اتوار، 15 جون، 2014

بریدہ دست تھے پرچم بلند کیا کرتے

٧، ٢ ، ٢٠١٤
غزل 

بریدہ دست تھے پرچم بلند کیا کرتے 
شکستہ روح تیرے ارجمند کیا کرتے 

وہیں مقیم تھےواعظ بھی شیخ بھی کل شب
تو میکدے کو سر شام بند کیا کرتے

لہو میں جن کے ہے لتھڑی ہوئی زبان انکی
وہ گرگ پرورش گوسفند کیا کرتے

وہ پیر تسمہ پا چمٹے ہوے تھے گردن سے
زمیں کے بوجھ تھے جو ، وہ ز قند کیا کرتے

جو مال و زر کے پجاری تھےمرتبوں کےغلام
کسی غریب کی بیٹی پسند کیا کرتے

بروج عشق فلک پر بلند تھے اتنے
کہ ہم زمین سے ان پر کمند کیا کرتے

بس انکی دید سے آنکھوں میں روشنی بھرتے
کہ مہتاب کو مٹھی میں بند کیا کرتے

شکست وریخت کےمارے ہوےتھےوہ خودبھی
تو ہم پے وار پھر انکے گزند کیا کرتے

تیری گلی سے گذرتے تجھے نہیں ملتے
اذیت غم ہجراں دو چند کیا کرتے

عجیب شعر کہے ہیں غزل میں تم نے حسیب
خیال خام کو اس سے بلند کیا کرتے

حسیب احمد حسیب

پیر، 9 جون، 2014

شوہر والیاں

شوہر والیاں !

یہ شوہر والیاں ہیں اپنے شوہروں سے محبت کرنے والیاں ان سے وفادار انکے دکھ درد کی ساتھی ہاں یہ کمزور ضرور ہیں کبھی کبھی شکوہ کناں بھی ہوتی ہیں کبھی زندگی کی مشقتوں کو جھیلتے ہوے جھنجلا بھی جاتی ہیں لیکن یہ اپنے شوہروں کو محبوب رکھنے والیاں ہیں انکے گھروں انکی عزتوں کی حفاظت کرنے والیاں یہ نعمت خدا وندی ہیں یہ رحمت الہی کی نشانیاں ہیں ......

ان میں جزبہ حریت بھی ہے اور چاہے جانے کی خواہش بھی اگر یہ چاہتی ہیں کہ انکے شوہر صرف انکے ہوں اور انکی اس محبت کی توحید میں کسی دوسری عورت کی شراکت نہ ہو تو کیا برائی ہے کون سا ظلم ہے جس کا رونا مرد روتا رہتا ہے .....

کیا یہ تم سے وفادار نہیں
کیا یہ اپنی حیاء کی حفاظت کرنے والیاں نہیں
کیا یہ تمھارے گھروں کی محافظ نہیں
کیا یہ تمہاری اولادوں کی جنت انکی تربیت گاہیں نہیں ........؟

کیا جواب ہے تمھارے پاس
یہ تو وہ ہیں کہ جب مشکل پڑے تو اپنے زیور بیچ کر تمہارا گھر چلاتی ہیں
یہ تو وہ ہیں جو کبھی دوسرے شہروں کو اور کبھی دوسرے ملکوں سے اپنے بابل کا گھر چھوڑ تمہاری چاہت میں سرشار چلی آتی ہیں

" میں تو بھول چلی بابل کا دیس
پیا کا گھر پیارا لگے "

تو اے ابن آدم تو کیوں بنت حوا سے شاکی رہتا ہے
بس اسلئے کہ وہ تجھے کسی دوسری عورت کے پاس جانے سے روکتی ہے صرف اسلئے کہ وہ اپنی محبت میں شراکت سے شاکی ہے .......

تو کیا یہ عین فطرت نہیں

اے ابن آدم

اگر تو اپنی محبت میں شراکت برداشت نہیں کر سکتا
اگر تو اسکی وفاداری میں کمی جھیل نہیں سکتا
اگر تو اسکی مکمل توجہ کا طالب ہے

تو کیا یہ مطالبہ اسکا حق نہیں
تو کیا اسکی یہ خواہش کوئی گناہ عظیم ہے

تسلیم کیا ان میں سے کچھ خود غرض ہیں
خود پسند ہیں 

صرف اور صرف اپنے مفادات کی محافظ ہیں
لیکن کیا
تم میں سے بھی بہت سے ایسے ہی نہیں ............؟

اے ابن آدم کبھی سوچا بھی ہے

یہ جو صبح سے شام تک تمہاری محبت میں سرشار
تمہارے گھر کی حفاظت میں مشغول
اپنی حیاء اپنی وفا کو سنبھالے ہوے
صرف اور صرف تمھارے نام پر اپنا گھر بار کو چھوڑ کر تمھارے گھر کو روشن کیے بیٹھی ہے
اگر اپنی محبت کی توحید میں کسی شراکت کو برداشت نہیں کرتی تو کیا تم اسکے اس جرم کو معاف کرنے کو تیار نہیں ....

یہ کوئی غیر نہیں تمہاری غمخوار ہے
تمہاری زندگی کی ساتھی ہے
تمہاری اولاد کی درسگاہ انکی جنت ہے

یہ شوہر والیاں تمہاری محبوب ہیں
سو

اے ابن آدم
بنت حوا کی محبتوں کی قدر کرو ......

وجود زن سے ہے تصویر کائنات میں رنگ
اسی کے ساز سے ہے زندگی کا سوز ِ دروں
شرف میں بڑھ کر ثریا سے مشت خا ک اس کی
کہ ہر شرف ہے اسی درج کادر مکنوں!
مکالمات فلاطوں نہ لکھ سکی لیکن!
اسی کے شعلے سے ٹوٹا شرار افلاطوں

حسیب احمد حسیب

ایک فیس بکی مجدد کے فکری مغالطے ،

ایک فیس بکی مجدد کے فکری مغالطے ،

میری عقل !

ایک بہت بنیادی رکاوٹ انسان اور ہدایت کے درمیان جب دیوار بنتی ہے کہ وہ معیار اپنی عقل یا ہواۓ نفس کو تسلیم کر لے پھر معاملہ اس سے آگے بڑھتا ہے اور انسان اپنی راۓ کو دوسروں کیلئے حجت سمجھنا شروع کر دیتا ہے اور اگر بدقسمتی سے اسے کچھ پیچھے چلنے والے بھی میسر آ جائیں تو سمجھ لیجئے اسلام کے فرق و ملل میں ایک چھوٹی سی فرقی کی پیدائش ہونے جا رہی ہے .........

مسلمانوں کے دور غلامی اور خاص کر بر صغیر کے مسلمانوں کے دور غلامی نے مغربیت سے مغلوب طبقہ پیدہ کیا جنکے سرخیل سر سید تھے سر سید نے اپنی سیرت میں سے ہر وہ چیز نکال دی جو انکے نزدیک کسی بھی مغربی مفکر کی عقل میں نہیں آ سکتی تھی ......

دوسری طرف اسی زمانے میں اقبال مغرب کے سامنے پورے قد کے ساتھ کھڑے دکھائی دیتے ہیں بنیادی فرق مغربی علوم و افکار سے واقفیت کا ہے اقبال نے مغربی علوم میں دسترس حاصل کی اور انکا رد کیا جبکہ سر سید نے مغربی فکر سے متاثر ہوکر اسلام کی شکل ہی تبدیل کرنے کی کوشش کی گو انکا یہ فعل اپنے تیں خلوص پر ہی مبنی کیوں نہ ہو ......

" میں " کی خرابی ایک بڑی خرابی ہے یہ خرابی ایک اچھے بھلے انسان کو بکری کر دیتی ہے اور وہ جگہ جگہ ٹکریں مارتا پھرتا ہے .........
میں میں سے نکل کر سوچنے کی صلاحیت اگر مفقود ہو جاوے تو انسان ممیاتا رہتا ہے .........

جہاں تحریر کا ٧٠% صرف اپنی تعریف اپنے علم و مرتبے کے بیان اور (self projection) پر مشتمل ہو وہاں کسی بھی دلیل کے جواب میں سامنے سے صرف ایک ہی دلیل آتی ہے
میں میں ......

حدیث نبوی پر پہلا اور سب سے کاری وار اہل استشراق نے کیا اور آج کے مسلمان منکیرین حدیث صرف ان مستشرقین کی بازگشت ہی کہلاے جانے کے قابل ہیں یہ اصیل لوگ نہیں بلکہ صرف مستعار لیے گے افکار کی بنیاد پر زندہ لوگ ہیں ......

اگر ان سے ان کے استشراقی ہتھیار چھین لیے جاویں تو انکے پاس کچھ نہیں بچتا ......

جیسا کہ عرض کیا اپنی عقل کو مدار ماننے والوں کیلئے دلیل صرف انکی عقل ہی ہوتی ہے چاہے وہ کتنی ہی ناقص کیوں نہ ہو انکا کوا ہمیشہ سفید ہوتا ہے انکو رات کے وقت دن دکھائی دیتا ہے دن کی کھلی روشنی میں انکی آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھایا رہتا ہے .....

ایک مثال پیش کرتا ہوں ایک صاحب نے حدیث پر پھبتی کسی ....

امام بخارى رحمہ اللہ تعالى نے صحيح بخارى ميں ابو ہريرہ رضى اللہ تعالى عنہ سے روايت كيا ہے كہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

" موسى عليہ السلام بہت ہى شرميلے اور باپرد انسان تھے، شرميلا پن كى بنا پر ہى ان كى جلد كا كوئى حصہ بھى نہيں ديكھا جا سكتا تھا، چنانچہ بنى اسرائيل ميں سے كئى ايك نے انہيں اذيت پہنچائى اور يہ كہنے لگے:

يہ اپنا جسم صرف اس ليے چھپاتا ہے كہ اسے كوئى جلدى بيمارى ہے، يا تو برص كا شكار ہے، يا پھر خصيتين كى بيمارى ميں مبتلا ہے، يا كوئى اور آفت كا شكار ہے، اور اللہ تعالى نے ان كے اس قول سے موسى عليہ السلام كو برى كرنا چاہا، چنانچہ ايك روز موسى عليہ السلام اكيلے تھے تو انہوں نے اپنا لباس اتار كر ايك پتھر پر ركھا اور غسل كرنے لگے، اور جب غسل سے فارغ ہوئے اور اپنا لباس لينے كے ليے آگے بڑھے تو پتھر لباس لے كر بھاگ كھڑا ہوا چنانچہ موسى عليہ السلام نے اپنا لاٹھى پكڑى اور پتھر كے پيچھے بھاگتے ہوئے كہنے لگے: ارے پتھر ميرا لباس، اے پتھر ميرا لباس، حتى كہ بنى اسرائل كے رؤساء ميں سے كچھ كے پاس پہنچ گئے تو انہوں نے انہيں ننگے اور بے لباس ديكھا تو اللہ كى مخلوق ميں سے بہترين اور حسن والے تھے، اس طرح اللہ تعالى نے ان كے قول سے موسى عليہ السلام كو برى كر ديا، اور پتھر وہاں رك گيا اور موسى عليہ السلام نے اپنا لباس لے كر پہن ليا، اور پتھر كو اپنى لاٹھى سے مارنے لگے.

اللہ كى قسم پتھر پر تين يا چار يا پانچ ضرب كے نشان پڑ گئے، اور اللہ تعالى كا قول يہى ہے:

اے ايمان والو تم ان لوگوں كى طرح نہ ہو جاؤ جنہوں نے موسى عليہ السلام كو اذيت سے دوچار كيا، چنانچہ اللہ تعالى نے انہيں اس سے برى كر ديا جو وہ كہتے تھے، اور وہ اللہ تعالى كے ہاں وجاہت كے مالك ہيں."

صحيح بخارى حديث نمبر ( 3404 ).

سو وہ صاحب گویا ہوے
دیکھو دیکھو کیسا ظلم عظیم کر دیا ایک نبی کی شان میں اتنی عظیم گستاخی یہ تو جھوٹی حدیث ہے بلا بلا بلا

انکی بد قسمتی میں بھی اس محفل میں موجود تھا میں نے کچھ عرض کیا تو اسی طرح وہ ذاتیات پر اتر آۓ اور کہنے لگے کیا آپ اپنے لیے یہ معاملہ پسند کرتے ہیں جواب دیجئے اور یہ کہ کر فاتحانہ بغلیں بجانے لگے .....

میں نے پوچھا حضرت ترتیب وار اعتراض بیان کر دیجئے

کہنے لگے
١ ایک نبی کا برہنہ ہونا
٢ لوگوں کا دیکھ لینا
٣ اس غیر اخلاقی بات کا محفوظ کیا جانا اور اسکا بیان
٤ پتھر کا عمل جو خلاف عقل ہے

میں نے کہا حضرت کچھ غور کیجئے ایسا ہی ایک واقعہ قرآن کریم میں بھی بیان ہوا ہے اور یہی احتمالات وہاں بھی پیدہ ہوتے ہیں کم و بیش

فَوَسْوَسَ لَهُمَا الشَّيْطَانُ لِيُبْدِیَ لَهُمَا مَا وُوْرِیَ عَنْهُمَا مِنْ سَوْاٰتِهِمَا وَقَالَ مَا نَهَاكُمَا رَبُّكُمَا عَنْ ھٰذِهِ الشَّجَرَةِ إِلَّآ أَنْ تَكُوْنَا مَلَکَيْنِ أَوْ تَكُوْنَا مِنَ الْخَالِدِيْنَ(۲۰)وَقَاسَمَهُمَا إِنِّيْ لَكُمَا لَمِنَ النَّاصِحِيْنَ(۲۱)

پس وسوسہ ڈالا شیطان نے ان کیلئے(ان کے دل میں)تاکہ ان کے ستر کی چیزیں جو ان سے پوشیدہ تھیں انکے لئے ظاہر کردے اوربولا تمہارے رب نے تمہیں اس درخت سے منع نہیں کیا مگر اس لئے کہ(کہیں)تم فرشتے ہوجاؤ یا ہوجاؤ ہمیشہ رہنے والوں سے۔(۲۰)

فَدَلَّاهُمَا بِغُرُوْرٍ ۚ فَلَمَّا ذَاقَا الشَّجَرَةَ بَدَتْ لَهُمَا سَوْاٰتُهُمَا وَطَفِقَا یَخْصِفَانِ عَلَيْهِمَا مِنْ وَّرَقِ الْجَنَّةِ ۖ وَنَادَاهُمَا رَبُّهُمَآ أَلَمْ أَنْهَكُمَا عَنْ تِلْكُمَا الشَّجَرَةِ وَأَقُلْ لَّكُمَا إِنَّ الشَّيْطَانَ لَكُمَا عَدُوٌّ مُبِيْنٌ(۲۲)

پس ان کومائل کرلیا دھوکہ سے پس جب انہوں نے درخت چکھا توان کیلئے ان کی ستر کی چیزیں کھل گئیں اوروہ اپنے اوپر جوڑ جوڑ کررکھنے لگے(ستر چھپانے کیلئے)جنت کے پتے اور انکے رب نے انہیں پکارا کیا میں نے تمہیں اس درخت سے منع نہیں کیا تھا اورکہا تھا تمہیں کہ بیشک شیطان تمہارا کھلا دشمن ہے۔(۲۲)

قَالَا رَبَّنَا ظَلَمْنَآ أَنْفُسَنَا وَإِنْ لَّمْ تَغْفِرْ لَنَا وَتَرْحَمْنَا لَنَكُوْنَنَّ مِنَ الْخَاسِرِيْنَ(۲۳)
ان دونوں نے کہا اے ہمارے رب! ہم نے اپنے اوپر ظلم کیا،اوراگر تونے ہمیں نہ بخشا اور ہم پر رحم نہ کیاتو ہم ضرور خسارہ پانے والوں سے ہوجائیں گے ۔(۲۳)

اب موصوف کافی پریشان ہوے
میں نے پھر عرض کی جناب جہاں تک بات ہے پتھر کے عمل کی تو جب سمندر راستہ دیتا ہے اور اسکا بیان قرآن میں آتا ہے تو آپ کو قبول یا جب چیونٹی گفتگو کرتی ہے تو آپ کو قبول تو پتھر کی حرکت کو بھی ایسے ہی تسلیم کر لیجئے .......

یہاں پھر دو گروہ پیدہ ہوتے ہیں

ایک قرآنی معجزات کا ہی انکار کر دیتا ہے دوسرا انکی باطل تاویلات شروع ک دیتا ہے تاکہ انکار حدیث کا بھرم قائم رہے ......

موصوف نے فرمایا کیا آپ اس سنت پر عمل کرنے کو تیار ہیں .....
ہم کہتے ہیں جی ہاں حضرت کیا آپ اپنی بیٹی دینے کو تیار ہیں ....

اگر علمی گفتگو میں دلیل صرف پھبتیاں اور جگتیں ہی ہیں تو دیجئے جواب مگر آپ کو شاید معلوم نہیں کہ مسجد کے منبر اور ڈرامے کے سٹیج میں فرق ہوتا ہے .....

علمی بات یہ ہے کہ اگر عمر عائشہ صدیقہ رض کے معاملے میں صحیح صریح متواتر روایات کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیں تو ہوگا کیا .......

کیا ہم یہ مانیں کہ حضرت عائشہ رض کی رخصتی ہجرت سے پہلے ہو چکی تھی اور اسوقت آپ کی عمر اٹھارہ سال تھی ( کیونکہ اٹھارہ انکی عقل میں آتی ہے کل کو مغرب نے اسپر بھی اعتراض وارد کیا تو یہ اٹھائیس بھی کر دینگے )
اب سوال یہ پیدہ ہوتا ہے کہ کیا انکی شادی حضرت خدیجه رض کی زندگی میں ہی ہو گئی تھی یا اگر ہجرت کے بعد ہوئی اور اسوقت آپ کی عمر ١٨ تھی تو کیا آپ کی تاریخ وفات غلط ہے غرض ایک تاریخ تبدیل کیجئے اور آپ کو تمام تاریخی واقعات کے تسلسل کو ہی تبدیل کرنا پڑے گا جو ایک غیر منطقی بات ہے .......

جیسے آپ کو الله کے رسول صل الله علیہ وسلم کی گیارہ شادیاں قبول ہیں ویسے ہی اس بات کو بھی قبول کر لیجئے کوئی حرج نہیں ......
ورنہ آپ بھی گیارہ کر دکھائیں کہ سنت پر عمل ہو ........

دلیل کوئی بھی دے لیجئے یہ کوئی نیا اعتراض وارد کر دینگے اور جیت انہی کی ہوگی کیونکہ یہ پکے سچے دیوبندی حنفی سلفی غامدی عالم ہیں ہر جگہ سے اینٹیں چرا کر اپنی ڈیڑھ اینٹ کی مسجد بنا لینے والے .........

خامہ انگشت بہ دنداں کہ اسے کیا لکھیے
ناطقہ سر بہ گریباں کہ اسے کیا کہیے

حسیب احمد حسیب

اتوار، 1 جون، 2014

مرحوم بیگ صاحب

مرحوم بیگ صاحب !


بیگ صاحب مرحوم سے پرانا تعلق تھا بلکہ یوں کہیے وہ ہمارے گھر کا ایک جزو لازم تھے ہماری بیگم اگر دنیا میں کسی سے ڈرتی تھیں تو وہ بیگ صاحب ہی تھے بلکہ یوں کہیے جتنا ڈر ہمیں اپنی بیگم کا ہے اس سے زیادہ ہماری بیگم بیگ صاحب سےخوف کھاتی تھیں .....

بیگ صاحب بڑی پہنچ والے تھے گھر کا کچن ہو یا واشروم چھت ہو یا چمکتا ہوا فرش لکڑی کی الماری ہو یا شیشے کی میز بیگ صاحب ہر جگہ پہنچ جاتے تھے ایک دن تو مرحوم دادا جان کی شلوار سے بر آمد ہوے .....
اررر ے کسی غلط فہمی کا شکار مت ہوں بات ہو رہی ہے مرحوم لال بیگ صاحب کی جنھیں عرف عام میں کاکروچ کہا جاتا .......

حضرت کو شہید کرنے کی کئی تدبیریں کی گئیں طرح طرح کے منجن آزماۓ گۓ ہر روز کوئی نئی دوا ڈالی جا رہی ہے بعض دوائیں تو اتنی زہر آلود تھیں کہ گھر کے باقی لوگ قریب المرگ ہو گۓ لیکن مجال ہے جو بیگ صاحب کو کچھ ہوا ہو اور تو اور بے گم کی جھڑکیوں اور کوسنوں کا بھی موصوف پر کوئی اثر نہ ہوتا تھا .......

دادا جی نے اپنی لاٹھی کے جوہر دکھانے کی کوشش کی ہماری پشاوری چپل اسی چکر میں ٹوٹی بیگم نے جھاڑو آزمائی ماسی نے گرم گرم پانی پھینک کر قتل کی ناکام کوشش کی لیکن موصوف ناجانے کس مٹی کے بنے ہوے تھے گھر کی بلی ہو یا باہر کا چوہا مرحوم کبھی بھی کسی دشمن کو خاطر میں نہ لاۓ......

خبروں کے بڑے شوقین تھے اکثر اخبار پر ٹہلتے ہوے پاۓ گۓ کیا شان بیان کی جاۓ حضرت کی طویل مونچھوں کی ابھی بھی سوچ کر بدن میں سنسنی دوڑ جاتی ہے موصوف کو گرمی میں ٹھنڈی اور سردی میں گرم غذائیں کافی پسند تھیں سردیوں میں گرمی کا مزہ لینے اکثر چولہے کے نیچے سے نکلتے اور گرمیوں میں کئی مرتبہ فریج میں سے برآمد ہوے ......

موصوف کی بہادری کا یہ عالم تھا کہ اکثر اپنی ازلی دشمن بی چھپکلی کی نظروں کے سامنے دندناتے ہوے گزر جاتے اور چھپکلی کو جرات تک نہ ہوتی ایک بار بی چھپکلی نے کوشش بھی کی تو حضرت نے آر دلائی .......

ذات دی کوڑھ کِلی، تے شہتیراں نوں جھپے

بیچاری چپکی ہو رہی
ایک بار سپارے والے قاری صاحب کی ریش مبارک میں سے نمودار ہوے اسکے بعد قاری صاحب بھی ہوشیار ہو گۓ انکا خیال تھا بیگ صاحب کی شکل میں کوئی جن ہے جو انپر حملہ اور ہوا تھا اس پڑوس کی ضعیف العتقاد خواتین تو کئی بار برکت کیلئے دعا کروانے بھی آئیں ......

بیگ صاحب کی پہنچ دور تک تھی ایک بار قادری صاحب تقریر کے عین دوران کہیں سے نمودار ہوے اور پوری تقریر انکے شانے پر بیٹھ کر سنی گو قادری صاحب اسکرین کے پیچھے تھے ......
خان صاحب پر مرحوم فدا تھے اکثر انکو ٹی وی پر دیکھ کر جوش میں آ جاتے اسکے اثرات کچھ یوں پڑے کہ گھر میں آنے والے فلمی رسالے انکی دست برد سے محفوظ نہ رہ سکے ......
ایک دن وینا جی کے گمشدہ آنچل میں چھید دیکھ کر ہمیں بڑا غصہ آیا پہلے سوچا یہ بیگم کی کارستانی ہے پھر معلوم کرنے پر معلوم ہوا یہ تو موے لال بیگ کی گھٹیا حرکت ہے ......

موصوف کی وفات کی صحیح وجہ تو معلوم نہ ہوسکی لیکن گمان غالب یہی ہے کہ بسیار خوری کا شکار ہوکر حرکت قلب بند ہو جانے کی وجہ سے روح قفس عنصری سے پرواز کر گئی .......

لاش کچن میں رکھے چاکلیٹ کیک سے برآمد ہوئی......

گو بیگم کا خیال تھا بیگ صاحب کے جسد خاکی کو کوڑے کے ڈبے کی زینت بنا دیا جاوے لیکن ہمارا دل نہ مانا اور جناب کو انکی شان کے مطابق فلش میں بہا دیا گیا .......

حسیب احمد حسیب

تجھے دیکھنے کے بعد ....

تازہ ہزل !

تجھے دیکھنے کے بعد ....

بوڑھا بھی کانپتا ہے تجھے دیکھنے کے بعد
بچہ بھی رو رہا ہے تجھے دیکھنے کے بعد

قوت ہے تیرے حسن میں اتنی بڑھی ہوئی
چھت سے وہ گر پڑا ہے تجھے دیکھنے کے بعد

جوتوں سے تیری خوب مرمت کیا کروں 
گھر تھانہ بن گیا ہے تجھے دیکھنے کے بعد

کہتے ہیں لوگ تجھ کو جو بھتنا صحیح تو ہے
اک شخص مرگیا ہے تجھے دیکھنے کے بعد

وہ فیل تن جوان جو طاقت میں تھا کمال 
بیمار پڑ گیا ہے تجھے دیکھنے کے بعد

تن کر جو گھومتا تھا محلے میں بد قماش 
گھر میں چھپا ہوا ہے تجھے دیکھنے کے بعد 

واقف ہے تجھ سے جو تیرے طفلی کے عہد سے 
انجان بن رہا ہے تجھے دیکھنے کے بعد 

فرصت نہیں تھی جس کو کبھی کام کاج سے 
بے کار پھر رہا ہے تجھے دیکھنے کے بعد

بنتا تھا برد بار جو میں محفل کل حسیب 
ٹھٹھے لگا رہا ہے تجھے دیکھنے کے بعد 

حسیب احمد حسیب

جمعہ، 30 مئی، 2014

چندا ما ما دور کے !

چندا ما ما دور کے !

ہمارے بچپن کی پسندیدہ لوری تھی

چندا ماما دُور کے
پوئے پکائیں بُور کے
آپ کھائیں تھالی میں
مُنّے کو دیں پیالی میں
پیالی گئی ٹوٹ
مُنّا گیا رُوٹھ
لائیں گے نئی پیالیاں
بجا بجا کے تالیاں
مُنے کو منائیں گے
ہم دُودھ بالائی کھائیں گے
اُڑن کھٹولے بیٹھ کے مُنّا
چندا کے گھر جائے گا
تاروں کے سنگ آنکھ مچولی
کھیل کے دل بہلائے گا
کھیل کُود سے جب
میرے مُنّے کا دل بھر جائے گا
ٹھُمک ٹھُمک کر میرا مُنّا
واپس گھر کو آئے گا
چندا ماما دُور کے
پوئے پکائیں بُور کے
آپ کھائیں تھالی میں
مُنّے کو دیں پیالی میں

یہ لوری سن کر ہم ہمیشہ نیند کی وادیوں میں کھو جایا کرتے تھے پھر بچپن گیا لوریاں گئیں اور راتوں کی نیند بھی گئی کہتے ہیں لوری سنانے کی تاریخ ٤٠٠٠ سال پرانی ہے مگر وہ زمانے گۓ جب کانوں میں مامتا بھری میٹھی آوازیں رس گھولتی تھیں

چندا کی نگری سے آجا ری نندیا
تاروں کی نگری سے آ جا .....

اب نہ تو تاروں کی نگری ہے اور نہ ہی چندا کی وادی آجکل راتیں جاگتی ہیں اور دن سوتے .....

چندا ماما اور ہمارا بچپن کا ساتھ ہے یہ تو بڑے ہوکر سمجھ آیا کہ چاند تو ایسی بنجر زمین ہے جسمیں گڑھے ہیں جہاں سانس لینا ممکن نہیں اور جسکی روشنی اپنی نہیں مستعار ہے .....

مگر کیا کیجئے کہ دل تو بچہ ہے جو

" کھیلن کو مانگے چاند رے "

آجکل ماؤں کے چاند چاندنی کے پیچھے دیوانے ہیں اور ہر روز نۓ چاند چڑھاتے ہیں .....

پہلے کی دادیاں بتلاتی تھیں کہ چاند پے پریاں رہتی ہیں جو روز اتر کر آتی ہیں

ان پریوں کی خواہش میں کئی چاندوں کی کھوپڑیوں پر چاند نمودار ہو چکے ہیں

چاند کا اور چودھویں کا پرانا ساتھ ہے وہ کیا خوب کہا ہے شاعر نے

کل چودھویں کی رات تھی، شب بھر رہا چرچا تیرا
کچھ نے کہا یہ چاند ہے، کچھ نے کہا چہرا تیرا
ہم بھی وہیں موجود تھے، ہم سے بھی سب پُوچھا کیے
ہم ہنس دیئے، ہم چُپ رہے، منظور تھا پردہ تیرا

اور اس چودھویں کی رات کو دلاور نے کچھ اسطرح فگار کیا ہے

کل چودھویں کی رات تھی آباد تھاکمرہ ترا
ہوتی رہی دھک دھک دھنا، بجتا رہا طبلہ ترا

شوہر، شناسا، آشنا، ہمسایہ، عاشق، نامہ بر
حاضر تھا تیری بزم میں ہر چاہنے والا ترا

عاشق ہیں جتنے دیدہ ور، تو سب کا منظورِ نظر
نتھا ترا، فجّا ترا، ایرا ترا، غیرا ترا

اک شخص آیا بزم میں، جیسے سپاہی رزم میں
کچھ نے کہا یہ باپ ہے، کچھ نے کہا بیٹا ترا

میں بھی تھا حاضر بزم میں، جب تو نے دیکھا ہی نہیں
میں بھی اٹھا کر چل دیا بالکل نیا جوتا ترا

یہ مال اک ڈاکے میں کل دونوں نے مل کرلوٹا ہے
انصاف اب کہتا ہے یہ، آدھا مرا، آدھا ترا

دلاور فگار

ویسے سنا ہے چاند اور چکور کا بھی پرانا ساتھ ہے مگر ہم تو یہ سمجھ بیٹھے تھے کہ چاند گول ہے لیکن جناب کیا کیجئے معاملہ گول مول ہے ....

اکثر عقلمند لوگ پوچھتے ہیں چاند سے زمین کو دیکھنے کیلئے لوگ اوپر دیکھیںگے یا نیچے اور پھر جواب نہ ملنے پر خوشی سے بغلیں بجاتے ہیں .....
ہم کہتے ہیں چاند پر جاکر زمین کو کون گدھا دیکھنا چاہے گا
لوگوں کا یہ ماننا ہے کہ سمندروں کے مدو جزر میں چاند کی خفیہ سازش کارفرما ہوتی ہے
ہم کہتے ہیں اس چاند ماری کی ضرورت ہی کیا ہے مد ہو یا جزر آپ سے مطلب ....

ہم پکے مسلمان ہیں اور رمضان و عید کے مواقع پر پوری قوم چاند تلاش رہی ہوتی ہے کچھ آسمان کے اور کچھ زمین کے چاند.....
خیر ہو ہمارے رویت ہلال والوں کی جب چاہیں جہاں چاہیں چاند نکال دیں صاحبان کرامت جو ٹھہرے

لیکن ہماری قوم کے نو جوان سپوت بھی کم نہیں محلے کی چھتوں پر اپنے اپنے چاند تلاش کرنے میں ماہر ہوتے ہیں بلکہ بعضے تو سورج کے عین سوا نیزے پر ہونے کے وقت بھی چاند کی چاندنی سے لطف اندوز ہونے کے ہنر سے واقف ہیں

اے جذبۂ دل گر میں چاہوں ہر چیز مقابل آ جائے
منزل کے لیے دو گام چلوں اور سامنے منزل آ جائے

اکثر مائیں اپنے لاڈلوں کیلئے چاند سی دلہن ڈھونڈ رہی ہوتی ہیں چاہے لڑکا مریخ کی مخلوق ہی کیوں نہ ہو دوسری طرف سنتے ہیں کہ وہ لڑکے جن کی چندیا نمودار ہو جاوے انکی جیبیں چاندی سے بھری ہوتی ہیں ......
بعض محب وطن یہ گاتے ہوے دکھائی دئیے
چاند میری زمیں
پھول میرا وطن

جی ہاں اب ہمارے وطن کی زمین بجلی و پانی کے بغیر چاند کی زمین کا منظر ہی پیش کرنے ولی ہے باقی پھول کا تو معلوم نہیں بھول ضرور نظر آتا ہے اپنا وطن آجکل ....

کہتے ہیں چاند پر سبزہ نہیں اگتا لیکن جناب ہم نے تو صفا چٹ چندیا پر بالوں کا جنگل اگتے دیکھا ہے

یہ پل بھر میں کیا ماجرا ہو گیا

افسوس ہماری قوم کے چاند کو گرہن لگ چکا ہے

ایک انشاء نام کے دیوانے نے " چاند نگر " میں کیا خوب لکھا تھا

’’چاند کے تمنائی‘‘
شہروں کی گلیوں میں
شام سے بھٹکتے ہیں
چاند کے تمنائی
بے قرار سودائی
دل گداز تاریکی
جاں گراز تنہائی
روح و جاں کو ڈستی ہے
روح و جاں میں بستی ہے
شہر دل کی گلیوں میں
جابجا بھٹکتے ہیں
کس کی راہ تکتے ہیں
چاند کے تمنائی
سرد سرد راتوں کو
زرد چاند بخشے گا
بے حساب تنہائی
بے حجاب تنہائی
شہر دل کی گلیوں میں۔

حسیب احمد حسیب

کشف و الہام کی حقیقت !

نوٹ : کوشش کی گئی ہے کہ مستند علما سلف صالحین کی فکر کو بیان کیا جاۓ اہل علم کسی بھی غلطی پر تنبیہ فرمانے سے گریز نہ کریں ، شکریہ )

کشف و الہام کی حقیقت !

کشف و الہام سے متعلق ہر دو اطراف شدید غلو کا شکار ہیں ایک طرف تو اسے صریح شرک قرار دیا جاتا ہے تو دوسری طرف اسکو حجت شرعی قرار دینے کی کوشش ہوتی ہے ....
کوشش کرتا ہوں کہ افراط و تفریط سے ہٹ کر کچھ بیان کر سکوں

کشف کی دو بنیادی اقسام ہو سکتی ہیں

١ کشف علمی
٢ کشف الہامی

کشف سے مراد کسی عقدہ کا کھل جانا ہے سوچ کا کوئی نیا در وا ہونا کسی نئی بات کا سمجھ آنا یا کسی پرانی بات کی کوئی نئی تعبیر کا سوجھ جانا ..........

کشف علمی امور دینیہ میں بھی ہوتا ہے اور امور دنیوی میں بھی یہ مسلمان کو بھی ہو سکتا ہے اور غیر مسلم کو بھی ......
علمی مکاشفات کا مشاہدہ ہر شخص کر سکتا کسی بھی مسلے پر تنہائی میں یا کسی عالم کی صحبت میں موجودات کی اس تغیر پذیر دنیا میں بےشمار ایسی ایجادات ہیں جب موجد دریافت کچھ اور کرنا چاہتا تھا اور ہو کچھ اور گیا ایک سیب کے گرنے سے نیوٹن کی توجہ لاء آف گراویٹی کی طرف مبذول ہوجانا کشف علمی کی ہی ایک مثال ہے ......

کشف علمی دینی معاملات میں بھی ہوتا ہے حضرت عمر فاروق رض کے ساتھ یہ معاملہ کثرت سے پیش آتا تھا
حضرت عمر فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کو یہ سعادت کئی مرتبہ حاصل ہوئی کہ وحیِ خداوندی نے ان کی رائے کی تائید کی۔ حافظ جلال الدین سیوطی نے “تاریخ الخلفاء” میں ایسے بیس اکیس مواقع کی نشاندہی کی ہے، اور امام الہند شاہ ولی اللہ محدث دہلوی قدس سرہ نے “ازالة الخفاء عن خلافة الخلفاء” میں دس گیارہ واقعات کا ذکر کیا ہے، ان میں سے چند یہ ہیں:
۱:…حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی رائے یہ تھی کہ جنگِ بدر کے قیدیوں کو قتل کیا جائے، اس کی تائید میں سورة الانفال کی آیت:۶۷ نازل ہوئی۔
۲:…منافقوں کا سرغنہ، عبداللہ بن اُبیّ مرا تو آپ کی رائے تھی کہ اس منافق کا جنازہ نہ پڑھایا جائے، اس کی تائید میں سورة التوبہ کی آیت:۸۴ نازل ہوئی۔
۳:…آپ مقامِ ابراہیم کو نمازگاہ بنانے کے حق میں تھے، اس کی تائید میں سورہٴ بقرہ کی آیت:۱۲۵ نازل ہوئی۔
۴:…آپ ازواجِ مطہرات کو پردہ میں رہنے کا مشورہ دیتے تھے، اس پر سورہٴ احزاب کی آیت:۵۳ نازل ہوئی اور پردہ لازم کردیا گیا۔
۵:…ام الموٴمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا پر جب بدباطن منافقوں نے نارَوا تہمت لگائی اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے (دیگر صحابہ کے علاوہ) حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے بھی رائے طلب کی، آپ نے سنتے ہی بے ساختہ کہا: “توبہ! توبہ! یہ تو کھلا بہتان ہے!” اور بعد میں انہی الفاظ میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی برأت نازل ہوئی۔
۶:…ایک موقع پر آپ نے ازواجِ مطہرات کو فہمائش کرتے ہوئے ان سے کہا کہ اگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تمہیں طلاق دے دیں تو اللہ تعالیٰ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو تم سے بہتر بیویاں عطا کردے گا، اس کی تائید میں سورة التحریم کی آیت نمبر:۵ نازل ہوئی، وغیرہ وغیرہ۔

ایسے ہی کچھ واقعات الفرقان میں ابن تیمیہ رح نے بھی نقل فرماۓ ہیں .

اب گفتگو کرتے ہیں کشف الہامی سے متعلق...

الہام: بمعنى وہ بات جو اللہ تعالى يا ملاء أعلى كى جانب سے كسى كے دل ميں ڈال دى جائے(مف) اور بمعنى سمجھ اور بصيرت عطا فرمانا۔ توفيق دينا (منجد) وحى كى طرح الہام بھی شيطانى ہو سكتا ہے۔ خصوصا جب كہ اس كا كسى آيت شرعيہ سے استدلال نہ ہو سکتا ہو۔

جیسا کہ قرآن کریم میں اسکا استعمال ہوا ہے

فَأَلْهَمَهَا فُجُورَهَا وَتَقْوَاهَا (سورة الشمس،سورة نمبر:91، آيت 8) پھر انسان كو بدى (سے بچنے) كى اور پرہیزگاری (اختيار كرنے) كى سمجھ دی۔

یا ایک جگہ بیان کیا گیا

وَإِنَّ الشَّيَاطِينَ لَيُوحُونَ إِلَى أَوْلِيَائِهِمْ لِيُجَادِلُوكُمْ( سورة الانعام:سورة 6، آيت 12) "اور شیطان اپنے رفيقوں کے دل ميں بات ڈالتے ہیں كہ وہ تم سے جھگڑا کریں ۔"

کشف الہامی دو طرح سے ہو سکتا ہے

١ سچے خواب
٢ دل میں کسی بات کا القاء کیا جانا

سچے خواب مبشرات میں سے ہیں

علامہ ابن خلدون لکھتے ہیں کہ تمام انسانوں اور انبیاء کے خواب میں فرق کی وجہ اپنی اپنی روحانی استعداد ہے . تمام لوگوں کی روحانی استعداد میں سب سے بڑی رکاوٹ خود حواس ظاہرہ ہیں . انبیاء کے خوابوں کے متعلق لکھتے ہیں ''وہ اس استعداد کاکام ہے جس میں انسان بشریت چھوڑ کر ملوکیت جیسے بلند اور روحانی مقام میں جذب ہو جاتا ہے .
مقصد یہ ہے کہ انسان میں جسقدر روحانی استعداد زیادہ ہو گی . اسی قدر اس کے خواب زیادہ سچے ہوں گے اور طاہر ہے کہ انبیاء کی روحانی استعداد اور تمام دوسروں انسانوں سے زیادہ بلند ہوتی ہے .اس لئے ان کے خواب سو فیصد سچے اور الہامی ہو تے ہیں .
پیغمبروں پر یہ حالت اس وقت طاری ہو تی ہے جب وحی کے نازل ہو نے کا وقت آتا ہے .ایسے موقع پر انہیں نیند کی طرح ادراک ہو تا ہے . نیند اور وحی کی اس مشابہت ہی کے باعث آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے خواب کو نبوت کا چھیالسوں حصہ قرار دیا ہے .

علامہ ابن خلدون لکھتے ہیں .
پس یہ بات خدا نے انسان کی فطرت میں ڈال دی ہے کہ وہ نیند کی حالت میں حواس کا پردہ اپنی ذات سے علیحدہ کر دیتا ہے .اور اس پردہ کے اٹھ جانے کے بعد نفس عالم کا حق کے مشاہدات سے معرفت حاصل کرتا ہے . بعض اوقات اس پر معرفت کا ایسا لمحہ بھی آتا ہے جب اسے اپنی آرزوؤں کی تکمیل کا علم ہو جاتا ہے . یہی وجہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے مبشرات کہا ہے اور فر مایای ہے کہ ''نبوت باقی نہ رہیگی '' مگر مبشرات باقی رہ جائیں گے .

مختصر صحیح بخاری
خوابوں کی تعبیر کا بیان
باب : اچھے خواب خوشخبریاں ہیں۔
حدیث نمبر : 2180
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: “ نبوت میں سے فقط مبشرات (بشارتیں) باقی رہ گئی ہیں۔” صحابہ نے عرض کی کہ مبشرات (خوشخبریاں) کیا ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: “ اچھے خواب۔” (مبشرات یعنی خوشخبری اور بشارتیں ہیں)۔

کشف الہامی کی دوسری قسم دل میں کسی بات کا القاء کر دیا جانا ہے ....

یہ صلاحیت بھی مسلم اور غیر مسلم دونوں کو حاصل ہو سکتی ہے دونوں کی ایک ایک مثال ملاحظہ کیجئے

نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ابن صیاد کے ساتھ قصہ :
امام بخاری بیان کرتے ہیں کہ ہمیں عبدان نے عبداللہ سے حدیث بیان کی وہ یونس سے اور یونس زہری سے بیان کرتے ہیں اور زہری بیان کرتے ہیں کہ سالم بن عبداللہ نے مجھے بتایا کہ انہیں ابن عمر رضی اللہ عنہما نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک گروپ میں ابن صیاد کی طرف گۓ تو اسے بنو غلم کے قلعہ کے پاس بچوں میں کھیلتے ہوئےپایا اور ابن صیاد بلوغت کے قریب پہنچ چکا تھا تو اسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے آنے کا کچھ پتہ نہ چلا حتی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ہاتھ سے مارا پھر ابن صیاد کو کہنے لگے کیا تو گواہی دیتا ہے کہ میں اللہ کا رسول ہوں تو ابن صیاد نے ان کی طرف دیکھا اور کہا کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ امیوں کے رسول ہیں تو ابن صیاد نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو کہنے لگا کیا آپ گواہی دیتے ہیں کہ میں اللہ کا رسول ہوں تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے چھوڑ دیا اور رفض کر دیا اور کہنے لگے میں اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لایا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کہا کہ تو کیا دیکھتا ہے ابن صیاد کہنے لگا میرے پاس سچا اور جھوٹا آتا ہے
تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تجھ پر معاملہ الٹ پلٹ ہو گیا ہے پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کہا میں تیرے لۓ ایک چھپانے والی چیز چھپائی ہے تو ابن صیاد کہنے لگا وہ الداخ ہے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا ذلیل ہو جا تیری قدر بڑھ نہیں سکتی تو عمر رضی اللہ عنہ کہنے لگے مجھے اجازت دیں میں اس کی گردن اتار دوں تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر یہ رہنے والا ہے تو تو اس پر مسلط نہیں ہو سکتا اور اگر نہیں تو اس کے قتل میں آپ کی کوئی بھلائی نہیں اور سالم کہتے ہیں کہ میں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے سنا وہ کہہ رہے تھے اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کھجوروں کے باغ میں گۓ جہاں ابن صیاد موجود تھا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ بہت زیادہ کوشش تھی کہ ابن صیاد کے دیکھنے سے قبل ان کی چوری چھپے بات سنی جائے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے دیکھا کہ وہ اپنی چھو درا چادر میں لپٹا ہوا تھا اور اس کی نہ سمجھ آنے والی آواز تھی جس سے اس کے ہونٹ ہل رہے تھے تو ابن صیاد کی ماں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو جو کہ کھجور کے تنوں کے پیچھے پیچھے چھپ چھپ کر چل رہے تھے دیکھ کر ابن صیاد کو کہا اے صاف جو کہ ابن صیاد کا نام ہے یہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں تو ابن صیاد کود کر اٹھ بیٹھا نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرمانے لگے اگر وہ اسے چھوڑ دیتی تو اس کا معاملہ واضح ہو جاتا ۔
صحیح بخاری حدیث نمبر ١٢٥٥

دوسرا واقعہ حضرت عمر فاروق رض کا ہے ابن تیمیہ رح نے الفرقان میں اسکو نقل فرمایا ہے

سیدنا عمر فاروق رضی اﷲ عنہ نے ایک لشکر جہاد کے لیے کسی دور دراز علاقے میں بھیجا تھا اور اس لشکر کا امیر ساریہ نامی ایک شخص کو مقرر کیا تھا … اپنے علاقے میں خطبہ دیتے ہوئے امیر عمر کی زبان سے یہ جملہ نکلا'' یا ساریة الجبل الجبل'' یعنی اے ساریہ پہاڑ کی طرف کا خیال کرو ۔ اﷲ تعالیٰ نے عمر فاروق کی یہ آواز اس دور کے علاقے میں پہنچا دی اور لشکر نے اپنی حفاظت کا بندوبست کر لیا۔ یہ واقعہ سند کے اعتبار سے قابل قبول ہے دیکھئے سلسلة الصحیحہ حدیث 1110 فتاویٰ الجنہ الدائمہ رقم الفتویٰ 17021 مجموع فتاویٰ ابن عثیمین 311/4 وغیرہ

چونکہ اس روایت سے متعلق کافی گرد اڑائ گئی ہے اسلئے مختلف طرق سے اس سے متعلق محدثین کی آراء نقل کر دوں.

أنَّ عمرَ وجَّهَ جيشًا ورأَّسَ عليهم رجلًا يقال له : ( ساريةُ ) ، قال : فبينما عمرُ يخطبُ ، فجعل يُنادي : يا ساريةُ الجبلَ ، يا ساريةُ الجبلَ ( ثلاثًا ) ، ثم قدم رسولُ الجيشِ فسألَه عمرُ ؟ فقال : يا أميرَ المؤمنين ! هُزِمْنَا ، فبينما نحنُ كذلك إذ سمعنا مناديًا : يا ساريةُ الجبلَ ( ثلاثًا ) ، فأسنَدْنا ظُهورنا بالجبلِ ، فهزمَهُمُ اللهُ . قال : فقيل لعمرَ : إنك كنتَ تصيحُ بذلكَ
الراوي: عبدالله بن عمر المحدث: الألباني - المصدر: الآيات البينات - الصفحة أو الرقم: 93
خلاصة حكم المحدث: إسناده جيد حسن

فجعل يُنادي يا ساريةُ الجبلَ يا ساريةُ الجبلَ ثلاثًا ثم قدِم رسولُ الجيشِ فسأله عمرُ فقال : يا أميرَ المؤمنين هُزِمْنا فبينما نحن كذلك إذ سمعْنا مناديًا يا ساريةُ الجبلَ ثلاثًا فأسندْنا ظهورَنا بالجبلِ فهزمَهم اللهُ قال : فقيل لعمرَ : إنك كنت تصيحُ بذلك
الراوي: - المحدث: الألباني - المصدر: السلسلة الصحيحة - الصفحة أو الرقم: 3/101
خلاصة حكم المحدث: إسناده جيد حسن

عن ابنِ عمرَ قال وجَّهَ عمرُ جيشًا ورأَّسَ عليهم رجلًا يُدعى ساريةَ فبينا عمرُ يخطبُ جعل يُنادي يا ساريةُ الجبلَ ثلاثًا ثم قدم رسولُ الجيشِ فسألَه عمرُ فقال يا أميرَ المؤمنين هُزمنا فبينا نحن كذلك إذ سمعنا صوتًا يُنادي يا ساريةُ الجبلَ ثلاثًا فأسندنا ظهْرَنا إلى الجبلِ فهزمَهُمُ اللهُ تعالَى قال قيل لعمرَ إنك كنتَ تصيحُ بذلك
الراوي: عبدالله بن عمر المحدث: ابن حجر العسقلاني - المصدر: الإصابة - الصفحة أو الرقم: 2/3
خلاصة حكم المحدث: إسناده حسن

وجَّهَ عُمَرُ جَيشًا , وولَّى عليهِمْ رجُلًا يُدعَى سارِيةَ و فَبَينا عُمرُ يَخطُبُ جَعلَ يُنادي يا سارِيَةُ الجبَلَ ثلاثًا ثُمَّ قدِمَ رسولُ الجيشِ فسألَهُ عُمرُ , فقال يا أميرَ المؤمنينَ هُزِمنا فبينا نَحنُ كذلِكَ إذ سمِعنا صوتًا ينادي يا ساريةُ الجبلَ ثلاثًا , فأسنَدنا ظَهرَنا إلى الجبَلِ فهزَمَهُم اللَّهُ , قال فقيلَ لعُمَرَ إنَّكَ كنتَ تَصيحُ هكَذا
الراوي: عبدالله بن عمر المحدث: العجلوني - المصدر: كشف الخفاء - الصفحة أو الرقم: 2/515
خلاصة حكم المحدث: إسناده حسن

أنَّ عُمرَ وجَّهَ جيشًا ورَأَّسَ عليهِمْ رَجلًا يقالُ لهُ سارِيةُ قال فبينما عُمَرُ يخطُبُ فجعَلَ ينادي يا سارِيَ الجبلَ يا سارِيَ الجبلَ ثلاثًا ثمَّ قَدِمَ رسولُ الجيشِ فسأَلهُ عُمرُ فقال يا أميرَ المؤمنينَ هُزِمنا فبينما نحنُ كذلِكَ إذ سَمِعنا مُنادِيًا يا سارِيةَ الجبَلَ ثلاثًا فأسندنَا ظُهورَنا بالجبَلِ فهزَمَهُمُ اللَّهُ قال فقيل لِعُمَرَ إنَّكَ كُنتَ تَصيحُ بِذلِكَ
الراوي: عبدالله بن عمر المحدث: ابن كثير - المصدر: البداية والنهاية - الصفحة أو الرقم: 7/135
خلاصة حكم المحدث: إسناده جيد حسن

عن عمرَ أنه قالَ في خطبتِه يومَ الجمعةِ : يا ساريةَ الجبلَ الجبلَ . فالتفتَ الناسُ بعضُهم لبعضٍ فلم يفهموا مرادَه ، فلما قضى الصلاةَ ، قال له عليٌّ : ما هذا الذي قلتَه ؟ قال : وسمعتُه ؟ قال : نعم وكلُّ أهلِ المسجدِ ، قالَ : وقعَ في خلدي أن المشركين هزموا إخوانَنا وركبوا أكتافَهم وهم يمرون بجبلٍ فإن عدلوا إليه قاتلوا من وجدوا وظفروا وإن جازوا هلكوا فخرجَ مني هذا الكلامُ . فجاءَ البشيرُ بعد شهرٍ فذكرَ أنهم سمعوا في ذلك اليومِ وتلك الساعةِ حين جاوزوا الجبلَ صوتًا يشبهُ صوتَ عمرَ ، قالَ : فعدلْنا إليه ففتحَ اللهُ
الراوي: - المحدث: ابن الملقن - المصدر: الإعلام - الصفحة أو الرقم: 1/144
خلاصة حكم المحدث: إسناده كل رواته ثقات

(http://www.dorar.net/hadith...)

اسی طرح ایک اور روایت ملتی ہے

’حضرت حارث بن مالک انصاری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ وہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس سے گزرے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے پوچھا : ’’اے حارث! (سناؤ) تم نے صبح کیسے کی؟ انہوں نے عرض کیا : یا رسول اللہ! میں نے ایمان کی حقیقت پاتے ہوئے صبح کی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اے حارث! غور کر کے بتاؤ تم کیا کہہ رہے ہو؟ بے شک ہر شے کی ایک حقیقت ہوتی ہے، تمہارے ایمان کی کیا حقیقت ہے؟ عرض کیا : یا رسول اللہ! میں نے اپنے نفس کو دنیا کی محبت سے جدا کر لیا ہے اور راتوں کو جاگ کر عبادت کرتا ہوں اور دن کو (روزے کے سبب) پیاسا رہتا ہوں گویا میں اپنے رب کے عرش کو اپنی آنکھوں سے دیکھتا ہوں اور مجھے ایسے لگتا ہے جیسے جنتی ایک دوسرے کی زیارت کرتے جا رہے ہیں اور دوزخیوں کو (اس حالت میں) دیکھتا ہوں کہ وہ ایک دوسرے پر گر رہے ہیں۔ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اے حارث تم عارف ہو گئے، پس اس (کیفیت و حال) کو تھامے رکھو اور یہ (جملہ) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تین مرتبہ فرمایا۔‘‘
ابن ابي شيبه، المصنف، 6 : 170، رقم : ٣٠٣٢٥

پھر عرض کر دوں کہ کشف کا تعلق اسلام یا کفر ولی یا گناہ گار سے نہیں یہ معاملہ غیر اختیاری ہے اور کسی کے ساتھ بھی پیش آ سکتا ہے کشف یا مبشرات حجت شرعی نہیں لیکن انکا انکار بھی ممکن نہیں بہتر یہی ہے کہ افراط و تفریط سے بچتے ہوے معاملے کی تفہیم حاصل کی جاۓ.

واللہ اعلم بالصواب۔

حسیب احمد حسب