ہفتہ، 2 اگست، 2014

شیخ جدید

شیخ جدید !



کچرا ہمارے حسن تخیل کا کر دیا
عقدہ کشا کیا یہ کسی زن مرید نے




جنت میں حور ہونگی نہیں ہونگے نابکار
فتویٰ دیا ہے آج یہ شیخ جدید نے



حسیب احمد حسیب

جنریٹر اور یو پی یس

جنریٹر اور یو پی یس !

معاملہ آسان ہے جنریٹر کو پٹرول پر چلائیں یا یو پی ایس لےلیجے دونوں کا کام ایک ہی ہے ہاں جب جنریٹر میں گیس کٹ کی جگاڑ لگا دیتے ہیں تو پھر سال ایک میں ہیڈ بیٹھ جاتا ہے اور موٹر خراب ہو جاتی ہے.......

نظام ریاست کو چلانے کیلئے ہوتا ہے اب یا تو یہ اسلامی ہو یا پھر جمہوری وگرنہ جمہوری جنریٹر میں اسلامی کٹ لگانے سے وہی ہوتا ہے جو ہوا ......

کیوں چھینتے ہیں وہ میری جنت کی نعمتیں



کیوں چھینتے ہیں وہ میری جنت کی نعمتیں 
دنیا کی ترش و تلخ کو پیتا ہوں روز میں 




میں کیوں رکھوں نہ آرزو حور و قصور کی 
مر مر کے اس جہان میں جیتا ہوں روز میں 



حسیب احمد حسیب

میٹھی عید پر نمکین غزل

میٹھی عید پر نمکین غزل !

کیسے کہیں کہ آج ہوئی ہے ہماری عید 
و اللہ جب تلک نہیں ہوگی تمہاری دید 


جھگڑا ہلال عید کا بیکار تو نہیں
کل جو نہ کر سکا وہ منا لے گا آج عید 

پیہم رہے یہ سلسلہ خُورْد و نوش یوں
خالی ہو ایک خوان تو آۓ پھر اک مزید

ہم نے سنا ہے آۓ ہیں یورپ سےماموجان
عیدی ملے گی یورو میں اس بار ہے نوید

بچے تھے اسکے چار تو اسکے سپوت تین 
عیدی کے لین دین پے جھگڑا ہوا شدید

دعوت میں آکے ٹھونس گیا ہے وہ سب اناج
معدے میں تہہ لگائی حلق تک بھری ورید

بیگم نے وہ اندھیر مچایا براۓ عید
روتا ہے پائی پائی کو بیٹھا وہ زن مرید

خوشیوں میں مست قوم سے پوچھےکوئی سوال
کتنے ہوے شہید غزہ میں ؟ ہے کچھ شنید ! 

اپنی انا کی قید میں جکڑا رہا حسیب 
ماہ صیام قفل انا کی تھا شاہ کلید 

حسیب احمد حسیب

ہمیں وہ کج ادا بھولا ہوا ہے

تازہ غزل !

ہمیں وہ کج ادا بھولا ہوا ہے 
چلو جو بھی ہوا ا چھا ہوا ہے


سنبھل کر دیجئے مژگاں کو جنبش
کوئی پلکوں تلے بیٹھا ہوا ہے

یہ کس شیریں سخن کا ہےتبسم
اجالا دور تک پھیلا ہوا ہے

نظر کو اب کوئی بھاتا نہیں ہے
نگاہوں میں کوئی اترا ہوا ہے

کسی کی بےرخی کا غم ہے اسکو 
میری بانہوں میں جو بکھرا ہوا ہے

تیرے ہر اشک کی مجھکو خبر ہے 
میرے کاندھے پے سر رکھا ہوا ہے 

نہیں بدلا تیرے جانے سے کچھ بھی
مگر سینے میں کچھ ٹوٹا ہوا ہے 

چلو ساحل سے اٹھ کر گھر کو جائیں 
سمندر دیر سے ٹھہرا ہوا ہے 

منا لیتے ہیں چل کر ہم خدا کو
مجھے لگتا ہے وہ روٹھا ہوا ہے 

میں کیسے بھول سکتا ہوں وہ گلیاں 
جہاں بچپن میرا گزرا ہوا ہے 

کہیں چھن جاۓ نہ پھر سے محبت 
یہ دل میں خوف سا بیٹھا ہوا ہے 

فریب زندگی ہم نے بھی کھایا
تمھارے ساتھ بھی دھوکا ہوا ہے 

حسیب آؤ کہ اس سے مل کر آئیں
وہ ظالم شہر میں آیا ہوا ہے

حسیب احمد حسیب

فرسٹ ایڈ

فرسٹ ایڈ !



وبائی امراض جسمانی عوارض اور حادثات الله کی طرف سے آتے ہیں لیکن انکے نتیجے میں ہونے والا نقصان اصل میں ہماری کم علمی جہالت مرض کی صحیح تشخیص نہ ہونے کی وجہ سے ہوتا ہے آج کسی بیماری میں مبتلا شخص یا کسی حادثے کا شکار انسان یہ نہیں جانتا کہ اسے کیا کرنا ہے اور کہاں جانا ہے پھر ان بیماریوں کے بچاؤ کے (Preventive measures) اور بعد میں کی جانے والی تدابیر کو کم لوگ ہی جانتے ہیں طرفہ تماشہ طب کے شعبے کا حد سے زیادہ کمرشل ہونا اور اس میں مالی مفادات کا شامل ہونا ہے اس گروپ کی تشکیل کا مقصود اپنا حصہ ڈالنا اور معالج و مریض کو ایک پلیٹ فارم پر لانا ہے تاکہ خیر کی صورتیں پیدہ ہو سکیں ......

حسیب احمد حسیب





نیلام گھر سے انعام گھر تک

نیلام گھر سے انعام گھر تک !

دیکھتی آنکھوں سنتے کانوں کو طارق عزیز کا سلام پہنچے ....

یہ آواز بچپن سے کانوں میں سنائی دی 
انتہائی سنجیدہ گھمبیر زندگی سے بھرپور آواز ....

" نیلام گھر "

ایک مکمل گلدستہ تھا شعر شاعری شخصیات سے ملاقات معلومات عامہ کانوں کو بھانے والی موسیقی لیکن ڈھنگ تمیز اور رکھ رکھاؤ کے ساتھ یہ کوئی دینی پروگرام نہ تھا لیکن تہذیبی اقدار کا خیال ضرور رکھا جاتا اسکے میزبان طارق عزیز کے نام کے ساتھ ڈاکٹر کے نام کا لاحقہ نہیں لگا تھا لیکن وہ ایک بہترین اینکر ثابت ہوے ......
مجھے یاد ہے اسوقت اتنے چینلز کی یلغار نہیں تھی اور پورا گھر اس پروگرام کے دیکھنے کیلئے جمع ہو جاتا تھا اس میں مرد خواتین بوڑھے بچے جوان غرض ہر کسی کیلئے دلچسپی کا سامان موجود تھا اور سب سے بڑی بات یہ کہ خاندان کے تمام افراد بغیر کسی شرم کے ایک دوسرے سے نظریں چراۓ بغیر اس پروگرم کو دیکھ سکتے تھے .....

آج کا دور آزادی کا دور ہے یہ دور ہے " انعام گھر " کا اور ایک نام نہاد ڈاکٹر جس نے کسی اعلی تعلیمی ادارے کی شکل بھی نہ دیکھی ہو جو نام نہاد دینی شناخت رکھتا ہو اور جس نے پاکستانی میڈیا کی تاریخ کے گٹھیا ترین پروگرام کی بنیاد رکھ دی ہو .....

مذہب اخلاقیات بردباری متانت تہذیب کا جنازہ جیسے اب نکالا جا رہا ہے پہلے اس کا تصور بھی نہ تھا گھٹیا قسم کا پھکڑ پن جو کسی نچلے درجے کے سٹیج کو زیب دیتا ہے اب نام نہاد اسلامی اسکالر بننے والے پیش کر رہے ہیں .......

نیلام گھر سے انعام گھر تک کا سفر اور طارق عزیز سے عامر لیاقت تک کا سفر دراصل ہماری قومی ملی اور تہذیبی پستی کو ظاہر کرتا اور یہ کہے بغیر چارہ نہیں رہتا کہ کوئی قوم گرتی ہے تو زندگی کے ہر شعبے میں اسکی ذلت واضح دکھائی دیتی ہے .

حسیب احمد حسیب