جمعہ، 25 دسمبر، 2015

راستے روکنے کا جرم

راستے روکنے کا جرم ... !

اسلام دین فطرت اور فطرت انسانی آسانی کی متقاضی ہے اسی لیے حدیث مبارکہ میں آتا ہے
 " دین میں آسانی ہے "

 قرآن مجید میں الله تعالیٰ کا ارشاد ہے : ﴿ماجعل علیکم فی الدین من حرج﴾․(حج:7) یعنی الله تعالیٰ نے دین اسلام میں مشقت اور تعب نہیں رکھی ، حضور علیہ السلام کا ارشاد ہے : ”ان الدین یسر“ ․ (بخاری ص:10) یعنی دین آسان ہے۔

 ایک اور حدیث میں حضور صلی الله علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں :”احب الدین الی الله الحنیفیة السمحة“․
(بخاری ص:10)

یعنی آسان او رتوحید والی شریعت الله تعالیٰ کے ہاں محبوب ہے۔

 موافقات شاطبی (ج4، ص:24)
راستے روکنے کا جرممیں ایک اصول مذکور ہے کہ ”مجموع الضروریات خمسة: حفظ الدین ، والنفس، والنسل، والمال، والعقل․“ اس اصول کے تحت ہر ایسا طریقہ اختیار کرنے سے اسلام روکتا ہے جس سے انسان کے دین ومذہب، جان ومال اورنسل وعقل کو نقصان پہنچتا ہو۔ یہاں سے یہ امر انتہائی واضح ہو جاتا ہے کہ جو کوئی بھی مشکلات پیدا کرے رکاوٹیں ڈالے اور لوگوں کے بوجھ میں اضافہ کرے تو وہ دین حق کے حقیقی مزاج کے خلاف کھڑا ہوگا .. الله اپنے بندوں پر آسانیاں فرماتا ہے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : مجھے اس دين حنيف کے ساتھ۔ بھیجا گیا ہے جس میں آسائش اور رواداری ہے۔ الله کے رسول علیہ سلام نے نے امت کیلیے آسانیاں مانگیں نمازوں کی تعداد کا پچاس سے پانچ کروانا احادیث صحیحہ میں مذکور ہے ...... اسی آسانی اور سہولت کی جانب الله کے رسول صل الله علیہ وسلم نے طاقت والوں اور حکمرانوں کو بھی متوجہ کیا ہے جب حضرت معاذ اور ابوموسی رضي الله عنهما کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یمن کی طرف بھیجا تو فرمایا کہ: تم دونوں آسانیاں پیدا کرو ، مشکلیں مت کھڑی کرو ، خوشخبریاں دیا کرو ، اور نفرت مت پھیلاؤ، اور مل جل کر رہو اور اختلافات پیدا مت کرو (صحیح بخاری ) راستوں کو روکنا اور لوگوں کیلیے رکاوٹیں کھڑی کرنا بد ترین جرائم میں سے ایک ہے سوره عنکبوت میں قرآن کریم ایک عذاب زدہ قوم کے گناہوں میں ایک گناہ یہ بھی بیان کرتا ہے أَئِنَّكُمْ لَتَأْتُونَ الرِّجَالَ وَتَقْطَعُونَ السَّبِيلَ وَتَأْتُونَ فِي نَادِيكُمُ الْمُنْكَرَ ۖ فَمَا كَانَ جَوَابَ قَوْمِهِ إِلَّا أَنْ قَالُوا ائْتِنَا بِعَذَابِ اللَّهِ إِنْ كُنْتَ مِنَ الصَّادِقِينَ ﴿029:029﴾ [جالندھری] کیا تم (لذت کے ارادے سے) مردوں کی طرف مائل ہوتے ہو اور (مسافروں کی) راہزنی کرتے ہو اور اپنی مجلسوں میں ناپسندیدہ کام کرتے ہو؟ تو ان کی قوم کے لوگ جواب میں بولے تو یہ بولے کہ اگر تم سچے ہو تو ہم پر خدا کا عذاب لے آؤ تفسیر ابن كثیر یہاں وَتَقْطَعُونَ السَّبِيلَ کی مزید تفصیل کچھ اس انداز سے بیان کی گئی ہے لوطیوں کی مشہور بدکرداری سے حضرت لوط انہیں روکتے ہیں کہ تم جیسی خباثت تم سے پہلے تو کوئی جانتاہی نہ تھا۔ کفر، تکذیب رسول، اللہ کے حکم کی مخالفت تو خیر اور بھی کرتے رہے مگر مردوں سے حاجت روائی تو کسی نے بھی نہیں کی۔ دوسری بد خلصت ان میں یہ بھی تھی کہ راستے روکتے تھے ڈاکے ڈالتے تھے قتل وفساد کرتے تھے مال لوٹ لیتے تھے راستوں کے روکنے کا گناہ انتہائی شدید ہے کسی بھی انسان کے یہ حق حاصل نہیں کہ وہ اپنی جھوٹی تعظیم کے لیے کسی دوسرے کو مشقت میں ڈالے إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَنْ سَرَّهُ أَنْ يَتَمَثَّلَ لَهُ عِبَادُ اللَّهِ قِيَامًا، فَلْيَتَبَوَّأْ بَيْتًا فِي النَّارِ» . هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ ''رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ جس شخص کو یہ بات خوش کرے کہ لوگ اس کے لیے بت بن کر کھڑے ہوں ، وہ اپنا ٹھکانہ جہنم سمجھے ۔ ہر وہ شخص کہ جس کے پاس طاقت اور قوت ہے اور وہ اپنی قوم گروہ یا قبیلے کا بڑا متصور ہوتا ہے در حقیقت وہ را عی یعنی نگہبان ہے اور اس سے اسکی قوم کی بابت سوال ہوگا ابن عمررضی اللہ عنہ نے روایت کیا ہے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاہے:تم میں سے ہر شخص ذمہ دار ہے اور اپنی ذمہ داری کے لیے جوابدہ ہے ۔امام اپنے عوام کے لیے ،آدمی اپنے گھر کے لیے ،نوکر مالک کے مال کے لیے جوابدہ ہے میرا خیال ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی فرمایاتھا کہ آدمی اپنے باپ کے مال کا ذمہ دار ہے اوراس کے لیے جوابدہ ہے ۔(بخاری۔مسلم) الله کے رسول علیہ وسلم کے ہاں کوئی دربان کوئی چوکیدار نہیں ہوتا تھا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں :نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک عورت کے پاس سے گزرے جو ایک قبر پر بیٹھی رورہی تھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :اللہ سے ڈرو صبر کرو۔اس نے کہا آپ پر وہ مصیبت نہیں آئی جو مجھ پر آئی ہے اس لیے کہہ رہے ہیں اس عورت نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پہچانا نہیں تھا کسی نے اس سے کہا کہ یہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہیں وہ آپ کے دروازے پر آئی تو وہاں کوئی دربان وچوکیدار نہیں پایا اس نے کہا میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پہچانا نہیں تھا ۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :صبر وہ ہے جوصدمہ پہنچتے ہی کیا جائے ۔(بخاری۔مسلم۔احمد۔ترمذی۔ابوداؤد۔نسائی۔ابن ماجہ۔ابویعلیٰ۔بیہقی) عموم کے لیے راستے روکنے کو دین ناپسند کرتا ہے ابومریم ازدی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:اللہ جس کو مسلمانوں کے امور کا نگہبان بنادے اور وہ ان کی ضروریات وشکایات سننے کے بجائے درمیان میں رکاوٹیں کھڑی کردے اللہ اس کے لیے رکاوٹیں پیدا کردیتا ہے ۔ایک روایت میں ہے اللہ جس کو مسلمانوں کا حاکم بنائے پھر وہ مظلوموں اورمساکین کے لیے دروازے بندکردے اللہ اس کے لیے اپنی رحمت کا دروازہ بند کردیتا ہے حالانکہ یہ اللہ کی رحمت کا زیادہ محتاج ہوتا ہے۔

(ابوداؤد۔حاکم۔بیہقی۔بسند صحیح)

یہ کیسا تکبر ہے کہ جو ایک جاگیر دار ایک وڈیرے کی حرمت میں قوم کی بچیوں کی جانیں قربان کر دیتا ہے یہ کیسا کفر ہے کہ جو ظالموں کا وطیرہ بن چکا ہے حضرت رسول خدا مدینہ کے ایک راسے سے گزر رہے تھے تو ایک سیاہ فام عورت وہاں سے گوبر اٹھا رہی تھی۔ کسی نے اس سے کہا: "رسول خدا کو راستہ دے دو تو اس نے جواب دیا "راستہ کشادہ ہے" اس پر ایک شخص نے نے اسے اس کی گستاخی کی سزا دینے کا ارادہ کیاتو آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) نے فرمایا: "جانے دو! کفریہ مغرور و سرکش عورت ہے" 

(امام جعفر صادق علیہ السلام) مجار الانوار جلد ۷۳ صفحہ ۲۱۰

یہ کیسی سرکشی ہے یہ کیسا کبر ہے یہ کیسا غرور ہے اور یہ کیسا کفر ہے جی ہیں بے شک یہ بھی کفر حضرت عبداللہ بن عمر حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا کہ جس نے ہمارے چھوٹوں پر رحم نہ کیا اور ہمارے بڑوں کے حقوق کو نہ پہچانا وہ ہم میں سے نہیں ہے۔

سنن ابوداؤد:جلد سوم:باب:ادب کا بیان :رحمت وہمدردی کا بیان

حسیب احمد حسیب
ایک تبصرہ شائع کریں