بدھ، 6 جنوری، 2016

"شاعری کی ایک جدید صنعت "

"شاعری کی ایک جدید صنعت "

"شاعری کی ایک جدید صنعت "
شاعری میں صنعتوں کا استعمال ہو یا صنعتوں میں شاعری کا استعمال 
بہر صورت معاملہ پیچیدہ ضرور ہو جاتا ہے ....

پہلے پہل جب شاعری کی صنعتوں سے اور صنعتی شاعری سے کچھ واقفیت ہوئی تو اپنی نا واقفیت کا علم ہوا ایک جغادری قسم کے استاد کے پاس پہنچے انہوں نے خشمگیں نگاہوں سے ہمیں دیکھا ایک آہ بھری اور گویا ہوے ....

میاں 

کیوں آے ہو 

ہم نے کہا 

یا استاد "کچھ صنعتیں " سکھا دیں

بولے کچھ ابتدائی تعرف ہے

ہم نے کہا جی ہاں

انہوں نے استفسار کیا

صنعت حسن تعلیل کو جانتے ہو

جی جی

ہم نے سر ہلایا

کیا ہے ادھر سے سوال آیا ........؟

وہ حسین جو حالات سے مجبور ہوکر کسی صنعت میں ملازمت اختیار کرے اور علیل ہو جاوے ......

پھر وہاں سے جو کچھ آیا اس سے نا ہمیں کوئی دلچسپی ہے اور نا آپ کو ہونی چاہئیے .

اسکے بعد

"صنعتِ لزوم مالایلزم " جسے ہم عادی ملزم سمجھتے رہے

"صنعتِ طباق" جسنے ہمارے چودہ طبق روشن کر دئیے

"صنعتِ ذوقافیتین و ذو القوافی" اور ہماری زبان میں معمر قذافی

کی بابت سوال ہوا ......

لیکن "صنعتِ سیاقۃ اعداد" پر ہماری بس ہوگئی اور ہم نے توبہ کی

اس سے پہلے کہ مزید مشقت اٹھانی پڑتی ہم نے استاد بننے کا فیصلہ کر لیا 

لیکن جناب چونکہ صنعتی ترقی کا دور ہے اور صنعتوں سے چھٹکارا ممکن نہیں یہ بڑی ڈھیٹ واقع ہوئی ہیں بجلی کے بحران کے باوجود بھی قائم و دائم ہیں ہمیں ایک جدید "صنعت " سے واسطہ پڑا اور ایسا سبق حاصل ہوا کہ اگر شاعری سے ہٹ کر بھی اس صنعت کا استعمال ہو تو تمام مسائل حل ہوجائیں ...

گو اب ہم اپنے آپ کو استاد نما سمجھنے لگے ہیں اور لوگ ہماری شکل دیکھ کر ہی کہتے ہیں "میاں بڑے استاد ہو

ایک لٹکو قسم کے نوجوان شاعر سے ملاقات ہوئی جو سادہ کاغذ پر اصلاح لینے کے قائل تھے ان سے ہمارا معاہدہ ہو گیا

جب تک ہماری سگریٹ کی ڈبیا اور چائے کی پیالی بھری رہے گی ان کو کورے کاغذ پر اصلاح ملتی رہے گی ...

پہلے پہل شاگرد تھے اور نئی نئی استادی تھی کچھ زیادہ سکھا دیا چند ہی دنوں میں موصوف اس مقام پر آ گئے کہ ہم اپنے آپ کو استاد سے زیادہ شاگرد سمجھنے لگے دوریاں بڑھنے لگیں اور سگریٹ کی ڈبیا اور چائے کی پیالی خالی رہنے لگی ...

قصہ مختصر مرغا حلال ہونے سے پہلے ہی حرامی نکلا بعد میں معلوم ہوا کسی اور مخنچو کے ہتھے چڑھ گئے ہیں جناب ...

تو ہماری گفتگو شروع ہوئی تھی "شاعری کی ایک جدید صنعت " کے حوالے سے
ایک دن موصوف سے ایک مشاعرے میں ملاقات ہو گئی مسکرا کر ملے ہم بھی کچھ ہچکچا کر ملے
پوچھا...

کیوں جی شاعری ہو رہی ہے

بولے جی حضور "ٹاپوں ٹاپ" جاری ہے

ہم نے پوچھا کچھ تازہ کہا

کہنے لگے جی جی کئی غزلیں کہ ڈالی ہیں

ہمارے منہ سے نکلا ،اوہ

وہ بولے اوہو

ہم نے کہا کچھ سنائیے

انہوں نے ایک عجیب و غریب "شتر گربہ" قسم کی چیز سنائی جو بحور و اوزان کی حدود و قیود سے یکسر آزاد تھی ...

ہم نے پوچھا یہ کیا

بولے الله کا کرم ہے بس

ہم نے کہا میاں کس کے ہتھے چڑھ گئے یہ کوئی شاعری ہے

کہنے لگے ہمارے استاد بہت پہنچی ہوئی شے ہیں آپ ابھی ناواقف ہیں یہ "شاعری کی جدید صنعت " ہے

ہم نے کہا ہیں جی

وہ بولے ہاں جی

ہم پوچھا وہ کیا

وہ بولے استاد جی نے سکھلایا ہے کوئی یہ سوال پوچھے تو کہو .. 

"پونکا "

حسیب احمد حسیب
ایک تبصرہ شائع کریں