اتوار، 21 اکتوبر، 2012

اہل تصوّف کی دینی جدوجہد

اہل تصوّف کی دینی جدوجہد
مولانا سید ابو الحسن علی ندویدنیا میں بہت سی چیزیں بعض خاص اسباب کی بنا پر بغیر علمی تنقید وتحقیق کے تسلیم کر لی جاتی ہیں اور ان کو ایسی شہرت ومقبولیت حاصل ہو جاتی ہے کہ اگرچہ ان کی کوئی علمی بنیاد نہیں ہوتی ، مگر خواص بھی ان کو زبان وقلم سے بے تکلف دہرانے لگتے ہیں ۔
انہیں مشہور اور بے اصل چیزوں میں سے یہ بات بھی ہے کہ تصوف تعطل وبے عملی، حالات سے شکست خوردگی اور میدان جدوجہد سے فرار کا نام ہے۔ لیکن عقلی ونفسیاتی طور پر بھی اور عملی اور تاریخی حیثیت سے بھی ہمیں اس دعوے کے خلاف مسلسل طریقہ پر داخلی وخارجی شہادتیں ملتی ہیں۔
” سیرت سید احمد شہید میں تزکیہ واصلاح باطن کے عنوان کے ماتحت خاکسار راقم نے حسب ذیل الفاظ لکھے تھے، جس میں آج بھی تبدیلی کی ضرورت محسوس نہیں ہوتی اور اس حقیقت پر پہلے سے زیادہ یقین پیدا ہو گیا ہے ۔
”یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ سر فروشی، وجاں بازی ، جہاد وقربانی اورتجدید وانقلاب وفتح وتسخیر کے لیے جس روحانی وقلبی قوت، جس وجاہت وشخصیت، جس اخلاق وللٰہیت ، جس جذب وکشش اور جس حوصلہ وہمت کی ضرورت ہے ، وہ بسااوقات روحانی ترقی ، صفائی باطن ، تہذیب نفس ، ریاضت وعبادت کے بغیر نہیں پیدا ہوتی، اس لیے آپ دیکھیں گے کہ جنہوں نے اسلام میں مجددانہ کارنامے انجام دیے ہیں ، ان میں سے اکثر افراد روحانی حیثیت سے بلند مقام رکھتے تھے ، ان آخری صدیوں پر نظر ڈالیے ، امیر عبدالقادر الجزائری، (مجاہد جزائر) ، محمد احمد السوڈانی ( مہدی سوڈانی)، سید احمد شریف السنوسی ( امام سنوسی) کو آپ اس میدان کا مرد پائیں گے ، حضرت سید احمد ایک مجاہد قائد کے علاوہ اور اس سے پہلے ایک عزیز القدرروحانی پیشوا اور بے مثل شیخ الطریقت تھے۔
حقیقت یہ ہے کہ مجاہدات وریاضات ، تزکیہ نفس اور قرب الہیٰ سے عشق الہٰی اور جذب وشوق کا جو مرتبہ حاصل ہوتا ہے ، اس میں ہر رونگٹے سے یہی آواز آتی ہے #ہمارے پاس ہے کیا جو فدا کریں تجھ پرمگر یہ زندگی مستعار رکھتے ہیںاس لیے روحانی ترقی او رکمال باطنی کا آخری لازمی نتیجہ شوق شہادت ہے او رمجاہدے کی تکمیل جہا دہے ۔ ( سیرت سید احمد شہید)
نفسیاتی پہلو سے غور کیجیے گا تو معلوم ہو گا کہ یقین اور محبت ہی وہ شہپر ہیں ، جن سے جہاد وجد وجہد کا شہباز پرواز کرتا ہے ، مرغوبات نفسانی، عادات ، مالوفات ، مادی مصالح ومنافع ، اغراض وخواہشات کی پستیوں سے وہی شخص بلند ہو سکتا ہے اور ﴿لکنہ أخلد إلی الارض واتبع ھواہ﴾ کے دام ہم رنگ زمین سے وہی شخص بچ سکتا ہے ، جس میں کسی حقیقت کے یقین اور کسی مقصد کے عشق نے پارہ کی ” تقدیر سیمابی“ اور بجلیوں کی بیتابی پیدا کر دی ہو۔
انسانی زندگی کا طویل ترین تجربہ ہے کہ محض معلومات وتحقیقات اورمجرد قوانین وضوابط اور صرف نظم وضبط سرفروشی وجانبازی بلکہ سہل ترایثاروقربانی کی طاقت وآمادگی پیدا کرنے کے لیے بھی کافی نہیں ہے ، اس کے لیے اس سے کہیں زیادہ گہرے اور طاقتور تعلق اور ایک ایسی روحانی لالچ اور غیر مادی فائدے کے یقین کی ضرورت ہے کہ اس کے مقابلے میں زندگی باردوش معلوم ہونے لگے، کسی ایسے ہی موقع او رحال میں کہنے والے نے کہا تھا #جان کی قیمت دیار عشق میں ہے کوئے دوستاس نویدِ جاں فزا سے سر وبال دوش ہےاس لیے کم سے کم اسلام کی تاریخ میں ہر مجاہدانہ تحریک کے سرے پر ایک ایسی شخصیت نظر آتی ہے جس نے اپنے حلقہ مجاہدین میں یقین ومحبت کی یہی روح پھونک دی تھی اور اپنے یقین ومحبت کو سیکڑوں اور ہزاروں انسانوں تک منتقل کرکے ان کے لیے تن آسانی اور راحت طلبی کی زندگی دشوار اور پامردی وشہادت کی موت آسان اور خوش گوار بنا دی تھی اور ان کے لیے جینا اتناہی مشکل ہو گیا تھا جتنا ، دوسروں کے لیے مرنا مشکل تھا یہی، سر حلقہ وہ امام وقت ہے جس کے متعلق اقبال مرحوم نے کہا ہے #ہے وہی تیرے زمانے کا امام برحقجو تجھے حاضر وموجود سے بیزار کرےموت کے آئینہ میں تجھ کو دکھا کر رخ دوست زندگی اوربھی تیرے لیے دشوار کرےدے کے احساس زیاں تیرا لہو گرما دے فقر کی سان چڑھا کر تجھے تلوار کرےمعمولی او رمعتدل حالات میں قوموں کی قیادت کرنے والے ، فتح ونصرت کی حالت میں لشکروں کو لڑانے والے ہر زمانے میں ہوتے ہیں ، اس کے لیے کسی غیر معمولی یقین وشخصیت کی ضرورت نہیں ، لیکن مایوس کن حالات اور قومی جان کنی کی کیفیات میں صرف وہی مرد میدان حالات سے کش مکش کی طاقت رکھتے ہیں جو اپنے خصوصی تعلق بالله اور قوت ایمانی وروحانی کی وجہ سے خاص یقین وکیفیت عشق کے مالک ہوں، چناں چہ جب مسلمانوں کی تاریخ میں ایسے تاریک وقفے آئے کہ ظاہری علم وحواس وقوت مقابلہ نے جواب دے دیا اور حالات کی تبدیلی امر محال معلوم ہونے لگی تو کوئی صاحب یقین وصاحب عشق میدان میں آیا، جس نے اپنی ”جرات رندانہ“ اور ”کیفیت عاشقانہ “ سے زمانے کا بہتا ہوا دھارا بدل دیا اور الله تعالیٰ نے ﴿یخرج الحی من المیت﴾ اور ﴿یحیی الارض بعد موتھا﴾ کا منظر دکھایا۔
تاتاریوں نے جب تمام عالم اسلام کو پامال کرکے رکھ دیا، جلال الدین خوارزم شاہ کی واحد اسلامی سلطنت اور عباسی خلافت کا چراغ ہمیشہ کے لیے گل ہوگیا ، تو تمام عالم اسلام پریاس ومردنی چھا گئی ، تاتاریوں کی شکست ناممکن الوقوع چیز سمجھی جانے لگے او ریہ مثال زبان وادب کا جزو بن گئی کہ ”اذا قیل لک ان التتر انھز موالاتصدق“ ( اگر تم سے کوئی کہے کہ تاتاریوں نے شکست کھائی تو کبھی یقین نہ کرنا) اس وقت کچھ صاحب یقین اور صاحب قلوب مردان خدا تھے ، جومایوس نہیں ہوئے او راپنے کام میں لگے رہے، یہاں تک کہ تاتاری سلاطین کو مسلمان کرکے صنم خانہ سے کعبہ کے لیے پاسباں مہیا کر دیے۔
ہندوستان میں اکبر کے دور میں ساری سلطنت کا رخ الحاد ولا دینیت کی طرف ہو گیا ، ہندوستان کا عظیم ترین بادشاہ ایک وسیع وطاقت ور سلطنت کے پورے وسائل وذخائر کے ساتھ اسلام کا امتیازی رنگ مٹانا چاہتا تھا ، اس کو اپنے وقت کے لائق ترین وذکی ترین افراد اس مقصد کی تکمیل کے لیے حاصل تھے ، سلطنت میں ضعف وپیرانہ سالی کے کوئی آثار ظاہر نہ تھے کہ کسی فوجی انقلاب کی امید کی جاسکے، علم وظاہری قیاسات کسی خوش گوار تبدیلی کے امکان کی تائید نہیں کرتے تھے ، اس وقت ایک درویش بے نوانے تن تنہا اس انقلاب کا بیڑا اٹھایا او راپنے یقین وایمان ، عزم وتوکل اور روحانیت وللہیت سے سلطنت کے اندر ایک ایسا اندرونی انقلاب شروع کیا کہ سلطنت مغلیہ کا ہر جانشین اپنے پیشرو سے بہتر ہونے لگا، یہاں تک کہ کہ اکبر کے تخت سلطنت پر بالآخر محی الدین اورنگ زیب نظر آیا، اس انقلاب کے بانی، امام طریقت حضرت شیخ احمد سرہندی مجدد الف ثانی تھے۔
انیسویں صدی عیسوی میں جب عالم اسلام پر فرنگی” تاتاریوں“ یا مجاہدین صلیب کی یورش ہوئی تو ان کے مقابلہ میں عالم اسلام کے ہر گوشہ میں جو مردان کار سر سے کفن باندھ کر میدان میں آئے ، وہ اکثر وبیشتر شیوخ طریقت اور اصحاب سلسلہ بزرگ تھے ، جن کے تزکیہ نفس اور سلوک راہ نبوت نے ان میں دین کی حمیت ، کفر کی نفرت، دنیا کی حقارت اور شہادت کی موت کی قیمت دوسروں سے زیادہ پیدا کر دی تھی ، الجزائر (مغرب) میں امیر عبدالقادر نے فرانسیسیوں کے خلاف علم جہاد بلند کیا اور 1832ء سے 1847ء تک نہ خود چین سے بیٹھے، نہ فرانسیسیوں کو چین سے بیٹھنے دیا، مغربی مؤرخین نے ان کی شجاعت، عدل وانصاف، نرمی ومہربانی اور علمی قابلیت کی تعریف کی ہے۔
یہ مجاہد عملاً وذوقاً صوفی وشیخ طریقت تھا او رامیر شکیب ارسلان نے ان الفاظ میں ان کا ذکر کیا ہے۔ ”وکان المرحوم الامیر عبدالقادر متضلعا من العلم والأدب، سامی الفکر، راسخ القدم فی التصوف لا یکتفی بہ نظرا احتی یمارسہ عمل،ا ولا یحن الیہ شوقاً، حتی یعرفہ ذوقا، ولہ فی التصوف کتاب سماہ (المواقف) فھو فی ھذا المشرب من الأفداد الأفذاذ، ربما لایوجد نظیرہ فی المتاخرین“․
امیر عبدالقادر پورے عالم وادیب، عالی دماغ اور بلند پایہ صوفی تھے ، صرف نظری طور پر نہیں، بلکہ عملاً اورذوقا بھی صوفی تھے، تصوف میں ان کی ایک کتاب ( المواقف) ہے، وہ اس سلسلہ کے یکتائے روز گار لوگوں میں تھے اور ممکن ہے کہ متاخرین میں ان کی نظیر دستیاب نہ ہو سکے۔
دمشق کے زمانہٴ قیام کے معمولات واوقات کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
”وکان کل یوم یقوم الفجر، ویصلی الصبح فی مسجد قریب من دارہ، فی محلة العمارة، لا یتخلف عن ذلک، إلا لمرض، وکان یتھجد اللیل، ویمارس فی رمضان الریاضة علی طریقة الصوفیة، ومازال مثالا للبر والتقوی والأخلاق الفاضلة الی ان توفی رحمہ الله“․
روزانہ فجر کو اٹھتے، صبح کی نماز اپنے گھر کے قریب کی مسجد میں، جو محلہ العمارہ میں واقع ہے، پڑھتے، سوائے بیماری کی حالت کے کبھی اس میں ناغہ نہ ہوتا، تہجد کے عادی تھے اور رمضان میں حضرات صوفیہ کے طریقہ پر ریاضت کرتے ، برابر سلوک وتقوی اور اخلاق فاضلانہ پر قائم رہتے ہوئے1883ء میں انتقال کیا۔
1813ء میں جب طاغستان پر روسیوں کا تسلط ہوا تو ان کا مقابلہ کرنے والے نقش بندی شیوخ تھے،جنہوں نے علم جہاد بلند کیا اور اس کا مطالبہ اور جدوجہد کی کہ معاملات ومقدمات شریعت کے مطابق فیصل ہوں اور قوم کی جاہلی عادات کو ترک کر دیا جائے۔ امیر شکیب ارسلان لکھتے ہیں:۔
” وتولی کبر الثورة علماؤھم، وشیوخ الطریقة النقشبندیة المنتشرة ھناک، وکانھم سبقوا سائر المسلمین الی معرفة کون ضررھم ھو من امرائھم الذین اکثرھم یبیعون حقوق الامة بلقب ملک أوأمیر، وتبؤکرسی وسریر، ورفع علم کاذب، ولذة فارغة باعطاء أوسمة ومراتب، فثاروا منذذلک الوقت علی الامراء، وعلی الروسیة حامیتھم، وطلبوا أن تکون المعاملات وفقا لاصول الشریعة، للعادات القدیمة الباقیة من جاھلیة أولئک الأقوام، وکان زعیم تلک الحرکة غازی محمد، الذی یلقبہ الروس بقاضی ملا، وکان من العلماء المتبحرین فی العلوم العربیة، ولہ تالیف فی وجوب نبذ تلک العادات القدیمة المخالفة للشرع، إسمہ اقامة البرھان علیٰ ارتداد عرفاء طاغستان)“․
اس جہاد کے علم بردار طاغستان کے علماء اور طریقہٴ نقش بندیہ کے (جوطاغستان میں پھیلاہو اہے) شیوخ تھے ، ایسا معلوم ہوتا ہے کہ انہوں نے اس حقیقت کو عام مسلمانوں سے پہلے سمجھ لیا تھا کہ اصل نقصان حکام سے پہنچتا ہے ، جو خطابات ، عہد واقتدار، جھوٹی قیادت وسرداری، عیش ولذت اور تمغوں اور مرتبوں کی لالچ میں قوم فروشی کا ارتکاب کرتے ہیں ، یہ سمجھ کر انہوں نے ملکی حکام او ران کے حامی روسیو ں کے خلاف علم بغاوت بلند کیا اور اس کا مطالبہ کیا کہ معاملات کا فیصلہ شریعت مطہرہ کے مطابق ہو نہ کہ قوم کے قدیم جاہلی عادات کے، اس تحریک کے قائد غازی محمد تھے،جن کو روسی ”غازی ملا“ کے لقب سے یاد کرتے ہیں، وہ علوم عربیہ میں بلند پایہ رکھتے تھے، ان جاہلی عادات کے ترک کرنے کے بارے میں ان کی ایک تصنیف ”اقامة البرھان علی ارتداد عرفاء طاغستان“ ( طاغستان کے چوہدریوں اور برادری کے سرداروں کے ارتداد کا ثبوت) ہے۔ 1832ء میں غازی محمد شہید ہوئے، ان کے جانشین حمزہ بے ہوئے ، اس کے بعد شیخ شامل نے مجاہدین کی قیادت سنبھالی، جو بقول امیر شکیب ” امیر عبدالقادر الجزائری کے طرز پر تھے اور مشیخت سے امارت ہاتھ میں لی تھی۔“
شیخ شامل نے 25 بر س تک روس سے مقابلہ جاری رکھا اور مختلف معرکوں میں ان پر زبردست فتح حاصل کی ، روسی ان کی شوکت اور شجاعت سے مرعوب تھے اور چند مقامات کو چھوڑ کر سارے ملک سے بے دخل ہو گئے تھے، 1843ء اور 1844ء میں شیخ نے ان کے سارے قلعے فتح کر لیے اور بڑا جنگی سامان مال غنیمت میں حاصل کیا، اس وقت حکومت روس نے اپنی پوری توجہ طاغستان کی طرف مبذول کی، طاغستان میں جنگ کرنے کے لیے باقاعدہ دعوت دی، شعراء نے نظمیں لکھیں اور پے درپے فوجیں روانہ کی گئیں، شیخ شامل نے اس کے باوجود بھی مزید دس برس تک جنگ جاری رکھی، بالآخر1859ء میں اس مجاہد عظیم نے ہتھیار ڈالے۔
تصوف وجہاد کی جامعیت کی درخشاں مثال سیدی احمد الشریف السنوسی کی ہے ،اطالویوں نے برقہ وطرابلس کی فتح لیے پندرہ دن کا اندازہ لگایا تھا، نو آبادیوں او رآبادیوں کی جنگ کا تجربہ رکھنے والے انگریز قائدین نے اس پر تنقید کی او رکہا کہ یہ اطالویوں کی ناتجربہ کاری ہے، اس مہم میں ممکن ہے ، تین مہینے لگ جائیں ، لیکن نہ پندرہ دن نہ تین مہینے ، اس جنگ میں پورے تیرہ برس لگ گئے اور اطالوی پھر بھی اس علاقہ کو مکمل طریقہ پر سر نہ کرسکے، یہ سنوسی درویشوں اور ان کے شیخ طریقت سید احمد الشریف السنوسی کی مجاہدانہ جدوجہد تھی، جس نے اٹلی کو پندرہ سال تک اس علاقے میں قدم جمانے نہیں دیا ،امیر شکیب ارسلان نے لکھا ہے کہ سنوسیوں کے کارنامہ نے ثابت کر دیا کہ طریقہ سنوسیہ ایک پوری حکومت کا نام ہے ، بلکہ بہت سی حکومتیں بھی ان جنگی وسائل کی مالک نہیں ہیں ، جو سنوسی رکھتے ہیں ، خود سیدی احمد الشریف کے متعلق ان کے الفاظ ہیں : 
”وقد لحظت منہ صبراً قل أن یوجد فی غیرہ من الرجال، و عزما شدیدا تلوح سیماء ہ علی وجہہ، فبینما ھو فی تقواہ من الأبدال، اذا ھو فی شجاعتہ من الأبطال․“
مجھے سید سنوسی میں غیر معمولی صبر وثابت قدمی دکھائی دی، جو کم لوگوں میں دیکھی، اولو العزمی ان کی ناصیہٴ اقبال سے ہویدا ہے ، ایک طرف اپنے تقوی اور عبادت کے لحاظ سے اگر وہ اپنے زمانے کے ابدال میں شمار ہونے کے قابل ہیں تو دوسری طرف شجاعت کے لحاظ سے دلیران زمانہ کی صف میں شامل ہونے کے مستحق ہیں۔
امیر شکیب نے صحرائے اعظم افریقا کی سنوسی خانقاہ کی جو تصویر کھینچی ہے ، وہ بڑی دل آویزاور سبق آموز ہے، یہ خانقاہ ”واحة الکفرہ“ میں واقع تھی اور سید احمد الشریف کے چچا اور شیخ السید المہدی کے انتظام میں تھی اور افریقا کا سب سے بڑا روحانی مرکز اور جہاد کا دار التربیت تھی ، امیر مرحوم لکھتے ہیں:
” سید مہد ی صحابہ وتابعین کے نقش قدم پر تھے ، وہ عبادت کے ساتھ بڑے عملی آدمی تھے ، ان کومعلوم تھا کہ قرآنی احکام حکومت واقتدار کے بغیر نافذ نہیں ہوسکتے، اس لیے وہ اپنے برادران طریقت او رمریدین کو ہمیشہ شہسواری، نشانہ بازی کی مشق کی تاکید کرتے رہتے ، ان میں غیرت اورمستعدی کی روح پھونکتے، ان کو گھوڑدوڑ او رسپہ گری کا شوق دلاتے رہتے او رجہاد کی فضیلت واہمیت کا نقش ان کے دل پر قائم کرتے ، ان کی یہ کوششیں بار آور ہوئی اور مختلف مواقع پر اس کے اچھے نتائج برآمد ہوئے ، خصوصاً جنگ طرابلس میں سنوسیوں نے ثابت کر دیا کہ ان کے پاس ایسی مادی قوت ہے ، جو بڑی بڑی حکومتوں کی طاقت سے ٹکر لے سکتی ہے او ربڑی باجبروت سلطنتوں کا مقابلہ کر سکتی ہے ، صرف جنگ طرابلس ہی میں سنوسیوں کا جوش وغضب ظاہر نہیں ہوا ، بلکہ علاقہٴ کانم اور وادی ( سوڈان) میں وہ 1319ھ سے 1332ھ تک فرانسیسیوں سے برسر جنگ رہے۔
سید احمد الشریف نے مجھے بتایا کہ ان کے چچا سید مہدی کے پاس پچاس ذاتی بندوقیں تھیں ،جن کو وہ بڑے اہتمام کے ساتھ اپنے ہاتھ سے صاف کرتے تھے ، اگرچہ ان کے سیکڑوں کی تعداد میں مریدین تھے ، مگر وہ اس کے روادار نہیں تھے کہ یہ کام کوئی اور کرے ، تاکہ لوگ ان کی اقتدا کریں اور جہاد کی اہمیت کو سمجھیں اور اس کے سامان وذخائر کا اہتمام کریں ، جمعہ کا دن جنگی مشقوں کے لیے مخصوص تھا، گھوڑوں کی ریس ہوتی، نشانہ کی مشق ہوتی وغیرہ وغیرہ، خود سید ایک بلند جگہ پر تشریف فرما ہوتے، شہسوار دو حصوں (پارٹیوں) میں تقسیم ہو جاتے اور دوڑ شروع ہوتی ، یہ سلسلہ دن چھپے تک جاری رہتا، کبھی کبھی نشانہ مقرر ہوتا اور نشانہ بازی شروع ہوتی، اس وقت علما اور مریدین کا نمبر نشانہ بازی میں بڑا ہوتا، کیوں کہ ان کے شیخ کی ان کے لیے خاص تاکید تھی، جو لوگ گھوڑ دوڑ میں پالا جیت لیتے یا نشانہ بازی میں بازی لے جاتے ، ان کو قیمتی انعامات ملتے، تاکہ جنگی کمالات کا شوق ہو ، جمعرات کا دن دست کاری او راپنے ہاتھ سے کام کرنے کے لیے مقرر تھا ،اس دن اسباق بند ہو جاتے ،مختلف پیشوں اور صنعتوں میں لوگ مشغول ہوتے، کہیں تعمیر کا کام ہو رہا ہوتا، کہیں نجار ی، کہیں لوہاری، کہیں پارچہ بافی، کہیں وراقی کا مشغلہ نظر آتا، اس دن جو شخص نظر آتا وہ اپنے ہاتھ سے کام کرتا دکھائی دیتا ، خود سید مہدی بھی پورے مشغول رہتے ، تاکہ لوگوں کو عمل کا شوق ہو ، سید مہدی اور ان سے پہلے ان کے والد ماجد کو زراعت او ردرخت لگانے کا بڑا اہتمام تھا ، اس کا ثبوت ان کی خانقا ہیں اور ان کے خانہ باغ ہیں ، کوئی سنوسی خانقاہ ایسی نہیں ملے گی جس کے ساتھ ایک یا چند باغات نہ ہوں ، وہ نئے نئے قسم کے درخت دو ر دراز مقامات سے اپنے شہروں میں منگواتے تھے ، انہوں نے کفرہ اورجغبو میں ایسی ایسی زراعتیں او ردرخت روشناس کیے ، جن کو وہاں کوئی جانتا بھی نہ تھا ، بعض طلبا سید محمد السنوسی (بانی سلسلہٴ سنوسیہ) سے کیمیا سکھانے کی درخواست کرتے تھے تو وہ فرماتے تھے کہ کیمیا ہل کے نیچے ہے او رکبھی فرماتے کیمیا کیا ہے ؟ ہاتھ کی محنت اور پیشانی کا پسینہ۔ وہ طلباء او رمریدین کو پیشوں اورصنعتوں کا شوق دلاتے اور ایسے جملے فرماتے جن سے ان کی ہمت افزائی ہوتی اور وہ اپنے پیشوں اور صنعتوں کو حقیر نہ سمجھتے اور نہ ان میں علماء کے مقابلہ میں احساس کمتری پیدا ہوتا ، چناں چہ فرماتے تھے کہ بس تم کو حسن نیت اور فرائض کی پابندی کا فی ہے، دوسرے تم سے افضل نہیں، کبھی کبھی اپنے کو بھی پیشہ وروں میں شامل کرکے اور ان کے ساتھ کام میں شرکت کرتے ہوئے فرماتے۔ ” کیا یہ کاغذوں والے ( علماء) اور تسبیحوں والے ( ذاکرین وصوفیہ) سمجھتے ہیں کہ وہ ہم پر الله تعالیٰ کے یہاں سبقت لے جائیں گے، نہیں خدا کی قسم !وہ ہم سے کبھی سبقت نہیں لے جاسکتے۔“
ہندوستان میں تصوف وجہاد کا ایسا عجیب امتزاج واجتماع ملتا ہے جس کی نظیر دور دور ملنی مشکل ہے ، اس سلسلہ میں حضرت سید احمد شہید کا تذکرہ تحصیل حاصل ہے کہ ان کی یہ جامعیت مسلمات میں سے ہے او رحد تواتر کو پہنچ چکی ہے، ان کے رفقائے جہاد او ران کے تربیت یافتہ اشخاص کے جوش جہاد ، شوق شہادت، محبت دینی، بغض فی الله کے واقعات قرون اولی کی یاد تازہ کرتے ہیں ، جب کبھی ان کے مفصل واقعات سامنے آئیں گے تو اندازہ ہو گا کہ یہ قرن اول کا ایک بچا ہوا ایمانی جھونکا تھا، جو تیرھویں صدی میں چلا تھا اور جس نے دکھا دیا تھا کہ ایمان، توحید اور صحیح تعلق بالله اور راہ نبوت کی تربیت وسلوک میں کتنی قوت او رکیسی تاثیر ہے اور بغیر صحیح روحانیت او راصلاح کے پختہ جوش وجذبہ او رایثار وقربانی اور جاں سپاری کی امید غلط ہے۔
سید صاحب کے جانشینوں میں مولانا سید نصیر الدین او رمولانا ولایت علی عظیم آباد ی، سید صاحب کے پرتوتھے، ان کے جانشینوں میں مولانا یحییٰ علی اور مولانا احمد الله صادق پوری بھی دونوں حیثیتوں کے جامع تھے، ایک طرف ان کے جہاد وابتلا او رامتحان کے واقعات امام احمد بن حنبل کی یاد تازہ کرتے ہیں اور وہ کبھی گھوڑے کی پیٹھ پر، کبھی انبالہ کے پھانسی گھر میں، کبھی جزیرہ انڈمان میں محبوس نظر آتے ہیں، دوسرے وقت وہ سلسلہٴ مجددیہ وسلسلہ محمدیہ ( سید صاحب کے خصوصی سلسلہ) میں لوگوں کی تربیت وتعلیم میں مشغول دکھائی دیتے ہیں۔در کفے جام شریعت در کفے سندان عشقہر ہوسناکے نداند جام وسندان باختنہندوستان کی پوری اسلامی تاریخ کی مجاہدانہ جدوجہد اور قربانیاں اگر ایک پلڑے میں رکھی جائیں او راہل صادق پور کی جدوجہد اور قربانیاں دوسرے پلڑے پر تو شاید یہی پلڑا بھاری رہے۔
ان حضرات کے بعد بھی ہم کو اہل سلسلہ اور اصحاب ارشاد ، دینی جدوجہد اور جہاد فی سبیل الله کے کام سے فارغ اور گوشہ گیر نہیں نظر آتے، شاملی کے میدان میں حضرت حاجی امداد الله ، حضرت حافظ ضامن ، مولانا محمد قاسم اورمولانا رشید احمد گنگورحمة الله علیہم، انگریزوں کے خلاف صف آرا نظر آتے ہیں ، حضرت حافظ ضامن وہیں شہید ہوتے ہیں ، حاجی صاحب کو ہندوستان سے ہجرت کرنی پڑتی ہے ، مولانا نانوتوی اور مولانا گنگوہی کو عرصہ تک گوشہ نشین اور مستور رہنا پڑتا ہے۔
پھر مولانا محمود حسن دیوبندی رحمہ الله (جن کو ہندوستان کے مسلمانوں نے بجا طور پر شیخ الہند کے لقب سے یاد کیا) انگریزوں کے خلاف جہاد کی تیاری کرتے ہیں اور ہندوستان کو ان کے وجود سے پاک کرکے ایک ایسی حکومت قائم کرنا چاہتے ہیں ، جس میں مسلمانوں کا اقتدار اعلیٰ اور ان کے ہاتھ میں ملک کا زمام کارہو ، ان کی بلند ہمتی ان کو ترکی سے تعلقات قائم کرنے اور ہندوستان وافغانستان وترکی کو ایک سلسلہٴ جہاد میں منسلک کرنے پر آمادہ کرتی ہے ، ریشمی خطوط او رانورپاشا کی ملاقات، مالٹا کی اسارت ان کی عالی ہمتی او رقوت عمل کا ثبوت ہے۔ 
﴿من المومنین رجال صدقوا ما عاھدوا الله علیہ فمنھم من قضی نحبہ ومنھم من ینتظر وما بدلوا تبدیلا﴾․
ان مسلسل تاریخی شہادتوں کی موجودگی میں یہ کہنا کہاں تک صحیح ہو گا کہ تعطل وبے عملی حالات کے مقابلہ میں سپر اندازی اور پسپائی تصوف کے لوازم میں سے ہے، اگر اس دعوے کے ثبوت میں چند متصوفین او راصحاب طریقت کی مثالیں ہیں تو اس کے خلاف بڑی تعداد میں ان ائمہ فن اورشیوخ طریقت کی مثالیں ہیں، جو اپنے مقام اور رسوخ فی الطریقہ میں بھی اول الذکر اصحاب سے بڑھے ہوئے ہیں۔
اگر تصوف اپنی صحیح روح اور سلوک راہ نبوت کے مطابق ہو اور یقین ومحبت پیدا ہونے کا باعث ہو ( جو اس کے اہم ترین مقاصد ونتائج ہیں ) تو اس سے قوت عمل، جذبہ جہاد ، عالی ہمتی ، جفاکشی اور شوق شہادت پیدا ہونا لازمی ہے، جب محبت الہی کا چشمہ دل سے ابلے گا ، تو روئیں روئیں سے یہ صدا بلند ہو گی۔اے آنکہ زنی دم از محبتاز ہستی خویشتن پرہیزبر خیز وبہ تیغ تیز بنشینیا از رہ راہ دوست برخیز


ایک تبصرہ شائع کریں