اتوار، 29 نومبر، 2015

گندی عورت ........ !

گندی عورت ........ !

وہ گندی عورت نہیں تھی لیکن اس کا جرم صرف یہ تھا کہ وہ ایک عورت تھی اور عورت ہمیشہ مظلوم ہوتی ہے چاہے وہ مشرق کی روایت میں مقید ہو یا مغرب کی آزادی میں قید جی ہاں یہ قید ہی تو ہے کہ جو چار دیواری میں سکون سے رہنے کو جرم ہی بنا دے کیا ہوا کہ کوئی شہزادی بن کر گھر کی پرسکون فضاء میں آرام کے چند سانس لےسکے اور کیوں اسے مجبور کیا جاوے کہ وہ سڑکوں کی خاک چھانے .....

اسے یاد تھا
کچھ کچھ تھوڑا تھوڑا

گرجے کی دیواروں سے اٹھتا ہوا الوہی نغمہ اور وہ خود سفید لباس میں ملبوس جیسے آسمان سے کوئی حور زمین پر اتر آئی ہو اور اس کے لبوں پر جاری بائبل کی مقدس آیات بس یہی واحد یاد تھی اسکی اپنے رب سے تعلق کی ........

پھر وہی افرا تفری تیز سے تیز تر ہوتی ہوئی زندگی کہ جس کا ساتھ دیتے دیتے سانسیں مدھم پڑنا شروع ہو جائیں اور موت کی آہٹ قریب محسوس ہونے لگے ........

باپ کی موت اور ماں کا کم عمری میں ہی اسے اپنے کسی یار کیلیے چھوڑ جانا کیا کرتی کہاں جاتی اور پھر اس کی ابھرتی ہوئی جوانی کلی کو پھول بننے میں آخر کتنی دیر لگتی ہے ........

ہاں اس کا اثاثہ اور کیا تھا اس کا خوبصورت سانچے میں ڈھلا ہوا بدن حالات کے بے رحم ہاتھوں نے اسے ایک " گندی عورت " بنا دیا تھا ایک سٹرپر جس کا کام شراب خانے میں آنے والوں کو اپنی بے لباسی سے محظوظ کرنا ہی تو تھا ہاں کبھی کبھی وہ نیند میں سے جاگ اٹھتی وہ خواب جس میں وہ سفید لبادہ پہنے چرچ کی روحانی فضاء میں بائبل کی مقدس آیات پڑھ رہی ہوتی لیکن یہ خوبصورت یاد اب اسکیلئے ایک بھیانک خواب ہی تو تھی کہ جس سے وہ پیچھا چھڑانا چاہتی تھی ........

اے میرے مالک کب تک آخر کب تک اس غلاظت میں پڑے رہنا میرا مقدر ہے .........

پھر ایک دن کچھ عجیب ہوا گو کہ سورج اسی طرح نکلا اور غروب ہوا تھا چاند کی رنگت ویسی ہی تھی رات کی سیاہی ویسی ہی تو تھی لیکن وہ کون لوگ تھے بڑی بڑی داڑھیوں والے ڈھیلے ڈھالے سفید چمکتے ہوے پاکیزہ لبادوں میں ملبوس جیسے حضرت مسیح کے مقدس حواری بائبل کے صفحات سے نکل کر حقیقت کی دنیا میں سامنے آن کھڑے ہوں ہر کوئی مبہوت تھا بے لباس سٹرپرز قریب پڑی میزوں سے چادریں کھینچ کر اپنے ننگے بدن چھپا رہی تھیں یہ کون لوگ تھے کہ جن کے آتے ہی حیاء بھی کہیں سے باہر نکل آئی تھی جو شاید کتنی ہی صدیوں سے انکے اندر کہیں دفن تھی یہ کون لوگ تھے کہ جنکی آمد سے مردے زندہ ہو رہے تھا ........

اور پھر ان میں سے ایک شخصیت آگے بڑھی اور اس نے الله کی شان بیان کرنا شروع کی الفاظ کا دریا ایسا کہ بہتا ہوا سیدھا دل کے سمندر میں گرتا چلا جا رہا تھا اور بہاؤ ایسا کہ کوئی رکاوٹ رکاوٹ نہ رہے یہ کیسا عجیب معاملہ تھا کہ پہلی بار دل کی سیاہی دھلتی ہوئی محسوس ہو رہی تھی قلب کے مندر میں لگے بت گرتے چلے جا رہے تھے اور لگتا تھا کہ جیسے کوئی مقدس زمین ہو جو کہیں کسی بنجر خطے کے اندر دبی پڑی ہو ہر طرف نور ہی نور تھا اور کانوں میں صرف ایک آواز

الله اکبر الله اکبر ..........

لگتا تھا کہ بہت ہی پرانی بات ہوئی

اور ......

اب تو یہ سیاہ لبادہ اسے اپنے جسم کا حصہ ہی محسوس ہوتا تھا اس کی ٹھنڈک ایسی کہ جیسے روح تک اتر جاوے اس سیاہ لبادے میں ملبوس وہ خود کو ایسا تصور کرتی کہ جیسے کعبے کی مقدس دیواروں سے سیاہ غلاف لپٹا ہوا ہو وہ عریاں جسم کہ جو کبھی لباس کا عادی ہی نہ تھا آج کسی انجانے کی نگاہ کے سامنے آنے کا تصور بھی نہ کر سکتا تھا یہ کیسی تبدیلی تھی کہ ایک الله والے کی نگاہ پڑی اور کایا کلپ ہوئی آج بس میں سفر کرتے ہوے اس کے ہاتھ سے اچانک چادر ہٹ گئی ایسا محسوس ہوا کہ گویا آسمان سر پر گر پڑا ہو اور دنیا اندھیر ہو گئی ہو گھر آکر روتی رہی روتی رہی شوہر پریشان تھا کہ آخر ہوا کیا ہے اور اس کے منہ سے نکلتا مولانا مولانا .......

اور جب وہ مولانا سے پوچھ رہی تھی .........

کیا میرا الله مجھے اس بات پر عذاب تو نہ دے گا کہ میرا ہاتھ ننگا ہو گیا .........

ادھر مولانا روتے جاتے تھے 
ادھر یہ روتی جاتی تھی ..........

نہیں میری بیٹی تجھے کیا عذاب ہوگا

ارے تیری توبہ تو وہ توبہ ہے کہ اگر سب میں بانٹ دی جاوے تو کفایت کرے .......

ایک غامدیہ خاتون رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں‌ حاضر ہوتی ہیں اور عرض کرتی ہیں

اے الله کے رسول صل الله علیہ ......... !

مجھ سے گناہ ہو گیا 
مجھ سے گناہ ہو گیا

مجھ پر حد لگائی جائے ......

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

سوچ لے کیا کہتی ہے 
سوچ لے کیا کہتی ہے

ابھی نہیں‌، تمھیں‌رجم کر دیا گیا ہے تو بچے کو دودھ کون پلائے گا؟

وہ پھر دوبارہ حاضرِ خدمت ہوئی اور عرض کیا، یا رسول اللہ صل الله علیہ وسلم ! ابن آس نے دودھ پینا چھوڑ دیاہے اور کھانا کھانے لگا ہے،

بچے کے ہاتھ میں‌روٹی کا ٹکڑا تھا .......

دلیل ساتھ لائی تھی

آپ صل الله علیہ وسلم حکم دیتے ہیں

الله کی حدود نافذ کرو 
حد نافذ ہوتی ہے

رجم کرتے ہوئے اس کا خون حضرت خالد رضی اللہ عنہ کے چہرہ پر پڑا تو انھوں‌نے اسے برا کہا

مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” «مَهْلًا يَا خَالِدُ، فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَقَدْ تَابَتْ تَوْبَةً لَوْ تَابَهَا صَاحِبُ مَكْسٍ لَغُفِرَ لَهُ» “ (مسلم: 1695 (23))
"باز رہو اے خالد! اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں‌میری جان ہے بے شک اس نے ایسی توبہ کی کہ محصول لینے والا ایسی توبہ کرے تو اسے بخش دیا جائے۔"

مولانا اسے واقعہ سناتے ہیں اور اسے تسلی ہوتی ہے .......

نجانے کتنے سال گزر گئے 
مولانا سے کوئی رابطہ نہ ہوا 
اب تو خولہ اور خنساء بھی بڑی ہو رہی ہیں 
مغرب کے اس گندے ماحول میں اپنی معصوم بچیوں کو دینی زندگی دینا بھی تو ایک جہاد ہے 
بے شک یہ بھی ایک جہاد ہے

ایک روز عبدللہ خولہ اور خنساء کا والد کہیں سے خبر لاتا ہے

ایمان .... ایمان

تم نے سنا مولانا پر مصیبت آن پڑی
لوگ انھیں گمراہ کہ رہے ہیں

یا میرے مالک کیا ہوا 
اس کا دل رک سا گیا 
آخر ہوا کیا بولتے کیوں نہیں .....

خبر آئی ہے کہ مولانا ایک مشہور سیاسی شخصیت سے اس کے گھر کی عورتوں کی موجودگی میں ملے ہیں اور ان کے چہرے کھلے تھے .......

کیا مولانا گمراہ ہو گئے ........

وہ روتی جا رہی ہے 
وہ سوچتی جا رہی ہے

مولانا تو ایک بے لباس گندی عورت سے بھی ملے تھے 
تو کیا مولانا اس وقت بھی گمراہ تھے

تو پھر ایک گمراہ شخص نے ایک گندی عورت کو پاکیزہ کیسے بنا دیا 
وہ سوال پوچھ رہی ہے .......

کیا کسی کے پاس ہے کوئی جواب .......... ؟

حسیب احمد حسیب

میں حسیب ہوں ...

میں حسیب ہوں ...

خودی اور خود بینی " autoscopy " کے درمیان کے باریک سی لکیر ہے جو شعور ذات اور حصار ذات کے درمیان تفریق کرتی ہے کبھی نجانے کس کیفیت میں کہا تھا 

میں خود سے دور نکلنے کے فن سے واقف ہوں 
میں اپنے آپ میں رہتا ہوں ضم نہیں ہوتا

خیام قادری مرحوم کہا کرتے تھے 

صوفی ہیں اور عشق ہے آل سعود سے 
حضرت نکل گئے ہیں حدود و قیود سے 

سو زندگی میں کبھی حدود و قیود کی پابندی نہ کی یا یوں کہیے پابندی ہو نہ سکی 
نسبی تعلق بنی اسرائیل کی بچھڑی ہوئی بھیڑوں سے ہے اجداد نے ہندوستان کی ریاست محمد آباد ٹونک کو اپنی آماجگاہ بنایا کہ جو تیر کابل سے نکلا تھا ہندوستان کی قلب میں پیوست ہوا ......
اختر شیرانی ، مشتاق احمد یوسفی ، عیش ٹونکی اور مفتی ولی حسن خان ٹونکی جیسی علمی و ادبی شخصیات کی ریاست سے تعلق قابل فخر تو ضرور ہے لیکن اگر خود کو دیکھوں تو شرمساری بھی ہوتی ہے کہ میں کہاں کھڑا ہوں ..........

اپنے بارے میں بات کرنا انتہائی آسان بھی ہے اور انتہائی مشکل بھی 
لیکن بات یہ بھی ہے کہ آخر اپنے بارے میں بات کی ہی کیوں جاوے ..؟!

گو کہ تعارف وہ کھڑکی ہے کہ جو بیرونی دنیا کو آپ کے اندر جھانکنے کا موقع فراہم کرتی ہے لیکن اندر کا منظر وہی دکھائی دیتا ہے کہ جو آپ انھیں دکھلانا چاہیں ہاں جب تعارف پہچان میں بدل جاوے تو حقیقت سامنے آتی ہے ......

طالب علم ہوں اور طالب علموں کے ساتھ رہنا پسند کرتا ہوں گو کچھ لوگوں کو یہ مغالطہ ضرور ہے کہ " ٹیچر " ہوں لیکن حقیقت میں پھٹیچر ہوں لکھنے کا شوق رکھتا ہوں اسلیے لکھتا ہوں اور اس بات کا طالب نہیں کہ میرے لکھے ہوے کو پڑھا بھی جاوے ہاں اگر کوئی پڑھ لے تو بلکل برا نہیں مانتا ......

لنگڑی لولی شاعری بھی کر لیتا ہوں وہ بھی استاد محترم اعجاز رحمانی صاحب کا ہی اعجاز ہے 

محترم دوست حسن علی امام صاحب فرماتے ہیں 

مولانا عموما گفتگو کم کرتے ہیں زیادہ تر بحث ہی کرتے ہیں اور یہ مباحثے اس وقت زور پکڑ جاتے ہیں جب مخالفین کو یہ احساس ہو جائے کے وہ غلطی پر ہیں - مولانا تقریبا چالیس ہزار کتابیں پڑھ چکے ہیں "

مولانا غصہ بہت کم کرتے ہیں غصے کی جگہ بھی وہ بحث ہی کر لیتے ہیں - 

اب اس مولانا کے الزام سے کون جان چھڑا ئے اور کیسے چھڑا ئے 

کبھی اس حوالے سے بھی کچھ لکھا تھا 

خدا کی قسم میں " مولوی " نہیں ہوں !

اچانک جب بحث کے دوران نازک صورت حال آجاتی ہے اور گفتگو کا رخ تلخی کی جانب بڑھنے کا احتمال ہوتا ہے تو مجھے اندازہ ہو جاتا ہے ......

یہ وہ وقت ہوتا ہے جب ہمارے محترم صحافی دوست جمالی بھائی طنزیہ انداز میں مسکراتے ہوے ہمیں حسیب میاں سے " مولانا " کر دیتے ہیں اور یقین جانئے ان کے اس " مولانا " میں بڑی کاٹ ہوتی ہے اس کی چبھن اندر تک محسوس ہوتی ہے ......

اور پھر ہمارے شیخ الفدوی کا تنبیہی لہجہ 
اچھا تو آپ بھی مولانا ہیں ہم تو پہلے ہی آپ کی علمیت کے قائل تھے 
مجھے شرم سے پانی پانی کر دینے کیلئے کافی ہوتا ہے

اگر " مولانا " ایک گالی ہے تو بسر و چشم قبول ہے 
لیکن اگر یہ ایک عالی رتبہ ہے اور بےشک ہے تو میں اس کے قابل نہیں .......
کبھی کبھی میں سوچ کر دیر تک ہنستا ہوں عجیب مخمصہ ہے

نہ ادھر کا رہا نہ ادھر کا رہا
نہیں جناب میں مولانا نہیں مجھ سے تو چند سلیس عربی جملے بھی نہ جوڑے جاویں
شیخ الجوجل کی مدد سے ٹوٹی پھوٹی عربی سمجھتا ہوں 
کیا ہوا جو ایم اے اسلامیات کیا ہوا ہے 
کیا تو پرائیویٹ ہی ہے 
اور کیا ہوا جو او لیول کے برگر بچوں کو پڑھاتا ہوں

" قال الله اور قال الرسول " کا بلند مرتبہ تو میری پہنچ سے کافی دور ہے
جب میرے ادبی دوست مجھے مولانا سمجھ کر اپنی توپوں کا رخ میری جانب کرتے ہیں تو سوچتا 
ہوں 
ارے میرے یاروں میں شاعر بھی تو ہوں گو غیر معروف ہی سہی 
کالم نگار بھی تو ہوں گو فیس بکی ہی سہی 
اور افسانے چند بھی لکھ چھوڑے ہیں 
گو کوئی پڑھتا نہیں
نہیں نہیں میں مولانا نہیں 
ہاں میری داڑھی ہے تو یہ تو سنت رسول علیہ سلام کی علامت ہے 
میرے سر پر ٹوپی بھی ہے مگر صرف رواجی ہے 
میرا یہ ملبوس بظاہر مجھے متقی دکھاتا ہے مگر دھوکے میں مت آجانا 
رند ہوں رند
مگر کیا کروں جب کوئی دینی طبقے پر پھبتیاں کسے تو برداشت نہیں ہوتا نجانے کون سی قوت قلم اٹھانے اور قلم سے سروں کو توڑنے پر مجبور کرتی ہے ....
مگر ڈرتا ہوں کہیں کوئی یہ نہ کہ دے 
ارے او ظالم تو کون سا عالم ہے جو اپنی علمیت جھاڑتا ہے گستاخ ........
پھر میرے ادبی دوست مجھے کانٹوں میں گھسیٹتے ہیں

جمالی بھائی کی طنزیہ مسکراہٹ اور جگر کو چیرتی آواز " مولانا "

اور شیخ الفدوی کے الفاظ " اچھا آپ بھی مولوی ہیں ..........

خدا کی قسم میں " مولانا " نہیں ہوں .

حسیب احمد حسیب

پیر، 3 اگست، 2015

عامر خان پیکے اور پاکستان
عامر خان پیکے اور پاکستان ....... !

پیکے ہو کیا بچے کی آواز میرے کان میں پڑی تو میں چونکا 

ارحم عمران ادھر آؤ
جی سر 

یہ تم کیا بول رہے تھے 

سر آپ نے وہ فلم نہیں دیکھی 

کون سی فلم 

سر آپ بھی نہ بالکل پیکے ہیں 

ارحم میں نے سختی سے تنبیہ کی ....

گھر آکر میں نے موویز سے متعلق سب سے بڑی ویب سائٹ (imdb) کو چیک کیا تو (8.5) ریٹنگ کی اس فلم کی کوئی کونٹینٹ ا ڈ وائس یا (parental guidance for movies) موجود نہیں تھی جب فلم دیکھی
تو معلوم ہو کہ یہ ریٹڈ آر مووی ہے جس میں انتہائی قابل اعتراض اور قبیح مواد موجود ہے ..

مغرب کے مادر پدر آزاد معاشرے میں بھی اتنی اخلاقیات موجود ہے کہ وہ اپنا سودا جھوٹ بول کر نہیں بیچتے فلموں کیلئے انہوں نے ریٹنگ کا ایک خاص نظام ترتیب دیا ہے جو یہ بتلاتا ہے کہ کون سی فلم کون سے صارفین کیلئے مناسب ہے اور کس فلم کا مواد جنسی مضامین یہ تشدد کے درجات کے اعتبار کتنا درست ہے

Rating symbol Meaning

G – General Audiences

All ages admitted. Nothing that would offend parents for viewing by children.

PG – Parental Guidance Suggested

Some material may not be suitable for children. Parents urged to give
"parental guidance". May contain some material parents might not like for
their young children.

PG­13 – Parents Strongly Cautioned

Some material may be inappropriate for children under 13. Parents are
urged to be cautious. Some material may be inappropriate for pre­
teenagers.

R – Restricted

Under 17 requires accompanying parent or adult guardian. Contains some
adult material. Parents are urged to learn more about the film before taking
their young children with them.

NC­17 – Adults Only

No One 17 and Under Admitted. Clearly adult. Children are not admitted.

ڈانسنگ کار یا جنسی عمل کے معا ونات کے حوالے کوئی ایسی کمتر چیز ہیں کہ انھیں نظر انداز کر دیا جاوے یا کھلے عام بوس و کنار اتنی چھوٹی شے ہے کہ بچوں کے ساتھ بیٹھ کر والدین بخوشی دیکھ سکیں اسے کم سے کم الفاظ میں بےغیرتی کہا جا سکتا ہے جبکہ اس پر پمرا کا کوئی قانون حرکت میں نہیں آتا کیونکہ اس سے ملک کے وقار کو ٹھیس نہیں پہنچتی ..

دوسری طرف سوشل میڈیا کے دیندار خوش ہو ہو کر بغلیں بجا رہے تھے کہ شاید کوئی بہت بڑا میدان فتح ہوگیا ہے اور توحید و شرک کا کوئی بہت بڑا معرکہ سر کر لیا گیا ہے چونکہ فلم کے مشھور و معروف ہیرو نے کچھ عرصے پہلے پاکستان کے ایک معروف مبلغ اور داعی مولانا طارق جمیل صاحب سے ملاقات کی تھی اسلئے اس فلم کو انکے کھاتے میں ڈالنے کی گمراہ کن کوشش بھی کی گئی ....

فلم کو اگر تحقیقی نگاہ سے دیکھ جاوے تو معلوم ہوگا کہ یہ فلم ہندو مذہب کے خلاف نہیں یا کسی بھی مذہب کی مذہبی رسومات کے خلاف نہیں بلکہ یہ فلم ایک مذہب مخالف فلم ہے چونکہ ہر مذہب کچھ عقائد عبادات رسومات اور معاملات کا مجموعہ ہوتا ہے اور اس فلم میں ہر زاوئیے سے دینی اقدار کا مذاق اڑایا گیا ہے ....
ہم یہ دیکھتے ہیں کہ فلم کی ابتدا میں فلم کے ہیرو برہنہ دکھائی دیتے ہیں چونکہ وہ ایک ایسی دنیا سے برآمد ہوے ہیں جو اس دنیا سے کہیں زیادہ جدید ترین ہے اور وہاں لباس جیسی فضولیات کی ضرورت نہیں انیسویں صدی کے اوائل میں جرمنی میں ایک تحریک شروع ہوئی جس کا نعرہ تھا لباس سے مکمل آزادی

(In the early 1900’s in Germany, a movement called Freikorperkultur (Free Body Culture) arose. This movement was the first real organization of social nudism. It was a time of the shedding of not only clothes, but also the hidebound values and thinking’s left from Victorian England. In the early 1900’s, several noted authors published papers which advocated the removal of clothing as well as an enlightened thinking about the human body. It implored citizens to quit thinking of the human body as sinful and shameful. A book entitled The Cult of the Nude written by noted German sociologist Heinrich Pudor, promoted naturist theories.)

ایک طرف فرائیڈ کے جنسی نظریات تو دوسری طرف ننگی تہذیب کی پڑتی ہوئی بنیادیں ..

چونکہ لباس کسی بھی تہذیب کی علامت ہوتا ہے اور کسی بھی خطے کے لوگوں کا لباس صدیوں میں بنتا ہے لباس سے چھٹکارا صرف لباس سے چھٹکارا نہیں بلکہ اس کا مقصود آپ کی تہذیب اور تاریخ سے برأت ہے .
دوسری طرف جدید دنیا سے آنے والے ایلین عامر خان صاحب زبان و بیان کی قیود سے بھی آزاد ہیں جیساکہ لباس تہذیب کی علامت ہے ایسے ہی زبانیں بھی صدیوں میں مختلف مدارج و مراحل طے کرکے معاشروں میں اپنا ایک خاص مقام حاصل کرتی ہیں زبانیں کسی بھی قوم کے اظہار کا واحد راستہ اور ذریعہ
ہوتی ہیں ....
دوسری طرف موصوف ہندو مسلم شادیوں میں کوئی قباحت محسوس نہیں کرتے جناب خود ایک ہندو بیوی بھگتا کر دوسری کی زلف کے اسیر ہیں اور یہی کلچر انڈو پاک میں متعارف کروانا چاہتے ہیں 
ہندی فلموں کا یہ پرانا حربہ ہے کہ ہندو مسلم شادیوں کو پروموٹ کیا جاتا رہا ہے جبکہ یہ اسلام کی بنیادی تعلیمات کے خلاف ہے ایک مسلمان مرد کو کتابیہ سے شادی کی اجازت تو ضرور ہے لیکن کسی بت پرست سے شادی اسلام میں جائز نہیں اور یہ کوئی اختلافی فقہی مسلہ نہیں بلکہ قرآن و سنت سے ثابت شدہ ایک اجماعی معاملہ ہے جی جناب سرفراز تو دھوکہ نہیں دیگا لیکن آپ جو دھوکہ مسلم قوم کو دےرہے ہیں وہ بھی کچھ کم خطرناک نہیں ہے .

اب آتے ہیں فلم کے مندرجات کی طرف ....

ایک سین میں ایک مسیحی پادری ایک ہندو کو دین کی دعوت دے رہا ہے اور وہ ہندو کہ رہا ہے " رانگ نمبر " اگر خدا یہ چاہتا کہ میں عیسائی ہو جاؤں تو مجھے ہندو پیدہ ہی کیوں کرتا .....

لیجئے دلیل کے ساتھ کسی بھی مذہب کی دعوت کا دروازہ ہی بند اب ہمارے وہ مسلمان " کتاب رخی " مفکرین جو اس فلم کی تعریف میں زمین آسمان کے قلابے ملاتے نہیں تھک رہے تھے کیا فرماتے ہیں کیا دین کی دعوت کا دروازہ بند کر دیا جاوے .......

دوسری طرف ایک سین میں موصوف مختلف مذاہب کی مذہبی رسومات سرنجام دیتے دکھائی دیتے ہیں چونکہ ایک سین میں وہ ایک مزار کی بےحرمتی کرنے چلے تھے اور دوسرے سین میں ماتم کرتے دکھائی دیتے ہیں سو ہمارے وہابی طبقے نے یہ خیال کیا کہ جناب یہ تو حق سچ توحید کی دعوت ہو گئی ....

لیکن غور کیجئے اندر کی تلبیس پر موصوف تمام ہی مذہبی رسومات کے خلاف ہیں اور ان میں عبادات کی کوئی تخصیص نہیں ......

دوسری طرف پی کے کا بنیادی کردار جس دنیا سے نمودار ہوتا ہے وہاں کوئی مذہب سرے سے موجود ہی نہیں ہے بلکہ اس جدید ترین دنیا میں کسی خدا کی کوئی گنجائش نہیں اسی وجہ سے پوری فلم میں پی کے صاحب ادھر ادھر یہاں وہاں بھٹکتے دکھائی دیتے ہیں یہاں واضح یہ تصور پیش کیا جا رہا ہے کہ اس بدلتی ہوئی جدید دنیا میں مذہبی کی کوئی گنجائش موجود نہیں تمام مذہبی عقائد و نظریات متروک ہو جانے والی چیز ہیں .......

خان صاحب کھل کر مذہب کی مخالفت نہیں کرتے لیکن فلم کے ہدایت کار راج کمار ہیرانی نے حقیقت کھول کر بیان فرما دی ہے .
ہیرانی صاحب فرماتے ہیں کہ فلم پی کے کی فکری بنیاد " سنت کبیر " کے افکار پر رکھی گئی ہے آج کتنے لوگ سنت کبیر سے واقف ہیں اگر نہیں واقف تو ہم بتلاتے ہیں

"Our film is inspired by the ideas of Sant Kabir and Mahatma Gandhi. It is a film, which brings to fore the thought that all humans who inhabit this planet are the same. There are no differences," he said in a statement.
آگے فرماتے ہیں " "I have the highest respect for the concept of 'Advait'- the oneness of all humans - that is central to Indian culture, thought, and religion.
Read more at: http://indiatoday.intoday.in/…/pk-aamir-khan-…/1/410616.html "

بھگت کبیر نے اسلام اور ہندوازم کا وہ ملغوبہ تیار کیا تھا جس میں مذہبی عبادات کی کوئی خاص شکل مطلوب و مقصود نہیں آپ کو ہندو یا مسلم کہلوانے کی بھی ضرورت نہیں خدا ان مذہبی حدود و قیود میں مقید نہیں بلکہ یہاں تو ہر شے خدا ہے " ہمہ اوست " کا یہ گمراہ کن نظریہ آج بھی مسلمانوں کے ایک طبقے میں موجود ہے

کبیر کا دور ١٤٤١ سے ١٥١٨ تک کا ہے جبکہ ا شہنشاہ اکبر کی پیدائش ١٥٤٢ میں ہوتی ہے یہ وہ دور تھا جب بر صغیر کو گمراہ کن صوفیت نے اپنی لپیٹ میں لے رکھا تھا اور اکبر کے نو رتنوں میں بیربل اور ابو الفضل جیسے گمراہ لوگ شامل تھے جنہوں نے اکبر کو اسی فلسفے کی طرف راغب کیا جو وحدت ادیان کا فلسفہ تھا

دینَ الٰہی : (فارسی : دین الهی) "Divine Faith", مغل بادشاہ، اکبر نے اپنے دور میں، ایک نئے مذہب کی شروعات کی، جس کا نام دین الٰہی رکھا۔ اس مذہب کا مقصد، تمام مذاہب والوں کو یکجا کرنا اور، ہم آہنگی پیدا کرنا تھا۔ اکبر کے مطابق، دین اسلام، ہندو مت، عیسائیت، سکھ مذہب، اور زرتشت مذاہب کے، عمدہ اور خالص اُصولوں کو اکھٹا کرکے ایک نیا دینی تصور قائم کرنا، جس سے رعایا میں نا اتفاقیاں دور ہوں اور، بھائی چارگی قائم ہو۔
اکبر دیگر مذاہب کے ساتھ خوش برتاؤ کرنے اور، دیگر مذاہب کی قدر کرنے کا مقصد رکھتا تھا۔ اس مذہب کے فروغ کیلیے اکبر نے فتح پور سکری شہر میں ایک عمارت کی تعمیر کی جس کا نام عبادت خانہ رکھا۔ اس عبادت خانے میں تمام مذہب کے لوگ جمع ہوتے اور، مذہبی فلسفہ پر بحث و مباحثہ کرتے۔
ان بحث و مباحثہ کے نتائج میں اکبر نے یہ فیصلہ کیا کہ، حق، کسی ایک مذہب کا ورثہ نہیں ہے، بلکہ ہر مذہب میں حق اور سچائی پائی جاتی ہی۔

دین الٰہی، اپنی مخلوط تصورات کو، اور دین کے تحت اپنے فکر و فلسفہ کو عملی صورت میں، دین الٰہی پیش کیا۔ اس نئی فکر کے مطابق، اللہ کا وجود نہیں ہے اور نبیوں کا وجود بھی نہیں ہے۔ تصوف، فلسفہ اور فطرت کی عبادت ہی عین مقصد ہے۔ اس نئے مذہب کو اپنانے والوں میں سے دم آخر تک بیربل رہا۔ اکبر کے نو رتنوں میں سے ایک راجا مان سنگ جو سپاہ سالار بھی تھا، دین الٰہی کی دعوت ملنے پر کہا کہ؛ میں مذاہب کی حیثیت سے ہندو مت اور اسلام ہی کی نشاندہی کرتا ہوں، کسی اور مذہب کو نہیں۔ مباد شاہ کی تصنیف شدہ کتاب دبستان مذاہب کے مطابق، اس دین الٰہی مذہب کے پیرو کار صرف 19 رہے۔ اور رفتہ رفتہ ان کی تعداد بھی کم ہوگئی۔

دین الٰہی ایک فطری رواجوں پر مبنی مذہب تھا، اس میں، شہوت، غرور و مکر ممنوع تھا، محبت شفقت اور رحیمیت کو زیادہ ترجیح دی گئی۔ یوں کہا جائے کہ یہ ایک روحانی فلسفہ تھا۔ اس میں روح کو زیادہ اہمیت دی گیی۔ جانوروں کو غذا کے طور پر کھانا منع تھا۔ . نہ اسکی کوئی مقدس کتاب تھی، اور نہ ہی کوئی مذہبی رہنما اور نہ اس کے کوئی وارث۔

یہی وحدت ادیان فلم پیکے کا مرکزی خیال بھی ہے

’’ جب منزل ایک ہو تو راستوں کے جدا ہونے سے کوئی فرق نہیں پڑتا‘‘

پیکے کہتا ہے !

کون ہندو کون مسلمان 
ٹھپا کدھر ہے دکھاؤ 
ای پھرک بھگوان نہیں تم لوگ بنایا ہے 
اور اے ہی اس گولہ کا سب سے ڈینجر رانگ نمبر ہے

یہ وہ چند جملے ہیں جو پیکے کی زبان سے پوری فلم کا مقصود بیان کر دیتے ہیں

غور کیجئے ورنہ آپ کے ساتھ ہاتھ ہوجاوے گا اور آپ کو معلوم بھی نہ ہو سکے گا .

حسیب احمد حسیب