منگل، 5 مارچ، 2013

!مولوی "منصف" اور "علامہ کلکل"!


  • مولوی "منصف" اور "علامہ کلکل"!


      ہمارے بھائی صاحب بھی عجیب چیز ہیں انہیں جامع المتفریقیں کہا جاۓ تو غلط نہ ہو گا اضداد کو اسطرح اپنی جانب کشش کرتے ہیں کہ جیسے کوئی مقناطیس ہو یا پھر کوئی دھوکے باز خوشبو دار پھول جو معصوم کیڑوں کو للچا کر اپنی جانب متوجہ کرے اور پھر انکی جان نہ چھوڑے انکے چنگل سے بچنا مشکل ہے ،بھائی صاحب یار باش آدمی ہیں اور بھائی صاحب کے توسط سے مختلف کرداروں سے تعارف ہوتا رہتا ہے لیکن بھائی صاحب کی ایک عادت بہت خراب ہے ،اسکا مطلب یہ نہیں کہ دوسری عادتیں اچھی ہیں لیکن ایک بہت خراب ہے لیکن یہ کوئی شرعی خرابی نہیں ہاں اسے اخلاقی کمزوری ضرور کہا جا سکتا ہے ،  بھائی صاحب اپنے احباب کی دلچسپ کہانیاں تو ضرور سناتے ہیں لیکن ان سے ملوانے میں بہت بخیل ہیں شاید انھیں خوف ہے انکا یہ چھوٹا بھائی انسے بڑا مقناطیس ثابت نا ہو جاۓ ،  ایسے ہی دو کرداروں کا تعارف گزشتہ دنوں بھائی صاحب کی زبانی حاصل ہوا اور جناب تعارف کیا اسے مکالماتی جنگ کا احوال کہنا زیادہ مناسب ہوگا جہاں بھائی صاحب مبصر کی حثیت سے موجود تھے !  تو سنتے ہیں بھائی صاحب کی زبانی !  راوی بھائی صاحب ،،،
      میاں  حسیب احمد حسیب تم خود کو شاید کوئی توپ چیز سمجتھے ہو ویسے تمھارے جثے کو دیکھ کر تمہیں توپ کا گولہ کہنا زیادہ مناسب ہوگا چلو تمہیں ایک مکالمے کا احوال سناتا ہوں تاکہ معلوم پڑے اہل علم کیسے گفتگو کرتے ہیں لو سنو اور منہ پھاڑ کر نہیں کان کھول کر سنو !  مولوی منصف میرے مدرسے کے استاد رہے ہیں اب میری جوانی دیکھ کر انکی عمر کا اندازہ لگا لو بلکہ چھوڑو تمھارے اندازے ہمیشہ غلط ہی ہوتے ہیں تو میں کیا کہ رہا تھا ہاں مولوی منصف مرنجا مرنج قسم کی شخصیت ہیں قدامت کا بھرپور نمونہ اور آجکل لوگ ایسے لوگوں کو نمونہ ہی سمجھتے ہیں ایک روز اچانک ملاقات ہو گئی شاید کسی کام سے تشریف لاۓ تھے میں با اصرار   گھر لے آیا قسمت کی ستم ظریفی دیکھو  وہیں ملاقات میرے پڑوسی علامہ کلکل سے ہو گئی جو جدیدیت کی اعلی ترین مثال ہیں مجھے مولوی صاحب کے ساتھ دیکھ کے گویا ہوے ارے بھائی صاحب کس کو لے اۓ زمانہ خراب ہے میں نے بتایا مولوی صاحب میرے استاد ہیں ان سے قرآن پڑھا ہے میں نے تو تیوری چڑھا کر بولے اچھا او ہو ویسے الفاظ کے رٹ لینے سے کیا حاصل اصل چیز تو مضمون ہے مضمون یہ تو بس مولویوں کا دھندہ ہے اور کچھ بھی نہیں ،مولوی صاحب مسکراۓ اور بولے ،بھائی کیا کریں تلاوت آیات بھی نبوی طریق ہے اور یہ میں نہیں خود قرآن کہتا ہے ،"وہی ہے جس نے ناخوانده لوگوں میں ان ہی میں سے ایک رسول بھیجا جو انہیں اس کی آیتیں پڑھ کر سناتا ہے اور ان کو پاک کرتا ہے اور انہیں کتاب وحکمت سکھاتا ہے۔ یقیناً یہ اس سے پہلے کھلی گمراہی میں تھے" اب تو علامہ بڑا تلملاۓ اور ہمارے ساتھ ہی گھر میں داخل ہو گۓ اور کہنے لگے میاں بھائی صاحب چاۓ تو بنوا دو آج تمھارے مولوی صاحب سے بھی گفتگو ہو ہی جاۓ،مولوی صاحب مسکرا کر گویا ہوے بسرو چشم .......اور مجھے معلوم پڑ گیا آج تو میدان سجے گا ! علامہ کلکل تنک کر کہنے لگے ،ہمارے اسلاف میں شامل ان لوگوں نے جن کی پرستش کی حد تک تقلید کی جاتی ہے، ہمارے لیے کوئی ایسی چیز بھی ورثے میں چھوڑی ہے، جو اس جدید ترقی یافتہ دورمیں فخر کے قابل سمجھی جاسکے اور اگر یہ ’لوگ‘ واقعی ایسے ہی تھے جیسا کہ مشرکانہ انداز کے قصیدہ نما تذکروں میں ان کی شخصیت کا نقشہ کھینچا جاتا ہے۔ یا دوسرے الفاظ میں اگر اسلاف پرستوں کے کہے کو سچ مان لیا جائے اور ان کی تقلید میں یہ تسلیم کرلیا جائے کہ ہمارے اکابر علمائے دین کے تبحر علمی کا یہ عالم تھا کہ ان کے قد و کاٹھ جیسا نہ پہلے کوئی تھا، نہ آئندہ کوئی پیدا ہوسکے گا اور ہمارے روحانی بزرگوں کاتو یہ درجہ تھا کہ کائنات ان کی مٹھی میں تھی اور مشیّت ایزدی گویا ان کے اشارے کی منتظر رہتی تھی، تو پھر ایسا کیوں ہے کہ آج ہم زندگی کے ہر معاملے میں غیر مسلموں کے محتاج ہیں؟ مولوی منصف پر سکون انداز میں گویا ہوے پہلی بات تو یہ کہ آپ اپنا سلف مانتے کسکو ہیں اور دوسری چیز یہ کہ آپ نے اپنے سلف سے لیا ہی کیا ہے غیر آج بھی آپکے سلف کے کئے گۓ کاموں سے استفادہ  کر رہے ہیں لیکن مشکل یہ ہے کہ غیروں نے آپکے اسلاف سے لیا اور آپ غیروں کی چاکری میں لگے پڑے ہیں بس یہی ہے آپ کے انحطاط کی سب سے بڑی وجہ جسوقت آپ علم کی معراج پر تھے اور آدھی دنیا پر آپکی حکومت تھی مغرب پاپائیت کے بوجھ تلے دبا اندھیروں کے دور میں جی رہا تھا اس وقت دنیا کی امامت آپکے ہاتھ میں تھی جب تک اپکا سر ایک خدا کے سامنے جھکا ہوا تھا ساری دنیا آپکے سامنے جھکی ہوئی تھی اور جب آپ ہزاروں خداؤں کے سامنے سر با سجود ہو گۓ دنیا آپکے سر پر سوار ہو گئی اگر آپ غیر مسلموں کے محتاج ہیں تو اس میں اسلاف کا کیا قصور وہ تو غیر مسلموں کے محتاج نہ تھے !  

    اچھا جی اچھا شدت جذبات سے علامہ کلکل کا چہرہ سرخ ہو گیا اور لعاب کی ایک لکیر انکے ہونٹوں سے بہ کر ٹھوڑھی تک آئ جسے جلدی سے انہوں نے رومال  سے صاف کیا اور ناک کے بانسے پر پھسل کر آ جانے

    والی عینک تو دوبارہ آنکھوں پر جمایا اور چندیا پر ہاتھ پھیر کر گویا ہوے !  





    ہماری حیثیت یہ ہے کہ ترقی یافتہ اقوام کے دسترخوانوں پر بچ جانے والے ٹکڑوں سے ہم اپنی معاشی، علمی اور شعوری تشنگی دور کرنے کا سامان کرتے ہیں۔ سوئی اور Nail Cutter سے لے کر دیو ہیکل مشینوں اور ہیوی انڈسٹریز انہی غیر مسلم اقوام سے حاصل کرنے پر مجبور ہیں جن کی سازشوں اور چیرہ دستیوں کا ہم دن رات رونا بھی روتے رہتے ہیں۔ ہر نماز جمعہ کے بعد مانگی جانے والی طویل بے روح دعاؤں میں ہم انہی غیر مسلم اقوام کی تباہی کی فریادیں کرتے ہیں جو ہمارے ہاں وبائی امراض کے خاتمے کے لیے مفت ویکسین فراہم کرتی ہیں۔





      مولوی منصف کا اطمینان دیدنی تھا مولوی صاحب فرمانے لگے جناب آپکے نوحے میں جان تو ضرور ہے لیکن اسکی حقیقت مغالطوں سے زیادہ نہیں ہمیں تمام جدید اور ترقی یافتہ قوموں سے تکلیف نہیں مسلہ وہاں آتا ہے جب انمیں سے کچھ اقوام دنیا کی خدائی کا دعویٰ کر بیٹھتی ہیں ہاں ان سے ہماری جنگ ضرور ہے اگر انکی چیرہ دستیوں کا ہم رونہ  روتے ہیں تو کیا انھیں ہنس کر قبول کر لیا جاۓ کیا خیال ہے کوئی آپکی مالی مدد کرے اور پھر آپکی مستورات سے دوستی کا طالب ہو تو کیونکہ اسنے آپکی مدد کی ہے آپ اسے اس بات کی اجازت دینے پر آمادہ ہو جائیںگے مجھے تو آپ ایسے با غیرت انسان سے اس بات کی امید ہرگز نہیں  دوسری بات آپ انکے دستر خوان کا بچا کچہ نہیں کھا رہے بلکہ وہ آپکے دستر خوانوں پر قابض ہیں اور آپکو بچا کچہ کھانے پر مجبور کر رہے ہیں ،باقی مولوی کی نماز جمعہ کے بعد مانگی جانے والی طویل اور بے روح دعاؤں کی بات تو وہ کرے جو نماز جمعہ پڑھتا ہو آپ نے آخری کب پڑھی تھی ! 



     علامہ کلکل تلملا کر رہ گۓ مولوی صاحب میں آپکی عزت کر رہا ہوں ذاتی حملوں سے پرہیز کریں آپ ،

    بہت معذرت مولوی صاحب گویا ہوے اگر آپکو برا لگا تو میں نے تو حقیقت حال دریافت کی تھی ،علامہ کلکل نے نیا پینترا بدلا اور پھر حملہ اور ہوے ،میاں صاحب چندوں کی کمائی پر پلنے والے امت کے فیصلوں کی بات کرتے ہیں ہے نا عجیب بات ؟مولوی صاحب فرمانے لگے بھائی صاحب چندوں کی پھبتی بہت پرانی ہے اور اس پھبتی سے ہم مولوی تو کیا یار لوگوں نے خدا کی ذات با برکت کو بھی نہیں بخشا ،



    لَقَدۡ سَمِعَ اللّٰہُ قَوۡلَ الَّذِیۡنَ قَالُوۡۤا اِنَّ اللّٰہَ فَقِیۡرٌ وَّ نَحۡنُ اَغۡنِیَآءُ ۘ سَنَکۡتُبُ مَا قَالُوۡا وَ قَتۡلَہُمُ الۡاَنۡۢبِیَآءَ بِغَیۡرِ حَقٍّ ۙ وَّ نَقُوۡلُ ذُوۡقُوۡا عَذَابَ الۡحَرِیۡقِ ﴿۱۸۱﴾



    بیشک اللہ نے سنی ان کی بات جنہوں نے کہا کہ اللہ فقیر ہے اور ہم مالدار اب لکھ رکھیں گے ہم انکی بات اور جو خون کئے ہیں انہوں نے انبیاء کے ناحق اور کہیں گے چکھو عذاب جلتی آگ کا



    ویسے اگر "این جی او" کے نام پر چندہ مانگا  جاۓ تو وہ چیرٹی اور خدمت خلق اور اگر مدارس کے نام پر چندہ کا سوال ہو تو خیرات کے ٹکڑے کیا یہ کھلا تضاد نہیں !ایک جگہ ایک ادیب کا اقتباس پڑھا تھا ! ہاں یاد آیا ذرا ملاحظہ کیجئے ،



    شہاب نامہ سے اقتباس: ہے آپکے جدت پسندوں میں کافی مقبول تھے حضرت ،،



    سنگلاخ پہاڑیوں اور خاردار جنگل میں گھرا ہوا ایک چھوٹا سا گاؤں تھا، جس میں مسلمانوں کے بیس پچیس گھر آباد تھے۔ ان کی معاشرت، ہندوانہ اثرات میں اس درجہ ڈوبی ہوئی تھی کہ رومیش علی، صفدر پانڈے، محمود مہنتی، کلثوم دیوی اور پر بھادئی جیسے نام رکھنے کا رواج عام تھا۔ گاؤں میں ایک نہایت مختصر کچی مسجد تھی جس کے دروازے پر اکثر تالا پڑا رہتا تھا جمعرات کی شام کو دروازے کے باہر ایک مٹی کا دیا جلایا جاتا تھا۔ کچھ لوگ نہا دھوکر آتے تھے اور مسجد کے تالے کو عقیدت سے چوم کر ہفتہ بھر کیلئے اپنے دینی فرائض سے سبکدوش ہوجاتے تھے۔



    ہر دوسرے تیسرے مہینے ایک مولوی صاحب اس گاؤں میں آکر ایک دو روز کے لئے مسجد کو آباد کر جاتے تھے۔ اس دوران میں اگر کوئی شخص وفات پا گیا ہوتا، تو مولوی صاحب اس کی قبر پر جاکر فاتحہ پڑھتے تھے۔ نوزائیدہ بچوں کے کان میں اذان دیتے تھے۔ کوئی شادی طے ہوگئی ہوتی تو نکاح پڑھوا دیتے تھے۔ بیماروں کو تعویذ لکھ دیتے تھے اور اپنے اگلے دورے تک جانور ذبح کرنے کے لئے چند چھریوں پر تکبیر پڑھ جاتے تھے۔ اس طرح مولوی صاحب کی برکت سے گاؤں والوں کا دین اسلام کے ساتھ ایک کچا سا رشتہ بڑے مضبوط دھاگے کے ساتھ بندھا رہتا تھا۔



    برہام پور گنجم کے اس گاؤں کو دیکھ کر زندگی میں پہلی بار میرے دل میں مسجد کے ملّا کی عظمت کا کچھ احساس پیدا ہوا۔ ایک زمانے میں ملّاا اور مولوی کے القاب علم و فضل کی علامت ہوا کرتے تھے لیکن سرکار انگلشیہ کی عملداری میں جیسے جیسے ہماری تعلیم اور ثقافت پر مغربی اقدار کا رنگ و روغن چڑھتا گیا، اسی رفتار سے ملّا اور مولوی کا تقدس بھی پامال ہوتا گیا۔ رفتہ رفتہ نوبت بایں جارسید کہ یہ دونوں تعظیمی اور تکریمی الفاظ تضحیک و تحقیر کی ترکش کے تیر بن گئے۔ داڑھیوں والے ٹھوٹھ اور ناخواندہ لوگوں کو مذاق ہی مذاق میں ملّا کا لقب ملنے لگا۔ کالجوں ، یونیورسٹیوں اور دفتروں میں کوٹ پتلون پہنے بغیر دینی رجحان رکھنے والوں کو طنز و تشنیع کے طور پر مولوی کہا جاتا تھا۔ مسجدوں کے پیش اماموں پر جمعراتی ، شبراتی، عیدی، بقرعیدی اور فاتحہ درود پڑھ کر روٹیاں توڑنے والے قل اعوذئے ملّاؤں کی پھبتیاں کسی جانے لگیں۔ لُو سے جھلسی ہوئی گرم دوپہر میں خس کی ٹٹیاں لگاکر پنکھوں کے نیچے بیٹھنے والے یہ بھول گئے کہ محلے کی مسجد میں ظہر کی اذان ہر روز عین وقت پر اپنے آپ کس طرح ہوتی رہتی ہے؟ کڑکڑاتے ہوئے جاڑوں میں نرم و گرم لحافوں میں لپٹے ہوئے اجسام کو اس بات پر کبھی حیرت نہ ہوئی کہ اتنی صبح منہ اندھیرے اٹھ کر فجر کی اذان اس قدر پابندی سے کون دے جاتا ہے؟



    دن ہو یا رات، آندھی ہو یا طوفان، امن ہو یا فساد، دور ہو یا نزدیک، ہر زمانے میں شہر شہر، گلی گلی ، قریہ قریہ، چھوٹی بڑی، کچی پکی مسجدیں اسی ایک ملّا کے دم سے آباد تھیں جو خیرات کے ٹکڑوں پر مدرسوں میں پڑا تھا اور دربدر کی ٹھوکریں کھا کر گھر بار سے دور کہیں اللہ کے کسی گھر میں سرچھپا کر بیٹھ رہا تھا۔ اس کی پشت پر نہ کوئی تنظیم تھی، نہ کوئی فنڈ تھا، نہ کوئی تحریک تھی۔ اپنوں کی بے اعتنائی، بیگانوں کی مخاصمت، ماحول کی بے حسی اور معاشرے کی کج ادائی کے باوجود اس نے نہ اپنی وضع قطع کو بدلا اور نہ اپنے لباس کی مخصوص وردی کو چھوڑا۔ اپنی استعداد اور دوسروں کی توفیق کے مطابق اس نے کہیں دین کی شمع ، کہیں دین کا شعلہ، کہیں دین کی چنگاری روشن رکھی۔ برہام پور گنجم کے گاؤں کی طرح جہاں دین کی چنگاری بھی گل ہوچکی تھی، ملّا نے اس کی راکھ ہی کو سمیٹ سمیٹ کر بادِ مخالف کے جھونکوں میں اڑ جانے سے محفوظ رکھا۔



    یہ ملّا ہی کا فیض تھا کہ کہیں کام کے مسلمان، کہیں نام کے مسلمان، کہیں محض نصف نام کے مسلمان ثابت و سالم و برقرار رہے اور جب سیاسی میدان میں ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان آبادی کے اعداد و شمار کی جنگ ہوئی تو ان سب کا اندارج مردم شماری کے صحیح کالم میں موجود تھا۔ برصغیرکے مسلمان عموماً اور پاکستان کے مسلمان خصوصاً ملّا کے اس احسان عظیم سے کسی طرح سبکدوش نہیں ہوسکتے جس نے کسی نہ کسی طرح کسی نہ کسی حد تک ان کے تشخص کی بنیاد کو ہر دور اور ہر زمانے میں قائم رکھا۔



     علامہ کلکل کی تلملاہٹ عروج پر تھی فرمانے لگے اجی مولانا چھوڑئیے ادھر ادھر کی باتیں یہ آپ لوگوں کی تنگ نظری ہے جسنے ہم لوگوں کا بیڑہ غرق کر کے رکھ دیا ہے ،مولوی منصف صاحب نے پوچھا بھائی اس تنگ نظری کی کوئی مثال ،علامہ کلکل صاحب فرمانے لگے ،میرے لیے وہ انتہائی اذیت ناک لمحات تھے کہ میں ایک مسلمان بھائی، اے آر رحمان کو گولڈن گلوب ایوارڈ ملنے اور آسکر ایوارڈ میں تین الگ الگ شعبوں میں نامزدگیوں پر اظہار فخر و شکر نہیں کرسکا۔



    اس حوالے سے میں کھل کراپنے قلبی جذبات کا اظہار نہیں کرسکتا تھا۔



    اوّل یہ کہ، اے آر رحمان ہندوستان کے شہری ہیں، اور وہ ہمارا ’ازلی دشمن‘ ہے۔



    دوم پاکستان میں ’’مروجہ‘‘ اسلام کے تحت موسیقی حرام ہے۔



    میں اس ’اسلامی‘ ملک میں، میں یہ دلیل بھی نہیں پیش کرسکا کہ اللہ کے ایک نبی حضرت داؤد علیہ السلام پر نازل ہونے والی کتاب ’زبور‘ دراصل الہامی گیتوں کا مجموعہ ہے، جسے حضرت دائود علیہ السلام سُر اور ساز کے ساتھ گایا کرتے تھے ۔



    چچ چچ   بڑے دکھ اور کرب کی بات ہے کتنے مجبور ہیں آپ لیکن آپکو اظہار فخر اور شکر سے روکا کسنے ہے ؟مولوی صاحب نے استفسار کیا !

    میں نے بھی ٹانگ اڑائ ذرا یہ بھی تو بتائیں علامہ صاحب اس اظہار تشکر کا انداز کیا ہوگا بریک ڈانس دیسی بھنگڑا یا پھر ہپ ہاپ اجی شرماتے کیوں ہیں دو چار ٹھمکیاں براۓ ایوارڈ موسیقی خاص واسطے شیطان کے ادا فرما لیجئے مگر اکیلے میں کیجئے گا ورنہ بچے وٹے ماریںگے ،

    جانے بھی دو  بھائی صاحب کچھ سنجیدہ کفتگو کر لیتے ہیں مولوی صاحب نے مجھے ٹوکا ،سوال یہ ہے کہ تفاخر کی بنیاد کیا ہے آپ کسی شخص کی کسی صلاحیت پر تفاخر کرنا چاہتے ہیں ضرور کیجئے آپکو روکا کسنے ہے لیکن یہ تفاخر شخصی ہے یا اسلامی اگر آپ کسی بھانڈ میراثی یا گویہ کی کسی اٹھک بیٹھک پر اسلامی تفاخر کے طالب تو شید اسکی اجازت آپکو نہ مل سکے ،باقی آپ نے فرمایا پاکستان میں ’’مروجہ‘‘ اسلام کے تحت موسیقی حرام ہے ! تو موسیقی حلال کس دور میں رہی یہ بھی بیان فرما دیجئے !

    ایک جگہ کسی عالم سے سنا تھا !

    ماتم کا مقام ہے کہ جس رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے راگ باجوں کا مٹانا اپنی بعثت کا مقصد بتایا اسی رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے نام نہاد اُمتی آج اس گناہ پر دل و جان سے فدا ہیں - بلکہ اس بے حیائی کو سند جواز مہیا کرنے کے لئے سردھڑ کی بازی لگارہے ہیں ، ان ظلمت جدیدہ کے متوالوں کو یہ موٹی سی حقیقت کون سمجھائے کہ اللہ تعالی کی شریعت چودہ سو سال سے مکمل ہے،اس کا ہر مسئلہ اٹل ،لازوال اور قیامت تک کے لئے محفوظ ہے - تمہاری موا فقت یا مخالفت سے کسی مسئلہ پر کوئی اثر نہیں پڑتاجو شرعاًحلال ہے وہ قیامت تک حلال رہے گی اور جو چیز ازروئے شرع حرام ہے وہ بھی رہتی دنیا تک حرام ہی رہے گی گو کہ دنیا بھر کے ووٹ اس کے خلاف پڑجائیں-شریعتِ مطہر ہ میں موسیقی کی حرمت کا مسئلہ بھی ایک ایسا ہی مسئلہ ہے جس پر دلیل پیش کرنے کی چنداں حاجت نہیں اس قسم کے قطعی حرام کو مباح وجائز قرار دینے کی جسارت بالکل ایسی ہی ہے جیسے کو ئی سرپھرا یہ کہنے لگے کہ شریعت کی رو سے زنا ،شراب نوشی ،سودخوری اور رشوت جائز ہے- ظاہر ہے اس قسم کی یا وہ گوئی کسی درجہ میں بھی لائق اعتناء نہیں نہ ہی اس قابل ہے کہ اسکی تردید میں وقت ضائع کیا جائے، مگر کیا کیاجائے ؟ اس دورِ ہوا پرستی میں علم و تحقیق کے عنواں سے جو خس و خاشاک بھی پیش کیا جائے اسے مبادیا ت دین سے نا آشنا جدید طبقے میںِ'' جدید تحقیق ''کے عنواں سے جلد پزیر ائی حاصل ہوجاتی ہے ، اس طرح کفر والحاد اس بد قسمت معاشرہ میں باسانی کھپ جاتاہے-اکبر نے مر حوم نے کیا خوب کہا ہے --



    اُنھوں نے دین کب سیکھا ہے رہ کر شیخ کے گھر میں

     پلے کا لج کے چکر میں مرے صا حب کے دفتر میں





    "" اور بعض آدمی ایسا ہے جو ان باتوں کا خریدار بنتا ہے جو غافل کرنے والی ہیں تاکہ اللہ کی راہ سے بے سمجھے بوجھے گمراہ کرے اور اسکی ہنسی اڑا دے، ایسے لوگوں کے لیے ذلت کا عذاب ہے ""امام ابنِ کثیر رحمہ اللہ تعالی اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں:عن ابی الصھباء البکری انہ سمع عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالی و ھوا یسال عن ھذہ الایۃ (وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَشْتَرِی لَھُوَ الْحَدِيثِ لِيُضِلَّ عَنْ سَبِيلِ اللہِ) فقال عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ الغناء واللہ الذی لاالہ الا ھویرددھاثلاث مرات۔وکذا قال ابن عباس و جابر رضی اللہ تعالی عنہم و عکرمۃ و سعیدبن جبیر و مجاھد و مکحول و عمرو بن شعیب و علی بن بذیمہ رحمہم اللہ تعالی:وقال الحسن البصری رحمہ اللہ تعالی نزلت ھذہ الایۃ(وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَشْتَرِی لَھُوَ الْحَدِيثِ لِيُضِلَّ عَنْ سَبِيلِ اللہِ) فی الغناء والمزامیر۔ (تفسیر ابن کثیر صفحہ ۴۵۷ جلد ۳)""حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ نے تین بار قسم اٹھا کر فرمایا کہ لھوالحدیث سے مراد گانا بجانا ہےحضرت ابنِ عباس و جابر رضی اللہ تعالی عنہما اور حضرت عکرمہ ، سعید بنِ جبیر ،مجاہد مکحول ، عمر بن شعیب اور علی بن ہذیمہ رحمہم اللہ تعالی سے بھی اس آیت کی یہی تفسیر منقول ہے-اور حضرت حسن بصری رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں یہ آیت گانے اور راگ باجوں کے متعلق اتری ہے""یہی تفسیر قرطبی ص ۵۱ج ۱۴ ، بغوی ص ۴۰۸ج ۴ ، خازن ص ۴۶۸ج ۳ ، مظہری ص ۲۴۶ج ۷ میں مفصل مذکور ہے



    (۲) واستفزز من استطعت منہم بصوتک الایہ (سورہ ۱۷ آیات نمبر ۶۴)""اور پھسلالے ان میں سے جس کو تو پھسلا سکے اپنی آواز سے""امام ابنِ کثیر رحمہ اللہ تعالی اس آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں:وقولہ تعالی( واستفزز من استطعت منہم بصوتک ) قیل ھو الغناء قال مجاھد رحمہ اللہ تعالی بالھو والغناء ای استخفھم بذٰلک و قال ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہما فی قولہ( واستفزز من استطعت منہم بصوتک) قال کل داع دعا الی معصیۃ اللہ عزہ وجل و قالہ ، قتادہ رحمہ اللہ تعالی واختارہ ابن جریر رحمہ اللہ تعالی (تفسیر ابن کثیر صفحہ ۵۰ جلد ۳)اس آیت میں شیطانی آواز سے گانا بجانا مراد ہے امام مجاہد رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں ۔ اس کا مطلب یہ ہے(اے ابلیس) تو اُنھیں کھیل تماشوں اور گانے بجانے کے ساتھ مغلوب کر۔ اور حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہما فرماتے ہیں-اس آیت میں ہر وہ آواز مراد ہے جو اللہ تعالی کی نافرمانی کی طرف دعوت دے،یہی حضرت قتادہ رحمہ اللہ تعالی کا ہے اور اسی کو ابن جریر رحمہ اللہ تعالی نے اختیار فرمایا ہے-



    حافظ ابن قیم رحمہ اللہ تعالی اسی کے ذیل میں فرماتے ہیںو من المعلوم ان الغناء من اعظم الدواعی الی المعصیۃ ولھذا فسر صوت الشیطان بہ (اغاثۃ اللھفان صفحہ ۲۵۵ جلد ۱ )اور سب کو معلوم ہے کہ مصیبت کی طرف دعوت دینے والوں میں گانا بجانا سب سے بڑھ کر ہے اسی وجہ سے شیطان کی آواز کی تفسیر اسی کے ساتھ کی گئی



    مجھے نہ سنائیں یہ قصے کہانیاں میں نہیں مانتا ان گڑھی ہوئی روایات کو علامہ پھنکارے

    !



    تو پھر آپ کسکو مانتے ہیں مولانا نے استفسار کیا !قرآن سے دلیل دو قرآن سے علامہ گرجے ،



    میرے بھائی اپنے جو کہانی سنائی وہ کہاں ہے قرآن میں ،

    میں اس ’اسلامی‘ ملک میں، میں یہ دلیل بھی نہیں پیش کرسکا کہ اللہ کے ایک نبی حضرت داؤد علیہ السلام پر نازل ہونے والی کتاب ’زبور‘ دراصل الہامی گیتوں کا مجموعہ ہے، جسے حضرت دائود علیہ السلام سُر اور ساز کے ساتھ گایا کرتے تھے ۔بس یہ مجھے دکھا دیجئے کہاں ہے قرآن میں ،مولانا نے پوچھا ..وہ وہ میں دیکھ کر بتاؤنگا علامہ منمناۓ ،،،،

    کوئی بات نہیں ڈھونڈتے رہے بے دلیل ہونا کوئی دلیل نہیں !لیکن خدا را سوچیے حضرت داوود علیہ سلام کا زبور کی تلاوت کرنا موسیقی تھا تو کیا قرآن کی تلاوت بھی موسیقی ہے الله کے رسول صلعم نے قرآن کی تلاوت کی یہ اسے گایا آپکے نظریہ کی بنیاد پر تو آذان بھی آرکسٹرا کے ساتھ دینی چاہئیے تھی لیکن ایسا کچھ بھی کبھی بھی نہ ہوا آنا پرستی اور آنکھوں پر پردہ پڑ جاۓ تو سیدھا الٹا اور الٹا سیدھا دکھائی دینے  لگتا ہے ،علامہ کلکل نے اپنی کور دبتی دیکھی تو بلند آہنگی میں پناہ ڈھونڈی ،آپ لوگ ترقی کے دشمن ہیں .میرا خیال ہے کہ یہاں ترقی تو کیا ایسے کسی انتہائی اقدام کے بعد اسے چند لمحے جینے کی اجازت ملنا بھی مشکل ہے۔



    یاد نہیں، ہم نے واحد نوبل انعام یافتہ پاکستانی سائنس دان ڈاکٹر عبدالسلام کے ساتھ کیا سلوک کیا تھا؟



    ڈاکٹر عبدالسلام جن مذہبی نظریات پر یقین رکھتے تھے، ان نظریات سے مجھے بھی اختلاف ہے، لیکن کیا عقائد سے اختلاف کا مطلب یہ ہے کہ انسانیت کا جامہ ہی اتار دیا جائے اور ’درندہ نما حیوانیت‘ کو کھلا چھوڑ دیا جائے؟









    دینی لوگ ہوتے ہی کم ظرف ہیں کلکل صاحب گویا ہوے،ہم اس قدر ظرف اور برداشت کے حامل ہیں کہ کوئی مسلمان فرد اسلام کو چھوڑ کر کوئی اور مذہب اختیار کرلے پھر ہم اسے اتنی ترقی کرنے اجازت بھی دیں کہ وہ ملک و قوم کے لیے باعث فخر بن سکے۔



    علامہ صاحب ہمارے نبی صل الله علیہ وسلم کا فرمان ہے !



    ”عن عبداللّٰہ قال: قال رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم… لایحل دم رجل مسلم یشہد ان لا الٰہ الا اللّٰہ و انی رسول اللّٰہ الا باحدی ثلاث: الثیب الزانی‘ والنفس بالنفس‘ والتارک لدینہالمفارق للجماعة۔“ (ابوداؤد ص: ۲۴۲‘ ج:۲‘ نسائی ۱۶۵‘ ج:۲‘ ابن ماجہ ص:۱۸۲‘ سنن کبریٰ بیہقی ۱۹۴‘ ج:۸‘ ترمذی ص:۲۵۹‘ ج:۱‘ مسلم ص:۵۹ ج:۲)ترجمہ:… ”حضرت ابن مسعود سے روایت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو مسلمان کلمہ لا الٰہ الا اللہ کی شہادت دے‘ اس کا خون بہانا جائز نہیں‘ سوائے ان تین آدمیوں کے: ایک وہ جو شادی شدہ ہوکر زنا کرے‘ دوسرا وہ جو کسی کو ناحق قتل کردے اور تیسرا وہ جو اسلام کو چھوڑ کر مرتد ہوجائے۔“



    سوال یہ ہے کیا آپ مسلمان ہیں .مولانا نے پوچھا ؟جی ہاں اور آپ سے بہتر .......کیا آپ اسلام کو دین حق سمجھتے ہیں ،مولانا نے پھر سوال کیا .ہر مذہب والا خود کو حق پر سمجھتا ہے ،علامہ بولے ،تو کیا حق متعدد ہیں سچ بھی حق اور جھوٹ بھی حق کسی کے سمجھنے سے کیا ہوتا ہے حق تو حق ہی رہے گا !تو کیا ہم اپنا حق دوسرے پر تھوپ دیں علامہ بولے ،نہیں کلکل صاحب اپنا یہ انکا حق نہیں حق تو حق ہے ہم کسی کو مجبور نہیں کرتے کہ وہ اسلام قبول کرے لیکن اگر وہ مسلمان ہو چکا ہے تو اسے ارتداد کی اجازت نہیں دی جا سکتی ورنہ دین بازیچہ اطفال بن کر رہ جاۓ گا ،لیکن دوسرے مذاہب میں تو ایسا نہیں ہوتا علامہ مچلے ،کیونکہ دوسرے مذاہب ہیں دین نہیں اسلام دین ہے جو پورے نظام حیات پر حاوی ہے اور اسکے مالک خود الله ہیں اگر کوئی کسی ریاست کے قانون سے بغاوت کرے تو اسکی سزا موت ہے لیکن اگر کوئی الله کے قانون سے بغاوت کرے تو اسکو ایسے ہی چھوڑ دیا جاۓ !



    لیکن یہ معاملہ ریاست کا  ہے اور یہ فیصلہ بھی ریاست کے ہاتھ میں ہے اور اسوقت کہیں بھی باقاعدہ اسلامی ریاست قائم نہیں اسلئے علامہ صاحب آپ بلکل بے فکر رہیں!

    ہنہ علامہ نے ناک سکیڑی.......





     جناب علامہ صاحب آپکی پوری بحث مغالطوں پڑ مبنی "کل کل " ہے اور کچھ نہیں ،آپ لوگوں کی پہچان یہ ہے کہ آپ زبردست خلط مبحث کے ماہر ہیں اور آپکو یہ بھی معلوم نہیں کہ آپ کس قدر تضاد بیانی میں مبتلا ہورہے ہیں۔ 



    ”مسلم دنیا میں ایک نامور سائنسدان ڈاکٹر عبد السلام پیدا ہوئے تو مولویوں نے اس پر بھی فتوے لگائے“۔اندازہ لگایئے کہ بات کہاں سے کہاں لے جائی جارہی ہے‘ یہ تو بتایے کہ مولویوں نے ڈاکٹر عبد السلام کے کس سائنسی نظریئے پر کون سا فتویٰ لگایا تھا؟ فتویٰ تو قادیانی دجل پر لگا یا گیا تھا ،



    10 ستمبر 1974ء کو ڈاکٹر عبدالسلام نے وزیراعظم کے سائنسی مشیر کی حیثیت سے وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کے سامنے اپنا استعفیٰ پیش کیا۔ اس کی وجہ انھوں نے اس طرح بیان کی:’’آپ جانتے ہیں کہ میں احمدیہ (قادیانی) فرقے کا ایک رکن ہوں۔ حال ہی میں قومی اسمبلی نے احمدیوں کے متعلق جو آئینی ترمیم منظور کی ہے، مجھے اس سے زبردست اختلاف ہے۔ کسی کے خلاف کفر کا فتویٰ دینا اسلامی تعلیمات کے منافی ہے۔ کوئی شخص خالق اور مخلوق کے تعلق میں مداخلت نہیں کر سکتا۔ میں قومی اسمبلی کے فیصلہ کو ہرگز تسلیم نہیں کرتا لیکن اب جبکہ یہ فیصلہ ہو چکا ہے اور اس پر عملدرآمد بھی ہو چکا ہے تو میرے لیے بہتر یہی ہے کہ میں اس حکومت سے قطع تعلق کر لوں جس نے ایسا قانون منظور کیا ہے۔ اب میرا ایسے ملک کے ساتھ تعلق واجبی سا ہوگا جہاں میرے فرقہ کو غیر مسلم قرار دیا گیا ہو۔‘‘



    آج بھی پاکستان کی غیر مذہبی ریاست میں قادیانیوں کی مذہبی ریاست موجود ہے جہاں انکی اپنی پولیس انکا ڈاک خانہ کاروبار میڈیا سب انکے ہاتھ میں ہے ،،،،،،،،،بات ہو رہی ہے "ربوہ" کی جو ویٹیکن کی طرح ریاست میں ریاست ہے .......اور جو الزام عبدالسلام قادیانی نے پاکستانیوں پر  لگا کر ملک چھوڑا تھا وہ خود بھی اسی جرم کے مرتکب ہیں ،



    معروف صحافی و کالم نویس جناب تنویر قیصر شاہد نے ایک دلچسپ مگر فکر انگیز واقعہ نقل کیا !



    ’ایک دفعہ لندن میں قیام کے دوران بی بی سی لندن کی طرف سے میں اپنے ایک دوست کے ساتھ بطور معاون، ڈاکٹر عبدالسلام کے گھر ان کا تفصیلی انٹرویو کرنے گیا۔ میرے دوست نے ڈاکٹر سام کا خاصا طویل انٹرویو کیا اور ڈاکٹر صاحب نے بھی بڑی تفصیل کے ساتھ جوابات دیئے۔ انٹرویو کے دوران میں بالکل خاموش، پوری دلچسپی کے ساتھ سوال و جواب سنتا رہا۔ دوران انٹرویو انہوں نے ملازم کو کھانا دسترخوان پر لگانے کا حکم دیا۔ انٹرویو کے تقریباً آخر میں عبدالسلام مجھ سے مخاطب ہوئے اور کہاں کہ آپ معاون کے طور پر تشریف لائے ہیں مگر آپ نے کوئی سوال نہیں کیا۔ میری خواہش ہے کہ آپ بھی کوئی سوال کریں۔ ان کے اصرار پر میں نے بڑی عاجزی سے کہا کہ چونکہ میرا دوست آپ سے بڑاجامع انٹرویو کر رہا ہے اور میں اس میں کوئی تشنگی محسوس نہیں کر رہا، ویسے بھی میں، آپ کی شخصیت اور آپ کے کام کو اچھی طرح جانتا ہوں۔ میں نے آپ کے متعلق خاصا پڑھا بھی ہے۔ جھنگ سے لے کر اٹلی تک آپ کی تمام سرگرمیاں میری نظرں سے گزرتی رہی ہیں لیکن پھر بھی ایک خاص مصلحت کے تحت میں اس سلسلہ میں کوئی سوال کرنا مناسب نہیں سمجھتا۔ اس پر ڈاکٹر عبدالسلام فخریہ انداز میں مسکرائے اور ایک مرتبہ اپنے علمی گھمنڈ اور غرور سے مجھے ’’مفتوح‘‘ سمجھتے ہوئے ’’فاتح‘‘ کے انداز میں ’’حملہ آور‘‘ ہوتے ہوئے کہا کہ ’’نہیں… آپ ضرور سوال کریں، مجھے بہت خوشی ہو گی۔‘‘ بالآخر ڈاکٹر صاحب کے پرزور اصرار پر میں نے انہیں کہا کہ آپ وعدہ فرمائیں کہ آپ کسی تفصیل میں گئے بغیر میرے سوال کا دوٹوک الفاظ ’’ہاں‘‘ یا ’’نہیں‘‘ میں جواب دیں گے۔ ڈاکٹر صاحب نے وعدہ فرمایا کہ ’’ٹھیک! بالکل ایسا ہی ہو گا؟‘‘ میں نے ڈاکٹر صاحب سے پوچھا کہ چونکہ آپ کا تعلق قادیانی جماعت سے ہے، جو نہ صرف حضور نبی کریمe کی بحیثیت آخری نبی منکر ہے، بلکہ حضور نبی کریمe کے بعد آپ لوگ (قادیان، بھارت کے ایک مخبوط الحواس شخض) مرزا غلام احمد قادیانی کو نبی اور رسول مانتے ہیں۔ جبکہ مسلمان مرزا قادیانی کی نبوت کا انکار کرتے ہیں۔ آپ بتائیں کہ مدعی نبوت مرزا غلام احمد قادیانی کو نبی نہ ماننے پر آپ مسلمانوں کو کیا سمجھتے ہیں؟ اس پر ڈاکٹر عبدالسلام بغیر کسی توقف کے بولے کہ ’’میں ہر اس شخص کو کافر سمجھتا ہوں جو مرزا غلام احمد قادیانی کو نبی نہیں مانتا۔‘‘ ڈاکٹر عبدالسلام کے اس جواب میں، میں نے انہیں کہا کہ مجھے مزید کوئی سوال نہیں کرنا۔ اس موقع پر انہوں نے اخلاق سے گری ہوئی ایک عجیب حرکت کی کہ اپنے ملازم کو بلا کر دستر خوان سے کھانا اٹھوا دیا۔ پھر ڈاکٹر صاحب کو غصے میں دیکھ کر ہم دونوں دوست ان سے اجازت لے کر رخصت ہوئے۔‘‘





     علامہ صاحب ہمیں قادیانیوں سے کیوں نفرت ہے کبھی اپنے سوچا بھی اسکی وجہ کیا ہے !



    اگر کوئی شخص آپکے گھر میں داخل ہو اور آپکے مرحوم والد کی جگہ لینے کی کوشش کرے آپکی والدہ سے صحبت کا طالب ہو اور کہے کہ آپکی پیدائش میں وہ آپکے والد کے ساتھ برابر کا حصے دار ہے تو دل پر ہاتھ رکھ کر بتائیں کیا آپ اسے محبّت سے پیش آئیںگے اسکی خاطر داری کرینگے اسکو وہی عزت اور مقام دینگے جو  آپکے والد کا تھا ؟



    علامہ کلکل کا چہرہ اتر چکا تھا اور انکے پاس کوئی جواب نہ تھا اور میں سوچ رہا تھا ،بولوں تو بولوں کیا ؟



    بھائی صاحب کی اس دلچسپ داستان کے بعد راقم کے پاس کہنے کو کچھ نہیں ہے لیکن سوچنے کو بہت کچھ !



    حسیب احمد حسیب .
ایک تبصرہ شائع کریں