جمعہ، 9 ستمبر، 2016

سیاست شرعی ، سیکولر سوالات اور اسلام پسندوں کی غلط فہمیاں ... ! پہلی قسط

سیاست شرعی ، سیکولر سوالات اور اسلام پسندوں کی غلط فہمیاں  ... !

ابن خلدون مقدمے میں ریاست کی تین اقسام بیان کرتا ہے

١.ملوکیت
٢.سیاست عقلی
٣. خلافت

" ملوکیت " کا تعلق براہ راست عصبیت کے جذبے   کے ساتھ  ہے اور بغیر عصبیت ملوکیت کا چلنا ممکن نہیں یہ عصبیت ہی دراصل وہ قوت فراہم کرتی ہے کہ جو ملوکیت کا ایندھن قرار دی جا سکتی ہے .

" سیاست عقلی "  کا سراغ ابن خلدون نے اس دور میں لگایا تھا کہ جب جدید جمہوریت کا تصور اپنے واضح خد و خال کے ساتھ نہیں ابھرا تھا ایک ایسا نظام کہ جس میں لوگوں کے منتخب نمائندے اپنی عقل کے مطابق اتفاق راۓ سے ایک سیاسی نظام تشکیل دیں کہ جس کی بنیاد دین پر نہ ہو .

" خلافت " کی بحث کرتے ہوۓ علامہ فرماتے ہیں کہ ..

نری بادشاہت جو عصبیت کی طاقتوں کے زریعے  زندہ ہو تو وہ اسلئے غلط ہے اور جور و عدوان کے مترادف ہے کہ اس میں خواہشات انسانی کی روک تھام کیلئے کوئی اہتمام نہیں کیا گیا .

سیاست عقلی میں یہ قباحت ہے کہ اس میں وہ روشنی ہی مفقود ہے جو دین مہیا کرتا ہے اسلئے قدرتی طور پر اس کے دوائر میں محدود دنیا ہی کے مفادات آ سکتے ہیں عقبی کے تقاضوں کو سمجھنا اس کے بس کا روگ نہیں ہے .

رہا سیاست دین کا مسلہ تو وہ نظام سامنے آتا ہے کہ جس میں صلاح دنیا کے ساتھ ساتھ صلاح
آخرت   کا اہتمام  بھی موجود  ہو  اسی نظام کو انبیا علیہم السلام چلاتے ہیں اور ان کے بعد انکے خلفاء انکی قائم مقامی کرتے ہیں .

فی معنی الخلافتہ والا امامتہ

دور جدید میں جب سیکولر حضرات کی جانب سے سوالات سامنے آتے ہیں تو اسلام پسندوں کے پاس بودی تاویلات کے سوا اور کچھ نہیں ہوتا انکے اس معذرت خواہانہ رویے کی وجہ سے ہی ایک جانب تو اسلام کی حقیقی تصویر دوسروں تک نہیں پہنچ پاتی اور دوسری جانب انکی مدافعت اتنی کمزور ہوتی ہے کہ شرمساری کی شکل اختیار کر لیتی ہے آج ہم اس دور میں کھڑے ہیں کہ اسلام کے " احیاء " کا سوال ہی ایک مغالطہ لگتا ہے کیوں کہ جو کچھ استعمار اپنی باقیات کے طور پر پیچھے چھوڑ گیا ہم نے اسے اسلام کی قباء پہنا کر مسلمان کر دیا .

کیا خوب کہا تھا حضرت اقبال نے ...

ہے زندہ فقط وحدت افکار سے ملت
وحدت ہو فنا جس سے وہ الہام بھی الحاد


وحدت کی حفاظت نہیں بے قوت بازو
آتی نہیں‌ کچھ کام یہاں عقل خداداد

اے مردِ خدا ... ! تجھ کو وہ قوت نہیں‌ حاصل
جا بیٹھ کسی غار میں‌ اللہ کو کر یاد

مسکینی و محکومی و نومیدیء جاوید
جس کا یہ تصوف ہو وہ اسلام کر ایجاد

ملا کو جو ہے ہند میں سجدے کی اجازت
ناداں یہ سمجھتا ہے کہ اسلام ہے آزاد


اور اسی مضمون کو اقبال سے پہلے غالب خوب باندھ گۓ ہیں


مثال یہ مری کوشش کی ہے کہ مرغِ اسیر
کرے قفس میں فراہم خس آشیاں کے لئے

(Colonial period) دور استعمار میں اسلام پسندوں خاص کر بر صغیر کے مسلمانوں نے خوب ہاتھ مارے کہ انکی حمیت و غیرت غلامی قبولنے کو تیار نہ تھی

آئیے تاریخ پر ایک سرسری نگاہ ڈالتے ہیں


اگر یہ کہا جاوے کہ شاہ ولی الله دھلوی رح کی فکر کے جانشین یہ فکر وہابیہ کے علمبردار ہی ہیں تو کچھ غلط نہ ہوگا تاریخ ہمیں بتلاتی ہے کہ شاہ صاحب مرحوم کی ایما پر ہی احمد شاہ ابدالی افغانستان سے ہندوستان آیا تھا اور اس نے مرہٹہ قوت کو پانی پت کی میدان میں تاراج کیا تھا ......

سید احمد شہید اور شاہ اسمعیل شہید رح کی تحریک جہاد کو کون فراموش کر سکتا ہے اور پھر اسی کا تسلسل تیتو میر کی تحریک حریت اورحاجی شریعت اللہ اور ان کے بیٹے محمد محسن عرف دودھو میاں کی فرائضی تحریک 1819 ء پھر ١٨٥٧ کی جنگ آزادی اسکے بعد مولانا محمود الحسن کی قیات میں تحریک ریشمی رومال مولانا آزاد کی تحریک خلافت اور مولانا عطا الله شاہ بخاری رح کی احرار غرض اگر کوئی فعال طبقہ تھا تو یہی تھا ..........

پہلی بار اسلام کا یہ فعال طبقہ تقسیم کا شکار ہو تو جب ہوا کہ اس نے حریت کے راستے کو چھوڑ کر  جمہوریت کا راستہ اختیار کیا ...


دیوبند جیسی عظیم قوت کا دو دھڑوں میں تقسیم ہو جانا اور اپنی سیاسی فکر کو مستقبل میں مسلم لیگ اور کانگریس کے حوالے کر  دینا در اصل اس بات کا اعلان تھا کہ اب مستقبل کی سیاست سے مولوی بے دخل ہو چکا ہے اور مستقبل میں وہ جو بھی کردار ادا کرے بر صغیر پاک و ہند کے سیاسی منظر نامے میں اس کی حیثیت ثانوی ہی رہے گی ..

اپنے ارد گرد سیاسی منظر نامے پر نگاہ ڈالیں صاف دکھائی دے گا کہ اسلام پسند سیاسی جماعتوں کی ذاتی حیثیت کچھ بھی نہیں انہیں سیاسی اتحاد کیلئے آج بھی مسلم لیگ اور پیپلز پارٹی کی جانب دیکھنا پڑتا ہے اور اب  اس میں ایک نئی قوت تحریک انصاف شامل ہو چکی ہے ...

مذہبی طبقے کی یہ تقسیم اتنی گہری ہے کہ متحدہ مجلس عمل جیسے تجربات بھی اسے پاٹنے میں ناکام رہے ہیں ..

اب اگر بنظر غائر دیکھا جاوے تو مذہبی طبقے کی اس تقسیم کی بنیاد دراصل " تقسیم " کا واقعہ ہی تھا کہ جب آپ نے اپنی حریت فکر اور انقلابی روح کو " جمہوریت " کے حوالے کر دیا اور پھر آپ تقسیم در تقسیم کا شکار ہوتے چلے گۓ ..


حسیب  احمد حسیب 


جاری ہے ...
ایک تبصرہ شائع کریں