منگل، 18 مارچ، 2014

دل یہ کرتا ہے نصیحت میں کروں

دل یہ کرتا ہے نصیحت میں کروں

آج فیس بک گردی کرتے ہوے ایک صاحب کی وال پر انکا ایک شر دکھائی دیا اصل میں دکھائی تو شعر دیا لیکن اگر شر بھی کہا جاوے تو نامناسب نہیں ہوگا ملاحظہ کیجئے

کیا ضروری ہے کہ سجدے بھی کروں
ماں کو دیکھا اور عبادت ہو گئی

گو بڑا معصوم اور خوبصورت خیال دکھائی دیتا ہے لیکن اسکے اندر چھپا شر بھی اہل نظر سے پوشیدہ نہیں جانے یا انجانے میں شاعر نے اسلامی عبادات سے جان چھڑانے کی کوشش کی ہے ......
اصل میں یہ وباء ہمارے ہاں کے ادیبوں میں مغرب سے در آئ ہے جو مذہب سے نا آشنا ہے جو کسی خالق کسی مالک کسی آقا اور کسی مولیٰ کو تسلیم نہیں کرتا جہاں صرف سوشل ولفیر کا تصور ہے جو الہیات و عبادات سے یکسر ناواقف ہیں دل کیا, کچھ لکھوں پھر خیال آیا کیوں نہ جواب شعر بزبان شعر کیوں نہ ہو یا یہ کہ لیجئے جواب شر بزبان شعر .......


آپ سے کیا ا ب شکایت میں کروں
دل یہ کرتا ہے نصیحت میں کروں

فرض ہے مجھ پر نہ چھوڑوں میں نماز
حکم ربی ہے عبادت میں کروں

دے نہیں سکتا تیری خدمت کا حق
میری ماں تجھ سے محبت میں کروں

چوم لوں میں پیار سے تیری جبیں
پھر دو سجدے شکر نعمت میں کروں

چھوڑ دوں کیسے میں آقا کےطریق
ان کے اسوہ پر ریاضت میں کروں

اے میرے مالک مجھے توفیق دے
نا کبھی ایسی شرارت میں کروں

حسیب احمد حسیب

اتوار، 16 مارچ، 2014

قطعہ!

قطعہ! 

محتسب کی خیر ہو انصاف کچھ ایسے کیا 
اس نے میرے قتل کا الزام مجھ پر رکھ دیا 

قید میں بھی بادشاہی کا مزہ مجھ کو دیا
تاج کانٹوں کا بنا کر میرے سر پر رکھ دیا

حسیب احمد حسیب

تصویر: ‏قطعہ!  

محتسب کی خیر ہو انصاف کچھ ایسے کیا 
اس نے میرے قتل کا الزام مجھ پر رکھ دیا 

قید  میں  بھی بادشاہی کا مزہ مجھ   کو  دیا
تاج کانٹوں کا بنا کر میرے سر پر رکھ دیا

حسیب احمد حسیب‏

کنوارے بیچارے !

کنوارے بیچارے !

یہ معلوم دنیا میں سب سے زیادہ پائی جانے والی انسانی مخلوق ہے کنوار پن ایک بیماری ہے یا کیفیت سائنس دان اسکی تحقیق میں ہیں لیکن کامیابی نہیں ہو سکی .....
کنواروں کی مختلف اقسام ہیں شدید کنوارے ، جدید کنوارے ، گھریلو کنوارے ، آوارہ کنوارے وغیرہ وغیرہ ....
کنوارہ ہونا بیک وقت ایک نعمت بھی ہے اور ایک لعنت بھی ہر کنوارہ شادی شدہ ہونا اور ہر شادی شدہ دوبارہ شادی شدہ ہونا چاہتا ہے بقول حکیم صاحب ! کچھ دوسری بیوی کے کنوارے ہوتے ہیں کچھ تیسری اور کچھ چوتھی کے اور کچھ سدا بہار کنوارے ہوتے ہیں اور کچھ انتہائی خوار .....

کنوار پنا وہ کیفیت ہے جسمیں ہر نظر آنے والی لڑکی کنواری اور ہر نظر آنے والی عورت بیوہ دکھائی دیتی ہے ........
کنوارہ بیچارہ صرف اور صرف شادی کی امید پر زندہ ہوتا ہے کچھ لوگ کہتے ہیں کنوار پنے کا دور آزادی کا دور ہے شادی تو نری غلامی ہے اور ہم کہتے ہیں

تو کہ ناوا قفِ آدابِ شہنشاہی تھی
رقص زنجیر پہن کر بھی کیا جاتا ہے
تجھ کو انکار کی جرّات جو ہوئ تو کیونکر
سایہ ِءشاہ میں اسطرح جیا جاتا ہے

اگر کسی کنوارے سے پوچھیں کہ وہ کون سے تین بول ہیں جنکو بولنے کی آرزو میں وہ جی رہا ہے تو اسکا جواب ہوگا ....
قبول ہے قبول ہے قبول ہے
ایک شدید کنوارے نے کچھ اسطرح اپنا تعارف کروایا
" مجھے تو بچپن سے ہی شادی کاشوق تھا "

اجی ہم تو ابا سے ملنے والا جیب خرچ بھی جیب میں بطور مَہْر مُوَجَّل کے رکھتے ہیں ایک مسلمان کی دعا کچھ یوں ہوتی ہے

لب پہ آتی ہے دعا بن کے تمنا میری
زندگی شمع کی صورت ہو خدایا میری

اور ایک کنوارے مسلمان کی دعا

لب پہ آتی ہے دعا بن کے تمنا میری
کوئی شادی کی تو صورت ہو خدایا میری

جسطرح ساون کے اندھے کو ہر طرف ہرا دکھائی دیتا ہے اسی طرح کنوارے بیچارے کو ہر طرف دلہن کا سرخ جوڑا لیکن اسے کہاں معلوم یہ سرخی تو خطرے کی علامت ہے

لیکن خطرات سے کھیلنا ہی تو جواں مردوں کا کام ہے

ایک کنوارے کیلئے زندگی کے تمام مسائل کا حل دنیا کا ہر معاملہ شادی سے متعلق ہی ہوتا ہے

ملائیشیا کا طیارہ کس نے اغوا کیا ؟
کسی تپے ہوے کنوارے نے ہی کیا ہوگا

ملکی مسائل کا حل؟
بڑے پیمانے پر شادیاں

پسندیدہ سیاست دان ؟
"میاں"صاحب

پسندیدہ شہر ؟
میاں والی

پسندیدہ دفتر ؟
شادی دفتر

ملکی معیشت کیسے ترقی کرے گی ؟
کیٹرنگ بزنس سے

کون سا لباس پہننا پسند کرتے ہیں ؟
سہرا

کون سے پھول پسند ہیں؟
سہرے کے

گیت کون سے اچھے لگتے ہیں ؟
شادی کے

گلوکار کون سا پسند ہے ؟
مسرت نظیر

گانہ کون سا اچھا لگتا ہے ؟
ویر میرا گھوڑی چڑھیا

فلم کون سی پسند ہے ؟
دل والے دلہنیا لےجائینگے

کنوارے دین سے بہت محبت رکھتے ہیں مستجاب الدعوات ہوتے ہیں انکی ہر دعا جلد قبول ہوتی ہے سواۓ شادی کی دعا کے
بے شک میرا مالک صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے

یہ جب بھی کسی مولوی سے ملتے ہیں شادی کے مسائل پوچھتے ہیں انکے نزدیک سب سے بڑا مولوی نکاح خوان ہوتا ہے یہ ہر فقیر سے شادی کی دعا کرواتے ہیں اور ہر مزار پر شادی کی منت کا دھاگہ باندھ آتے ہیں
یہ کنوارے ہیں اور بے شک بڑے بے چارے ہیں .

حسیب احمد حسیب

بدھ، 12 مارچ، 2014

محبت !

محبت !

مجھے تم سے محبت ہے 
بہت آسان ہے کہنا 
بہت آسان ہے کہنا 
مجھے تم سے محبت ہے 
مگر 
کیا جانتے ہو تم .....؟
محبت کے تقاضے ہیں 
محبت کے تقاضوں کو 
تمہیں پورا بھی کرنا ہے
یہ بس اقرار کے چند حرف
چند الفاظ چاہت کے
مجھے تم سے محبت ہے
بہت آسان ہے کہنا
محبت سوچ ہے احساس ہے
اک بوجھ ہے دل کا
محبت اک شرارت ہے
محبت اک شکایت ہے
یہ انہونی حکایت ہے
اسے تم کھیل مت سمجھو
محبت کے تقاضے ہیں
محبت کے تقاضوں کو
تمہیں پورا بھی کرنا ہے
مگر کیا جانتے ہو تم
محبت کی کہانی میں
بڑی بے چین راتیں ہیں
بڑی بے درد گھاتیں ہیں
محبت اک عجوبہ ہے
محبت کو سمجھنے میں
ابھی کچھ دیر باقی ہے
ابھی کچھ درد سہنے ہیں
ابھی کچھ غم بھی آنے ہیں
مجھے تم سے محبت ہے
بہت آسان ہے کہنا
بہت آسان ہے کہنا
مجھے تم سے محبت ہے
مگر
کیا جانتے ہو تم .....؟

حسیب احمد حسیب

جمعرات، 6 مارچ، 2014

پڑھنے سے گریز کریں !

پڑھنے سے گریز کریں !

ذہن پراگندہ دل پریشان ہے افکار پژمردہ یکسوئی مفقود وہ کیا کہا ہے انشاء الله خاں نے

نہ چھیڑ اے نکہت بادِ بہاری راہ لگ اپنی
تجھے اٹکھیلیاں سوجھی ہیں ہم بیزار بیٹھے ہیں

سو ارادہ ہے دل کی بھڑاس نکالی جاوے جس کسی کو عزت پیاری ہو ہو پڑھنے سے گزیز کرے ملک کی عجیب صورت حال ہے لڑائی مار کٹائی ہنگامے پر ہمیں کیا ہماری بلا سے کھانے کو دو روٹیاں مل جائیں کافی ہیں
مگر کافی کہاں کس کافر کا دل ہے جو مرغ مسلم کی خواہش نہ کرے مگر دال بھی مل جاوے تو خیر ہے لعنت ہے اس کسر نفسی ارے یہ پیٹ تو ھل من مزید کی پکار کرے ہے ...

شاعر کہتا ہے

جی ڈھونڈتا ہے پھر وہی فرصت کے رات دن
بیٹھے رہیں تصور جاناں کیے ہوئے

اب جاناں ہو تو تصور کیا جاوے اور یہاں تو فرصت ہی فرصت
کیا بکواس ہے کہنے والا اور سننے والے دونوں برابر کے بے وقوف

پھر عرض کیا پڑھنے سے گریز کریں !

آپ یہ سوال پوچھ سکتے ہیں کہ اگر پڑھنے سے گزیز ہی کروانا ہے تو لکھتے ہی کیوں ہو .....؟

اسکا بہت علمی فکری اور منطقی جواب ہو سکتا ہے
سو ہمار جواب ہے

ہماری مرضی جو کر سکتے ہو کر لو

سنا ہے ہماری ٹیم بازیاں مار رہی ہے دشمنو کی فوج کی فوج کھیت رہی کرکٹ کے میدان میں کشمیر آزاد کروا لیا اور مشرقی پاکستان دوبارہ مغربی ہونے جا رہا ہے لیکن شاید پاکستان اب پاکستان نہیں رہا

لعنت ہے قنوطیت پر
پاکستان زندہ باد
کمال کا انسان ہے یہ نسوار خان بھی اس سے پہلے پوری قوم اخروٹ خان کے سحر میں مبتلاء تھی اور اب نسوار خان کا طوطی بولے گا بلکہ طوطی گاۓ گی اور وینا باجے گی

نجانے کیوں آج یہ سب معرفت کی باتیں کرنے کو دل کر رہا ہے

گو ہاتھ میں جنبش نہیں آنکھوں میں تو دم ہے
رہنے دو ابھی ساغر و مینا میرے آگے

مینا کے م کو محذوف سمجھا جاوے

تو ہم کہاں تھے لوگ کہتے ہیں امن ہونے جا رہا ہے
غریب کا بچہ بھوکا سوتا ہے امیر کے بچے کو بدہضمی سے نیند نہیں آتی
انقلاب آنے کو ہے اور ایسے میں امن کی باتیں
تف ہے تف

اگر آپ کو یہ سب پڑھ کر ہماری عقل پر ماتم کرنے کو جی چاہ رہا ہے تو سینہ کوبی ضرور کیجئے گا یا پیٹھ ہماری طرف کریں ہم نشتر زنی خوب کرتے ہیں
سینے پر وار ہماری خصلت نہیں

اجی کس بے وقوف نے کہا اس تحریر کو پڑھیں اور اگر پڑھ ہی لیا ہے تو یہ تو نہ کہیں

حیراں ہوں، دل کو روؤں کہ پیٹوں جگر کو مَیں
مقدور ہو تو ساتھ رکھوں نوحہ گر کو مَیں

یہ آپ کا مسلہ ہے دل کو پیٹیں یا جگر کو
اور اگر مقدور ہو تو نوحہ گر کو بھی ساتھ رکھیں ورنہ
اپنی آنکھیں اپنے آنسو
اور اپنا سا منہ

ہم نے تو پہلے ہی کہا تھا

پڑھنے سے گریز کریں

حسیب احمد حسیب

مامتا !

مامتا !

مامتا کیا ہے یہ مامتا 
ٹھنڈی میٹھی چھاؤں کی طرح جسکے ساۓ میں کوئی پیاسا مسافر پڑاؤ ڈالے اور وہ اسے بانہیں پھیلا کر اپنی آغوش میں لے لے 
مامتا 
عجیب لفظ ہے یہ بھی جب ہونٹوں سے ادا ہوتا ہے تو کسی جانی پہچانی شفقت کے احساس سے تن بدن میں ٹھنڈک بھر دیتا سنا ہے مسیحا کے لمس سے مردے زندہ ہوجاتے تھے لیکن ماں کے پیار بھرے لمس سے روح تک سرشار ہو جاتی ہے 
مامتا 
یہاں آکر قلم رک جاتا ہے الفاظ ساتھ چھوڑ دیتے ہیں بلکہ ساتھ نہیں چھوڑتے اپنی وقعت کھو بیٹھتے ہیں 
کیا کہوں کیسے کہوں کسطرح خراج تحسین پیش کروں 
مامتا 
جب رب کریم نے اپنی محبت کا اظہر کرنا چاہا تو کس سے تشبیہ دی 
مامتا سے 
روایات میں ملتا ہے 
رسول اکرمؐ کے زمانے میں ایک اعرابی آپؐ کی زیارت کو مدینہ منورہ کی طرف روانہ ہوا۔ راستے میں دیکھا کہ ایک کبوتری نے بچے دیئے ہوئے تھے۔ اس نے کبوتری کے بچے اٹھالئے اور دل ہی دل میں یہ سوچا کہ یہ بچے آنحضرت ؐ کی خدمت میں بطور تحفہ پیش کروں گا۔ جب کبوتری نے اپنے بچوں کو اس کے پاس دیکھا تو بڑی بے چین ہوئی اور اس کے سر پر چکر کاٹنے لگی۔
اس شخص نے آنحضرت ؐ کی زیارت کا شرف حاصل کیا اور آپؐ کی خدمت میں وہ بچے پیش کئے۔
کبوتری نے جیسے ہی اپنے بچوں کو دیکھا تو وہ تیزی سے زمین پر آئی اور اپنے بچوں کے گرد چکر کاٹنے لگی۔ پھر وہ اپنی چونچ میں غذا لے کر آئی اور اپنے بچوں کو کھلا کر اڑ گئی، پھر دوسری دفعہ غذا لے کر آئی اور اپنے بچوں کو کھلانے لگی۔
اس منظر کو دیکھ کر رسول اکرمؐ نے صحابہؓ سے فرمایا:
’’تم نے دیکھا کہ ایک کبوتری کو اپنے بچوں سے کتنی محبت ہے؟‘‘ پھر آپؐ نے فرمایا:
’’ مجھے اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے اور جس نے مجھے برحق نبی بنا کر معبوث کیا ہے۔‘‘ اللہ اس کی نسبت اپنی مخلوق سے ہزاروں گنا زیادہ محبت کرتا ہے۔

مامتا 
اور اسکی گواہی تو  خود  قرآن عظیم دیتا ہے


 حضرت ہاجرہ صبر و شکر کے ساتھ بچے سے دل بہلانے لگیں جب تھوڑی سی کھجوریں اور ذرا سا پانی ختم ہو گیا اب اناج کا ایک دانہ پاس ہے نہ پانی کا گھونٹ خود بھی بھوکی پیاسی ہیں اور بچہ بھی بھوک پیاس سے بیتاب ہے یہاں تک کہ اس معصوم نبی زادے کا پھول سا چہرہ کمھلانے لگا اور وہ تڑپنے اور بلکنے لگا مامتا بھری ماں کبھی اپنی تنہائی اور بےکسی کا خیال کرتی ہے کبھی اپنے ننھے سے اکلوتے بچے کا یہ حال بغور دیکھتی ہے اور سہمی جاتی ہے معلوم ہے کہ کسی انسان کا گزر اس بھیانک جنگل میں نہیں، میلوں تک آبادی کا نام و نشان نہیں کھانا تو کہاں؟ پانی کا ایک قطرہ بھی میسر نہیں آ سکتا آخر اس ننھی سی جان کا یہ ابتر حال نہیں دیکھا جاتا تو اٹھ کر چلی جاتی ہیں اور صفا پہاڑ جو پاس ہی تھا اس پر چڑھ جاتی ہیں اور میدان کی طرف نظر دواڑاتی ہیں کہ کوئی آتا جاتا نظر آ جائے لیکن نگاہیں مایوسی کے ساتھ چاروں طرف ڈالتی ہیں اور کسی کو بھی نہ دیکھ کر پھر وہاں سے اتر آتی ہیں اور اسی طرح درمیانی تھوڑا سا حصہ دوڑ کر باقی حصہ جلدی جلدی طے کر کے پھر صفا پر چڑھتی ہیں اسی طرح سات مرتبہ کرتی ہیں ہر بار آ کر بچہ کو دیکھ جاتی ہیں اس کی حالت ساعت بہ ساعت بگڑتی جا رہی ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں صفا مروہ کی سعی جو حاجی کرتے ہیں اس کی ابتدا یہی سے ساتویں مرتبہ جب حضرت ہاجرہ مروہ پر آتی ہیں تو کچھ آواز کان میں پڑتی ہے آپ خاموش ہو کر احتیاط کے ساتھ اس کی طرف متوجہ ہوتی ہیں کہ یہ آواز کیسی؟ آواز پھر آتی ہے اور اس مرتبہ صاف سنائی دیتی ہے تو آپ آواز کی طرف لپک کر آتی ہیں اور اب جہاں زمزم ہے وہاں حضرت جبرائیل کو پاتی ہیں حضرت جبرائیل پوچھتے ہیں تم کون ہو؟ آپ جواب دیتی ہیں میں ہاجرہ ہوں میں حضرت ابراہیم کے لڑکے کی ماں ہوں فرشتہ پوچھتا ہے ابراہیم تمہیں اس سنسان بیابان میں کسے سونپ گئے ہیں؟ آپ فرماتی ہیں اللہ کو فرمایا پھر تو وہ کافی ہے حضرت ہاجرہ نے فرمایا اے غیبی شخص آواز تو میں نے سن لی کیا کچھ میرا کام بھی نکلے گا؟ حضرت جبرائیل علیہ السلام نے اپنی ایڑی زمین رگڑی وہیں زمین سے ایک چشمہ پانی کا ابلنے لگا (تفسیر ابن کثیر)

یہ ماں ہے 
اور یہ مامتا ہے 

گزشتہ روز ایک خبر پڑھی 

" لاہورمیں متوسط طبقے کی ایک پڑھی لکھی نوجوان عورت نے مبینہ طور پر مالی تنگی اور گھریلو جھگڑوں سے دلبرداشتہ ہو کر اپنے دونوں کمسن بچوں کو قتل کر دیا ہے " 

بہت دیر تک دماغ سن رہا سوچنے سمجھنے کی صلاحیتوں سے عاری کچھ سمجھ نہیں آیا یہ کیا ہوا اور کیسے 
مختلف لوگ انکی مختلف آراء سچے جھوٹے فلسفے باتیں اور بس باتیں 

ایک نے کہا 

" کل پرسو سے یہ سلسلہ مسلسل چل رہا ہے۔ ہر کوئی علامہ بنا پھر رہا ہے۔ لبرلز اس واقعے کی آڑ میں مولویوں کے لتے لے رہے ہیں اور مولوی صاحبان وعیدوں پہ وعیدیں بیان کر کے علم و فضل جھاڑنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ان سب کو پیٹ بھر کر روٹی ملتی ہے، بھوک سے انکا واسطہ نہیں چاہے وہ فنڈز کے نام پر بھیک ہو یا پھر مسجد مدرسے کے نام پر بھیک۔ انہیں شرم نہیں آئے گی " 

لیکن وہ تو ماں تھی 
پہاڑوں جیسا عزم رکھنے والی ماں بس ایک بھوک سے ڈر گئی 

ارے کیا ہم جانوروں   سے بھی بد تر ہو چکے ہیں
خدا کی قسم تڑپ کر ہاتھ اٹھا دیتی تو زمین و آسمان ایک ہو جاتے  

ایک عجیب و غریب واقعہ یاد آگیا

ہماری بیٹھک ان دنوں پاور ہاؤس چورنگی سے متصل گرین بلٹ پر تھی جہاں کسی پرانے ہوٹل کی باقیات میں سے کچھ تخت بچھے رہ گۓ تھے قریب پٹھان کے ہوٹل پر کرسیوں کی مارا ماری سے بچنے کیلئے چند سر پھرے ادیبوں اور غیر معروف شاعروں نے یہاں محفل جما لی تھی مجھے یاد ہے وہ سیاہ رنگ کی لنگڑی کتیا اس دن بڑی بےچین تھی بار بار ہماری طرف آتی جیسے کچھ کہنا چاہتی ہو 
میں نے پروفیسر سے کہا دیکھو یہ کچھ کہنا چاہ رہی ہے اس نے بھی غور کیا تو میری تائید کی 
وہ کبھی ہماری طرف اور کبھی گرین بلٹ سے متصل فٹ پاتھ کی طرف جاتی 
اس فٹ پاتھ کے نیچے  نالہ تھا 
میں اور پروفیسر قریب گۓ تو دیکھا فٹ پاتھ پر موجود گیپ میں سے کتیا کا  بچہ نیچے پھنسا ہوا تھا 
پھر عجیب منظر ہوا تمام احباب ادھر ہی متوجہ ہو گۓ ایک رش لگ گیا تدبیریں ہونے لگیں 
کیا کریں کیسے کریں اسکو بچانا ہے 
مامتا کی ماری کتیا ایک آس  سے ہمیں دیکھ رہی تھی 
ڈاکٹر شبیر شاکر لون نے اپنی بیلٹ دی 
ایک رسی کا ٹکڑا نظر فاطمی نے دیا 
ادھر عدیل احمد عدیل ہے 
وہاں حسن بن نظیر کھڑا ہے 
ایک طرف خیام مرحوم متوجہ ہیں 
قریب ہی سید فیاض علی بھی ہیں 
طاہر عباس بھی یہیں موجود ہیں 
اور پھر ہم نے اسے نکال لیا 
..................................
.................................
..................................
وہ بار بار بے تابی سے اپنے  بچے کو چوم رہی تھی 
دوانہ وار محبت سے اسے چاٹ رہی تھی 
اور پھر اسکا ہم سے اظہار تشکر 

خدا کی قسم 
اس کتیا کے اظہار تشکر کو بھول نہیں سکتا 

آج بھی یہ سب لکھتے وقت آنکھوں میں آنسو امڈ رہے ہیں 

وہ کیا تھا 
کون سی طاقت تھی جس نے اتنے لوگوں کو یکدم فعال کر دیا 
مامتا 
بیشک مامتا 

اس کتیا کی اپنے بچے سے محبت نے اتنے انسانوں کو فعال کر دیا 
ہم جیسے مردہ دلوں کو فعال کر دیا 
وہ رکی نہیں جھجکی نہیں 
وہ انسان نہیں تھی 
وہ لنگڑی تھی 
لیکن 
وہ ماں تھی 

حسیب احمد حسیب 

ہفتہ، 1 مارچ، 2014

" ‫‏دکھی‬ ‫آتما‬ "


" ‫‏دکھی‬ ‫آتما‬ "

جی ہاں ! میں آتما ہی کہونگا کیا کسی کو کوئی اعتراض ہے ،اگر ہے تو وہ جان لے مجھ سے اگر کسی کو مسلہ ہے تو یہ اسکا مسلہ ہے.....
ہاں جی یہ دکھی آتما ہے جینا اجیرن کر دیا ہے زندگی میں موت کا منظر انہی کے طفیل دیکھنے کو ملا ایسے لوگوں کے لیے زمین کی نچلی طرف رہائش کا انتظام کیا جانا چاہئیے ....
کیا آپ جاننا چاہتے ہیں یہ کون ہیں تو لیجئے جانئے یہ جاننا جننے کی تکلیف سے کم نہ ہوگا ...

یہ " دکھی آتما " ہیں ہر خوشی کے موقع پر غم کا پہلو نکالنا انکا کمال ہے سنا ہے اپنی شادی کے موقع پر بھی انپر شادی مرگ کی کیفیت طاری ہو گئی تھی ....
انتہائی خوشی میں منحوس شکل بناۓ یہ موٹے موٹے ٹسوے بہاتے دکھائی دینگے اور پوچھو تو کہینگے " ارے پگلے یہ خوشی کے آنسو ہیں "

یہ خوشی کی مسکراہٹ کیوں نہیں ہوتی حالت غم میں ٹھٹھے لگاتا ہوا شخص پاگل اور خوشی میں ٹسوے بہاتا ہوئی شخص حساس .....
یہ حساس نہیں "ساس" ہے جو داماد کے گھر چار دن کے لیے آے اور یہ چار دن زندگی کو پورے پڑ جائیں.....
یہ اکثر خوشی میں غم مناتے ہوے آپ کو گلے سے پکڑنے کی یا دوسرے لفظوں میں گلے پڑنے کی کوشش کرینگے اور اگر سامنے والی جنس مخالف ہے تو گلے سے چمٹ بھی سکتے ہیں .........
کومیڈی فلم کودیکھ کر آبدیدہ ہو جانا اور دوسروں کے رنگ میں بھنگ ڈال دینا انکا مشغلہ ہے آپ کی انتہائی خوشی کی محفل کو یہ نحوست آمیز کرنے کا کمال جانتے ہیں ........
آپ کے ہاں اولاد نرینہ کی پیدائش ہوئی ہے یہ اسکی نوکری کی فکر شروع کر دینگے لڑکی کی پیدائش پر اسکے جہیز کی طرف متوجہ کرینگے کسی کی شادی میں جائینگے تو طلاق کے عیوب و نقائص گنوانا شروع کر دینگے .....
آپ کا بچہ امتحان میں پاس ہوا ہے یہ کہینگے پرسنٹیج % کم ہے ......
آپکی پروموشن ہوئی ہے یہ انڈسٹری کے ختم ہونے کی بات کرینگے .....
اگر کسی کی عیادت کو چلے جائیں تو دعاے مغفرت کر کے اٹھئینگے.....
یہ عید کے دن قبرستان جانا پسند کرتے ہیں رات کو سوتے ہیں تو قبرستان کا تصور کر کے اور صبح اٹھتے ہیں تو ملک الموت کی صورت دیکھنے کا ارادہ لیکر ....
اگر یہ آپ کے احباب میں ہیں تو ایک مسلسل عذاب ہیں انسے ملکر زندگی سے نفرت ہو جاتی ہے انکی صحبت کسی تھرڈ ڈگری تشدد سے کم نہیں ....
اگر کبھی آپ سے خوش ہوں تو ایسے دعا دینگے ....
آج تو اچھے لگ رہے ہو کہیں کوئی حادثہ نہ ہو جاۓ.
کتنا پیارہ بچہ ہے جی جاۓ تو اچھا نکلے گا ....
امتحان ہیں پڑھ رہے ہو پاس تو ہو جاؤ گے نا...
اچھا نیا کاروبار شروع کیا ہے مارکیٹ مندی ہے ....
نئی گاڑی لی ہے پیچھے سال اسی موڈل کی کار میں بابو بھائی کا حادثہ ہوا تھا چچ چچ گیارہ بچے تھے انکے ......
اچھا شادی ہوئی ہے مبارک ہو وہ پڑوس والے ساجن کی بیوی دودھ والے کے ساتھ فرار ہو گئی .......................
کسی پرانے دوست سے ملینگے تو کہینگے تم ابھی تک زندہ ہو ...
کسی کو نزلہ ہو جاۓ یہ کہینگے میاں جان لیوہ بیماری ہے ..
ہوشیار خبردار 
اگر آپ کے ارد گرد آس پاس قرب و جوار میں یہ موجود ہیں تو 
دیر نہ کریں حسب توفیق محلہ ،علاقہ ،شہر یا ملک تبدیل کرلیں 
ورنہ شاید دنیا ہی تبدیل نہ کرنی پڑ جاۓ .

حسیب احمد حسیب