سوموار، 22 اکتوبر، 2012

یہ بستی میری بستی ہے


یہ بستی میری بستی ہے !

یہ بستی کیسی بستی ہے 
یہ بستی میری بستی ہے 
اس بستی میں ہے ظلم بہت 
اس بستی میں انصاف نہیں 
اس بستی میں ہے میرا گھر 
اس گھر کے لوگ نرالے ہیں 
یہ من موجی متوالے ہیں
بیباک بہت یہ جیالے ہیں  
یہ خان وڈیرے فوجی ہیں 
یہ چودری ہیں من موجی ہیں
ہے اس گھر میں اک بیچارہ 
معصوم ہے یہ مظلوم ہے یہ 
یہ سب سے دھوکے کھاتا ہے
یہ بھوکا ہی سو جاتا ہے 
اس گھر میں کوئی جادو ہے 
آسیب بڑا بے قابو ہے 
اس گھر کے سونے آنگن میں 
بس ویرانی ویرانی ہے 
اس گھر میں روشن دان نہیں 
اس گھر میں بس اک کھڑکی ہے 
اس کھڑکی میں جو منظر ہے 
وہ جھوٹے خؤب دکھاتا ہے 
وہ سب کا دل بہلاتا ہے 
اس بستی میں رہنے والے 
اس گھر سے ہیں بیزار بہت 
یہ سارے ہیں بیمار بہت 
یہ بستی والے چاہتے ہیں 
اس گھر کی دیواریں ڈھے جائیں 
کچھ ان کے ارادے ٹھیک نہیں 
اس بستی کے سب لوگوں میں 
کچھ ایسے لوگ بھی رہتے ہیں 
جو سینہ تان کے کہتے ہیں
ہاں ہمکو ایسا پاگل پن
منظور نہیں مطلوب نہیں 
غمخوار ہیں وہ 
ہمدرد ہیں وہ 
اے مرے گھر کے رکھوالوں 
ان لوگوں کو پہچان لو تم 
یہ لوگ تمھارے لوگ ہی ہیں 
ہاں انکا کہنا مان لو تم 
یہ بستی کیسی بستی ہے 
یہ بستی میری بستی ہے .

شاعر
حسیب احمد حسیب 

ایک تبصرہ شائع کریں