اتوار، 10 فروری، 2013

سو سمار کے پیروکار !



عمومن پہاڑی یا ریتلے علاقوں میں ایک جانور اگوانا نام کا پایا جاتا ہے جو چھپکلی کی نسل کا ایک رینگنے والا جانور ہے اسے سوسمار یا گوہ بھی کہا جاتا ہے انتہائی مضبوط جسم کے اس جانور کی خاصیت اسکی انتہائی مضبوط پکڑ ہونا  ہے زمانہ قدیم میں اسے نقب لگانے کے لیے استعمال کیا جاتا تھا ہمارے جدید دور کے ڈاکو نقب اور نقاب دونوں سے مستغنی ہو 
چکے ہیں رکھ رکھاؤ اب کسی بھی طبقے میں باقی نہیں رہا ہے
یہ جانور پہاڑوں یا زمین میں سوراخ بنا کر رہتا ہے چھوٹے موٹے کیڑے مکوڑے اسکی غذا ہوتے ہیں انتہائی سخت جان ہوتا ہے اور آسانی سے نہیں مرتا سوسمار کا ذکر کچھ احادیث میں بھی آیا ہے جن میں سے ایک روایت بہت مشہور ہے 
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ـ رضى الله عنه ـ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ لَتَتَّبِعُنَّ سَنَنَ مَنْ قَبْلَكُمْ شِبْرًا بِشِبْرٍ، وَذِرَاعًا بِذِرَاعٍ، حَتَّى لَوْ سَلَكُوا جُحْرَ ضَبٍّ لَسَلَكْتُمُوهُ ‏"‏‏.‏ قُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ، الْيَهُودَ وَالنَّصَارَى قَالَ ‏"‏ فَمَنْ ‏"‏‏؟.‏
( صحيح البخاري :3456 ،الأنبياء – صحيح مسلم :2669 ، العلم )
 ترجمہ: حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم  نے ارشاد فرمایا : تم لوگ اپنے سے پہلی قوموں کی ضرور پیروی کروگے ، بالشت بالشت برابر اور ہاتھ ہاتھ کے برابر ، حتی کہ اگر وہ لوگ گوہ  کے سوراخ میں داخل ہوں گے تو تم لوگ بھی ان کی پیروی کروگے ، حضرت ابو سعید کہتے ہیں کہ یہ سننے کے بعد ہم لوگوں نے عرض کیا : اے اللہ کے رسول کیا [پہلی قوموں سے مراد ] یہود ونصاری ہیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ و سلم  نے فرمایا : پھر اور کون ۔
{ صحیح بخاری و صحیح مسلم }
دنیا میں مختلف اقوام پائی گئی ہیں کچھ وہ جنکی کوئی باقاعدہ تاریخ اور تہذیب ہے اور کچھ وہ جو بے تاریخ اور بد تہذیب گزری ہیں ایسی ہی قوم کے بارے میں  ایک اور روایت میں سوسمار کا ذکر بھی آتا ہے 
١٣٢٤  : سیدنا ابوسعید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک دیہاتی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور بولا کہ ہم ایسی زمین میں رہتے ہیں جہاں گوہ بہت ہیں اور میرے گھر والوں کا اکثر کھانا وہی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو جواب نہ دیا۔ ہم نے کہا کہ پھر پوچھ، اس نے پھر پوچھا، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین بار جواب نہ دیا۔ پھر تیسری دفعہ ( یا تیسری دفعہ کے بعد ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو آواز دی اور فرمایا کہ اے دیہاتی ! اللہ جل جلالہ نے بنی اسرائیل کے ایک گروہ پر لعنت کی یا غصہ کیا تو ان کو جانور بنا دیا، وہ زمین پر چلتے تھے۔ میں نہیں جانتا کہ گوہ انہی جانوروں میں سے ہے یا کیا ہے؟ اس لئے میں اس کو نہیں کھاتا اور نہ ہی حرام کہتا ہوں۔ مسلم 
عین ممکن ہے بنی اسرائیل کا وہ گمراہ گروہ ہی سوسمار میں تبدیل ہو گیا ہو لیکن یہ بات طے ہے کہ یہود و نصاریٰ اگر گوہ کے سوراخ میں گھسینگے تو ہم بھی انکی پیروی  میں گھس پڑینگے 
دور جدید کے نصاریٰ جو قریباً لا دین ہو چکے ہیں خاص طور پر امریکا مہاراج جسکا کوی مذہبی اور تاریخی ورثہ نہیں اور یہ بیچارے کبھی منگولیا کے پہاڑوں میں بدھ مت کے اندر کہیں ہندوستان کے مندروں میں کبھی بھولی ہوئی مایا تہذیب میں اور کبھی مصر کے اہراموں میں اپنی شناخت کھوجتے پھرتے ہیں ایسے میں کبھی بیتاب ہوکر یہ لوگ گوہ کے بلوں میں بھی گھس پڑتے ہیں اور قدیم فرعونی تہذیب سے بھی کچھ روایت ڈھونڈ لاتے ہیں 
قدیم روم میں  لوپرکالیہ  کے نام سے ایک جشن منایا جاتا تھا روایت کے مطابق لوپرکالیہ لاطینی زبان کے لفظ لوپس سے نکلا ہے جسکا مطلب ہے مادہ بھیڑیا اسکا ایک اور مطلب طوائف کا بھی ہے ،
قصہ کچھ یوں  ہے کہ دو بھائیوں رومیولاس اور رومس کو ایک مادہ بھیڑیے نے دودھ پلایا تھا ان دونوں بھائیوں نے لوپر کالیہ کا جشن منانا شروع کیا یہ تین دن کا تیوہار ہوتا تھا جو تیرہ فروری سے شروع ہوکر پندرہ فروری کو  اختتام پذیر ہو جاتا تھا مزے کی بات یہ ہے کہ لوپر کالیہ کا ایک اور نام فبراشیو یا فبراٹیو بھی ہے جسکے نام پر ہمارا انگریزی مہینہ فروری کہلاتا ہے 
  اس قدیم تیوہار کی تقریبات کچھ اسطرح ہوتی تھیں پہلے ایک بھیڑ اور کتے کو ذبح کیا جاتا ہے (بھیڑ بھیڑیے کا شکار اور کتا اسکا رکھوالا ہوتا ہے غالباً اسی لیے دونوں کی قربانی دی جاتی تھی )
اسکے بعد رومن شراب کے نشے میں دھت روم کی گلیوں میں برہنہ دوڑ لگاتے خوبصورت بے لباس عورتوں کو جبری راستوں میں کھڑا کر دیا جاتا رومی سورما  انکو ذبح شدہ جانوروں کے گوشت اور کھال کے ٹکڑوں سے نشانہ بناتے اور عقیدہ یہ رکھا جاتا کہ اس سے عورتوں کی بارآوری کی صلاحیت بڑھ جاۓ گی 
جشن کا دوسرا حصہ ایک خاص کھیل پر مشتمل ہوتا ایک بڑے جار میں کنواریوں کے نام لکھ کر ڈال دئیے جاتے اور اسکے بعد مرد قسمت آزمائی کرتے جسکے  کے نام جو عورت نکلتی  تقریبات کے اختتام تک وہ اس عورت سے لطف اندوز ہونے کا حق رکھتا 
معروف مفکر لانسکی کہتا ہے قدیم رومی جشن لوپر کالیہ جو رومیوں میں بہت مشہور تھا بادشاہ کونستینتین کے دور تک اسکی اہمیت کو کم یا ختم کرنے کے لیے ویلین ٹائین کے جشن کا آغاز کیا گیا 
تاریخ میں ہمیں تین مختلف ویلین ٹائین ملتے ہیں 
١ تیسری صدی عیسوی میں بادشاہ کلوڈیاس دوئم کے دور میں جنگ کے دنوں میں سپاہیوں کی شادیوں پر پابندی لگا دی تھی جسکے خلاف ویلین ٹائین صاحب نے بغاوت کی کسی عورت کو محبّت بھرے خط لکھے اور آخر موت کے گھاٹ اتارے گۓ
٢ دوسری کہانی میں ویلین ٹائین صاحب قید خانے میں ہوتے ہیں اور جیلر کی اندھی 
بیٹی 

 پر ڈورے ڈالنے کی پاداش میں موت کے گھاٹ اتارے جاتے ہیں 
٣ ایک کہانی کے مطابق یہ اطالوی بزرگ تھے وجوہات انکی جبری موت کی بھی پہلے دو جیسی ہی تھیں 

تحقیق بتاتی ہے کہ  ویلین ٹائین اصل میں گیلین ٹائین تھا جو گیلنٹ سے نکلا ہے جو لفظ کورٹشپ کے مترادف ہے جسکا مطلب مرد اور عورت کا بغیر شادی ایک عارضی معاہدے میں رہنے کے ہیں 
ایک روایت کہتی ہے یہ پرندوں کے ملن کا موسم ہے 
 اس جشن کی اصل رومن تیوہار سے لی گئی ہے اور اسے پندھرویں صدی میں باقاعدہ مقبولیت حاصل ہونا شروع ہوئی اسکا اصل گھر دور  جدید میں امریکی تجارتی منڈیاں بنیں جہاں اسے باقاعدہ کیش کیا گیا ہالووین ،نیو ایر، مایا فیسٹیول یا ولین ٹائین سب کی اصل منڈی جدید دجالی تہذیب کا نمائندہ امریکہ ہے ،

٢٠١٢ میں ایک اندازہ کے مطابق ١٧.٦ بلین امریکی ڈولر کی کمائی ہوئی ایک انگریز مفکر کہتا ہے ایسا لگتا ہے کوئی نادیدہ قوت ہماری زندگیوں کو اپنی مرضی کا رخ دے رہی ہے 
جدید دور کے فحش معاشروں میں اسطرح کا جشن جہاں نوجوان پہلے ہی جنسی نرگسیت کا شکار ہے اسے وہ تمام حالات فراہم کر دئیے جائیں جنمیں اسکی ذہنی ،جسمانی اور روحانی حالت بد سے بد تر ہوتی چلی جاۓ 
کیا ہم چند دنوں اور چند لمحوں کے لیے اتنی بڑی قربانی دینے کو تیار ہیں 


کیا ہمارا مذہب ہماری تہذیب ہماری معاشرت اور ہماری عمومی حالت اس طرح کی خرافات کی اجازت دیتی ہے اور کیا ہماری پستی کا واحد علاج کسی دجالی تہذیب کے رنگ میں رنگ جانا ہی ٹھہرا ہے کبھی رک کر سوچا بھی ہے ہمنے کہ ہم کہاں جا رہے ہیں 
آج کی حالت دیکھتے ہیں تو ہر طرح کا شک دور ہو جاتا ہے اور الله کے رسول صل الله علیہ وسلم کے کہے گۓ الفاظ بازگشت کی شکل میں سماعتوں سے ٹکراتے ہیں ،،،،
شِبْرًا بِشِبْرٍ، وَذِرَاعًا بِذِرَاعٍ، حَتَّى لَوْ سَلَكُوا جُحْرَ ضَبٍّ لَسَلَكْتُمُوهُ ‏"‏‏.‏

 کیا عقل آنے کی امید ہے سوسمار کے پیروکاروں سے 

حسیب احمد حسیب 






















ایک تبصرہ شائع کریں