ہفتہ، 29 مارچ، 2014

بت مغرب !

بت مغرب !


اے بت مغرب تجھے یہ راز سمجھاۓ گا کون 
کسلئیے بے چین ہیں اقوام مسلم کے قلوب 

تو کے ناواقف مقام مصطفیٰ سے ہے ابھی 
جن کی عظمت کا کبھی ہوتا نہیں سورج غروب 

تیری ہستی اس سعی میں جلد ہی مٹ جاۓ گی 
کھل رہے ہیں آج عالم میں تیرے سارے عیوب

محسن عالم پے تیری انگلیاں اٹھنے لگیں
بے شرم ہے تو بڑا جا کر کسی نالے میں ڈوب 

تیری خلقت ہے کسی گمنام نطفے کا کمال
جانتا ہوں راز تیری بے حیائی کے میں خوب 

آسماں بے چین ہے بے تاب ہے فرش زمیں 
تجھ سے مجرم کیلئے تیار ہیں کتنے عقوب 

غور سے سن لے زمانہ تجھ سے اب بیزار ہے 
تیرا روشن دن شب ظلمت میں ہوتا ہے غروب

حسیب احمد حسیب

غزل !

غزل 


خیال خام سر شام آۓ ہیں کیا کیا
دیار فکر میں نکتے اٹھاۓ ہیں کیا کیا 

میرے خدا تیری دنیا میں سنگ زادوں نے 
بتان کفر کے معبد بناۓ ہیں کیا کیا 

دیار حسن کی وادی میں عشق زادوں نے 
زبان شعر سے دریا بہاۓ ہیں کیا کیا 

تخیلات کی کانوں سے کھود کر ہم نے
زمین شعر پے موتی سجاۓ ہیں کیا کیا

خمار ذات کی مستی میں قید اے ظالم 
تیرے مزاج نے فتنے اٹھاۓ ہیں کیا کیا 

بس ایک جرات دل ہے جو ہم ضعیفوں نے
سپاہ ظلم کے چھکے چھڑا ۓ ہیں کیا کیا 

سکوت شب میں اندھیرےکےخوف سے ہم نے
تمہاری یاد کے جگنو سجاۓ ہیں کیا کیا 

تفکرات کے گھیرے میں معرفت نے ہمیں
حصول خیر کے رستے دکھاۓ ہیں کیا کیا 

تلاش ذات میں اپنی انا کے کوہ گراں
خودی کی ضرب سے ہم نے گراۓ ہیں کیا کیا 

حسیب تم کو یقیں ہے تمہاری چاہت میں
کسی نے راہ میں تارے بچھائے ہیں کیا کیا 

حسیب احمد حسیب

آپ کون سے راہب ہیں.........؟

آپ کون سے راہب ہیں.........؟


افسوس کی بات یہ ہے کہ ہم لوگ زمینی حقائق سے شاید نا واقف ہیں اور آج کی امّت میں صحابہ رض کے دور کو تلاش کر رہے ہیں ! کیا اپ لوگوں کو حاطب بن ابی بلتعہ رض ،حضرت ابو لبابہ رض ،ابو محجن ثقفی رض یاد ہیں یہ نبی کے دور کے لوگ تھے !
آج امّت تنزل کا شکار ہے یہ اک غیر تربیت یافتہ قوم ہے اوپر سے نیچے تک خرابیاں بھی موجود ہیں لیکن نبی صلعم کی محبّت انکے قلوب میں ضرور کہیں موجود ہے !

ایک آدمی زانی ہے شرابی ہے بد کردار ہے لیکن اگر اسکے باپ کو کوئی سرے عام گالی دے اسکی تذلیل کرے تو وہ بھڑک اٹھے گا اور اپنے جذبات کا اظہار کرے گا یہ انسانی فطرت ہے اسی طرح ہم جتنے بھی گناہگار سہی جب ہمارے نبی صلعم کی شان میں کوئی گستاخی کی کوشش کرتا ہے ہمارا خون کھول اٹھتا ہے !اب کوئی جدید مفتی فتویٰ لگاۓ ارے او زانی شرابی جھوٹے رشوت خور منافق تجھے کوئی حق نہیں نبی کی ناموس کی خاطر آواز اٹھانے کا اسکا ٹھیکہ تو ہم نے لے رکھا تو جا اور جا کر سو جا مگر جناب وہ کہاں سنے گا مسلہ اسکی غیرت کا ہے اپ لاکھ تلقین کیجئے ہزار فتوے تھوپئیے وہ اپنے فہم کے مطابق احتجاج کرے گا اور ضرور کرے گا !
ویسے مجھے نہیں معلوم ہمیں یہ خدائی اختیارات کب مل گۓ کے ہم معاشروں کے ایمان اور کفر کے فیصلے کرنے لگے!حضرت ابوسعید بن مالک بن سنان خدری رضی اﷲ عنہ روای ہیں کہ نبی کریمۖ نے فرمایا تم سے پہلے گذرنے والی اقوام میں کسی شخص نے نناوے (99) آدمی قتل کئے ، اور لوگوں سے پوچھا اس زمانے میں روئے گیتی پر کون بہت بڑا عالم فاضل ہے؟ لوگوں نے ایک راہب کے متعلق بتایا وہ اس کے پاس گیا اور پوچھا کہ میں نناوے آدمی قتل کرچکا ہوں کیا میرے لئے توبہ کی گنجائش ہے؟ راہب نے کہا نہیں! اس نے راہب کو بھی قتل کردیا اور تعداد پوری سو (100) ہوگئی پھر پوچھا کہ روئے زمین پر اب کون عالم ہے ؟ تو اسے ایک عالم کا پتہ بتایا گیا وہ ان کے پاس گیا اور کہا کہ میں سو افراد کا قتل کرچکا ہوں کیا میری توبہ کی کوئی صورت ہے ؟ عالم نے کہا کیوں نہیں!تمہارے اور تمہاری توبہ کے درمیان کوئی رکاوٹ نہیں. تم فلاں جگہ چلے جاؤ ! وہاں اﷲ کے کچھ بندے ہیں جو اﷲ کی عبادت میں مصروف رہتے ہیں . تم بھی ان کے ساتھ اﷲ کی عبادت میں مصروف ہوجاؤ اور اپنے وطن لوٹنے کا خیال دل سے نکال دو کہ وہ سرزمین بدی کا گہوارہ ہے ! وہ شخص بتائے ہوئے پتہ پر روانہ ہوگیا. راہ ہی میں تھا کہ موت آگئی. اب رحمت و عذاب کے فرشتوں میں باہم تنازع ہوا کہ اس کی روح کو ن قبض کرے . ملائکہ رحمت کا کہنا تھا کہ یہ دل سے توبہ کرکے اور اﷲ سے لو لگا کر آرہاتھا . مگر فرشتہ عذاب کہہ رہے تھے کہ اس نے تو زندگی بھر نام کی کوئی نیکی نہیںکی. اس تنازعہ کا فیصلہ کرنے کے لئے ایک فرشتہ بصورت آدمی ان کے پاس آیا. جس کو انہوں نے ثالث مان لیا. تو اس نے کہا زمین کی پیمائش کر لو،جس زمین کے یہ قریب ہو انہیں میں شمار کرلو،زمین کی پیمائش کی گئی تو نیک لوگوں سے اس کا فاصلہ قریب نکلا لہٰذا فرشتہ رحمت اس کی روح لے گئے.( بخاری 3283 مسلم2766 )ویسے آپ راہب ہیں پہلے یا دوسرے ؟

حسیب احمد حسیب

پیر، 24 مارچ، 2014

روٹی تو کسی طور کما کھائے مچھندر

روٹی تو کسی طور کما کھائے مچھندر


" جدید " اسلامی اسکالر براۓ فروخت !


جی ہاں حیران ہونے کی ضرورت نہیں یہ جدید تجارتی منڈیوں کی کامیاب ترین جنس ہے جلد تیار ہوتی ہے اور اچھی قیمت میں بکتی ہے الہادی مارکیٹ کا یہ مقبول ترین آئٹم ہے سنا ہے پہلے مغرب سے مہنگے داموں اسکالر در آمد کرنے پڑتے تھے اب آسانی سے کم قیمت پر لوکل منڈیوں میں دستیاب ہیں ......

ایسے ہی ایک " اسلامی " اسکالر فروش سے جب سوال کیا گیا کہ مارکیٹ میں اس تجارت کی ترقی کا راز کیا ہے تو اس نے فی سبیل الشیطان جو کچھ بیان کیا ملاحظہ کیجئے ......

دیکھیں جناب پہلے مغرب سے مہنگے داموں اسلامی اسکالر درآمد کرنے پڑتے تھے انکو مستشرق کہا جاتا تھا یہودی اسکالر خاص کر اصیل ہوتے تھے لیکن بھائی معاشرے میں بڑھتی ہوئی ذلالت کی وجہ سے انکی مانگ بڑھتی گئی اور ملکی سطح پر انکی فراہمی کیلئے مقامی صنعتوں کا قیام عمل میں لایا گیا....

یہ اسکالر آتے کہاں سے ہیں جب یہ سوال پوچھا تو کچھ یہ جواب ملا..

دیکھئے پہلے تو یہ کوشش کی گئی کہ مقامی دینی درس گاہوں کے فرقہ پرست مولویوں کو خریدا جاوے اور انکو تھوڑی بہت مرمت کے بعد استعمال میں لایا جاوے لیکن کچھ خرابیوں کا سامنا کرنا پڑا...

یہ جلدی خراب ہو جاتے ہیں
ان کا اسلام اتنی آسانی سے نہیں مرتا
ان کو کتنا ہی خراب کر دیجئے نبی کی شان میں ذرا سی گستاخی پر بھڑک اٹھتے ہیں
اسلامی ہیت اتنی آسانی سے نہیں چھوڑتے
اور ان میں بے غیرتی اور ذلالت دیر سے پیدہ ہوتی ہے
سو اتنی محنت سے بہتر سے کوئی ریڈی میڈ اسکالر حاصل کر کے اسکو تیار کیا جاۓ.

ایک اچھا اور جدید اسلامی اسکالر کیسے تیار ہوتا ہے
اس سوال کا جواب کچھ یوں ملا

دیکھئے حضرت شیطان کی کرپا سے آج کی جدید میڈیای منڈی میں ایسے اسکالرز کی بہت مانگ ہے سو جتنے لوگ فراہم ہو سکیں اتنا ہی اچھا ہے افادہ عام کیلئے کچھ اوصاف بیان کرتا ہوں شیطان ذلالت دے .....

کمینگی اور بےغیرتی تو بنیادی اوصاف ہیں لیکن ابتداء سے انتہاء تک کچھ بنیادی مراحل سے گزرنا ضروری
ہے ..

سب سے پہلے مولویوں کو گالی دینے کی عادت ڈالیں جتنا آپ مولویوں کو گالی دینگے اتنی ہی مشق ہوتی جاۓ گی اور مشق انتہائی ضروری ہے ایسی باتیں کہنے کی صلاحیت پیدہ کریں جن کے دہرے معنی ہوں اگر آپ کو دجل و تلبیس سے کام لینا آ جاوے تو سونے پر سہاگہ ہوگا ....
خوبصورت اور ماڈرن عورتوں کے درمیان زیادہ سے زیادہ وقت گزاریں تاکہ آپ کی پبلک ڈیمانڈ میں اضافہ ہو انتہائی ڈھٹائی اور دوسرے کی انتہائی معقول بات بھی نہ سننا انتہائی ضروری ہے سو ان تمام انتہاؤں کا انتہائی خیال رکھیں ......
شروع شروع میں تمام مولویوں کو شدید فرقہ پرست قرار دیں اور جب لوگ آپ کی باتوں سے مولویوں سے متنفر ہونا شروع ہو جائیں تو اگلے سٹیپ کی تیاری کیجئے ....
ایک بات کا خیال رہے جھوٹ ، مکر ، فریب اور دھوکے کا معیار کبھی نیچے نہ آنے پاۓ یہ آپ کے بنیادی ہتھیار ہیں بلکہ یہ آپ کی چار ٹانگیں ہیں .....

مسلمانوں کے قدیم اختلافی مسائل کو خوب ہوا دیں ایک بار اگر آئمہ کبار اور سلف صالحین سے آپ لوگوں کا اعتماد اٹھانے میں کامیاب ہو جائیں توسمجھئے آپ کو اسلامی اسکالر شپ کی بنیادی ڈگری حاصل ہو گئی .......
یاد رکھئے انکار حدیث آپ کا بنیادی ہتھیار ہے اسکے بغیر آپ کبھی بھی اعلی معیار کے اسلامی اسکالر نہیں بن سکتے اسکی خاص تربیت حاصل کیجئے
" سر جید " سے " علامہ آمدی " تک تمام کا اچھی طرح مطالعہ کیجئے کہیں کھل کر کہیں چھپ کہیں واضح اور کہیں پردوں میں انکار حدیث کرتے رہیں.....

فقہ و حدیث کے بعد اب باری ہے قرآن کی اب آپ کے سامنے ایک کھلا میدان ہے رجم کا انکار کیجئے یا حجاب کی دھجیاں بکھیر دیجئے ننگے مرد و زن معاشرے میں آزادانہ نقل و حرکت کریں یہ آپ کے فن (FUN) کی معراج ہوگی .....
موسیقی پر زور دیں کوشش کریں اسکو حلال ہی نہیں عبادت سمجھا جاوے چند پر کٹی گانے والیاں اور چند سر کھلے گانے والے اپنے ارد گرد جمع رکھیں ....
آپ کا بنیادی ٹارگٹ جدید طبقے کے بے ریش عورت نما نو جوان ہیں جو منہ ٹیڑھا کر کے انگریزی بول سکیں ریشمی لباس میں ملبوس یہ مخلوق آسانی سے گھیرے میں آتی ہے......
اور انکو گھیرے میں رکھنے کیلئے چست لباس جینز بردار کولہے مٹکاتی حسین بچیاں آپ کا سرمایا ہیں .......
چند کھوسٹ قسم کے الحاد پرست ادیب اور چند اپنے دین پر شرمسار گنوار نو دولتیے آپ کی مشہوری کیلئے ضروری ہیں .......

اب آپ بلکل تیار ہیں آپ ہیں ایک
" جدید اسلامی اسکالر " براۓ فروخت

اب اپنے برانڈ بنانے کیلئے کوئی اچھوتا کوئی انوکھا کوئی نرالا حیران کر دینے والا شوشہ چھوڑ دیجئے

یاد رہے
رجم کا انکار
حدیث سے برات
معجزات کی انوکھی تاویلات
حجاب سے گلوخلاصی
نماز ، روزہ ، حج ، زکات ، سب کا تاویلات فاسدہ سے انکار ہو چکا
قربانی کار لاحاصل ٹھہری

کچھ اور کچھ نیا پیش کیجئے
اپنا دماغ لڑائیں
اپنا ذہن لگائیں
سوچیے سوچیے
اور جب شیطان کچھ القاء کرے
تو جان لیں
آپ کا دھندہ چالو ہے

حسیب احمد حسیب

جمعرات، 20 مارچ، 2014

کہاں راجہ بھوج !

کہاں راجہ بھوج !

ایک کہاوت بچپن سے سنتے اۓ ہیں "ایاز حد خود بشناس، کہاں راجہ بھوج کہاں ننوا تیلی.......
ایک صاحب نے ایک فورم میں فرمایا !
غامدی صاحب کام پروفیسر ڈاکٹر حمید اللہ صاحب کی طرز کا کام ھے،،جو ریفیرینس کے طور پر آنے والی صدیوں میں استعمال ھو گا،تب تک ھم عصروں کی فطری اور تاریخی چپقلش بھی دم توڑ چکی ھو گی دوسرا وہ قدیم ھو کر مقدس بھی ھو چکے ھوں گے اور متقدمین کلب کے ممبر بھی بن چکے ھونگے ! یہ کام کم ازکم موجودہ حالات میں عوام میں کبھی بھی پذیرائی نہیں پا سکے گا،،اس کام کو جتنا عوامی کیا جائے گا،،مخالفت اور پروپیگنڈے کی شدت میں اضافہ ھو گا !! یہ بات جناب استاذ غامدی صاحب پورے شعور کے ساتھ سمجھتے ھیں !!
ایک ایسی شخصیت جسکا کا مقام محقق کا ہے اور ایک ایسی شخصیت جو صرف اشکالات اٹھانا جانتی ہے دونوں کا موازنہ کہاں کا انصاف ہے ......
اگر جدید تعلیمی تقابل ہی کیا جاوے تو ایک صاحب سادہ بی اے دوسرے پی ایچ ڈی ایک کی پہچان چند جدید اشکالات دوسرے کا عظیم تحقیقی و علمی کام .......
کہاں جامعہ عثمانیہ حیدرآباد دکن کا نامور سپوت مناظر احسن گیلانی جیسے عظیم محقق کا شاگرد پیرس میں لاکھوں لوگوں کو اسلام کی طرف لانے والا .....
اور کہاں ......
ڈاکٹر اسرار کا نام لیتے ذاکر نائیک کی بات کرتے ڈاکٹر غلام مرتضیٰ ملک مرحوم کا تذکره ہوتا یا ڈاکٹر محمود احمد غازی کی بات ہوتی جسٹس تقی عثمانی کا ذکر ہوتا کوئی علمی مناسبت تو ہوتی جناب .
ایک جگہ پڑھا تھا
" اسلامی تاریخ کے طالبعلموں کے لئے ڈاکٹر حمید اللہ کی شخصیت کسی تعارف کی محتاج نہیں۔ ڈاکٹر صاحب ایک نابغہ روزگار شخصیت تھے کہ جن کی تحقیقی اور دعوت دین کے لئے کی جانے والی خدمات کا مقابل عصر حاضرمیں شاید ہی کوئی مل پائے۔ ڈاکٹر حمیداللہ نے جامعہ عثمانیہ حیدرآباد دکن سے ایم اے، ایل ایل بی کی ڈگریاں حاصل کرنے کے بعد جرمنی کی بون یونیورسٹی سے اسلام کے بین الاقومی قانون پر تحقیقی مقالہ لکھ کر ڈی فل کی ڈگری حاصل کی۔ بعد ازاں فرانس کی سوبورن یونیورسٹی پیرس سے عہد نبوی اور خلافت راشدہ میں اسلامی سفارت کاری پر مقالہ لکھ کر ڈاکٹر آف لیٹرز کی سند پائی۔ جامعہ عثمانیہ کے علاوہ جرمنی اور فرانس کی جامعات میں درس و تدریس کے فرایض انجام دینے کے بعد ڈاکٹر حمیداللہ فرانس کے نیشنل سینٹر آف ساینٹفک ریسرچ سے تقریبا بیس سال تک وابستہ رہے۔ آپ اردو، فارسی، عربی اور ترکی کے علاوہ انگریزی، فرانسیسی، جرمن ، اور اطالوی زبان پر بھی عبور رکھتے تھے۔ آپ کی کتابوں اور مقالات کی تعداد سینکڑوں میں ہے جس میں فرانسیسی زبان میں آپ کا ترجمہ قران ، اور اسی زبان میں‌دو جلدوں میں سیرت پاک ، قران کی بیبلیوگرافی ‘القران فی کل اللسان’ کے علاوہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیاسی زندگی پر محققانہ تصانیف ‘بیٹل فیلڈز محمد صلی اللہ علیہ وسلم ‘ ، ‘مسلم کنڈکٹ آف اسٹیٹ’ اور ‘فرسٹ رٹن کانسٹیٹیوشن’ خاص طور پر قابل ذکر ہیں "
اب اگر غامدی صاحب کا موازنہ کیا جاۓ تو معاملہ ہی دوسرا دکھائی دیتا ہے
انتہائی معذرت کے ساتھ کہیں ابگینوں کو ٹھیس نہ لگے کوئی مجھے یہ بھی بتا دے کہ کون سا فکری کام غامدی صاحب کر رہے ہیں......
چونکہ آپ احباب کا معذرت کے ساتھ مطالعہ نہیں ہے اور جن کا ہے انپر مجھے ضرور حیرت ہے کہ وہ غامدی صاحب کو ڈاکٹر حمید الله خان یا سید مودودی کی صف میں کھڑا کر رہے ہیں آنکھوں نے یہ بھی پڑھنا تھا کبھی سوچا نہ تھا .......
غامدی صاحب کی کوئی بھی تحقیق اپنی نہیں ہے انتہائی معذرت کے ساتھ زیادہ تر چیزیں انہوں نے اپنے استاد امین احسن اصلاحی مرحوم سے مستعار لی ہیں اصلاحی صاحب حقیقت میں بڑے عالم تھے گو انکے بے شمار تفردات بھی ہیں جن سے مجھے اختلاف ہے انکے حقیقی شاگرد ڈاکٹر اسرار مرحوم تھے .....
دوسری شخصیت وحید الدین خان صاحب کی ہے خان صاحب ایک صاحب طرز ادیب ہیں غامدی صاحب نے بہت کچھ خان صاحب سے لیا ہے لیکن وہ اعلی ادبی معیار اور زبان و بیان کی ندرت برقرار نہیں رکھ سکے جو خان صاحب کے ہاں موجود ہے ......
روایات کے حوالے سے پیشتر دلائل غامدی صاحب نے مولانا حبیب الرحمان کاندھلوی صاحب سے مستعار لیے ہیں کافی دلائل من و عن " مذہبی داستانیں اور انکی حقیقت " سے اٹھاۓ گۓ ہیں شاید تحریر میں وہ کاپی رائٹ کے قائل نہیں ہیں .......
اور سب سے عجیب تر بات خاص کر نزول مسیح کے موضوع پر غامدی صاحب کے تمام دلائل غلام احمد قادیانی سے مستعار ہیں کوئی بھی صاحب علم موازنہ کر سکتا ہے ......
معجزات میں غامدی صاحب سر سید کی تفسیر سے استفادہ کرتے دکھائی دیتے ہیں .......
جناب من اگر اسی کو فکری کام کہتے ہیں تو کچھ مشکل نہیں آپ لکھنا جانتے ہیں تو قدیم و جدید اہل علم کی کتابوں سے مواد لیجئے اور اپنے نام سے پیل دیجئے آپ بھی مجدد دوراں اور فقیہ وقت بن جائینگے.....
ایک اور صاحب نے فرمایا !
میرے خیال میں ڈاکٹر حمیداللہ مرحوم کا زیادہ کام فکری نوعیت کا نہیں ہے - ان کا بنیادی کام تاریخ و حدیث پہ ہے - انھوں نے کوئی نئی تشریحات نہیں کی نہ کوئی نیا زاویہ فکر دیا - غامدی صاحب مسلم امت کے مذھبی فکر کی تشکیل نو کر رہے ہیں ..جس کے اثرات بہت وسیع و عمیق ہونگے انشا الله -
لیجئے یہاں کچھ غامدی فکر و تحقیق کے شاہکار ملاحظہ کیجئے
(١) قرآن کی صرف ایک ہی قرأت درست ہے، باقی سب قرأتیں عجم کا فتنہ ہیں (میزان ص 32,26,25، طبع دوم اپریل 2002)
(٢) سنت قرآن سے مقدم ہے (میزان ص 52، طبع دوم اپریل 2002)
(٣) سنت صرف افعال کا نام ہے، اس کی ابتدا حضرت محمدﷺ سے نہیں بلکہ ابراہیم علیہ السلام سے ہوتی ہے (میزان ص 10،65، طبع دوم)
(٤) سنت صرف 27 اعمال کا نام ہے (میزان ص 10، طبع دوم)
(٥) حدیث سے کوئی اسلامی عقیدہ یا عمل ثابت نہیں ہوتا (میزان ص 64 طبع دوم)
(٦) دین کے مصادر و ماخذ قرآن کے علاوہ دین فطرت کے حقائق، سنت ابراہیم اور قدیم صحائف ہیں (میزان ص 48 طبع دوم)
(٧) دین میں معروف و منکر کا تعین فطرت انسانی کرتی ہے (میزان ص 49)
(٨) نبیﷺ کی رحلت کے بعد کسی شخص کو کافر قرار نہیں دیا جاسکتا (ماہنامہ اشراق، دسمبر 2000، ص 55,54)
(٩) زکوٰۃ کا نصاب منصوص اور مقرر نہیں ہے (قانون عبادات، ص 119)
(١٠) اسلام میں موت کی سزا صرف دوجہ ائم (قتل نض، اور فساد فی الارض) پردی جاسکتی ہے (برہان، ص 143، طبع چہارم، جون2006)
غامدی صاحب کے نزدیک مرتد اور شاتم رسول کی سزا موت نہیں ہے
(١١) دیت کا قانون وقتی اور عارضی تھا (برہان ص 19,18، طبع چہارم)
(١٢) شادی شدہ اور کنواری ماں زانی دونوں کے لئے ایک ہی سزا 100 کوڑے ہیں (میزان ص 299، 300 طبع دوم)
(١٣) شراب نوشی پر کوئی شرعی سزا نہیں ہے (برہان ص 138، طبع چہارم)
(١٤) غیر مسلم بھی مسلمانوں کے وارث ہوسکتے ہیں (میزان ص 171، طبع دوم اپریل 2002)
(١٥) سور کی کھال اور چربی وغیرہ کی تجارت اور ان کا استعمال شریعت میں ممنوع نہیں ہے (ماہنامہ اشراق، اکتوبر 1998ء ص 79)
(١٦) عورت کے لئے دوپٹہ یا اوڑھنی پہننا شرعی حکم نہیں (ماہنامہ اشراق، مئی 2002ص 47)
(١٧) بعض انبیاء کرام قتل ہوئے ہیں مگر کوئی رسول کبھی قتل نہیں ہوا (میزان حصہ اول، ص 21، طبع 1985)
(١٨) حضرت عیسٰی علیہ السلام وفات پاچکے ہیں (میزان حصہ اول، 24,23,22 طبع 1985)
(١٩) یاجوج ماجوج اور دجال سے مراد مغربی اقوام ہیں (ماہنامہ اشراق، جنوری 1996ء ص 61)
(یاد رہے کہ یاجوج ماجوج اور دجال قرب قیامت کی نشانیاں ہیں اور یہ دونوں الگ الگ ہیں) جبکہ دجال احادیث کی رو سے یہودی شخص ہے جو بائیں آنکھ سے کانا ہوگا اور اس کی پیشانی پر (ک،ف،ر) لکھا ہوگا جوکہ ہر مومن شخص پڑھ کر اس کو پہچان لے گا
(٢٠) جانداروں کی تصویریں بنانا بالکل جائز ہے (ادارہ الحورد کی کتاب ’’تصویر کا مسئلہ‘‘ ص 30)
(٢١) موسیقی اور گانا بجانا بھی جائز ہے (ماہنامہ اشراق، مارچ 2004 ص 19,8)
(٢٢) عورت مردوں کی امامت کراسکتی ہے (ماہنامہ اشراق، مئی 2005، ص 35تا 46)
(٢٣) اسلام میں جہاد و قتال کا کوئی شرعی حکم نہیں ہے (میزان، ص 264، طبع دوم، اپریل 2002)
(٢٤) کفار کے خلاف جہاد کرنے کا حکم اب باقی نہیں رہا اور مفتوح کافروں سے جزیہ لینا جائز نہیں (میزان ص 270، طبع دوم اپریل 2002)
(٢٥)۔ مسجد اقصیٰ پر مسلمانوں کا نہیں، اس پر صرف یہودیوں کا حق ہے (اشراق جولائی 2003، اور اشراق مئی، جون 2004ئ)
اتنا کچھ کافی ہے یہ معلوم کرنے کیلئے کہ غامدی صاحب کون سی تحقیق فرما رہے ہیں اور انکا مقصود کیا ہے ......
ہیں کواکب کچھ نظر آتے ہیں کچھ
دیتے ہیں دھوکا یہ بازی گر کھلا
حسیب احمد حسیب
 

منگل، 18 مارچ، 2014

دل یہ کرتا ہے نصیحت میں کروں

دل یہ کرتا ہے نصیحت میں کروں

آج فیس بک گردی کرتے ہوے ایک صاحب کی وال پر انکا ایک شر دکھائی دیا اصل میں دکھائی تو شعر دیا لیکن اگر شر بھی کہا جاوے تو نامناسب نہیں ہوگا ملاحظہ کیجئے

کیا ضروری ہے کہ سجدے بھی کروں
ماں کو دیکھا اور عبادت ہو گئی

گو بڑا معصوم اور خوبصورت خیال دکھائی دیتا ہے لیکن اسکے اندر چھپا شر بھی اہل نظر سے پوشیدہ نہیں جانے یا انجانے میں شاعر نے اسلامی عبادات سے جان چھڑانے کی کوشش کی ہے ......
اصل میں یہ وباء ہمارے ہاں کے ادیبوں میں مغرب سے در آئ ہے جو مذہب سے نا آشنا ہے جو کسی خالق کسی مالک کسی آقا اور کسی مولیٰ کو تسلیم نہیں کرتا جہاں صرف سوشل ولفیر کا تصور ہے جو الہیات و عبادات سے یکسر ناواقف ہیں دل کیا, کچھ لکھوں پھر خیال آیا کیوں نہ جواب شعر بزبان شعر کیوں نہ ہو یا یہ کہ لیجئے جواب شر بزبان شعر .......


آپ سے کیا ا ب شکایت میں کروں
دل یہ کرتا ہے نصیحت میں کروں

فرض ہے مجھ پر نہ چھوڑوں میں نماز
حکم ربی ہے عبادت میں کروں

دے نہیں سکتا تیری خدمت کا حق
میری ماں تجھ سے محبت میں کروں

چوم لوں میں پیار سے تیری جبیں
پھر دو سجدے شکر نعمت میں کروں

چھوڑ دوں کیسے میں آقا کےطریق
ان کے اسوہ پر ریاضت میں کروں

اے میرے مالک مجھے توفیق دے
نا کبھی ایسی شرارت میں کروں

حسیب احمد حسیب

اتوار، 16 مارچ، 2014

قطعہ!

قطعہ! 

محتسب کی خیر ہو انصاف کچھ ایسے کیا 
اس نے میرے قتل کا الزام مجھ پر رکھ دیا 

قید میں بھی بادشاہی کا مزہ مجھ کو دیا
تاج کانٹوں کا بنا کر میرے سر پر رکھ دیا

حسیب احمد حسیب

تصویر: ‏قطعہ!  

محتسب کی خیر ہو انصاف کچھ ایسے کیا 
اس نے میرے قتل کا الزام مجھ پر رکھ دیا 

قید  میں  بھی بادشاہی کا مزہ مجھ   کو  دیا
تاج کانٹوں کا بنا کر میرے سر پر رکھ دیا

حسیب احمد حسیب‏