے کہ میں مابعد الطبیعات کا عاشق ہوں لیکن میری اس محبوبہ نے میرے ساتھ نہت کم التفات کیا ہے.” وہ مابعد الطبیعات میں گہری دلچسپی لیتا تھا. ایک زمانہ اس پر ایسا بھی آیا جس کے بارے میں وہ خود کہتا ہے “میں مابعد الطبیعات کے تاریک پامال میں پھنسا رہا. یہ ایک ایسا سمندر ہے جسکا نہ کوئی کنارہ ہے نہ روشنی دکھانے والا مینار” لیکن اسی کانٹ نے مابعد الطبیعات میں تہلکہ خیز انقلاب پیدا کر کے ساری دنیا کو چونکا دیا. اپنی زندگی کے خاموش زمانے میں کانٹ کے بارے میں یہ نہیں کہا جا سکتا تھا کہ وہ مابعد الطبیعات میں گہری دل چسپی لے رہا ہے. تب سیاروں’ زلزلوں’ آتش فشاں پہاڑوں’ ہواؤں کے بارے میں لکھا کرتا تھا.١٧٥٥ میں شائع ہونے والی اس کتاب “تھیوری آف ہیونز” کو ایک خاصی اچھی کتاب سمجھا گیا لیکن اس پر کوئی لمبی چوڑی بحث نہ ہوئی.١٧٩٨ میں اس نے اپنے نظریات کو وسعت دی اور اس کی کتاب ایتھنز وپولوجی شائع ہوئی. اس کتاب میں اس نے لکھا ہے کہ انسان کی زندگی کی سحر جنگلوں اور جانوروں کی معیت میں ہوئی. اس لیے ابتدائی دور کا انسان’ آج کے انسان سے بیحد مختلف تھا کانٹ نے اس کتاب میں اعتراف کیا. ”قدرت نے پھر کس طرح انسان کی ارتقائی نشوونما میں حصّہ لیا اور کن اسباب وعوامل کی وجہ سے انسان موجودہ مقام تک پہنچا. اس کے بارے میں ہمیں کچھ علم تو نہیں. ڈارون نے انسانی انواع پر عظیم اور چونکا دینے والا کام کیا جس سے کانٹ کے ان خیالات و نتائج کی تائید ملتی ہے.

کانٹ تنقید برعقل محض میں بتاتا ہے.

“تجربہ ایسی چیز نہیں ہے کہ جس پر علم کا انحصار ہو تجربے کی بدولت ہم خالص علم حاصل نہیں کر سکتے تجربہ ہاںمیں یہ بتاتا ہے کہ “کیا ہے “؟ لیکن یہ بتانا اس کے بس میں نہیں کہ کیوں ہے؟ اور پھر لازم نہیں کہ تجربہ ہمیں صحیح معنوں میں یہ بھی بتا سکے کہ کیا ہے؟ کی اصل کیا ہے.”انسان کے اندر کی سچائی تجربے سے آزاد ہونی چاہیے .
بھائی صاحب ہم تجربے کی بدولت کہاں تک آگے بڑھ سکتے ہیں؟اسکا جواب ریاضی سے ملتا ہے ریاضی کا علم یقینی بھی ہے اور ناگزیز بھی ہم مستقبل کے بارے میں ریاضی کے اصول کو توڑ کر محض تجربے کی بناء پر علم حاصل نہیں کر سکتے.ہم یہ یقین کر سکتے ہیں کہ مستقبل میں سورج مغرب میں طلوع ہو سکےگا. یہ بھی یقین کر سکتےہیں کہ آگ لکڑی کو نہ لگے گی لیکن ہم پوری زندگی یہ بات تسلیم نہیں کر سکتے کہ دوا اور دو چار کے علاوہ بھی کچھ ابن سکتے ہیں. یہ سچائی تجربے سے پہلے کی ہے لازمی اور ناگزیز سچائیاں تجربے کی محتاج نہیں ہوتی ہے اور ایسی سچائیاں کبھی غلط ہو ہی نہیں سکتی ہیں..
. کانٹ کے فلسفے کو سمجھنے کے لیےول ڈرانٹ کے اس ٹکرے کو غور سے پڑھیے جو اس کے نظریات کا نچوڑ ہے.

Sensation is unorganized stimulus, perception is organized sensation, conception is organized perception, science is organized knowledge, wisdom is organized life: each is a greater degree of order, and sequence, and unity. Whence this order, this sequence, this unity? … it is our purpose that put order and sequence and unity upon this importunate lawlessness; it is ourselves, our personalities, our minds, that bring light upon these seas۔
بھائی صاحب مثلاً امریکی عالم طبیعیات جارج ارل ڈیوس Eral Davis اپنی کتاب The Evidence of God.P.7میں دو ٹوک لفظوں میں کہتا ہے:
’’اگر کائنات خود اپنے آپ کو پیدا کر سکتی ہے تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ وہ اپنے اندر خالق کے اوصاف رکھتی ہے۔ ایسی صورت میں ہم یہ ماننے پر مجبور ہوں گے کہ کائنات خود خدا ہے، اس طرح اگر چہ ہم خدا کے وجود کو تسلیم کر لیں گے،لیکن وہ نرالا خدا ہوگا جو بیک وقت مافوق الفطرت بھی ہوگا اور مادی بھی ،میں اس طرح کے مہمل تصور کو اپنانے کے بجائے ایک ایسے خدا پر عقیدے کو ترجیح دیتا ہوں جس نے عالم مادی کی تخلیق کی ہے اور اس عالم کا وہ خود کوئی جزو نہیں بلکہ اس کا فرماں روا اور ناظم ومدبر ہے۔‘‘(مذہب اور جدید چیلنج، ص:۴۸،مکتبہ الرسالہ، نئی دہلی، ۲۰۰۴ء )
بھائی صاحب اگر تصور خدا کی بات کی جانے اور موضوع تحقیق خدا کی ذات ہو چاہے راستہ کوئی بھی ہو فلسفہ ،سائنس،مذہب یہ پھر وہ فطری احساس جو کسی جنگل بیابان کسی صحرا یہ پھر کسی دور دراز جزیرے میں بیٹھا کوئی تہذیب نا شناس شخص جو اپنی فطری ضرورت سے مجبور ہوکر کسی خدا کا اسیر ہو ،
آخر ہمیں کسی خدا کے ہونے کی حاجت ہی کیوں ہے آخر کیوں نوع انسانی جو کبھی پہاڑوں میں آباد تھی یہ وہ جدید ترین انسان جسنے چاند پر جھنڈا لہرایا تھا کسی خدا کے اسیر ہیں خدا کے ہونے کا یہ احساس کیوں صدیوں کا سفر طے کرتے ہوے آج بھی غالب ترین اکثریت کو اپنے جال میں پھانسے ہوے ہے ،
قوموں قبیلوں جغرافیائی حدود کو پھلانگتا ہوا ادوار کی قید سے آزاد یہ تصور کہ کوئی خدا ہے کیا اک مغالطہ ہی ہے ؟
آخر بے خدا گروہ ہمیشہ انتہائی قلیل ہی کیوں رہا ہے اور انکے ہاں بھی سب سے بڑا تذکرہ خدا ہی رہا ہے
یعنی نا چاہتے ہوے بھی تردید کی راہ سے تذکرہ تو اسی کا ہے ،،،،،،،،
بھائی صاحب یہ سوال اک طویل عرصے تک پیش نظر رہا کہ اسکی کیا وجہ ہے نوع انسانی بحثیت مجموعی خدا کے تصور کی قائل رہی ہے ، پھر جب انسانی نفسیات اور اسکے سوچنے کے فطری انداز سے واقفیت ہوئی تو یہ بات آشکار ہوئی کہ انسان عافیت پسند ہے آسانی کی طرف بھاگتا ہے کائنات کے عظیم الشان حقائق اسے اگر آسان اور سادہ انداز میں سمجھا دئیے جائیں تو اسکا دماغ انھیں آسانی سے جذب کر لیتا ہے ،

انسان چیزوں کو انکے تضادات سے پہچانتا ہے سچ کی پہچان جھوٹ کے ہونے سے ہوتی ہے طاقت کمزوری کی وجہ سے جانی جاتی ہے اونچائی کا احساس پستی کی وجہ سے ہوتا ہے حق باطل کے ہونے سے معتبر ہے مثبت منفی سے برآمد ہوتا ہے تیزی کا تعارف آہستگی کی وجہ سے ہوتا ہے مذکر مونث کے ملاپ سے وجود میں آتا ہے خشکی تری کی وجہ سے منفرد ہوتی ہے غرض تضادات اک دوسرے کی پہچان کا موجب ہیں موت کے بغیر حیات کی اہمیت سے واقف ہونا ممکن نہیں !
یہاں اصحاب عقل کی جانب سے یہ سوال اٹھایا جا سکتا ہے کہ عدل کیا ہے جو ان دو متناقص کے درمیان واقع ہوا ہے تو جواب میں ہم کہینگے عدل ضد ہے بے اعتدالی کی اضداد اس کائنات کی سب سے بڑی حقیقت ہیں ،
کسی بھی انسان کے شعور کی دنیا میں قدم رکھتے ہی اسکو سب سے پہلی واقفیت اضداد سے ہی ہوتی ہے یہ اک ایسی حقیقت ہے جس سے ہر سوچنے والی مخلوق واقف اور ہر شعور رکھنے والا اسکا قائل ہے ،
انسان اپنی اسی فطری صلاحیت کے تحت کسی خالق کو تسلیم کرتا ہے اگر مخلوق موجود ہے اپنی تمام تر حدود و قیود اور کمزوریوں اور خامیوں کے ساتھ تو پھر لازم ہے اسکی مکمّل ضد خالق کا ہونا اپنی تمام خوبیوں لامحدودیت اپنی پوری قوت اور شان کے ساتھ !
بھائی صاحب مذاہب کو ماننے والی کثیر خلقت خالق و مخلوق کے سادہ ترین تعلق سے واقف ہے ہم کہ سکتے ہیں کہ علما مذاہب کے مابین خالق کی بابت بہت سے اختلافات موجود ہیں لیکن اک عام مذہبی آدمی سادہ ترین شکل میں جانتا ہے کہ اک ایسی عظیم الشان قوت جو اسکی احتیاجات کو پورا کرتی ہے دور و قریب سے اسکی التجاؤں کو سنتی ہے وہ پر یقین ہے اک ایسے وجود کے ہونے کا جو اس کا آخری سہارا ہو سکتا ہے ،
اور یہ فلسفہ اسے کسی مکتب میں نہیں پڑھایا گیا بلکہ وہ خالق کے ہونے کو ایسے ہی جانتا ہے جیسے اپنے ہونے سے واقف ہے ،
علما مذاہب خالق کے ہونے کی مختالب تعبیرات پیش کرتے ہیں اور یہیں سے مذہبی مباحیث کا آغاز ہوتا ہے اس بات میں کوئی شک نہیں کہ ان تعبیرات میں سے اک صحیح ترین تعبیر بھی ہوگی جو حق سے قریب تر بھی ہوگی لیکن وہ اسوقت موضوع بحث نہیں حاصل گفتگو یہ ہے کہ خدا شناس لوگ اک اصل پر متفق ہیں اور وہ ہے کسی خالق کا ہونا اور اسکا سادہ ترین ضابطے میں مخلوق سے متعلق ہونا !
بھائی صاحب خالق سے متعلق اہل مذہب کے ہاں اس بات پر اتفاق ہے کہ اک ایسی لازوال قوت جسکی اس پوری کائنات پر حکومت ہے اور وہ قوت ہمارے کاسہ ادراک سے ماورا ہے اہل مذہب اسے پہچانتے تو ہیں مگر اسکے جاننے کا دعویٰ نہیں کرتے اور اپنی عاجزی پر قانع ہیں !
ہاں اختلاف تعبیر کا ہے اسمیں اہل مذہب کو دو بڑی اقسام میں منقسم جانا جاتا ہے
١ اہل کتاب
جنکا یہ دعویٰ ہے کہ جتنا اس خالق عظیم نے چاہا اپنے چنے ہوے بندوں کے ہاتھ کچھ علم اپنی مخلوق تک منتقل کیا ہے ہاں امتداد زمانہ اور عقلیت کی بے جا مداخلت نے کچھ ابہام ضرور پیدہ کئے ہیں اور تعبیرات میں فرق ضرور واقع ہوا ہے لیکن اصل مشترک ہے ، یہ بھی تسلیم کیا جا نا چاہئیے کہ ان تمام تعبیرات میں سے کوئی صحیح ترین تعبیر بھی ہے جو ان تمام براہین سے مزیّن ہے جسکی انسان کو طلب ہے لیکن یہ اک مکّمل موضوع ہے جسپر بحث کا مقام الگ ہے ،
١ اہل رسوم ،
اہل رسوم وہ تمام مذھب جو اپنی بنیاد یہ پھر شروعات سے نا واقف ہیں اور انکے پاس تاریخی روایت کے سوا کوئی حقیقی ثبوت موجود نہیں جسکی طرف وہ رجوع کریں ہاں بس اک تاریخی تسلسل سے وہ ضرور واقف ہیں اور کہیں یہ تسلسل بھی منقطع ہے !
لیکن ان دونوں معلوم گروہوں میں مشترک خالق اور مخلوق کا اپنے اپنے مقام پر موجود ہونے کا یقین ہے .
بھائی صاحب خدا ناشناس اقلیت پسندوں کو دو گروہوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے
١ اصحاب تردد
٢ متشکیکن
اصحاب تردد منکرین خدا ہیں جنھیں عرف عام میں دہریہ بھی کہا جاتا ہے ان پرستاران عقل کا مسلہ خدا کو اپنی عقل کے پیمانوں میں تولنے کا ہے اور جو انکی عقل کے پیمانوں میں نہ آتا یہ اسکے وجود کے ہی منکر ہو جاتے ہیں
یہ گروہ قلیل سوالات اٹھاتا اس کثیر امّت پر کوئی دلیل لاؤ خدا کے ہونے کی اور دلیل بھی وہ جو انکی عقل پر پوری اترے ،
در اصل یہ اپنی عاجزی کا اظہار ہے اور اپنے معذور ہونے کا اقرار بھی کوئی بھی چیز جو انکے حواس خمسہ کے دائرہ کار میں نا اسکے اسکی انکار کردینا ہی عافیت ہے ،
ان اصحاب تردید نے اپنے سوالات کا جواب نظریہ ارتقا میں ڈھونڈا وہ کہتے ہیں ،
ارتقا (evolution) سے مراد علم حیاتیات میں ایک ایسے نظریے سے لی جاتی ہے کہ جس کے تحت تمام جاندار اجسام ، ماضی میں رہنے والے کسی ایک ہی جدِ امجد یا مورث (ancestor) کی ترمیم شدہ اشکال ہیں[1]۔ ان ترامیم سے بنیادی طور پر مراد وراثی مادے میں ہونے والی ترامیم کی لی جاتی ہے؛ یعنی وراثوں میں ہونے والی ایسی تبدیلیاں کہ جو ایک جاندار کی گذشتہ سے اگلی نسل کے درمیان واقع ہوں۔ چونکہ وراثے ہی لحمیات تیار کرتے ہیں جو کہ کسی بھی جاندار کی طرزظاہری (phenotype) پر براہ راست اثر پیدا کرنے والے سالمات ہیں۔ گو چند نسلوں کے مابین ، وراثی مادے میں ہونے والی یہ ترامیم بہت ہی قلیل اور ناقابلِ شناخت ہوتی ہیں لیکن ارتقا کے نظریات دانوں کے مطابق یہ ترامیم عرصۂ دراز گذرجانے پر مجتمع ہوکر طرز ظاہری پر نمایاں اثر پیدا کرتی ہیں اور جاندار کی جسمانی ساخت تبدیل کر کہ نئی انواع وجود میں لانے کا سبب بن سکتی ہیں، اور یہ عمل کہ جس میں نئی انواع نمودار ہوتی ہیں انتواع (speciation) کہلاتا ہے۔ ارتقا دانوں کے نزدیک نامیات (organisms) کے مابین پائی جانے والی ساختی مماثلت اس بات کی توثیق ہے کہ تمام انواع (یعنی تمام اقسام کے موجودہ جاندار) ایک نسبِ مشترک (common descent) سے ہی تعلق رکھتے ہیں۔ جیسا کہ ابتدائی سطور میں آیا کہ جد امجد سے شروع ہوکر نسل در نسل منتقل ہونے والی ان تبدیلیوں میں اہم کردار وراثی مادے یعنی genes کی ترامیم کا سمجھا جاتا ہے اسی وجہ سے اس نسبِ مشترک کے تصور کو تالابِ وراثہ (gene pool) کی اصطلاح سے بھی ظاہر کیا جاتا ہے[2]
لوئی ہیتھ لیبر (Louise Heath Leber) نے کہا ہے کہ ارتقاء کی گنجائش ہمیشہ رہتی ہے۔ یہ گھر سب سے بڑا کمرہ ہے

لیکن پھر سوال یہ پیدہ ہوتا ہے یہ ارتقائی عمل شروع کیسے ہوا اس سے پہلے کیا تھا !
خیال کیا جاتا ہے کہ کائنات کی موجودہ عمر تقریباً 14 ارب سال ہو چکی ہے (محتاط اندازہ 11 سے 20 ارب سال کے درمیان ہے) اب یہ نظریہ عام طور پر قبول کیا جا چکا ہے کہ کائنات کا آغاز ایک ایسے حیات اَفزُوں واقعہ سے ہوا جسے بِگ بینگ (Big Bang) کہا جاتا ہے۔ اِس نظریئے سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ کائنات کی اِبتدائی تاریخ میں بہت سارے واقعات اِنتہائی تیز رفتاری کے ساتھ رُونما ہوئے:

اپنی پیدائش کے معاً بعد کائنات مختلف قسم کے ذیلی ایٹمی ذرّات (Subatomic Particles) کا مجموعہ بن گئی، جس میں الیکٹران، پازیٹران، نیوٹریناس اور اینٹی نیوٹریناس کے علاوہ شعاع ریزی (Radiation) کرنے والے فوٹان بھی شامل تھے۔ اُس لمحے کائنات کا درجۂ حرارت ایک کھرب سینٹی گریڈ (ایک کھرب 80 ارب فارن ہائیٹ) تھا اور اُس کی کثافت (Density) پانی کی نسبت 4 ارب گنا (زیادہ) تھی۔

ایک سیکنڈ بعد درجۂ حرارت کم ہو کر 10 ارب سینٹی گریڈ (18 ارب فارن ہائیٹ) رہ گیا۔ اِس کے ساتھ ہی مادّہ اِس قدر پھیلا کہ اُس کی کثافت تیزی سے گِرتے ہوئے پانی کی نسبت محض 4 لاکھ گنا زیادہ رہ گئی، جس کے بعد پروٹان اور نیوٹران جیسے بھاری عناصر تشکیل پانے لگے۔

14 سیکنڈ بعد ٹمپریچر3 ارب سینٹی گریڈ (5 ارب 40 کروڑ فارن ہائیٹ) تک گِر گیا۔ جبکہ اُس کے ساتھ ہی ساتھ مُتضاد چارج شدہ پازیٹرانوں اور الیکٹرانوں نے ایک دُوسرے کو فنا کرتے ہوئے توانائی خارِج کرنا شروع کر دی۔ اِسی اثناء میں 2 پروٹان اور 2 نیوٹران پر مشتمل ہیلئم کے مرکزے (Nuclei) تشکیل پانے لگے۔

3 منٹ بعد کائنات کا درجۂ حرارت 90 کروڑ سینٹی گریڈ (ایک ارب 62 کروڑ فارن ہائیٹ) تک گِر گیا۔ اِس درجہ پر پہنچ کر حرارت کی شدّت میں اِس قدر کمی واقع ہو چکی تھی کہ ڈیوٹیریم (Deuterium) کا مرکزہ۔ ۔ ۔ جو ایک پروٹان اور ایک نیوٹران پر مشتمل ہوتا ہے۔ ۔ ۔ وُجود میں آسکے۔

30 منٹ بعد درجۂ حرارت 30 کروڑ سینٹی گریڈ (5 کروڑ40 لاکھ فارن ہائیٹ) تک آ پہنچا۔ اِس موقع پر آنے تک بیشتر اِبتدائی اصلی ذرّات ختم ہو چکے تھے کیونکہ الیکٹران اور پروٹان کی ایک بڑی تِعداد اپنے متضاد ذرّات (Antiparticles) یعنی پازیٹران اور اینٹی پروٹان کے ذریعے فنا ہو چکی تھی۔ جبکہ بہت سے بچے کھچے پروٹان اور نیوٹران ہائیڈروجن اور ہیلئم کے مرکزے کی تشکیل میں کام آ چکے تھے۔ یہ سلسلہ یونہی جاری رہا اور تقریباً ایک لاکھ سال بعد برق پارے (ions) اور الیکٹران نے مل کر ایٹم کو تشکیل دیا۔ کائنات کی وُسعت پذیری کا عمل جاری و ساری رہا، یہ سب کچھ ہائیڈروجن اور ہیلئم کے ذریعے ستاروں اور کہکشاؤں کی تشکیل شروع ہونے سے تقریباً ایک ارب سال پہلے کی بات ہے۔

اس تمام بحث کے بعد سوال پھر وہی آتا خدا کا اقرار یہ پھر انکار کی کیا دلیل ہے اپ تمام کونیاتی تخلیقی مظاہر کی تردید کار دیں پھر بھی یہ کیسے سبط ہو سکتا ہے کوئی خدا موجود نہیں ہے ؟
بھائی صاحب اصل بحث عقلا کے اس گروہ سے ہے جنھیں متشککیں کہا جاتا ہے ،
یہ وہ گروہ ہے جو خدا کے وجود کا منکر نہیں لیکن اپنی عقل کے سہارے پر خدا کو جاننے کا طلب ہے اور اس سعی لا حاصل میں تناقسات کا شکار رہتا ہے ،
پیش نظر مضمون میں موجود اشکالات بھی اسی قبیل سے تعلق رکھتے ہیں ،
اہل عقل نے ہمیشہ خدا کو سمجھنے میں مغالطے کھاۓ ہیں جسکی بنیادی وجہ پیمائش کے وہ اوزان ہیں جو پیمائش کے قابل ہی نہیں ،
اس میدان میں اک مغالطہ تسلسل بن جاتا ہے عظیم الشان غلطیوں کا جو بلاخر مکمل انکار تک لےجاتا ہے ہاں کبھی کبھار معاملہ برعکس بھی ہوتا ہے ،
اب ہم تجزیہ کرینگے ان اشکالات کا جو عقل انسانی کی پیداوار ہیں !
بھائی صاحب پیش نظر مضمون میں تعا رضات کو پیش کر کے تردید کا دوازہ کھولنے کی شعوری یا پھر لا شعوری کوشش کی گئی ہے مثال کے طور پر !

خدا کے بارے میں آج کا رائج تصور یہ ہے کہ وہ خدا کو خالق کائنات تسلیم کرتا ہے جس کا ہم خود بھی حصہ ہیں ۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ خالق اور مخلوق دو الگ الگ ہستیاں ہیں ۔ خالق اور مخلوق کی یہ حد بندی خدا کو ناگزیر طور پر محدود ہستی کا درجہ دے دیتی ہے ۔ ایک طرف خالق اور دوسری طرف مخلوق اس طرح خدا ایک متعین چیز بن جاتا ہے لیکن اگر خدا کو لا محدود مان لیا جائے تو پھر خدا اور کائنات دونوں الگ الگ نہیں ہو سکتے۔ محدود کا لا محدود میں شامل ہو جانا ضروری اور فطری امر ہے۔ لا محدود کا مطلب ہمہ جہت " ڈیمنشن" میں لا محدود اس طرح خالق و مخلوق کے بارے میں قائم قدیم روایتی تصور غلط ہو جاتا ہے یا دوسری صورت میں محدود بن جاتا ہے۔ صاف ظاہر ہے جو ہستی کے حساب سے محدود ہے تو اس کی دوسری صفات کس طرح لا محدود ہو سکتی ہیں ؟
کسی بھی حقیقت کو پالینے کیلئے جب استدلال کی قوت کو استعمال کیا جاتا ہے تو اسے لازماً اصول و قواعد کا پابند بھی کیا جانے گا ورنہ یہ شتر بے مہار کسی بھی انجان سمت بھٹکتا پھرے گا اور نتیجہ کا حصول ممکنات سے نکل کر ناممکنات میں داخل ہو جانے گا !
کس بھی مضمون سے متعلق متعا رض آراء پیش کرنے کا لازمی نتیجہ تین سورتوں میں نکل سکتا ہے
١ کسی اک راۓ کا درست ہونا
٢ دونوں آراء میں حق کا کچھ حصّہ موجود ہونا
٣ دونوں کا کلّی طور پر غلط ہونا

صاحب مضمون تیسری راۓ کے حامل دکھائی دیتے ہیں اگر نتیجہ یہ ہی نکلنا مقصود ہے تو پھر پوری بحث ہی لاحاصل اور بے معنی قرار دی جا سکتی ہے کسی اک تصور کا صحیح نہ ہونا یہ پھر تصورات میں اختلاف ہونا اور بات اور سرے سے کسی تصور کا انکار مختلف چیز ہے !
بھائی صاحب خدا کی محدودیت اور لامحدودیت کے مباحث جدید نہیں قدیم ہیں کہیں فکر انسانی نفی کے اس درجے پر کھڑی ہو جاتی ہے کہ ہر موجود لا موجود قرار دیا جانے لگتا ہے اور ہر شے بذات خد خدا بن جاتی ہے یہ فلسفہ یونانی فکر سے متاثر "اخوان الصفا " کے ہان خوب پروان چڑھا جسے "ہما اوست" کے نام سے پہچانا جاتا ہے اسکو غلو پسند وحدت الوجودیت بھی کہ سکتے ہیں ،
دوسری جانب اثبات اس درجے میں کہ خدا کو کسی اپنے ہی جیسے چلتے پھرتے زمان و مکان کی قید میں مقید شخص کی شکل میں دیکھنا پسند کرتی ہے مسیحیت کی تثلیث اسی فکر سے مستعار نظر آتی ہے !

خدا کو پہچاننے کی جب بھی بات ہوگی اور تقابل مخلوق سے کیا جانے گا تو مغالطوں کے دروازے و ا ہونگے ،کیونکہ مخلوق ایسی ہے تو خالق کو لازماً ویسا ہونا چاہئیے ! آخر اس پیمانے کو کس طرح درست تسلیم کرلیا جانے .
عقل انسانی کیونکہ مادیت سے متاثر شدہ ہے اسلئے خدا نے ہمیشہ اسے تماثیل سے سمجھایا ہے تاکے وہ بنیادی حقیقت آسانی سے اسکے پلے پڑ جانے جسکا سمجھانا مقصود ہے ،
بھائی صاحب خالق و مخلوق کے باہمی تعلق اور اس تعلق کی کفیت کا کلی ادراک احاطہ تصور سے پرے ہے لیکن اسکو تمثیل کے ز ریعے سمجھنے کی کوشش کی جا سکتی ہے ،
اپنے ارد گرد موجود تخلیقات الہی کا جائزہ لیجئے اور پھر انکے باہمی ربط کا بغور مشاہدہ کیجئے اپ پر اسرار و حقائق کھلنا شروع ہونگے ،
مثال کے طور پر عناصر اربع کو دکھے جنکو عناصر تخلیق بھی سمجھا جاتا ہے ،آگ ،ہوا ،مٹی ،پانی ،
ان چار عناصر میں پانی کی اک خاص شان ہے اور اسکو تخلیق کا سب سے بنیادی عنصر بھی مانا جاتا ہے ،
پانی کی سب سے قوی ترین شکل سمندر ہے جسمیں اک جہاں عظیم آباد ہے عظیم پہاڑی سلسلے نباتات و جمادات اور وہ عظیم الجثہ مخلوقات جنکے وجود سے خشک زمین ناواقف ہے !
اب سمندر اور اسکے اندر موجود مخلوقات کے باہم تعلق کا مشاہدہ کیجئے سمندر اپنے اندر موجود تمام مخلوقات کو کلّی طور پر محیط ہے اور انکی بقاء کا ضامن بھی اسکا اپنے اندر موجودات سے مکمل اور بھرپور تعلق بھی ہے اور ربط بھی ،
لکین ہم دیکھتے ہیں کہ اس ارتباط کے باوجود وہ تمام اجسام جو سمندر کے اندر رہائش پذیر ہیں اپنی مکمل انفرادیت کے حامل بھی ہیں جمادات نباتات سے فرق رکھتے ہیں مچھلی اور سانپ کی ہیت ضروریات اوصاف اور احتیاجات میں مکمل تفریق ہے اسی طرح یہ تمام مخلوقات سمندر سے باہم مربوط ہونے کے باوجود منفرد بھی ہیں ،
اب کسی ذھن میں اس اشکال کا پیدہ ہونا محال ہے کے اس باہمی ربط و تعلق کے کی وجہ سے وہ تمام پودے جانور جڑی بوٹیاں نمکیات و معدنیات "سمندر" یعنی اس " کو اگزسٹانس" کی وجہ سے سمندر مچھلی بن جانے گا یا پھر مچھلی سمندر دونوں باہم موجود ہونے کے باوجود اپنی ذاتی صفات کے ساتھ متصف ہیں ،
سمندر کو اگر قدیم سمجھا جانے کیونکہ وہ اپنے موجودات سے پہلے موجود تھا اور انکے فنا کے بعد بھی رہے گا تو یہ ماننا بھی لازم اے گا کہ سمندر کے موجودات سمندر کے ساتھ ربط کے باوجود سمندر نہیں بنے یعنی سمندر کی قدامت اور سمندر کے موجودات کا عارضی ہونا دونوں کے افتراق کو واضح کرتا ہے ،

دوسرے مقدمے کو لیجئے سمندر اپنے موجودات کے مقابلے میں لامحدود ہے لیکن اسکے اندر موجودات محدود یہاں ہم سمندر کی اسکے اندر مخلوقات کے ساتھ معیت کو تو تسلیم کر سکتے ہیں لیکن اس بات کا ماننا محال ہے کہ وہ مخلوقات بھی کسی درجے میں سمندر کا جزو ہیں یعنی ہم کہ سکتے ہیں کہ سمندر کی حد وہاں ختم ہوتی ہے جہاں اس مخلوق کی حد شروع ہوتی ہے یعنی سمندر اک حد کے ساتھ اپنے اندر موجودات سے الگ بھی ہے ،
اب یہاں کوئی اپنی کمفہمی میں یہ سوال اٹھاۓ کہ سمندر تو محدود ہو گیا اور اسکو محدود تسلیم کرنے سے اسکی لامحدودیت کا تصور خطرے میں پڑ جانے گا تو اس سوال کا شافی جواب اک زیرلب مسکراہٹ ہو سکتی ہے ،
سمندر جو اپنے موجودات کو محیط ہے اسکو محدود کیونکر تسلیم کیا جا سکتا ہے کیا محیط بھی محدود ہوتا ہے ہاں اس احاطے کا یہ مطلب دریافت کرنا کہ ان مخلوقات میں بھی سمندر ہی جاری ساری یہ "حلول " ہے جو اک قبیح مغالطے سے بڑھ کر نہیں مچھلی کو لیجئے اور اسکی ڈائی سیکشن کیجئے آپکو سمندر کا کوئی حصّہ اسمیں نظر نہیں اے گا !
اس تفصیلی تمثیل سے کچھ امور سمجھ میں اتے ہیں !
خالق اپنی حد کے ساتھ مخلوق سے منفرد لکین اسکے ساتھ اور اسکو محیط بھی ہے لیکن اس احاطے سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ مخلوق خالق کا جزو بن گئی کیونکے پھر یہ ماننا بھی لازم اے گا کہ مخلوق کے فنا ہونے کے ساتھ خالق کا اک جزو بھی فنا ہو جاتا ہے اور نئی مخلوق کی تخلیق کے ساتھ خالق کا نیا جزو بھی تخلیق ہوتا ہے یعنی کیا خالق بھی مخلوق کے ساتھ فنا و بقاء کا شکار ہے ہرگز نہیں !
سمندر والی تمثیل سے اسکا سمجھنا انتہائی آسان ہو جاتا ہے اور تمام اشکالات رفع ہوتے دکھائی دیتے ہیں .
ہاں کوئی اس مغالطے کا شکار نہ ہو کہ مخلوقات بھی خالق کے اندر ایسے ہی رہائش پذیر ہیں جیسے سمندر کے اندر اسکے موجودات کیونکے سمندر اور اسکے موجودات اک جنس یعنی دونوں مخلوق ہیں اور خالق و مخلوق میں بنیادی تفریق ہے !
بھائی صاحب ان تمام تاریخی معلومات کا بنیادی ماخذ کیا ہے اور انپر کس حد تک اعتماد کیا جا سکتا یہ تو اک الگ تحقیقی بحث ہے ابتدا میں خدا واحد کا تصور تھا یا بہت سے دیوی دیوتاؤں کا سوال یہ ہے کہ اپنی ابتدا میں خدا کا تصور اک یہ کثیر آیا ہی کہاں سے اور یہ تصور انسانیت کی مشترکہ میراث رہا ہی کیسے ؟
بھائی صاحب پیش نظر مضمون تو اصل میں خدا کے تصور میں موجود تضادات سے متعلق ہے ناکہ خدا کے تصور کی تاریخ سے متعلق !
وہ تمام تضادات جو عقل پرستوں کو دکھائی دیتے ہیں انکا ابطال انہی کے عقلی اصولوں سے تاریخی مباحث تو بہت بعد کی چیز ہیں پہلے تو فطری طور پر خدا کو ماننا یہ نہ ماننا اور پھر اگر خدا کو تسلیم ہی کر لیا جانے تو عقل کسی اک خدا کو تسلیم کرتی ہے یہ پھر لاتعداد معبودوں کو ؟
بھائی صاحب خدا، سقراط کی نظر میں

SOCRATES 470-399BC)) دیگر یونانی معاصر کی طرح مختلف خداؤں کے وجود پر ایمان رکھتا تھا۔ تاریخ فلسفہ میں نقل شدہ حقائق کے پیش نظر، سقراط کے مطابق سعادت و کمال حاصل کرنے کے لئے انسان کو خدا اور اس کی ھدایت کی کوئی ضرورت نھیں ھے۔ اگرچہ وہ کمال انسانی کو اصول اخلاقی میں مقید گردانتا ھے لیکن اس نے خدا اور انسانی زندگی میں اس کے رابطے اور دخل کا کوئی تذکرہ نھیں کیاھے۔

خدا، افلاطون کی نگاہ میں

PLATO (BC 427/8۔347/) خدا کے عنوان سے دوموجودات کا تذکرہ کرتاھے۔ ایک خیر مطلق اور دوسری صانع۔ اس کی نگاہ میں خیر مطلق ھی حقیقی خدا ھے جس کو وہ پدر یا باپ اور صانع کو پسر یا بیٹا کھتا ھے۔
افلاطون کے مطابق خیر مطلق کی شناخت نھایت مشکل بلکہ دشوار ترین معرفت ھے جو تمام معرفتوں کے حصول کے بعد حاصل ھوتی ھے اور ان دونوں خداؤں کو فقط فلسفی حضرات ھی درک کرسکتے ھیں۔ افلاطون کے مطابق فلسفی حضرات وہ افراد ھیں جو روحی اور ذھنی حتی جسمانی لحاظ سے مخصوص صفات کے حامل ھوتے ھیں البتہ یہ فلسفی حضرات بھی مختلف مراحل سے گزر کر اور اپنی عمر کے پچاس برس گزارنے کے بعد ھی خیر مطلق کا ادراک کرسکتے ھیں لیکن دوسرے افراد جن میں غالباً عوام الناس آتے ھیں ھمیشہ ھمیشہ شناخت وادراک خدا سے محروم رھتے ھیں۔

خدا، ارسطو کے نقطہٴ نظر سے

ARISTOTLE (4 BC / 483۔321/2 ) کے عقیدے کے اعتبار سے عالم ھمیشہ موجود رھا ھے یعنی ازلی ھے اور کسی نے اس کو خلق نھیں کیاھے۔ لھٰذا ارسطو کا خدا، خالق کائنات نھیںبلکھ فقط محرک کائنات ھے او رایسا محرک جو خود کوئی حرکت نھیں رکھتا ھے۔ خدائے ارسطو کی روشن ترین صفت یھی عنوان”محرک غیر متحرک“ ھے ۔ ارسطوکی خدا شناسی کا اھم ترین گوشھ یھ ھے کھ ارسطو کے مطابق خدا کی پرستش، اس سے محبت اور اس سے رحم و کرم کی توقع ناممکن ھے۔ خدائے ارسطو کسی بھی طرح محبت انسان کا جواب نھیں دے سکتا۔ ارسطو کا خدا فاقد ارادہ ھے نیزاس کی ذات سے کسی بھی طرح کا کوئی فعل سرزد نھیں ھوتا ھے۔ ارسطو کا خدا ایک ایسا خدا ھے جو ھمیشہ فقط اور فقط اپنے متعلق غور و فکر کرتا رھتا ھے۔ (۱)
بھائی صاحب وجود خدا ، قرون وسطیٰ کے عیسائیوں کے نزدیک

” مغربی دنیا میںدین سے فرار کے اسباب “کے تحت خدا کے بارے میں کلیسا کے نظریات کی طرف ایک ھلکا سا اشارہ کیا جا چکا ھے۔ یھاں اس نکتے کا اضافہ ضروری ھے کہ قرون وسطیٰ میںغالب نظریہ یہ تھا کہ دوسرے عوامل واسباب کے شانہ بشانہ خدا بھی اس جھان کے نظم و نسق میں موثر ھے۔ اس زمانے کے خدا معتقد افراد جب زلزلہ ، چاندگرھن، سورج گرھن، آندھی، طوفان وغیرہ کی کوئی علت تلاش نھیں کرپاتے تھے تو آخرکار ان حادثات کی علت خدا کو قرار دے دیتے تھے۔ظاھر ھے کہ اس طرز تفکر کا نتیجھ یھی ھوتا ھے کہ خداکو اپنے ارد گرد بکھرے ھوئے مجھولات میں تلاش کیا جائے۔ طبیعی ھے کہ جتنا ھماری معلومات میں اضافہ ھوتا جائے گا اور ھمارے مجھولات کم ھوتے جائیں گے اتنا ھی خدا کا دائرہ کار بھی سمٹتا جائے گا اور اگر فرض کرلیں کہ کسی دن تمام مسائل و معمہ ھائے بشر حل ھوجائیں اور انسان ھر حادثہ و واقعہ کی طبیعی علت و عامل کی شناخت کرلے تو اسی دن یہ بھی ماننا پڑے گا کہ اس دنیا سے لفظ ”خدا“ کا بھی خاتمہ ھو جائے گا۔
مذکورہ کلیسائی نظریے کی بنا پر اس کائنات کے فقط کچھ ھی موجودات ایسے ھیں جنھیں وجود خدا کی نشانیاں کھا جاسکتا ھے یعنی فقط ایسے موجودات جن کی علت ابھی تک ناشناختہ ھے۔ یہ نظریہ چونکہ ھماری اس دنیا میں موجود تھا لھٰذا کانٹ KANT)) کو اعتراض کرنا پڑا:
”علم و سائنس نے خدا کو اس کے مشاغل سے جدا کرکے ایک گوشے میں قرار دے دیا ھے۔“ (نقل از شھید مطھری، مجموعہٴ آثار،ج/۱،ص/۴۸۲)
KANT کھنا یہ چاھتا ھے کہ اب تک بشریت یہ سمجھتی تھی کہ ھر حادثے کی علت خدا ھے یعنی خدا کو ایک پوشیدہ ومخفی قوت کے طور پر فرض کیا جاتاتھا جیسے ایک جادو گر اچانک کوئی فیصلہ کرے اور بغیر کسی مقدمے کے کوئی جادو کا نمونہ پیش کردے۔ مثال کے طور پر اگر اس زمانے میں کسی کو بخار ھوجاتاتھا اور اس سے سوال کیا جاتا تھا کہ بخار کیوں ھواھے تو جواب دیا جاتا تھا کہ خدانے ا سکے اندر بخار ایجاد کردیا ھے جس کا مطلب یہ ھوتا تھا کہ اس بخار کے ایجاد ھونے میں کوئی طبیعی عامل سبب نھیں بنا ھے لیکن اب جب کہ سائنس نے یہ ثابت کردیا ھے کہ بخار کا سبب فلاں مائیکروب ھے تو ظاھر ھے کہ اب اس معلول یا بخار کی علت خدا تو نھیں ھے اور اسی طرح جس قدرمختلف اشیاء یا حادثات کی نا شناختھ علتیں اور عوامل کشف ھوتے رھیں گے اتنا ھی خدا کا دائرہ کاربھی محدود ھوتا جائے گا۔
حقیقت یہ ھے کہ اس طرح کا نظریہ رکھنے والے افراد کے نزدیک دوسرے تمام موثر اسباب و عوامل کی طرح بھی خدا ایک سبب و علت اور اس کائنات کے اجزاء میں سے ایک جز ھے۔
شھید مرتضیٰ مطھری اس نظریہ پر تنقید کرتے ھوئے فرماتے ھیں:
”سبحان اللہ ! کتنا غلط طرز تفکر اور کتنی گمراھی ھے اور مقام الوھیت سے لا علمی کا کیا عالم ھے ۔! یھاں تو قرآن کریم کا یہ قول نقل کرنا چاھئے کہ وما قدرو االلہ حق قدرہ (۲) ترجمہ:اور ان لوگوں نے واقعی خدا کی قدر نھیں کی۔(۳)
بھائی صاحب خدا ،گلیلیو کے تصورمیں

قرون وسطیٰ کے خاتمہ اور علوم تجربی کی چوطرفہ ترقی و پیش رفت کے بعد گلیلیو GALILIO ( 1564۔1624) جیسا دانشمند پیدا ھوا اوراس نے خدا کے بارے میں ایک نیا نظریہ پیش کیا۔
GALILIO کے مطابق یہ کائنات ایٹم( ATOMS)کا ایک مجموعہ ھے۔ اس کائنات میں رونما ھونے والی تمام تبدیلیاں اور تغییرات ان ATOMS کی ترکیبات اورحرکات کا نتیجہ ھوتی ھیں۔ اس درمیان خدا کادائرہ کار صرف اور صرف ATOMS کوخلق کرنا ھوتا ھے اور بس۔ قدرت خدا کے ذریعے جیسے ھی یہ کائنات خلق ھوئی ویسے ھی خدا کی ضرورت بھی ختم ھو گئی اوراب کائنات مستقل وآزادانہ طور پر رواں-دواں ھے۔

خدا کے بارے میں نیوٹن کا نظریہ

نیوٹن 1727) ISAAQ NEOTON ۔1642 ) نے کائنات سے خدا کے رابطے کو گھڑی ساز اور گھڑی کے رابطے سے تشبیہ دی ھے۔ جس طرح گھڑی ساز کے گھڑی ایجاد کرنے کے بعد گھڑی اس سے بے نیاز ھو کر اپنا کام کرتی رھتی ھے اسی طرح یہ کائنات بھی خدا کے ذریعہ خلق کئے جانے کے بعد آزادانہ طور پررواں دواں ھے۔ نیوٹن اس نکتے کا بھی اضافہ کرتاھے اور یھیں سے اس کانظریہ GALILIO سے مختلف ھوجاتاھے کہ خداکبھی کبھی امور کائنات میں دخیل ھوتا اور بعض غیر مرتب اشیاء و سیاروں کو منظم ومرتب کرتا رھتاھے۔ اس کے علاوہ خدا ھی وہ ذات ھے جو ستاروں کے ایک دوسرے سے ٹکرانے میں مانع ھوتی ھے۔
اس نظریہ پر بھی قرون وسطیٰ میں موجود نظریے کا کسی حد تک اثر پڑتا نظر آتا ھے کہ خدا کے وجود کو ان موارد سے مخصوص کیا جاتا تھا جن کی علت و سبب ناشناختہ ھوتی تھی۔ بعدمیں سائنس نے یہ کشف کیا کہ سیاروںکی حرکت فعلی اور ان کے کے ایک دوسرے سے نہ ٹکرانے میں براہ راست خدا کی کوئی دخالت نھیں ھے۔ جس کانتیجہ یہ ھوا کہ خدا کا دائرہ کار مزید محدود ھوگیا۔
۱۷/ویں اور ۱۸/ویں صدی کے بھت سے دانشمندوں نے خدا کے بارے میں GALILIO کے نظریے کو ھی قبول کیاھے۔ ان کے نذدیک خدانے آغاز خلقت میں اس کائنات کو خلق کیا اور اس کو اس کے حال پر چھوڑ دیا اور اب اپنی بقا کی خاطر اس کائنات کو خدا کی کوئی ضرورت نھیں ھے جیسے ایک عمارت اپنی تعمیر کے بعد معمار سے بے نیاز ھوجاتی ھے۔
بھائی صاحب اپ تاریخ کی ٹوٹی ہی متفرق تصاویر کو جوڑ کر اپنی مرضی کی تصویر بنا لیجئے لیکن کیا اپ حقائق کو تاریخ پر پرکھ سکتے ہیں ؟

تاریخ کی ایک تعریف یوں بھی بیان کی گئی ہے ۔۔۔۔
انسانوں کے یکجا ہو کر رہنے کو ، تمدن اور اس انسانی مجمع کو ، مدینہ (شہر / ملک / مقام) اور ان مختلف حالتوں کو جو طبعاً اس کو عارض ہوں ، واقعاتِ تاریخ اور پچھلوں کو پہلوں سے سن کر ان واقعات کو اکٹھا کرنے اور اپنے سے پیچھے آنے والوں کی عبرت اور نصیحت کے لیے بطور نمونہ چھوڑ جانے کو ۔۔۔۔ "تاریخ" کہتے ہیں !

لیکن متفرق اخبارات اور برباد شدہ آثار کی بنیاد پر کوئی نظریہ ہی قائم کر لینا کہاں کا انصاف ہے ہان یہ اک تسلیم شدہ حقیقت ضرور ہے کہ خدا کے ہونے کا تصور انسانیت کی مشترکہ میراث رہا ہے ہاں وہ تمام نظریات جو خدا کی بابت پیش کیا جاتے ہیں ان میں سے سب سے زیادہ پاکیزہ اور ستھرا تصور کیا ہے یہ ہو سکتا ہے یہ اک اہم سوال ہے ؟
بھائی صاحب جدید تاریخ اور مذہبی تاریخ تصور خدا کو مختلف انداز سے دیکھتی ہے تاریخ جدید مذاہب کی متعین ابتدا بتانے سے کلّی طور پر قاصر اور موجودہ آثار بھی بھی اپنی اصل شکل میں ہیں اسکی بھی کوئی حقیقی اور واضح توجیح ممکن نہیں دوسری طرف مذاہب اور کتب سماویہ میں نہم ربط پایا جاتا ہے تضادات بھی موجود ہیں لیکن انکو علمی اور عقلی طور پر رفع کرنا مشکل نہیں ،
اگر خدا کے تصور کو تسلیم کیا جانے تو ٹکڑوں میں بنٹے ہوے خدا کے مقابلے میں واحد اور طاقتور خدا عقل کو زیادہ کشش کرتا ہے !
بھائی صاحب گفتگو کو پھر وہیں لیکر اتے ہیں اور تنقیدی جائزہ لیتے ہیں مضمون کا !
لا محدود غیر متعین ہوتا ہے جس کے بارے کوئی مزید بات چیت نہیں کی جا سکتی سوچ، خیال، زبان، شعور سب ساتھ چھوڑ جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ خدا کو لا محدود جانتے ہوئے بھی اسے ایک محدود ہستی کے طور پر استعمال کرنا لازمی ہو جاتا ہے جس سے وہ ایک شخصیت بن جاتا ہے جس میں تمام انسانی جذبات اور خصوصیات آ موجود ہوتی ہیں۔ باقاعدہ ایک فعال بادشاہ کی حیثیت سے کائنات کی سلطنت چلاتا ہے۔ کبھی دل چاہے تو کائنات کے نظام میں مداخلت بھی کرتا ہے اور فطرت کے رائج قوانین کو الٹ پلٹ دیتا ہے۔ اس کے باقاعدہ احساسات بھی ہیں وہ دعاؤں سے متاثر ہوتا ہے، دیکھتا ہے سنتا ہے اپنی مرضی کا مالک ہے۔ اس پر کوئی قانون، اصول لاگو نہیں ہوتا، پھر بھی اسے عادل کہا جاتا ہے جبکہ عادل کیلئے کسی قانون اور اصولوں کا پابند ہونا لازمی ہے! ورنہ وہ عادل ہو ہی نہیں سکتا کیونکہ مرضی کا مالک عادل نہیں ہوسکتاخدا کی صفت ہے وہ جو چاہے کرے اور جو اس طرح کی صفت کا حامل ہو وہ عادل کیسے سمجھا جا سکتا ہے ؟

ذرا اس مغالطے پر غور کیجئے ،
لا محدود غیر متعین ہوتا ہے تو پھر اس بات کا تعین ہی کیسے ہوا کے وہ لا محدود ہے اگر وہ غیر متعین ہے تو پھر محدودیت اور لا محدودیت کا سوال ہی ختم ہو جاتا ہے ،معلوم ہوا کہ یہ اک لفظی مغالطہ ہے جسکی پرتوں کو کھولا جانے تو اندر سے کچھ نہیں نکلتا ،
یہاں بات ہوئی صفت عدالت کی اور اسپر یہ مفروضہ قائم کیا گیا کہ جو مطلق العنان ہو دعاؤں سے متاثر ہوتا ہو اسپر کوئی قانون لاگو نہ کیا جا سکے وہ صفت عدالت سے محروم ہے اب ذرا غور کیجئے اور اذہان کے دریچوں کو وا کیجئے کیا یہ سب صفات عدالت کا خاصہ ہیں یہ پھر عدالت کے منافی ،
جب اپ کسی عادل سے متعلق گفتگو کرتے ہیں اور عادل بھی وہ جسنے کائنات کے فیصلے طے کرنے ہیں تو لازم ہے کہ وہ خود کسی لگے بندھے قانون کا قیدی نہ ہو آخر اسکا کسی قانون کا پابند ہونے کا مقصود ہی کیا ہے کیا اس عظیم عادل سے کسی ظلم کی توقع ہے قانون کی پابندی کا سوال وہاں پیدہ ہوتا ہے جہاں بیرونی عناصر سے متاثر ہوکر عدالت سے ہٹ کر ظلم کے مطابق فیصلے کرنے کا احتمال موجود ہو لیکن اک ایسی ہستی جو مطلق العنان ہو اسکے بارے میں ایسا شبہ ہی مضحکہ خیز ہے اسلئے یہاں قانون کی پابندی خوبی نہیں عدالت کے لیے نقص قرار دی جانے گی !
عادل کا مجرم یہ پھر ملزم مدعی یہ فریق کی حالت کفیت اور ماحول سے متاثر ہوکر فیصلہ کرنا ، کیا ان سب چیزوں کو خوبی کہئے گا یہ پھر خامی ،دو ایسے مجرم جو اک جیسے جرم کے مرتکب ہوے ہوں لیکن انکے معروضی حالت مختلف ہوں انپر قانون کس طرح اک جیسا رویّہ اختیار کر سکتا ہے اک چور جو تفریح طبع کے لیے یہ ہوس اور لالچ کی وجہ سے چوری کا مرتکب ہوتا ہے اور ایک ایسا شخص جو بھوک کی حالت سے مجبور ہوکر اس جرم کا ارتکاب کرتا ہے دونوں پر اک حکم لگانا عدالت ہے یہ پھر ظلم ،
یہاں مجرم کی حالت اور کیفیت سے متاثر ہوکر مختلف فیصلے کرنا بلا شبہ عین عدالت ہے !

فطرت کے قوانین کو بنانے والا کیا ان قوانین فطرت سے ماوراء نہیں اور اگر نہیں تو پھر اسے خالق تسلیم ہی کیسے کر لیا جانے پھر تو قوانین فطرت کو خالق پر فوقیت حاصل ہو جانے گی ،
قوانین فطرت اور معجزہ
قبل ازیں کہ ہم اس بحث کو شروع کریں یہ ضروری معلوم ہوتاہے کہ ہم یہ سمجھ لیں کہ قوانین فطرت یا نوایلیس قدرت کسے کہتےہیں۔ جب ہم لفظ قانون نیچر کے متعلق استعمال کرتے ہیں توہماری مراد ان نتائج یااظہارات سے ہوتی ہے جو ہمیشہ ان اسباب کی پیروی کرتے ہیں یا ان کے وسیلے برآمد ہوتےہیں جو موجداُن کے وجود کے ہوتے ہیں۔ یعنی جب ہم دیکھتے ہیں کہ فلاں اسباب کے وجود ہونے سے فلاں نتائج ہمیشہ پیدا ہوتے ہیں۔ توہم اس باہمی رشتہ کو خاص اسباب اوران کے نتائج میں پایا جاتا ہے قانون کے نام سے موسوم کرتے ہیں۔ اورچونکہ ہم اس عالم میں یہ مشاہدہ کرتے ہیں کہ مقرری اسباب سے مقرری نتائج پیدا ہوتے ہیں ۔ لہذا ہم کہتے ہیں عالم موجودات میں وہ قوانین پائے جاتے ہیں جوکبھی تبدیل نہیں ہوتے۔ اوراسی بنا پر معجزے کی مخالفت کی جاتی ہے۔ چنانچہ مخالف کہتاہے کہ ہمارا تجربہ ان قوانین کی نسبت بے تبدیل ہے ۔ یعنی ہم کبھی ان قوانین کو بدلتے نہیں دیکھتے لیکن معجزہ ان میں رخنہ اندازی کرتاہے لہذا وہ ماننے کے لائق نہیں۔
اگر ہم غور غور کریں تو عجائب کا ظہور عین فطرت ہے اور تاریخ انسانی اس بات پر گواہ ہے کہ اکثر نظام تکوین اپنے لگے بندھے سسٹم سے ہٹ کر نۓ رویوں کا اظہر بھی کرتا ہے !
1875ء میں میکسیکو کے ایک سرکس میں کام کرنے والی دو کوتاہ قامت بہنوں میں سے ایک کا قد ایک فٹ آٹھ انچ اور وزن چار پونڈ سات اونس تھا۔ سترہ سالہ لوزیا سرکس ہی میں جھولے پر کرتب دکھاتے ہوئے مر گئی تھی۔
1814ء میں سسلی میں پیدا ہونے والی کیرولین کا قد دس سال کی عمر میں ایک فٹ آٹھ اعشاریہ دو انچ تھا۔ اس کے باپ گلیگون نے اسے معاش کا ذریعہ بنا لیا اور لندن کے ایک تھیٹر میں اس کی باقاعدہ نمائش شروع کردی۔ 1924ء میں جب کیرولین کا انتقال ہوگیا تو اس کا باپ اس کی لاش لے کر غائب ہو گئی۔ اس کا خیال تھا کہ وہ انسانی اعضاء پر تحقیق کرنے والے کسی ادارے کے ہاتھ لاش فروخت کر دے گا اور جب وہ رائل کالج آف سرجنز کے ڈاکٹر ہومز کے پاس پہنچا تو اسے بہت تاخیر ہو چکی تھی۔ لاش خراب ہو جانے کے باعث اس کے بے حس باپ گلیگن کو اس کی کوئی قیمت نہ مل سکی۔
بھائی صاحب نومبر 1930 میں اسکیمو کے شہر میں کوئی چیز خلافِ توقع دکھائی دیتی تھی۔ ایک پولیس مین جوئی بھی اسے محسوس کئے بغیر نہ رہ سکا۔ وہ صورتِ حال معلوم کرنے کے لیے ٹھہر گیا۔برف سے لدی ہوئی تند ہواؤں سے جو جھیل انجی کونی کے اوپر اٹھ رہی تھیں۔ جھونپڑیوں کے کھلے کواڑوں میں لگے چمڑے کے پردے لٹک رہے تھے۔ہر طرف ہو کا عالم تھا کسی کتے کے بھونکنے کی آواز بھی سنائی نہیں دیتی تھی اور نہ ہی کسی انسان کا پتہ چلتا تھا۔ ماحول پر گہرا اور پر اسرار سکون طاری تھا۔
جوئی نے خود سے پوچھا لوگ کہاں چلے گئے؟۔ یہ ایک سوال تھا جس کا کوئی جواب کبھی نہ دیا جا سکا۔
اسکیمو کے اس شہر میں جوئی کے کئی دوست تھے۔ یہ شہر ماؤنیٹر(چرچل)کے شمال میں پانچ سو میل کے فاصلے پر واقع ہے۔ جوئی اس دن ٹینڈرا کے منجمد خطے سے گزرتے ہوئے اسکیمو کے شہر کی طرف مڑا تھا تاکہ وہ اپنے دوستوں سے ملاقات کر سکے۔ لیکن اس کا استقبال کرنے والا صرف گہرا اور پر اسرار سناٹا تھا۔ اس نے شمال مغربی ماؤنیٹر کو رپورٹ دیتے ہوئے کہا کہ وہ شہر کے ایک سرے پر آ کر ٹھہر گیا اور اپنی آمد کی اطلاع دینے کے لیے پکارنا شروع کر دیا لیکن اسے کوئی جواب نہیں ملا۔ اس نے جھونپڑی میں ہرن کے چمڑے سے بنی ہوئی چنی اٹھا کر بھی پکارا مگر کوئی جواب نہ ملا۔
سارے شہر میں اسی طرح کی صورتحال کا سامنا کرنا پڑا۔ جوئی ایک گھنٹے تک اس شہر میں رہا تاکہ وہ شہریوں کی پر اسرار گمشدگی کے متعلق اندازہ لگا سکے۔ اس نے چولہوں پر پکانے کے برتن دیکھے۔ ایسا لگتا تھا کہ انہیں کئی ماہ پہلے آگ پر رکھا گیا تھا۔
جوئی کو ایک سؤر کی کھال سے بنے ہوئے بچوں کے ملبوسات بھی نظر آئے۔ ہاتھی دانت کی بنی ہوئی سوئیاں ابھی تک ان ملبوسات میں پیوست تھیں۔ جنہیں ماؤں نے جلدی میں سینا چھوڑ دیا تھا۔
دریا کے کنارے کشتیاں بھی موجود تھیں۔ ایک کشتی کے متعلق تو وہ جانتا تھا کہ یہ گاؤں کے سردار کی ہے۔یہ کشتیاں دریا کے پانی سے بوسیدہ ہو گئ تھیں۔ ان کی حالت سے ظاہر ہوتا تھا کہ وہ کافی عرصے سے وہاں رکھی گئی ہیں۔
جوئی کو ایک اور چیز نے بہت حیران کیا۔اسکیموؤں کی مشہورِ زمانہ بندوقیں دروازوں کے ساتھ کھڑی اپنے مالکوں کا انتظار کر رہی تھیں جو کبھی واپس نہیں آ سکے۔ ٹنڈرا کےانتہائی شمالی علاقوں میں بندوق کو بہت اہمیت دی جاتی ہے اور یہ فی الواقع زندگی کا بیمہ بھی سمجھی جاتی ہے۔کوئی اسکیمو ہوش و حواس کی حالت میں بلا بندوق کبھی لمبے سفر پر نہیں نکلتا تھا۔لیکن یہاں تو الٹا ہی معاملہ تھا۔ بندوقیں وہیں لٹکی ہوئی تھیں لیکن ان کے مالک غائب تھے۔
حیرت انگیز بات تو یہ تھی کہ کتے اپنی اپنی جگہ پر موجود تھے۔ حالانکہ اس لق و دق اور سنسان جگہ میں اسکیمو لوگ حفاظت کے لیے کتوں کو بھی ساتھ لے جاتے تھے۔
جوئی نے ایک خیمے سے سو گز کے فاصلے پر سات کتوں کو مرا ہوا پایا یہ کتے درختوں کی جڑوں سے بندھے ہوئے تھے۔ بعد میں کینیڈا کے ایک ماہرِ تشخیص الامراض کی تحقق سے پتہ چلا کہ وہ فاقہ کشی سے مرے تھے۔ اس معمہ کا سب سے پیچیدہ پہلو وہ قبریں تھیں جومردہ کتوں کی مخالف سمت میں خیمے کی ایک سمت بنی ہوئی تھیں۔ یہاں اسکیموں مروجہ طریقے سے اپنے مردے دفناتے تھے۔ ان قبروں کو وزنی سلوں سے ڈھانپا جاتا تھا۔ یہ تمام قبریں کھلی ہوئی تھیں اور ان میں سے مردے غائب تھے۔
ان قبروں کی تمام سلوں کو بڑی مہارت سے دو ڈھیروں کی شکل میں مجتمع کیا گیا تھا۔ قبریں کھولنا اسکیموؤں کے نزدیک سب سے قبیح فعل سمجھا جاتا ہے۔ اس لئے ان سے اس قسم کی توقع نہیں کی جا سکتی، علاوہ ازیں کوئی جانور بھی اتنی مہارت سے وزنی سلیں نہیں ہٹا سکتا تھا۔ جوئی نے ماہرین کو اس شہر میں آنے کی دعوت دی تاکہ اس پر اسرار معمے کے راز سے پردہ اٹھایا جا سکے۔
ماہرین یہاں کوئی دو ہفتے تک موجود رہے۔ اس پر اسرار معمے کو حل کرنے کے لئے جو شہادتیں بھی مل سکتی تھیں حاصل کیں۔ وہ اس نتیجے پر پہنچے کہ اسکیمو پچھلے دو ماہ سے اس شہر میں نہیں آئے۔ یہ اندازہ برتنوں میں کھانے پینے کی اشیاء کو دیکھ کر لگایا گیا تھا۔
اسکیموؤں کے اس شہر میں تیس باشندے تھے اور وہ بلکل نارمل زندگی بسر کر رہے تھے لیکن کسی نامعلوم وجہ کی بنا پر وہ اس شہر سے چلے گئے اور پھر کبھی واپس نہیں آئے۔ وہ اس شہر سے اتنی افراتفری میں نکلے تھے کہ انے ساتھ بندوقیں اور کتے بھی نہ لے جا سکے۔
یہ فرض کر لیا گیا کہ وہ ٹنڈرا کے دوسرے علاقوں میں منتقل ہو گئے ہیں۔ لیکن بڑے بڑے ماہر جاسوس بھی ان کا سراغ نہ لگا سکے۔ مہینوں کی صبر آزما تحقیق و تفتیش کے بعد بھی کسی اسکیموں کا سراغ بی نہیں لگایا جا سکا۔ ماؤنٹنڈ کی پولیس نے اس معمے کو ناقابلِ حل قرار دے کر اپنی فائل میں ٹانگ لیا۔
بھائی صاحب اپ تلاش کرتے چلے جائیں آپکو لاتعداد ایسے واقعات نظر آئے جنکی توجیہ سے عقل انسانی قاصر رہی ہے ،
فطرت کا مختلف انداز سے پیش مالک الملک کی موجودگی کا ہمیشہ احساس دلاتا ہے ضرورت آنکھوں کو کھولنے کی ہے !
Javed Sarwar تلاش اس کو کیا جاتا ہے جو کھو جائے یا اس کی مہیت اتنی چھوٹی ہو کہ آپ کی نظروں سے اوجھل ہو نزدیک ہونے کے باوجود بھی، واقعات کسی بات پر دلیل نہیں ہوتے صرف تجزیہ کرنے کے کام آتے ہیں، کسی ہستی کے وجود کو ثابت نہیں کیا جاتا وہ خود اس پر ثبوت ہے لوگ بارش کا پانی بلندی سے گرتا ہے یہ ثابت کرنے کےلئے کوئی نہیں کہیں گے کیونکہ سب جانتے ہیں بارش جب ہوتی ہے تو پانی بلندی سے گرتا ہے۔ لیکن جب آپ کہیں گے پیسوں کی بارش ہوئی تو یہ ثابت کرنے کےلئے آپ کو ٹھوس ثبوت فراہم کرنے ہوں گے۔
Haseeb Khan یہاں اٹھایا گیا سوال یہ نہیں نظر آتا کہ اس طرح کے واقعات قانون بن جائینگے سوال یہ ہے کہ کیا تاریخ انسانی میں ایسے واقعات ہوے ہیں یہ نہیں جہاں انکو ثابت کرنے کیلئے دلیل کی ضرورت ہے وہاں ایسے تمام واقعات کے انکار کے لیے بھی مضبوط دلائل کی ضرورت ہے !
باقی روٹین کی زندگی میں فطری نظام کے تحت ہونے والے واقعات کو ثبوت کی ضرورت لاحق ہی کہاں ہے !
Haseeb Khan اور اگر اس کلیے کو ہی تسلیم کر لیا جانے کہ واقعات دلیل نہیں ہو سکتے تو پھر اس واقعے کو کہاں لےجینگے!
ایجاد و دریافت کا بند دروازہ

جس طرح ریاضی کو سائنس کی ماں کہا جاتا ہے اسی طرح فلسفے کو علوم کا باپ مانا جاتا ہے۔ یعنی سائنس اور ریاضی بھی فلسفے ہی کی اولادیں ہیں۔ تاحال فلسفے کی کوئی مناسب تعریف تو ممکن نہیں ہو سکی، البتہ اس کی خصوصیات کے بیان سے اس کے کام، اہمیت اور افادیت کو ضرور واضع کیا جا سکتا ہے۔ فلسفے کی دو خصوصیات انتہائی اہم ہیں، جن میں سے اول انسانی فکر کو بامقصد بنانا اور اس کی جانچ کرنا، جبکہ دوسری خصوصیت کارآمد اور بامقصدسوال اٹھانا۔ بہرحال اس تحریر کا مقصد فلسفے کی اہمیت او ر افادیت پر بحث کرنا بالکل نہیں ہے۔
جیسا کہ اوپر ذکر کیا جاچکا ہے کہ فلسفے کو علوم کا باپ کہا جاتا ہے، تو خیال یہ کیا جاتا ہے کہ فلسفے کو یہ مقام اس کی سوال اٹھانے والی خوبی کی وجہ سے عطا کیا گیا ہے، اور اگر آپ سائنس کی موجودہ ترقی کو دیکھیں تو اس کے پیچھے آپ کو فلسفے کی اس سوال اٹھانے والی خوبی کا بہت بڑا ہاتھ کارفرما نظر آئے گا۔ مثلاً ہوا میں اڑنے کی انسانی خواہش تو شاید بہت پرانی ہو، لیکن یہ خواہش تب ہی پوری ہوسکی جب انسانی ذہن میں یہ سنجیدہ سوال پیدا ہوا کہ ’’ آخر انسان کیسے اڑ سکتا ہے؟‘‘۔ کشش ثقل کے قوانین تب ہی مرتب کئے گئے جب گرتے سیب کو دیکھ کر آئزک نیوٹن کے ذہن میں یہ سوال پیدا ہوا کہ ’’چیزیں ہمیشہ نیچے کی جانب ہی کیوں گرتی ہیں ؟‘‘۔ پینسیلین بھی تب ہی ایجاد ہوئی جب الیگزینڈر فلیمنگ نے پیٹری ڈش میں مرے ہوئے چراثیم دیکھے اور اس کے ذہن میں سوال پیدا ہوا کہ ’’یہ کیسے مر گئے؟‘‘۔ اسی طرح کی لاتعداد مثالیں دیتے ہوئے یہ بات ثابت کرنا چنداں مشکل نہیں کہ بامقصد سوالات ہی سائنسی پیش رفت کی بنیاد ہیں، لیکن دیکھنا یہ ہے کہ بامقصد سوال آخر کب پیدا ہوتا ہے؟
Haseeb Khan واقعات کو اگر اصولوں پر پرکھا جاتا تو پھر سائنس کی موت واقع ہو چکی ہوتی ہاں جب واقعات سے اصول مرتب کئے جاتے ہیں تو دریافت کا دروازہ کھلتا ہے !
بھائی صاحب بہت سے ایسے حقائق و اسرار ہیں جنمیں سائنس دلچسپی تو ضرور لیتی ہے لیکن انکی تردید و تصدیق سے قاصر رہی ہے ہاں بہت سی تھیوریز ضرور پیش کی جاتی رہی ہیں جیسے احرام مصر اور انکی تعمیر ،برمودا تکون، یہ پھر شہر اٹلانٹس کا تصور کہ زمانہ قدیم میں بھی اک تہذیب یافتہ اور متمدن قوم آباد تھی !

مبصرین نے افریقی ساحل سے 600 میل دور سمندر کی تہہ میں ایک بڑے شہر کی لائنوں کی نشاندہی کی تھی۔

ماہرین کا کہنا تھا کہ یہ اس ممکنہ شہر کا احاطہ ہو سکتا ہے جس کا ذکر یونانی فلسفی افلاطون نے کیا تھا تاہم گوگل کا کہنا ہے کہ یہ لائنیں سونار سے حاصل کی گئی معلومات ہیں۔

گوگل کے بیان کے مطابق اس معاملے میں جو چیز لوگوں کو دکھائی دے درہی ہے وہ سمندری تہہ سے متعلق اعدادوشمار جمع کرنے کے عمل کا طریقہ ہے۔ یہ لکیریں اعدادوشمار جمع کرنے والے کشتیوں کے راستے کی نشاندہی کرتی ہیں۔

خیال رہے کہ گوگل ارتھ کی مدد سے کئی دلچسپ دریافتیں کی گئی ہیں جن میں موزنبیق میں پریسٹائن کے جنگلات بھی شامل ہیں جو ماضی کی نامعلوم انواع کا گھر ہوا کرتے تھے اور وہیں قدیمی رومن وِلا کے بقایاجات ملے تھے۔

دو ہزار سال قبل افلاطون نے پہلی مرتبہ تصوراتی شہر اٹلانٹس کا تذکرہ کیا تھا جو قدیم زمانے میں ہی تباہ ہو گیا تھا اس کے بعد سے ہی یہ شہر محققین
کی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔

افلاطون نے ایک ایسے شہر کے بارے میں لکھا ہے جو بہت ترقی یافتہ تھااور
دولت اور انتہائی خوبصورت قدرتی مناظر سے مالا مال تھا۔اس شہر کے بارے میں یہ بحث عام ہے کہ اگر یہ شہر تھا تو کس جگہ تھا۔ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ یہ شہر کیوبا کے نزدیک تھا جبکہ کچھ کا کہنا ہے کہ یہ تصوراتی شہر بحرِ اوقیانوس کے درمیان واقع تھا

اس بات سے ہر کوئی واقف ہے کہ اگر پتھر کے زمانے کے انسان کے سامنے پرواز کا تذکرہ کیا جاتا تو اسکا یقین کرنا ممکن نے تھا لیکن آج یہ اک جیتی جاگتی حقیقت ہے آج اک تصور پایا جاتا ہے ٹائم ٹریول کا انے والے دور میں ممکن ہو سکتا ہے کہ اسکا وجود بھی ہو جانے ،
کنے کا مقصود یہ ہے کہ ادوار کے اعتبار سے سائنسی توجیحات تبدیل ہوتی رہتی ہیں اسلئے کسی بھی مافوق الفطرت واقعے کی تردید سائنس کا مزاج ہی نہیں بلکے ایسے ہر واقعے سے تحقیق کا اک نیا دروازہ کھلتا ہے ،
آج کون دعوا کر سکتا ہے کہ ہم نے فطرت کو کلّی طور پر جان لیا ہے !
بھائی صاحب دراصل عملی تقاضے خدا کو محدودیت کے دائرے میں لا کھڑا کرتے ہیں ظاہر ہے انسان خدا کا جو بھی مفہوم بیان کرے گا وہ اس کا اپنا تخیل ہو گا یعنی وہ اپنی دیکھی دنیا سے باہر اس کے بارے میں کوئی تصور نہیں بنا سکتا ۔ یہی وجہ ہے خدا کی آج تک کوئی ایسی صفت نہیں بنی یا بیان نہیں ہوئی ،جو انسان کی دیکھی یا محسوس کی ہوئی نہ ہو خدا کا ہر تصور انسان کی اپنی دنیا سے متعلق ہی بنا ۔ مزید براں مرنے کے بعد کی دنیا کے خود ساختہ تصوراتی نقشے میں بھی خود انسان کی اپنی دنیا کی چھاپ ملے گی۔
کیا یہ ایک حیرت کی بات نہیں ہے کہ خدا جو ماو رائے ہستی ہے اس کی کوئی بھی صفت ماورا ئی نہیں ۔ ناراض ہوتا ہے تو مادی چیزوں سے مادی نقصان پہنچاتا ہے اور اگر خوش ہوتا ہے تو اس دنیا کی دیکھی ہوئی مادی نوازشیں کرتا ہے ۔
جنت کی سب نعمتیں اور دوزخ کی سزائیں اسی مادی دنیا کا ہی عکس کیوں پیش کرتی ہیں؟

خدا کے تصور کو اگر انسانی تخیل سے سمجھا جانے تو آخر اس میں قباحت ہی کیا ہے خدا کی وہ لامحدود صفات جنکا احاطہ تصور میں آنا فکر انسانی کے لیے محال ہے انسے بحث ہی کیوں کی جانے ،
کیا خود انسان کا اپنا وجود خدا کے ہونے کی سب سے بڑی دلیل ہے اور اگر ہے تو کیا یہ کوئی بہت بڑا نقص ہے جس سے خدا کی خدائی یہ پھر انسان کی انسانیت میں کوئی جھول پیدہ ہو جاتا ہے !

اک جانا پہچانا اصول یہ ہے کہ خالق کو اسکی تخلیق سے پہچانا جانے آج جدید سائنس ترقی کرکے اس مقام تک آپوھنچی ہے کہ آپکے دستخط سے آپکی شخصیت کی پرتوں کو کھولا جا سکتا ہے ،
اگر کسی کو شاعری درک حاصل ہو تو اسکے سامنے اقبال کا کوئی شعر غالب کے نام سے نقل کردیجئے فورن پہچان لیا جانے گا شاعر کے الفاظ ہونگے "میاں یہ غالب کا رنگ نہیں " کسی شاعر کا مخصوص رنگ کسی مصنف کا مخصوص طرز تحریر یہ کسی مصور کی تخلیق کا منفرد انداز ،
گھریلو خواتین کا ہی مشاہدہ کیجئے مختلف خواتین کے ہاتھ کے کھانوں کا ذائقہ الگ ہوتا انہی اجزاء سے بنی چاۓ الگ مزہ کیوں دیتی ہے روٹی کا نقشہ پکانے والے کی پہچان کیوں کروا دیتا ہے !
ذات خدا وندہ منبع ہے تمام جذبات احساسات اور ان تمام صفات کی جو مخلوقات کو بہت ادنا درجے میں عطا ہوئی ہیں اور خاص طور پر انسان جسے "خلیفہ " قرار دیا جاتا ہے جسکے بارے میں الہامی کتب میں ملتا ہے اسے خدا نے اپنے ہاتھ سے تخلیق کیا ہے بلاشبہ غضب ،محبت ،دوستی ،دشمنی یہ سارے جذبات اور سب سے بڑھ کر صفات تخلیق خدا کی صفات کا پرتو ہیں لیکن کہاں وہ ذات جہاں سے تمام صفات کی ابتداء ہوتی ہے اور کہاں وہ مخلوق جسکو عارضی طور پر کچھ صلاحیتوں سے مزین کیا گیا ہو !
پس معلوم ہوا کہ انسان کی خواہش بادشاہت کی ہمیشہ زندہ رہنے کی آرزو زمان و مکان کی قید سے چھٹکارا حاصل کرنے کی لاحاصل کوششیں اور سب کچھ جان لینے کی خلش !
کوئی کیسے کہ سکتا ہے کہ انسان اپنی صفات کی روشنی میں خدا تخلیق کرتا ہے ہاں قیاس کے تمام زاویے اس حقیقت تک رہنمائی کرتے ہیں کہ خدا کی صفات کا ادنی سا پرتو انسان پر پڑا ہے !
بھائی صاحب اگر تاریخ مذہب کا مطالعہ کیا جانے تو معلوم ہوگا کہ ابتدا آفرینش سے ایسا شخصیت کی پیدائش ہوتی رہی ہے جنہوں نے مذاہب میں احیاء و تجدید کے عمل کو جاری و ساری رکھا ہے اور اوہام کے جالوں کو صاف کرتے رہے ہیں انہوں نے ایسی دستاویزات کو بھی پیش کیا جنکی تعلیمات ادوار کے اختلاف کے باوجود اپس میں مماثلت رکھتی ہیں یہ دستاویزات دوسرے تمام تاریخی حقائق کے مقابلے میں صحیح ترین حالت میں موجود ہیں انمیں سے بعض کا مقام تو یہ ہے کہ ادنی ترین تحریف بھی ڈھونڈنے پر تلاش نہیں کی جا سکتی !
آخر قابل جواب چیز اس مضمون میں جو پیش کی گئی وہ یہ ہے کہ کیا مذہب نے سائنس کی ترقی کو روکا یہ پھر روکنے کی کوشش کی ؟
بلا شبہ نہیں سائنس کے ساتھ انے والی دہریت کا مذہب ضرور مخالف رہا ہے لیکن سائنسی ایجادات اور کمالات کا مخالف نہیں بلکہ موافق رہا ہے ہاں کچھ اقوام مخصوص ادوار میں تشکیک کا شکار ضرور رہی ہیں لیکن یہ کلیہ سب پر لاگو نہیں !
اگر مذہب حقیقت میں سائنس مخالف ہوتا تو تہذیب مغرب آج کیوں پھر سے مذہب کی طرف لوٹ رہی ہے ؟
بھائی صاحب آئزک نیوٹن، جن کا شمار دنیا کے عظیم ترین سائنسدانوں میں ہوتا ہے۔ ان کا نظریہ کائنات خود نیوٹن کے الفاظ میں کچھ اس طرح ہے۔ ’’سورج، ستاروں اور دمدار تاروں کا حسین ترین نظام ایک ذہین ترین اور اتنہائی طاقتور ہستی کی منصوبہ بندی اور غلبے کا نتیجہ ہوسکتا ہے۔ وہی ہستی تمام موجودات پر حکمرانی کر رہی ہے، جس کی عمل داری اور اقتدار میں سب کچھ ہو رہا ہے۔ وہ اس امر کا استحقاق رکھتا ہے کہ اسے خدائے عظیم و برتر اور ہمہ گیر حکمراں تسلیم کیا جائے۔‘‘ (بحوالہ پرنسپیا، نیوٹن، سیکنڈ ایڈیشن)
نیوٹن اپنی دوسری مشہور کتاب ’’پرنسپیا میتھمیٹکا‘‘ میں یوں لکھتا ہے ’’وہ (خدا) لافانی، قادر مطلق، ہمہ گیر، مقتدر اور علیم و خبیر ہے، یعنی وہ ازل سے ابد تک رہے گا، ایک انتہا سے دوسری انتہا تک ہمہ وقت موجود ہے، تمام مخلوقات پر حکمرانی کرتا ہے اور ان سب کاموں کو جانتا ہے جو کرنے ہیں یا کئے جاسکتے ہیں۔وہ ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گا۔ اسے بقائے دوام حاصل ہے۔ وہ ہر جگہ اور ہر مقام پر حاضر و ناظر ہے۔ ہم اس سے اس کی بے مثال صناعی اور اس کی پیدا کردہ اشیاء میں کمال کی جدتوں کی وجہ سے متعارف ہوتے ہیں۔ ہم اس کے عاجز بندے ہیں اور تہہ دل سے اس کی حمد و ثنا بیان کرتے ہیں۔‘‘ (بحوالہ سر آئزک نیوٹن۔ میتھمیٹکل پرنسپل آف نیچرل فلاسفی)
سی طرح جرمن کے مایۂ ناز ماہر ریاضی و فلکیات کیپلر(Kepler) کے بارے میں یہ کہا جاتا ہے کہ اس کے سائنسی کارنامے اس کے مذہبی رجحانات کے مرہون منت تھے۔ کیپلر ایک صاحب ایمان سائنس داں تھا۔ بطور سائنس داں کیپلر اس بات پر یقین رکھتا تھا کہ کائنات خالق حقیقی کی پیدا کردہ ہے۔ کیلپر سے یہ پوچھنے پر کہ وہ سائنس داں کیوں بنے تو انہوں نے جواب دیا ’’میں عالم دین بننا چاہتا تھا… لیکن اب میں نے اپنی کوششوں سے معلوم کرلیا کہ خدا کیسا ہے، علم فلکیات میں بھی تحقیق سے مجھ پر یہ بات آشکار ہوئی کہ یہ آسمان خدا کی عظمت و جلال کا اقرار کر رہے ہیں۔‘‘
لوئس پاسچر خدا پر پختہ ایمان رکھتا تھا۔ اس نے ڈارون کے نظریے کی سخت مخالفت کی تھی، اس کی وجہ سے لوئس پاسچر کو شدید تنقید کا بھی نشانہ بننا پڑا۔ وہ سائنس اور مذہب میں مکمل ہم آہنگی کے قائل تھے۔ ان کے الفاط میں ’’میرا علم جتنا بڑھتا ہے، میرا ایمان اتنا ہی پختہ ہوتا جاتا ہے۔ سائنس کی تعلیم کی کمی انسان کو خدا سے دور لے جاتی ہے اور علم کی وسعت اور گہرائی اسے خدا کے قریب پہنچا دیتی ہے۔‘‘ Jean Guitton, Dieu Etla
Science)
لبرٹ آئنسٹائن پچھلی صدی کا دنیا کا اہم ترین سائنس داں گزرا ہے اور وہ خدا میں یقین رکھنے کی وجہ سے ہمیشہ شہرت میں تھا، وہ اس نظریہ کا حامی تھا کہ سائنس مذہب کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتی ہے۔ اس سلسلے میں البرٹ آئنسٹائن کے الفاظ یہ تھے ’’میں ایسے سائنس داں کا تصور نہیں کرسکتا جو گہرے مذہبی رجحانات نہ رکھتا ہو۔ شاید میری بات اس تمثیل سے واضح ہوجائے کہ مذہب کے بغیر سائنس لنگڑی ہے۔‘‘ دیکھئے Science, Philosophy and Religion۔ آئنسٹائن کا پختہ یقین تھا کہ کائنات کا منصوبہ اتنی زبردست ہنرمندی سے بنایا گیا ہے کہ اسے کسی طرح بھی اتفاقی قرار نہیں دیا جاسکتا ہے۔ اسے یقینا ایک خالق نے بنایا ہے، جو اعلیٰ ترین حکمت و دانش کا مالک ہے۔ وہ اپنی تحریروں میں اکثر خدا پر ایمان کا اظہار کرتا تھا اور کہتا تھا کہ کائنات میں حیرت انگیز فطری توازن پایا جاتا ہے جو غور و فکر کے لیے بے پناہ اہمیت رکھتا ہے، اس نے اپنی ایک تحریر میں کہا ہے’’ہر سچے محقق کے اندر گہرے مذہبی رجحانات پائے جاتے ہیں۔‘‘ ایک بچہ نے آئنسٹائن کو خط لکھ کر دریافت کیا کہ کیا سائنس داں دعا کرتے ہیں؟ اس بچے کے خط کے جواب میں آئنسٹائن نے لکھا ’’جو شخص سائنس کے مطالعے اور تحقیق کی راہ اپناتا ہے، اسے اس امر کا قائل ہونا پڑتا ہے کہ قوانین فطرت میں واضح طور پر ایک روح موجود ہے، یہ روح انسانی روح سے بلند تر ہے۔ اس طرح سائنس کا مشغلہ انسان کو ایک خاص قسم کے مذہبی جذبے سے سرشار کردیتا ہے۔‘‘(بحوالہ Jan 24, 1936 Einstein Archive 42-601)
ہے۔‘‘(بحوالہ Jan 24, 1936 Einstein Archive 42-601)
عظیم سائنس دانوں میں سرجیمز جینزکا شمار بھی نہایت احترام سے کیا جاتا ہے۔ یہ ایک نامور ماہر طبیعات تھے۔ ان کا عقیدہ تھا کہ کائنات کو دانش و حکمت کے مالک نے تخلیق کیا ہے۔ انہوں نے لکھا ہے’’ہمیں اپنی تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ کائنات ایک خاص مقصد کے تحت تخلیق کی گئی ہے یایہ اس کنٹرولنگ پاور کی تخلیق ہے جو ہمارے ذہنوں کے ساتھ کچھ اشتراک رکھتی ہے۔‘‘ سرجیمز جینز نے آگے کہا ہے کہ ’’کائنات کے سائنسی مطالعے کا نتیجہ مختصر ترین الفاظ میں یوں بیان کیا جاسکتا ہے کہ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ کائنات کا ڈیزائن کسی خالص ریاضی داں نے تیار کیا تھا۔‘‘(ملاحظہ فرمائیں سرجیمز جینز کی کتاب دی مسیٹریس یونیورس، نیویارک)

یہاں اس خیال فاسد کا مکمل ابطال ہو جاتا ہے کہ مذہب نے اپنے وجود کو برقرار رکھنے کے لیے سائنس سے صلح کر لی بلکے معلوم یہ پڑتا ہے کہ سائنس اپنی ارتقائی ترقی کے ساتھ وہاں آ گئی ہے کہ اسے مذہب کو قبول کرنا پڑے !
بھائی صاحب یہاں پیش نظر مضمون پر میرے تنقیدی دلائل مکمل ہو جاتے ہے !

اصحاب علم کے اذہان میں کچھ اشکالات پیدہ ہوں تو انپر مزید گفتگو کی گنجائش موجود ہے !
و آخر دعوانا أن الحمد لله رب العالمين.
Javed Sarwar بھائی صاحب اتنی لمبی چوڑی تحریر میں مجھے کہیں کوئی دلیل نہیں ملی جو خدا کی ہستی کے وجود پر ٹھوس شواہد پیش کرے یا اگر میرے ناقص نظروں سے پڑھا نہیں گیا تو مختصر تحریر کے ساتھ دوبارہ پیسٹ کردیں دوسروں کے نظرئیے بیان کرنے سے بہتر آپ اپنا نقطہ نظر بیان کریں کیونکہ گفتگو آپ سے ہورہی ہے
بھائی صاحب Javed Sarwar بھائی صاحب اتنی لمبی چوڑی تحریر میں مجھے کہیں کوئی دلیل نہیں ملی جو خدا کی ہستی کے وجود پر ٹھوس شواہد پیش کرے یا اگر میرے ناقص نظروں سے پڑھا نہیں گیا تو مختصر تحریر کے ساتھ دوبارہ پیسٹ کردیں دوسروں کے نظرئیے بیان کرنے سے بہتر آپ اپنا نقطہ نظر بیان کریں کیونکہ گفتگو آپ سے ہورہی ہے،

سرکار اپنے اپنی تحریر میں کھلے بندوں خدا کی ہستی کا انکار ہی کہاں کیا ہے جو اثبات کے دلائل پر بات ہوتی ،
یہاں تو آپکے پیش کردہ اشکالات کو واضح کیا گیا ہے ،
بات دوسروں کا یا اپنا نظریہ پیش کرنے کی ہے ہی کہاں سوال یہ ہے کہ جو کچھ ثابت کرنے کی کوشش کی گئی وہ ثابت ہی کہاں ہو سکا !
Javed Sarwar تو پھر آپ اتنی لمبی چوڑی تقریر کس لئے کررہے ہیں ؟؟؟ کیا ان سب فضول کمنٹس کو خذف کردوں ؟ اور میرا سوال وہی ہے مہربانی فرما کر طویل اور فضول کمنٹس سے پرہیز کیجیئے گا
بھائی صاحب تقریر کر رہا نہیں کر چکا ہوں !
کومنٹس اگر فضول ہیں تو لکھا گیا مضمون بدرجہ اولی فضول قرار دیا جا سکتا ہے اور اگر دلائل آپکی فہم شریف میں نہیں سماۓ تو بیشک یہ قصور فہم کا شاخسانہ ہے !
باقی اپ اگر ڈیلیٹ کرنے کے خواہش مند ہیں تو یہ آپکی منشا ہے !
مہربانی فرما کر طویل اور فضول کمنٹس سے پرہیز کیجیئے گا! کئے جا چکے کومنٹس سے پرہیز ممکن نہیں باقی اگر اٹھاۓ گے سوالات کا جواب آپکے پاس نہیں تو کومنٹس ڈیلیٹ کرنے سے بہتر عاجزی کا اظہار ممکن نہیں !
Javed Sarwar یہ بات اپ پر بھی لاگو ہوتی ہے ضروری نہیں آپ کی گدڑی میں لعل ہو یہ تو آپ کا فہم ہے۔۔۔۔۔۔۔ ہر کوئی اپنے عقیدے کا محافظ ہوتا اور اس کےلئے تمام خربے استعمال کرتا ہے میرے محتصر سوال کا جواب اگر مل جاتا تو نوازش ہوتی
Javed Sarwar مجھے ابھی تک اپ کے کسی سوال کی سمجھ نہیں آئی ؟؟؟؟
اور دوسری بات میں کسی سوال کے جواب دینے کا پابند نہیں اگر اپ کا عقیدے کے بل بوتے پر مجھ سے بحث کرنے کے خواہشمند ہیں تو میں آپ سے معذرت خواہ ہوں مذہبی لوگوں کے سوالوں کے جواب دینے سے میں قاصر ہوں
بھائی صاحب یہی مشکل مجھے بھی درپیش ہے !
میں نے ابھی تک کوئی دلیل کسی مذہبی حوالے سے دی ہی کہاں ہے !
سوال یہ ہے کہ آپکے طویل مضمون میں سوال کونسا پوشیدہ ہے ؟
Javed Sarwar میں نے تو اپنی پوسٹ میں کوئی سوال نہیں کیا
بھائی صاحب جی بلکل سوال نہیں سوالات کئے ہیں !
یا پھر شاید اپنے اپنی پوسٹ پڑھی ہی نہیں ،
یہ آپکی اپنی تحریر ہے یہ پھر مستعار؟
Javed Sarwar یہ مضمون مکمل نہیں ہے اس سے منسلک دوسرے مضامین کا بھی مطالعہ کریں میری وال پر
بھائی صاحب جی تمام کا بغور کر چکا ہوں !
بھائی صاحب اک تو اپ مرے گروپ میں بھی پوسٹ کر اے ہیں !
جو ابھی وہاں موجود ہے ،
Javed Sarwar جناب میں نے کوئی سوال نامہ پوسٹ نہیں کیا مجھے میری تحریر کا بخوبی علم ہے آپ کے دلائل فضول ہیں کسی ایک رخ پر نہیں کبھی ادھر کبھی اس لئے میں نے پوچھا تھا آپ کا کیا موقف ہے ؟
Javed Sarwar میں نے جو فکر پیش کی ہے اس کے جواب میں آپ نے کئی فکریں پیش کردیں جو موضوع سے ہٹانے کا موجب ہیں اس لئے میں نے کہا تھا اپنا موقف محتصر بیان کردیں
بھائی صاحب جی مشکل یہی ہے اپکا مضمون بھی کچھ اسی انداز کا ہے کبھی یہاں تو کبھی وہاں لازمان اسکا تجزیہ بھی اسی انداز کا ہوگا !

چلئے اب آپ مکالمے کے لیے موجود ہی ہیں تو نمبر وار سوالات پیش خدمت کر دیتا ہوں !
Javed Sarwar نہیں میں آپ سے مکالمہ یا بحث کرنے کا خواہشمند نہیں ہوں
Javed Sarwar بحث کا مطلب صرف اپنے ہتھیار استعمال کرنا ہے اور کچھ نہیں
Javed Sarwar آپ اس پوسٹ سے اگر متفق نہیں تو اپنا محتصر موقف بیان کردیں جو سمجھ میں آسکے
بھائی صاحب نہیں میں آپ سے مکالمہ یا بحث کرنے کا خواہشمند نہیں ہوں

جی بلکل لیکن ابھی آپ اسی میں مشغول ہیں ،
١ کیا اپ مجھے اپنی فکر پانچ لائنوں میں بیان کر سکیںگے ؟
بھائی صاحب تو میں اپنا موقف تین میں پیش کر دونگا !
Javed Sarwar بھائی صاحب میرے پاس آپ کی فضول باتوں کے لئے وقت نہیں ہے میرا موقف طویل نہیں اس کی تفصیلات طویل ہیں آپ کو تفصیلات پیش کرنے کا اتنا شوق ہے جو کہ آپ کے آباؤ اجداد کی خود ساختہ ہیں تو اپ کوئی پوسٹ بنا کر تفصیل سے اپنا موقف بیان کرو
Javed Sarwar اپ کی تمام تفصیلات الجھی ہوئی ہیں کبھی آپ کا موقف کچھ ہوتا کبھی کچھ آدھی تحریر باقی آدھی سے تضاد رکھتی ہے آپ کاپی پیسٹ چھوڑ کر اپنی عقل سے کام لیں
Javed Sarwar اور آخری بات میں کسی سوال کے جواب دینے کا پابند نہیں جو میری فکر سے آپ غیر متفق ہوسکتے ہیں لیکن اپنی فکر مجھ پر نہیں تھوپ سکتے
بھائی صاحب جناب میں نے آپکو جواب دینے کا پابند کیا ہی کب ہے !
آپکے پاس جواب نہیں تو رہنے دیجئے ،
باقی ناظرین پر چھوڑ دیجئے دلائل کو وہ خود جانچ لینگے،
Akhtar Umar گڈ جاوید بھٗائی ،

اے نبی ہم نے تمہیں ان کا چوکیدار بناکر نہیں بھیجا ہے آپ تو ایک پیامبر ہیں اور آپ نے یہ فرض بہت اچھی طرح نبھا دیا ہے۔ اب اگر کوئی نہیں مانتا تو آپ کا کام نہیں ہے کہ زبردستی منوائیں۔ مگن رہنے دیں ان کو اپنی سوچوں اور تخیّلات میں۔ اگر یہ ایمان نہیں لاتے تو ہم ہی ان کو ہدایت نہیں دے رہے ہیں۔
بھائی صاحب آدھی تحریر باقی آدھی سے تضاد رکھتی ہے !

بہت معذرت آپکو ایسی متضاد تحریر پڑھنے کی مشقت اٹھانی پڑی اس کفیت میں ، میں اور اپ یکساں ہیں ،
باقی آپکو شاید آدھی معقول لگی میں بھی ایسی ہی آدھی معقولیت ڈھونڈنے کی کوشش کر رہا ہوں ،
بھائی صاحب ے نبی ہم نے تمہیں ان کا چوکیدار بناکر نہیں بھیجا ہے آپ تو ایک پیامبر ہیں اور آپ نے یہ فرض بہت اچھی طرح نبھا دیا ہے؟

اس میں ابہام ہے جاوید صاحب نے تو کسی پیمبری کا دعویٰ کیا ہی نہیں !Akhtar Umar
Akhtar Umar صحیح کہا بھائی صاحب ابہام ہے ۔ لیکن صرف آپ کے لئے۔ یہ جملہ اسی طرح ہے جس طرح سورج چمک رہا ہوتا ہے۔ سب کو معلوم ہے کہ یہ تاریخی جملہ کس کا ہے اور کس کے لئے ہے۔

کنفیوژن پیدا کرنے والے اسی طرح بالوں کو پکڑ کر ان کی کھالیں اتارا کرتے ہیں۔
بھائی صاحب صحیح کہا بھائی صاحب ابہام ہے ۔ لیکن صرف آپ کے لئے۔ یہ جملہ اسی طرح ہے جس طرح سورج چمک رہا ہوتا ہے۔ سب کو معلوم ہے کہ یہ تاریخی جملہ کس کا ہے اور کس کے لئے ہے۔

کنفیوژن پیدا کرنے والے اسی طرح بالوں کو پکڑ کر ان کی کھالیں اتارا کرتے ہیں۔

ناخن خدا نہ دے تجھے اے پنجہ جنوں
دے گا وگرنہ عقل کے بخیے ادھیڑ تو

جناب یہ جملہ اگر جاوید صاحب کے لیے نہیں تو کسکے لیے ہے اگر اسی کے لیے ہے جسکےلئیے ہونا چاہئیے تو پھر جاوید صاحب کے اس زریں قول کو کہاں لےجینگے!

خدا سے براہ راست علم لینے والے زمین، سورج، چاند، ستارے، نباتات و حیوانات کے بننے کا ذکر یوں کرتے ہیں جیسی یہ آج دکھائی دے رہی ہیں تخلیق کے وقت بھی ایسے ہی تھیں، حالانکہ یہ سوچ سرا سر اندازوں پر مبنی ہے کیونکہ ان کو اس شکل میں آنے کے لئے کروڑوں اربوں سال لگ گئےاور یہ سب آج بھی تبدیلی کے عمل سے گذررہی ہیں مثلاً یہ کہنا کہ یہ زمین خدا نے بنائی تھی، پھر یہ سوال اٹھتا ہے کہ وہ کونسی زمین تھی ۔ موجودہ شکل تک پہنچنے سے قبل زمین کروڑوں سال تک مختلف حالتوں میں رہی۔ کبھی صرف گیس اور غبار تھی، کبھی بغیر پانی کے، کبھی اس کی فضا صرف زہریلی گیسوں پر مشتمل تھی اور کبھی یہ فقط برف کا گولہ تھی۔ مندرجہ بالا معروضات سے یہی نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ اگر کوئی اس کائنات کی خالق ہستی ہوتی تو اس کے قول اور فعل میں کوئی تضاد نہ ہوتا۔
اگر اسے لوگوں تک براہ راست علم پہنچانا ہو تاتو وہ اس دنیا کی بالکل صحیح تصویر کشی کرتا جبکہ معاملہ اس کے برعکس ہے خدا سے براہ راست علم حاصل کرنے کے دعوی دار حیات اور کائنات کے بارے میں بچگانہ قصے کہانیاں اور نہایت سطحی اور سادہ لو حی پر مبنی معلومات فراہم کرتے رہے ہیں اس طرح کی معلومات انسانی شعور کے بچگانہ خیالات کی نمائندگی کرتی ہیں۔


بھائی صاحب پیارے شاید اپنے مضمون پڑھا ہی نہیں اور اگر نہیں تو پڑھ لیجئے !
پھر اسپر کی گئی تنقید بھی اسکے بعد سوالات کی زنبیل کھولے گا ،


ایک تبصرہ شائع کریں