جمعرات، 10 دسمبر، 2015

" تحقیق اسلام کی نگاہ میں "

" تحقیق اسلام کی نگاہ میں "

اسلام دین فطرت ہے   اور فطرت انسانی اس بات  کی متقاضی ہے کہ چیزوں کی کھوج اور جستجو کی جاوے ایک بچہ ہوش سنبھالتے ہی اپنے ارد گرد کا مشاہدہ شروع کر دیتا ہے اور یہی مشادہ اس کے اندر چیزوں کو جاننے کا جزبہ بیدار کرتا ہے اور جیسے جیسے اس کا چیزوں سے تعارف ہوتا چلا جاتا ہے اس کی جستجو بڑھتی چلی جاتی ہے .

دین اسلام میں اس جستجو کو مختلف نام دیتا ہے کہیں اسے تحقیق کہتا ہے کہیں تفقہ اور کہیں استنباط 

تحقیق عربی زبان کا لفظ ہے جس کا مادہ  ح ، ق ، ق ہے یعنی و الحق صدق الحدیث اور کسی بات کا حق اور سچ ہونا ....

استنباط عربی زبان کا لفظ ہے اس کے معنی ہيں کہ ﷲ تعالٰیٰ نے جو پانی زمین کی تہہ میں پیدا کر کے عوام کی نظروں سے چھپا رکھا ہے اس پانی کو کنواں وغیرہ کھود کر نکال لینا۔

تفقہ کا مطلب ہے سمجھ بوجھ کا حاصل ہونا حضرت علی رض  سے مروی ہے کہ ایسی عبادت سے کوئی فائدہ نہیں جو تفقہ سے خالی ہو۔"

اب ہم کچھ آیات قرآنی اور احادیث مبارکہ پیش کرتے ہیں کہ جو " تحقیق " کی موید ہیں 

آیات قرآنی 

سورہ آل عمران آیات ۱۹۰ـ١٩١

اِنَّ فِیۡ خَلۡقِ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ وَ اخۡتِلَافِ الَّیۡلِ وَ النَّہَارِ لَاٰیٰتٍ لِّاُولِی الۡاَلۡبَابِ ﴿۱۹۰﴾ۚۙ

بیشک آسمان اور زمین کا بنانا اور رات اور دن کا آنا جانا اس میں نشانیاں ہیں عقل والوں کو


الَّذِیۡنَ یَذۡکُرُوۡنَ اللّٰہَ قِیٰمًا وَّ قُعُوۡدًا وَّ عَلٰی جُنُوۡبِہِمۡ وَ یَتَفَکَّرُوۡنَ فِیۡ خَلۡقِ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ ۚ رَبَّنَا مَا خَلَقۡتَ ہٰذَا بَاطِلًا ۚ سُبۡحٰنَکَ فَقِنَا عَذَابَ النَّارِ ﴿۱۹۱﴾

وہ جو یاد کرتے ہیں اللہ کو کھڑے اور بیٹھے اور کروٹ پر لیٹے اور فکر کرتے ہیں آسمان اور زمین کی پیدائش میں کہتے ہیں اے رب ہمارے تو نے یہ عبث نہیں بنایا تو پاک ہے سب عیبوں سے ہم کو بچا دوزخ کے عذاب سے

{قُلْ سِيرُوا فِي الْأَرْضِ فَانْظُرُوا كَيْفَ بَدَأَ الْخَلْقَ ثُمَّ اللَّهُ يُنْشِئُ النَّشْأَةَ الْآخِرَةَ إِنَّ اللَّهَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ}(العنکبوت: ۲۰)

''کہہ دیجیے ! زمین میں چل پھر کر دیکھو تو سہی کہ کس طرح اللہ تعالیٰ نے ابتداے پیدائش کی ۔

پھر اللہ تعالیٰ ہی دوسری نئی پیدائش کرے گا۔اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے۔ ''


الحجرات/٦

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِن جَاءَكُمْ فَاسِقٌ بِنَبَإٍ فَتَبَيَّنُوا أَن تُصِيبُوا قَوْمًا بِجَهَالَةٍ فَتُصْبِحُوا عَلَى مَا فَعَلْتُمْ نَادِمِينَ

  اے ایمان والو! اگر تمہارے پاس کوئی فاسق (شخص) کوئی خبر لائے تو خوب تحقیق کر لیا کرو (ایسا نہ ہو) کہ تم کسی قوم کو لاعلمی میں (ناحق) تکلیف پہنچا بیٹھو، پھر تم اپنے کئے پر پچھتاتے رہ جاؤ

وإذا جاءهم أمر من الأمن أو الخوف أذاعوا به ولو ردوه إلى الرسول وإلى أولي الأمر منهم لعلمه الذين يستنبطونه منهم ولولا فضل الله عليكم و رحمته لاتبعتم الشيطان إلا قليلا[؟–؟] (النساء/83)

ترجمہ : اور جب ان کے پاس پہنچتی ہے کہ کوئی خبر امن کی یا ڈر کی تو اس کو مشہور کر ديتے ہیں اور اگر اس کو پہنچا ديتے رسول تک اور اپنے اولوا الامر (علماء و حکام) تک تو جان لیتے اس (کی حقیقت) کو جو ان میں قوت_استنباط (تحقیق کرنے کی اہلیت) رکھتے ہیں اس کی اور اگر نہ ہوتا فضل ﷲ کا تم پر اور اس کی مہربانی تو البتہ تم پيچھے ہو ليتے شیطان کے مگر تھوڑے۔

چناچہ امام رازی اس آیت کی تفسیر کے تحت تحریر فرماتے ہیں:

ترجمہ : بس ثابت ہوا کہ استنباط حجت ہے، اور قیاس یا تو بذات خود استنباط ہوتا ہے یا اسی میں داخل ہوتا ہے، لہذا وہ بھی حجت ہوا جب یہ بات طے ہوگی تو اب ہم کہتے ہیں کہ یہ آیت چند امور (باتوں) کی دلیل ہے، ایک یہ کہ نت نئے مسائل میں بعض باتیں ایسی ہوتی ہیں کہ جو نص سے (واضح) معلوم نہیں ہوتیں، بلکہ ان کا حکم معلوم کرنے کے لئے استنباط کی ضرورت پڑتی ہے، دوسرے یہ کہ استنباط حجت ہے، اور تیسرے یہ کہ عام آدمی پر واجب ہے کہ وہ پیش آنے والے مسائل و احکام کے پارے میں علماء کی تقلید کرے۔ [تفسیر_کبیر : 3/272]

احادیث مبارکہ 

سیدنا معاویہ  رض   سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریمﷺ سے سنا، آپ فرما رہے تھے:
« مَن يُرِدِ اللهُ بِه خَيرًا يُفَقِّهْهُ في الدِّيْنِ » ۔۔۔ البخاري ومسلم
کہ ’’اللہ تعالیٰ جس سے خیر کا ارادہ فرماتے ہیں، اسے دین (کتاب وسنت) کی سمجھ بوجھ عطا کر دیتے ہیں۔‘‘

سیدنا ابو ہریر رض  سے مروی ہے کہ نبی کریمﷺ نے فرمایا:
« خياركم في الجاهلية خياركم في الإسلام إذا فقهوا » ۔۔۔ صحيح البخاري
کہ ’’تم میں جاہلیت میں بہترین، اسلام میں بھی بہترین ہیں اگر وہ (دین میں) فقاہت حاصل کریں۔‘‘

نبی کریمﷺ نے سیدنا ابن عباس رض   کو دُعا دیتے ہوئے فرمایا:
« اللهم فقهه في الدين » ۔۔۔ صحيح البخاري
کہ ’’اے اللہ! اسے دین کی فقاہت عطا کر دیں۔‘‘

الله کے رسول صل الله علیہ وسلم نے فرمایا ... !

آدمی کے جھوٹا ہونے کیلئے یہی کافی ہے کہ وہ جو سنے اسے بیان کر دے 

تاریخ طبری 

ابن زبیر رض سے بخاری میں مروی ہے کہ الله کے رسول صل الله علیہ وسلم نے فرمایا جس نے مجھ پر جھوٹ باندھا وہ اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنا لے .

حضرت عمر رض کا حدیث پر گواہی طلب کرنا 

صحیح حدیث میں ہے کہ حضرت ابو موسیٰ (رض) ، حضرت عمر فاروق (رض) کے پاس گئے ۔ تین دفعہ اجازت مانگی ، جب کوئی نہ بولا تو آپ واپس لوٹ گئے ۔ تھوڑی دیر میں حضرت عمر نے لوگوں سے کہا ! دیکھو عبداللہ بن قیس (رض) آنا چاہتے ہیں ، انہیں بلا لو لوگ گئے ، دیکھا تو وہ چلے گئے ہیں ۔ واپس آکر حضرت عمر (رض) کو خبر دی ۔ دوبارہ جب حضرت ابو موسیٰ (رض) اور حضرت عمر (رض) کی ملاقات ہوئی تو حضرت عمر (رض) نے پوچھا آپ واپس کیوں چلے گئے تھے ؟ جواب دیا کہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وسلم) کا حکم ہے کہ تین دفعہ اجازت چاہنے کے بعد بھی اگر اجازت نہ ملے تو واپس لوٹ جاؤ ۔ میں نے تین بار اجازت چاہی جب جواب نہ آیا تو میں اس حدیث پر عمل کر کے واپس لوٹ گیا۔ حضرت عمر (رض) نے فرمایا اس پر کسی گواہ کو پیش کرو ورنہ میں تمہیں سزا دوں گا ۔ آپ وہاں سے اٹھ کر انصار کے ایک مجمع میں پہنچے اور سارا واقعہ ان سے بیان کیا اور فرمایا کہ تم میں سے کسی نے اگر حضور (صلی اللہ علیہ وسلم) کا یہ حکم سنا ہو تو میرے ساتھ چل کر عمر (رض) سے کہہ دے ۔ انصار نے کہا یہ مسئلہ تو عام ہے بیشک حضور (صلی اللہ علیہ وسلم) نے فرمایا ہے ہم سب نے سنا ہے ہم اپنے سب سے نو عمر لڑکے کو تیرے ساتھ کر دیتے ہیں ، یہی گواہی دے آئیں گے۔ چنانچہ حضرت ابو سعید خدری (رض) گئے اور حضرت عمر (رض) سے جاکر کہا کہ میں نے بھی حضور (صلی اللہ علیہ وسلم) سے یہی سنا ہے ۔ حضرت عمر (رض) اس وقت افسوس کرنے لگے کہ بازاروں کے لین دین نے مجھے اس مسئلہ سے غافل رکھا

5-زادالمعاد 112/1

خود الله کے رسول صل الله علیہ وسلم کہ جو صاحب وحی تھے تحقیق سے گریز نہ فرماتے تھے 
الله کے رسول صل الله علیہ وسلم کو حضرت اسامہ بن زید رض سے غیر معمولی محبت تھی جس کی وجہ سے قدرۃ کچھ منافق اسامہؓ کے حاسد بھی پیدا ہوگئے تھے یہ لوگ اسامہؓ کو ذلیل اورآنحضرت ﷺ کے کبیدہ خاطر کرنے کے لیے کہتے کہ اسامہؓ زیدؓ کے نطفہ سے نہیں ہیں، آنحضرت ﷺ کو اس سے تکلیف پہنچتی ؛لیکن ان کے خاموش کرنے کا کوئی طریقہ نہ تھا، عربوں میں قیافہ شناسی کا ملکہ بہت تھا ،قائف کی بات عام طورپر ہم پایہ وحی سمجھی جاتی تھی،اتفاق سے ایک دن مجرزمدبحی جس کو قیافہ شناسی میں خاص مہارت تھی،آنحضرتﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا، اس وقت زیدؓ اوراسامہؓ دونوں سر سے پیر تک ایک چادر اوڑھے ہوئے لیٹے تھے،صرف پاؤں کھلے ہوئے تھے اس نے یہ دیکھ کر کہا کہ یہ قدم ایک دوسرے سے پیدا ہیں، یہ سن کر آنحضرت ﷺ کو بہت مسرت ہوئی،آپ حضرت عائشہؓ کے پاس ہنستے ہوئے تشریف لائے اور فرمایا تم کو کچھ معلوم ہے،مجرز نے ابھی اسامہؓ کے پاؤں دیکھ کر کہا کہ یہ قدم ایک دوسرے سے پیدا ہیں، (بخاری،جلد۲کتاب الفرائض باب القائف )

حقیقت یہ ہے کہ اسلام  وہ واحد  دین جو انسانوں کو عقل و فہم استعمال کرنے کی کھلی دعوت دیتا ہے اور اپنا آپ خالص دلیل کی بنیاد پر منواتا ہے .

ایک تبصرہ شائع کریں