جمعرات، 14 نومبر، 2013

تنقید بر اقبال !

تنقید بر اقبال !


اہم ادبی شخصیات پر تنقید اپنے قد کو بڑھانے کی ناکام کوشش ہوتی ہے جو اکثر نو آموز محقق سر انجام دینے کی کوشش میں انجام پذیر ہو جاتے ہیں..ایسا ہی ایک عجوبہ ایک فورم میں دیکھنے کو ملا جب کلام اقبال کو چند مجھول اقتباسات کی بنیاد پر دریا برد کرنے کی ناکام کوشش کی گئی لیکن سمندر کو دریا برد کرنا ممکن ہے

...
لیجئے اقتباس ملاحظہ کیجے اور پھر اسکا تجزیہ
(٩) نومبر کے حوالے سے خصوصی تحریر _____________________ حضرت علامہ اقبال کی وہ مشہور شاعری جو حقیقت میں ان کی نہیں تھی مگر ہم سب اس غلط فہمی کا شکار ہیں کہ یہ ان کی ہے اور اس جھوٹ کو پاکستانی درسی کتب نے بھی بہت پھیلایا ______________________ اقبال کی نظم "پیام صبح" لانگ فیلو کی نظم" ڈے بریک" کا آزاد ترجمہ ھے اقبال کی نظم "ماں کا خواب " ولیم بارنس کی نظم کا ترجمہ ھے اقبال کی نظم "مکڑا اور مکھی" Mary Haworthکی نظم The Spider and The Fly کا آزاد ترجمہ ہے۔ اصل انگریزی نظم چالیس سطروں ﴿مصرعوں﴾ پر مشتمل ہے۔۔۔۔۔۔۔۔ جب کہ اقبال کا منظوم ترجمہ ۲۴ اشعار پر مشتمل ہے اقبال کا منظوم ترجمہ " رخصت اے بزم جہاں" ایمرسن کی نظم Good Bye کا منظوم ترجمہ ہے اقبال کی نظم "بچے کی دعا" مٹیلڈا بینتھم ایڈورڈس کی نظم ۔ سے لی گئی ھے۔۔"لب پہ آتی ھے دُعا بن کے تمنا میری"۔۔۔ اقبال کی نظم "پرندہ اور جگنو" ﴿۳:۵۹﴾ ولیم کوپر کی نظم The Nightingale And The Glowworm ﴿ کا آزاد ترجمہ ہے۔ یہ ۱۹۰۵ء کے پہلے کی نظم ہے۔ اقبال نے اصل شاعر کا حوالہ نہیں دیا اور نہ دوسرے منظوم ترجموں کی طرح ماخوذ ہونے کی صراحت کی ہے ۔ البتہ مولوی عبدالرزاق نے کلیات اقبال میں لکھا ہے یہ نظم انگلستان کے ایک نازک خیال شاعر" ولیم کوپر" کی ایک مشہور و مقبول نظم " اے نائٹ اینگل اینڈ گلوورم" سے ماخوذ ہے۔ اقبال نے اپنی دونوں نظموں میں ولیم کوپر کی ایک ہی نظم کے خیال کو الگ الگ استعمال کیا ہے، ہمدردی کو ہم ماخوذ قرار دے سکتے ہیں جب کہ "ایک پرندہ اور جگنو" آزاد ترجمہ ہے۔ اس منظوم ترجمہ میں مفہوم کو باقی رکھتے ہوئے لفظی ترجمے سے اجتناب کیا گیا ہے اقبال سے پہلے بانکے بہاری لال نے " حکایت بلبل اور شب تاب کی " اور رحیم اللہ نے بلبل اور جگنو کی حکایت کے عنوان سے منظوم ترجمے کئے تھے۔ بہت شکریہ
اقبال کی دینی فکر ترقی پسندوں کی نگاہ میں کیوں کھٹکتی ہے اسکا جاننا مشکل نہیں اور اسکی وجوہات روز روشن کی طرح عیاں ہیں

حیرت جب ہوتی جب غیر ادیب جو ردیف کی " ر " اور قافیہ کی " ق " کا درک بھی نہ رکھتے ہوں اساتذہ پر تنقید کریں ایاز قدر خویش بہ شناس استفادہ سرقہ اور چربہ میں بنیادی فرق ہےاستفادہ ادب میں جائز ہے بلکہ بعض مقامات پر مستحسن بھی ہے اسی طرح خیال کا توارد ہو جانا بھی کچھ عجیب نہیں ہے

تمنّاؤں میں الجھایا گیا ہوں
کھلونے دے کے بہلایا گیا ہوں
یہ شاعر خمریات ریاض خیر آبادی کا شعر ہے پروین نے اسے اسطرح باندھا ہے

کھلونے پا لیے ہیں میں نے لیکن
مرے اندر کا بچہ مر رہا ہے
اقبال کا کثیر فارسی کلام مولانا روم کے افکار کا ورود ثانی ہے جسمیں تصوف و تزکیہ کی وہی قدیم روح دکھائی دیتی ہے
ہند میں اب نور ہے باقی نہ سوز
اہل دل اس دیس میں ہیں تیرہ روز
تو پیر رومی رحمتہ اللہ علیہ یہ جواب عنائت فرماتے ہیں : کار ِ مرداں روشنی و گرمی است
کارِ دوناں حیلہ و بے شرمی است

لیکن اقبال کا حقیقی وصف اسکا تصور خودی ہے جو اقبال کا غالب کلام ہے اور مغربی ادب خودی کے عنوان سے ناواقف ہے اسی طرف عقل و دل کا موازنہ اقبال کا خاصہ ہے جس سے مغربی ادب جو مادیت پرست معاشروں کی پیدہ وار ہے کلی ناواقف ہے
اقبال کی مدح میں جدید دہریت پسندوں کا ایک بڑا آئ کون کچھ اسطرح رطب السان ہے
(۱۹۳۱
ء میں) گورنمنٹ کالج، لاہور میں منعقدہ ایک مشاعرے میں ’اقبال‘ کے عنوان پر انعامی مقابلے کے لیے فیض نے بھی ایک نظم لکھ کر اقبال کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔ یہ نظم بعد ازاں گورنمنٹ کالج کے ادبی مجلے راوی میں ’اقبال‘ کے عنوان سے شائع ہوئی:
زمانہ تھا کہ ہر فرد انتظارِ موت کرتا تھا
عمل کی آرزو باقی نہ تھی بازوے انساں میں
بساطِ دہر پر گویا سکوتِ مرگ طاری تھا
صداے نوحہ خواں تک بھی نہ تھی اس بزمِ ویراں میں
رگِ مشرق میں خونِ زندگی تھم تھم کے چلتا تھا
خزاں کا رنگ تھا گلزارِ ملت کی بہاروں میں
فضا کی گود میں چپ تھے ستیز انگیز ہنگامے
شہیدوں کی صدائیں سو رہی تھیں کارزاروں میں
سنی واماندئہ منزل نے آوازِ درا آخر
تِرے نغموں نے آخر توڑ ڈالا سحرِ خاموشی
میِ غفلت کے ماتے خوابِ دیرینہ سے جاگ اٹھے
خود آگاہی سے بدلی قلب و جاں کی خودفراموشی
عروقِ مردئہ مشرق میں خونِ زندگی دَوڑا
فسردہ مشتِ خاکستر سے پھر لاکھوں شرر نکلے
زمیں سے نوریاں تک آسماں پرواز کرتے تھے
یہ خاکی زندہ تر ، پائندہ تر ، تابندہ تر نکلے
نبود و بود کے سب راز تو نے پھر سے بتلائے
ہر اک فطرت کو تو نے اس کے امکانات جتلائے
ہر ایک قطرے کو وسعت دے کے دریا کر دیا تو نے
ہر اک ذرّے کو ہمدوشِ ثریا کر دیا تو نے
فروغِ آرزو کی بستیاں آباد کر ڈالیں
زجاجِ زندگی کو آتشِ دوشیں سے بھر ڈالا
طلسم کن سے تیرا نغمۂ جاںسوز کیا کم ہے
کہ تو نے صد ہزار افیونیوں کو مرد کر ڈالا

اگر خیال خاطر احباب نہ ہو اور انیس کے آبگینوں کو ٹھیس لگنے کا اندیشہ نہ ہو تو ترقی پسندوں کے ادبی سرقہ جات کی فہرست طویل ہے لیکن یہ شاید الزامی جواب یا جوابی الزام ہو جاۓ لیکن کیڑے نکالنے والوں کی تنقید پسندی دیکھتے ہوے کچھ ادبی سرقوں کے حوالے سے ایک مضمون کے کچھ اقتباسات پیش کروں
عصمت چغتائی .... عدالت خانم
یادش بخیر آج سے پندرہ بیس سال پہلے اُردو ادب میں نئے ادبی تجربے کئے جا رہے تھے، نئے اسالیب سامنے آرہے تھے اور مغربی اثرات کا غلبہ تھا۔ یورپ کے ادب کے ساتھ ترکی اور عربی ادب کی طرف بھی توجہ دی کی جا رہی تھی۔ اُس دو رمیں کئی ایسی چیزیں لکھی گئیں جن میں ایک نئی فضا تھی۔ مثال کے طور پر امتیاز علی تاج کا ”چچا چھکّن“۔ قاضی عبدالغفار کی کتاب ”لیلیٰ کے خطوط“ اور ”اُس نے کہا“۔ ان کے بعد محترمہ عصمت چغتائی کا ناولٹ ”ضدی“۔ اُردو کے عام پڑھنے والوں نے ان تمام فن پاروں کا خیر مقدم کیا اور انہیں ادب میں قیمتی اضافہ قرار دیا۔ لیکن چھان بین سے پتہ چلا کہ یہ کتابیں تخلیقی کارناموں کی جگہ ترجمہ تھیں۔ یا ان کا مرکزی خیال اور تمام تر جزئیات ماخوذ تھیں۔ مثلاً ”چچا چھکّن“ امتیاز علی تاج کا کارنامہ انگریزی زبان کے مشہور مصنف ”جے کے جے روم“ کا مکمل چربہ تھا۔ چچا چھکّن کا سلسلہ جب تک رسالوں میں شائع ہوتا رہا۔ تاج صاحب نے کہیں اس بات کی طرف اشارہ نہ کیا۔ لیکن جب یہ مضامین کتابی صورت میں شائع ہونے لگے تو تاج صاحب نے مناسب سمجھا کہ دبی زبان سے کہیں ”اصل مصنف“ کا تذکرہ کردیا جائے۔ اسی طرح ”لیلیٰ کے خطوط“ کی تازگی الیگزینڈر کوپرین کے گل تر سے لی گئی تھی۔ ”اُس نے کہا“ کی اشاعت نے قاضی صاحب کے ترجمہ کرنے اور اخذ کرنے کی صلاحیت کا شاندار ثبوت فراہم کیا۔ یہ کتاب ”خلیل جبران“ کی مرہون منت تھی۔ جس کے قاضی صاحب بقول خود ”خوشہ چیں“ تھے مگر انہوں نے ترجمے کو ترجمہ کہنا مناسب نہ سمجھا۔ یہ ”خوشہ چینی“ کا جدید مفہوم ہے!عصمت چغتائی اُردو کے جدید افسانہ کے معماروں میں سے ایک ہیں! ان کے افسانوی نقوش ادب کا قیمتی سرمایہ ہیں! اور اُردو ادب کی تایخ میں عصمت اپنے لئے ممتاز جگہ بنا چکی ہیں۔ ”کلیاں“ اور ”چوٹیں“ کے بعد آج سے بارہ تیرہ سال پہلے عصمت کا ناولٹ ”ضدّی“ شائع ہوا تھا۔ اس ناولٹ کو عصمت کی فنی عظمت کا ثبوت قرار دیا گیا تھا۔ اُس زمانے میں ادبی سراغرساں نے ”ضدّی“ کو بڑے ذوق وشوق سے پڑھا تھا۔ لیکن پڑھ کر اُسے بے حد صدمہ ہوا تھا کیونکہ یہ ناولٹ ترکی کی ناول ”ہاجرہ“ کا مکمل چربہ تھا اور ادبی سراغرساں نے اکتوبر 1943ءکے ”ماہنامہ معاصر“ پٹنہ میں ”ضدّی“ کے متعلق اس انکشاف کو پیش کیا تھا۔ مدتوں بعد پاکستان کے ایک نیم ادبی اور نیم مذہبی رسالے نے ”ضدّی“ سے متعلق اس تحریر کو بغیر کسی حوالے کے شائع کردیا یہ گویا ”انکشافِ جُرم کی دستاویز“ پر ڈاکہ تھا۔ مہر نیمروز 56ءکے پہلے شمارے میں، انتصار حسین صاحب کے بارے میں اسی عنوان کے تحت جو مضمون شائع ہواتو اسکے بارے میں ہمیں بہت خطوط موصول ہوئے۔ ڈاکٹر اعجاز حسین وغیرہ نے اسے ”قابل قدر کام“ قرار دیا۔ ایک محترمہ کا ارشاد ہے کہ ”آپ غریب اور معمولی ادیبوں کے پیچھے کیوں پڑنا چاہتے ہیں۔ اگر آپ میں اخلاقی جرات ہے تو بڑے بڑے مصنفین کے بارے میں لکھئے“....
علی اکبر قاصد
حقیقت یہ ہے کہ اقبال کی ادبی عظمت و جلالت میں گذرتے وقت کے ساتھ اضافہ ہی ہوتا جا رہا ہے اسلئے ناقدین اقبال کی کمزور صف سے محبان اقبال کی مضبوط دیوار زیادہ بہتر ہے

حسیب احمد حسیب
قبیلہ ربیعہ کا مسلمان !

دور صدیق اکبر رض اپنے مشکل ترین حالات کو دیکھ رہا تھا ایک جانب منکرین زکات کی سرکشی تو دوسری طرف سجا ع اور مسیلمہ کی جھوٹی نبوتیں الله کے رسول صل الله علیہ وسلم کا سانحہ ارتحال ہی کیا کچھ کم تھا تاریخ اسلام کی سب سے عظیم ترین شخصیت نے جسطرح اس بار عظیم کو سنبھالا وہ قیامت تک رہنے والے انسانوں پر احسان عظیم ہے ...

عرب دو بڑے قبائلی گروہوں میں منقسم تھا مضر اور ربیعہ قریش کا تعلق مضر سے تھا ربیعہ قبائل وسط عرب میں آباد تھے مسیلمہ کا تعلق ربیعہ سے ہی تھا مورخ لکھتا ہے کہ جب اسلامی افواج گمراہ مدعی نبوت کی افواج کے سامنے ہوئیں تو ایک شام عجیب واقعہ ہوا جسنے انسانی نفسیات اور اسلامی نفسیات دونوں کی پرتوں کو کھول کر رکھ دیا .....
دن بھر کی جنگ کے بعد جب دو متحارب کیمپ آمنے سامنے موجود تھے کچھ اصحاب رسول صلعم چہل قدمی کو نکلے کہ مرتد افواج کے کچھ سپاہیوں سے سامنا ہوا یہاں ایک عجیب مکالمے کا احوال ملتا ہے .......
ایک صحابی رض نے مسیلمہ کی فوج کے ایک شخص کو دیکھا اور پوچھا
اے فلاں کیا تمہارا نام یہ ہے ؟
اس نے کہا جی درست پہچانا یہ ہی ہے
کیا تم وہ نہیں جو بنی حنیفہ کے ٨٠ رکنی وفد میں مدینہ اے تھے ؟
جی میں انہی میں سے ہوں .
کیا تم ایمان نہیں لاۓ تھے ؟
بیشک لایا تھا
کیا تم الله کے رسول صل الله علیہ وسلم کو سچا نبی مانتے ہو ؟
جی بلکل مانتا ہوں
کیا مسیلمہ جھوٹا نبی ہے یہ جانتے ہو ؟
جی ہاں بخوبی جانتا ہوں
صحابی رض نے حیرت سے سوال کیا
اے بندہ خدا پھر یہ کیا عجب معاملہ ہے تم کفر کے لشکر میں کیسے ؟
اس سوال کے جواب میں اسنے جو کچھ کہا بہت عجیب تھا
کہنے لگا " خدا کی قسم ربیعہ کا جھوٹا مجھے مضر کے سچے سے زیادہ محبوب ہے "

آج مجھے ہر طرف ربیعہ کے مسلمان دکھائی دیتے ہیں جو خدا کو مانتے ہیں خدا کے محبوب صلعم پر ایمان رکھتے ہیں کفر کا کفر جانتے ہوے کفر کو کفر ہی سمجھتے ہیں لیکن کیا کیجئے وطنی اور علاقائی عصبیت کیا خوب کہا ہے اقبال مرحوم نے

اس دور میں مے اور ہے ، جام اور ہے جم اور
ساقی نے بنا کی روش لطف و ستم اور

مسلم نے بھی تعمیر کیا اپنا حرم اور
تہذیب کے آزر نے ترشوائے صنم اور

ان تازہ خدائوں میں بڑا سب سے وطن ہے
جو پیرہن اس کا ہے ، وہ مذہب کا کفن ہے

یہ بت کہ تراشیدہ تہذیب نوی ہے
غارت گر کاشانہ دین نبوی ہے

بازو ترا توحید کی قوت سے قوی ہے
اسلام ترا دیس ہے ، تو مصطفوی ہے

نظارہ دیرینہ زمانے کو دکھا دے
اے مصطفوی خاک میں اس بت کو ملا دے

حسیب احمد حسیب

مرنجاں مرنج (خاکہ)

مرنجاں مرنج (خاکہ) ۔ ۔ حسیب احمد حسیب
انحراف ایڈمن انحراف
موصوف کو دیکھتے ہی کسی بھی بھلے مانس کو پہلا مغالطہ یہ لگتا ہے کہ بڑی ہی
"مرنجاں مرنج " شخصیت کے مالک ہونگے لیکن بعد ازاں انکی جانب سے رنج ملنے
شروع ہوتے ہیں تو مرنے کو جی چاہتا ہے ..........
موصوف آپکی زندگی میں باد نسیم کی طرح داخل ہوتے ہیں اور چند ہی دنوں میں باد سموم کا مزہ دیتے ہیں .
انکی
خوبی یہ ہے کہ جتنے زمین کے اوپر ہیں اتنے ہی زمین کے اندر بھی ہیں یہ ان
چند لوگوں میں سے ہیں جنکی زندگی میں ہی لوگ انکی مغفرت کی د عا مانگتے
ہیں کافی پر اعتماد شخصیت پائی ہے اپنے تئیں بہترین افسانہ نگار ہیں لیکن
حقیقت یہ ہے کہ ان جیسے دنیا میں بیشمار ہیں انکی صحت کا یہ عالم ہے کہ
تصویر کھینچو تو ایکسرے آتا ہے ڈاکٹروں کے مطابق انکی ایکسپائری ڈیٹ کب کی
ختم ہو چکی یہ کسی بغیر وارنٹی والے غیر معروف کمپنی کے موبائل کی طرح ہیں
.....
جب یہ کپڑے پہنتے ہیں تو خود کو خوبصورت سمجھتے ہیں ماشا الله
جسمانی ہیت اتنی دلکش ہے کہ کپڑوں میں ہینگر معلوم ہوتے ہیں صوم وصلاة کے
انتہائی پابند ہیں پابندی سے چھوڑتے ہیں .
انکا تعلق شوبز سے ہے اسلئے
شو آف کے بہت شوقین ہیں خوبصورت خواتین کے درمیان ہوں تو نظر بٹو کا کام
دیتے ہیں یہ چشماٹو ہیں آنکھیں بچپن میں ہی کمزور ہو گئیں تھیں وجوہات
قابل بیان نہیں ......
موصوف خواتین کے حقوق کے بہت قائل ہیں انہیں گھر
والی کے علاوہ ہر عورت خوبصورت نظر آتی ہے انہیں شریعت سے بہت لگاؤ ہے
منکرات کے تذکرے پر وجد میں آ جاتے ہیں انکی ایک اور خوبی خود کو ہر فن
مولیٰ سمجھنے کی ہے پہلی بار موٹر سائکل چلانی سیکھی تو نکل پڑے دنیا سیاحت
پر کچھ دیر بعد معلوم پڑا بریک لگانے سے تو واقف ہی نہیں سیدھے قبرستان جا
پوھنچے مہاورتاً نہیں حقیقت میں اور وہاں جاکر پریشان ہو گۓ اور فرمانے
لگے "ارے یہ اتنے سارے سپیڈ بریکر کہاں سے آ گۓ "
موصوف کو دوسروں کی
کڑاہی میں اپنے پکوڑے تلنے کا بہت شوق ہے جہاں چند افراد کو سیخیں بھونتے
دیکھا اپنا بھٹا لیکر پوھنچ جائینگے اور مصر ہونگے اسے بھی بھونا جاۓ.
انکا خاکہ لکھنا خاک اڑانے کے مترادف ہی ہے تو کافی خاک اڑائ جا چکی اب تو بس خاک ڈالنے کی آرزو ہے

" تعریف کی بھوک "

انشائیے پر انحراف کے تخلیقی و تنقیدی پروگرام کے سلسلے میں موصول ہو نے والا محترم حسیب احمد حسیب کا انشائیہ
انحراف ایڈمن انحراف
" تعریف کی بھوک "


انسان پیدائشی بھوکا ہے دنیا میں آتے ہی رو رو کر لوگوں کو متوجہ کرتا ہے " میں بھوکا ہوں ، میں بھوکا ہوں " اسکے اس رونے کو سن کر ماں کی مامتا کو جوش آتا ہے اور اسکی چھاتیوں میں موجود آب حیات کے چشمے ابلنے شروع ہو جاتے ہیں جیسے کوئی اسماعیل (علیہ سلام ) زمین پر ایڑیاں رگڑے اور زمین اپنے بہترین خزانے کو اوپر لا پھینکے اور پھر زم زم ( رک جا ) کی صدائیں بلند کرنا پڑیں ..


جب انسان بلوغت کی حدود میں داخل ہوتا ہے تو ایک اور بھوک سے آشنا ہوتا ہے " جنس کی بھوک " پھر روتا ہے چلاتا ہے حیلے بہانے کرتا ہے آس پاس کے لوگوں کو احساس ہوتا ہے تلاش و تگ و دو شروع ہوتی ہے اور ایک عدد " بر " کا انتظام کیا جاتا ہے اور " ویر میرا گھوڑی چڑھیا " یا " بابلا وے " کی صدائیں بلند ہوتی ہیں ......


اور ایک ہے تعریف کی بھوک اس بھوکے کی بھوک مٹانے کا انتظام کرنے کو کوئی تیار نہیں بلکہ بھوکا بھی اپنی بھوک سے واقف نہیں ہے اور واقف کیا ہو شاید اسے بھوک تسلیم کیا ہی نہیں جاتا .....


تعریف ایک ایسی غذا ہے جو بچپن سے کسی بھی شخص کو ملتی تو ضرور ہے لیکن ناواقفیت کی وجہ سے کہیں بہت زیادہ اور کہیں بہت کم .....


کوئی تعریف سن سن کر بدہضمی کا شکار ہوا پڑا ہے تنقید کو ایسے اگل دیتا ہے جیسے لقمے میں بوٹی کی بجاۓ کوئی چھیچڑا آ جاتے اور کوئی اتنی قلت کا شکار ہے کہ اسے بھولے سے یہ غذا دے دی جاۓ تو ایسے الٹ دے گا جیسے بچے کو پہلی بار اوپر کا دودھ دیا جاۓ تو الٹ دیتا ہے ..


تعریف کی بھوک انسان کے اندر کے ان جذبات کو ابھارتی ہے جو ایندھن کا کام دیتے ہیں انسان کی خوابیدہ صلاحیتیں اپنی توصیف کو سننے کے لیے تخلیق کی طرف مائل ہوتی ہیں شاعر،ادیب ،مصنف ، اداکار غرض کوئی بھی ہو یہ تعریف کی بھوک ہی تو ہے جو اسے تخلیق پر مجبور کرتی ہے ...


کسی مشاعرے میں واہ واہ کی صداؤں میں شاعر کے دوران خون کی بڑھتی ہوئی رفتار اور اسکے نتیجہ میں پیدہ ہونے والی حرکی توانائی سے بننے والی حرارت کا اثر اسکے چہرے کے آئینے پر واضح دیکھا جا سکتا ہے ........


الحمرا میں سٹیج پر کھڑا ہوا فنکار اپنے فن کا مظاہرہ کرتے ہوے لوگوں کی طرف متوجہ تعریف کے چند بولوں کے انتظار میں اتنا ہی بیتاب ہوتا ہے جتنی کوئلوں کے چولہے پر روٹی پکاتی ایک دیہاتن چند جملوں کی منتظر ہوتی ہے تالیوں کی فلک شگاف گونج یا " آج تو صواد آ گیا " کے چند جادو اثر الفاظ اپنے اپنے ظرف کے مطابق ہر دو افراد کی تشفی کر سکتے ہیں......


تعریف جنس ارزاں نہیں کہ لوگوں پر نچھاور کرنی شروع کر دی جاۓ اور نہ ہی جنس نایاب کے کسی گودام میں ذخیرہ کرکے سڑنے کو چھوڑ دی جاۓ ...


یہ غذا کب دینی ہے کس کو دینی ہے کتنی دینی ہے اسکا جاننا ضروری ہے اور کہیں اسکی زیادتی ہو جاۓ تو تنقید کے چورن کی ایک خاص مقدار کہ کہیں زیادتی کی وجہ سے معدہ کا نظام متغیر نہ ہو جاۓ .....


تعریف کی ٹنکی پر خود آگاہی کی گھنٹی ضرور لگی ہو تاکہ اوور فلو ہونے سے پہلے اپنے اپنے ظرف کا اندازہ ہو سکے ..


ہاں ایسا نہ ہو کہ یہ بارٹر ( جنس کے بدلے جنس ) کا کاروبار بن جاۓ اور دسترخوان پر بیٹھے ہر دو افراد برابر کے لقمے بنا بنا کر ایک دوسرے کے منہ میں دیتے چلے جائیں اور کسی کا بھی پیٹ نہ بھرے ..


تعریف کی دعوت ، دعوت عام ہے یہ ہر مدعو کا حق تو ہے کہ اسے اپنے جثے کے مطابق چند لقمے یا پورا خوان ہی مل جاۓ لیکن اسکا خیال بھی ضروری ہے کہ کہیں چند بو الہوسوں کی وجہ سے کچھ ضرورت مند بھوکے نہ رہ جائیں اور کچھ کم ظرفوں کے معدہ کی گرانی باقی لوگوں کے " تنفس " پر بار نہ بن جاۓ ..


تعریف ہمیشہ میٹھی ہوتی ہے یہ پیٹ بھرنے کی چیز نہیں بلکہ زبان کی نوک پر رکھ کر لطف لینے کا معاملہ ہے یہ مٹھاس ہر بار مختلف ہوتی ہے کبھی کسی محفل میں کھائی جانے والی آرٹیفیشل فلیور آئس کریم کی طرح اور کبھی اپنے گھر کے آنگن میں ماں کے ہاتھوں کھلائی جانے والی چوری کی طرح جو ماں کی مامتا کے ساتھ جزو بدن بن جاۓ اور جسم میں خون کے اضافے کا سبب ہو ہاں کبھی کبھی منہ کا ذائقہ تبدیل کرنا بھی اچھا ہے .....


تعریف کی مٹھاس اتنی زیادہ نہ ہو جاۓ کہ " شکر " کا مرض لاحق ہو جاۓ اور پھر اسکی بڑھتی ہوئی زیادتی بطن کے گھلنے کے عمل کا موجب ہو جسکا انجام وجود کی موت ہے ...


یہ ہمیشہ کھانے کی ہی چیز نہیں کھلانے کی چیز بھی ہے کرنے سے کم نہیں ہوتی بانٹنے سے ختم نہیں ہوتی اگر طبیعت میں خساست اور مزاج میں بخیلی نہ ہو تو دوسروں کو بھی شریک کرلینا نظر بد سے بچا سکتا ہے .....


اگر تعریف کا لڈو درکار ہے اور جسم اسکی کمی محسوس کر رہا ہے تو جان لیجئے یہ ایسے نہیں ملنے والا اسکیلئے تخلیق کی اجرت درکار ہے .


حسیب احمد حسیب

ہفتہ، 26 اکتوبر، 2013

یہ مسائل فیس بک !

یہ مسائل فیس بک !

گو اس کتابی چہرے کی دنیا کے مسائل بے  شمار ہیں لیکن  اگر انکا اجمالی خاکہ پیش کیا جاۓ تو شکل کچھ یوں بنے گی .
انفرادی مسائل 

اکاونٹ کیسے بنے گا اکاونٹ سیٹنگز کیا ہونگی پوسٹ کیسے لگے گی پرائیویسی کیسے سیٹ ہوگی وغیرہ وغیرہ .....  

گروہی مسائل 

کسی گروپ میں کیسے ایڈ ہوا جاۓ گروپ معاملات سے کیسے نمٹا جاۓ پوسٹ کسطرح کی لگائی جاۓ وغیرہ وغیرہ ....

پھر ان مسائل کی مختلف پرتیں ہیں مسائل مابین فیس بک انتظامیہ اور صارفین یہاں ہمیشہ فیس بک انتظامیہ ہی غالب رہتی ہے جسکا تلخ ترین تجربہ ماضی قریب میں راقم کو ہو چکا ہے جب بغیر کسی وارننگ اکاونٹ بلاک کر دیا گیا گو اس مضمون میں مقصود دل کے پھپھولے پھوڑنا نہیں ......

کچھ مسائل فیس بک پیجز اور گروپس کو چلانے والے احباب کو بھی درپیش رہتے ہیں یعنی فیس بک صارفین کے مابین گروہی اعتبار سے گروپ ممبر اور اڈمن کا خوب صورت رشتہ بھی قائم ہوتا ہے جو کبھی کبھی خوف صورت ہو جاتا ہے .......

میری پوسٹ کیوں ڈیلیٹ ہوئی 
گروپ اڈمن متعصب ہے 
فلانے صاحب کو گروپ سے نکالا جاۓ 
یہ پوسٹ میری فکر و نظریے کے خلاف ہے 
.............
اکثر گروپس میں اڈمن حضرات ویلین کے رول میں نظر آئینگے اور ممبران مظلوم ہیروئن کی طرح فریاد کرتے ہوے یا پھر ہیرو کی ماں کی طرح دہائیاں دیتے ہوے کبھی کبھی ہیرو کی طرح للکار لگائیںگے 
اوے اڈمنا !  ساڈا حق ایتھے رکھ.

ممبران خود ہی مدعی خود ہی گواہ اور خود ہی منصف ہوتے ہیں 
اور اڈمنان نرے ڈکٹیٹر ......
گروپس میں کبھی  قبضہ مافیا بھی آ جاتی ہے یہ ایک ایک کرکے گروپ میں داخل ہوتے ہیں شریف بچوں کی طرح اور پھر گروپس کو ایسے چمٹتے ہیں کہ جان لے کر ہی چھوڑتے ہیں ....
کبھی گروپس صرف ذاتی پروموشن اور اپنی انا  کی تسکین کے لیے بھی تشکیل دئیے جاتے ہیں ایسے گروپس میں شمولیت اپنے قیمتی وقت کا زیاں یا ضیا ع ہے ہاں فارغ البال حضرات کی کمی نہیں غالب 
............
گو گروپنگ اچھی شے نہیں لیکن فیس بک کی دنیا کا جزو لازم ضرور ہے اچھے گروپ کا انتخاب اچھی بات ہے اور اچھے گروپ کی طرف سے شرف قبولیت ملنا اور بھی اچھی بات ......
گروپ کے مزاج کا سمجھنا اور سمجھنے  کے بعد گروپ مزاج کے مطابق سمجھ سمجھ کر چلنا سمجھداری کا کام ہے باقی آپ خود سمجھدار ہیں .........

حسیب احمد حسیب 
     

بدھ، 29 مئی، 2013

ایک دہریے کی داستان

  "ایک دہریے کی داستان"  

دہریت ایک نظریہ ہونے کے ساتھ ساتھ ایک نفسیاتی کیفیت بھی ہے 
ایک ملحد نرگسیت کا شکار ہوتا ہے ماہرین  نفسیات کے نزدیک نرگسیت ایک ایسی بیماری ہے جس میں انسان خود سے محبت میں مبتلا ہو جاتا ہے اور بعض اوقات نرگسیت عجیب تماشے دکھاتی ہے .........
 امریکہ میں تو ایک خاتون نے حد ہی کر دی ،بتایا گیا ہے کہ 36سالہ ندینہ شیوگرٹ کو خود سے ا تنی محبت تھی کہ اس نے خود سے ہی شادی کر لی،اس سلسلے میں شادی کی باقاعدہ تقریب منعقد کی گئی جس میں ندینہ نے نیلے رنگ کا لباس پہنا اور ہاتھوں میں روایتی گلدستہ بھی اٹھایا تاہم اس شادی میں کوئی دولہا موجود نہیں تھااور 45 کے قریب مہمانوں کے سامنے کھڑے ہو کر ندینہ نے کہا کہ برسوں کسی موزوں انسان کے انتظارکے بعد وہ اس نتیجے پر پہنچی ہے کہ وہ تنہائی میں اور اپنے ساتھ رہنا پسند کرتی ہے ، اسے خود سے محبت ہے اور وہ خود سے شادی کر رہی ہے ، ندینہ نے اپنے آپ کو خود ہی 
انگوٹھی پہنائی اور شادی کے بعد اکیلے ہی ہنی مون پر بھی روانہ ہو گئی۔
انکار حقائق بھی ایک دہریے  کے بنیادی عوارض میں سے ہے  عموم چونکہ مذہب پرست ہوتے ہیں اسلئے ایک دہریہ اپنے مسائل و مصائب سے متاثر ہوکر لامذہبیت میں پناہ ڈھونڈتا ہے .......
گو یہ سوال اٹھایا جا سکتا ہے کہ مسائل و مصائب میں ایک مذہب پرست مذہب کی پناہ ڈھونڈتا ہے ..............
بے شک ایسا ہی ہے لیکن مذہب رد عمل کی نفسیات سے محفوظ رکھتا ہے ایک خالق پر یقین اسکو ایک روحانی طاقت عطا کرتا ہے جو اسے منفی سرگرمی سے محفوظ رکھتی ہے 
ایک لادین تمام مسائل کی جڑ مذہب کو قرار دیکر اپنا پیچھا چھڑا لیتا ہے اور آسانی سے منفی رد عمل کی جانب پلٹتا ہے کیونکہ وہ کسی بھی طرح کی اخلاقی اقدار کا پابند نہیں ہوتا 
دہریت کا یہ سفر شروع کیسے ہوتا اگر اسکو ابتدا سے دیکھا جاۓ تو داستان کچھ اسطرح بنتی ہے ...
وسواسی اجباری اضطراب (Obsessive-compulsive disorder) سے مراد علم نفسیات میں ایسے خلل الدماغ یا مرضِ نفسی کی ہوتی ہے جس میں خصوصیاتِ وسواس (obsession) و اجبار (compulsion) دونوں پائی جاتی ہوں۔ اصل میں ہوتا یوں ہے کہ یہ مرض فی الحقیقت دماغ میں موجود فطرتی افعال کے میانہ روی سے تجاوز کر جانے کے باعث واقع ہوتا ہے؛ انسانی فطرت کے مطابق جب اسے کسی بات پر شک و شبہ محسوس ہو تو وہ اس کی یقین دہانی کے ليے اس کو ایک بار لوٹ کر اپنی تسلی کرتا ہے کہ کوئی غلطی تو نہیں رہ گئی؟ مثال کے طور پر رات سوتے وقت اگر کسی کو شبہ ہو کہ اس نے دورازہ اندر سے مقفل نہیں کیا تو وہ بستر پر لیٹنے سے قبل ایک بار جاکر دروازہ دیکھ کر اسکے بند ہونے کا یقین کرتا ہے؛ یہ ایک فطری عمل ہے۔ لیکن اگر یہی شک و شبہ کی کیفیت حد سے تجاوز کر جاۓ اور ایک بار دیکھ کر واپس بستر تک آنے کے بعد وہ شخص دوبارہ مشکوک ہو جاۓ کہ ؛ آیا دروازہ واقعی بند تھا یا اندھیرے کی وجہ سے وہ درست دیکھ نہیں پایا؟ اور پھر دوبارہ دروازہ بند ہونے کی تصدیق کرنے جاۓ ، واپس آۓ اور پھر شبے میں مبتلا ہو جاۓ کہ؛ آیا دروازہ میں کنڈی درست بند ہوئی تھی یا ڈھیلی رہ گئی؟ اور پھر دوبارہ تصدیق کرنے کو جاۓ تو اس قسم کے بیجا اور حد سے بڑھے ہوئے شک و شبہ کو وسوسہ (obsession) کہا جاتا ہے۔ چونکہ اس وسواس یا وسوسے کی وجہ سے وہ شخص بار بار اسی کام کی تکرار پر نفسیاتی طور پر مجبور ہو جاتا ہے ، حتیٰ کہ اگر وہ خود بھی اس بار بار دہرانے کے عمل سے پریشان ہو جاۓ مگر اسکے باوجود وہ اس تکرار پر خود کو مجبور پاتا ہے اور وسوسے کی وجہ سے پیدا ہونے والی اسی مجبوری کی کیفیت کی وجہ سے اسے اجباری (compulsive) کہا جاتا ہے یعنی وسوسہ اور پھر اس وسوسے سے ہونے والی مجبوری (جبر ، اجبار) کے باھم پائے جانے کی وجہ سے ان اضطرابات کو وسواسی اجباری اضطرابات کہا جاتا ہے۔

ایسی ہی مثال ایک ملحد کی ہے وہ اپنے معاشرتی مسائل کا جب اعلی مذہبی اقدار سے موازنہ کرتا ہے تو تشکیک کا شکار ہوتا ہے یہ ایک ابتدائی بیج ہے آہستہ آہستہ یہ بیج ایک تناور درخت کی شکل اختیار کر لیتا ہے جو اندر ہی اندر جڑ پکڑتا ہے اور اس کا انجام کلی انکار یا انحراف ہوتا ہے 
اٹھارویں صدی کا انگریز فلسفی ہیوم ایک معاملے میں بڑی اہمیت رکھتا ہے اس نے کہا ہے کہ ہر ایسے لفظ کو شک کی نظر سے دیکھنا چاہئے جو کسی ایسی چیز پر دلالت کرتا ہو جسے حسی تجربے میں نہ لیا جا سکے. یعنی وہ چاہتا تھا کہ انسانی زبان و بیان سے ایسے لفظ بھی خارج کردیۓ جائیں جن کا تعلق روحانیت سے ہو...

سی طرح دیکارت نے انسانی وجود کی تعریف ایک مشہور لاطینی فقرے میں یوں کی ہے.

Cogito ergo sum  (I think therefore i am )

“میں سوچتا ہوں” اس لئے میں ہوں”. گویا اس کےنزدیک وجود کا انحصار ذہن پر ہے. 

اب ذرا ایک داستان سنیے...

یہ ایک موروثی مسلمان ہیں (مسیحی ،سکھ یا ہندو بھی ہو سکتے ہیں ) لیکن دینی تعلیمات سے نابلد کمزور یقین کا شکار ہیں انکے نزدیک حقائق صرف وہ ہیں جو ان کی عقل شریف میں سما جائیں .........
ابتدا مجھول قسم کے سوالات سے ہوتی ہے بنیادی دینی تعلیمات سے ناواقف ہونے کے باوجود یہ خود کو ایک عظیم عالم سمجھتے ہیں بلکہ واحد عظیم عالم گو رہتے یہ طالب علم کے بھیس میں ہیں ......
کسی کی ذہنی اور فکری تشنگی دور کرنا ان کے بس کی بات نہیں ہاں یہ سوالات اٹھائینگے اور بیشمار اٹھائینگے لیکن ان تمام سوالات کے جوابات صرف وہی ہونگے جو انکو قبول ہوں .......
یہ سائل کے بھیس میں چھپے ممتحن  ہیں جو آپ کا امتحان لے رہے ہیں اور نتیجہ صرف اور صرف آپ کی ناکامی ہے ...
ابتدا میں یہ ایک چھوٹی بیماری ہوتی ہے یہ مذہب کی تعلیمات میں اہل علم اور اکابرین کی چھوڑ کر حریت فکر کا نعرہ بلند کرینگے پچھلے آثار و قرائن اور اور نظائر سے بالاتر ہوکر مذہب کے بنیادی ماخذ سے لینے کے دعویدار ہونگے ......
سلف کی تحقیق کو پرِ کاہ کی اہمیت نہیں بلکہ سلف انکی عدالت میں سر جھکانے کھڑے ہیں اور یہ فیصلے پر فیصلے سنا رہے ہیں .......

لیکن یہ صرف ابتدا ہے ......
اب انکو بنیادی ماخذات پر ہی اشکال ہوگا اعترضات اٹھاۓ جائینگے کہیں مذہبی قانون (فقہ ) پر سوال اٹھے گا اور پھر براہ راست شارح(حدیث ) پر انگلیاں اٹھ جائینگی .........
گو ابھی تقدس باقی ہے اسلئے براہ راست پیغمبر پر انگلی نہیں اٹھائی گئی مگر کتنی دیر پہلے تعلیمات پیغمبر کے واسطوں کو غلط قرار دیا جاۓ گا تاکہ (کتاب ) سے من مانی تعبیرات نکالی جا سکیں اور اپنی ضرورت اور نفسانی خواہشات کو دین کا نام دیا جا سکے .......
لیکن کتنی ہی تاویل کیوں نہ کرلی جاۓ انکی جدید و عجیب تعبیرات مقبول نہیں انکو ہر جگہ ذلت کا سامنے ہے انکی ہر جگہ سبکی ہوتی ہے .......
یہاں سے رد عمل کی نفسیات کا آغاز ہوگا (کتاب ) کی صحت پر شک ہوگا صاحب کتاب کی شخصیت پر الزامات لگیںگے............لیجئے ایک پکا پکایا ملحد تیار ہے ..........
اب سوال انکار خدا کا ہے ابتدا خدا کو ایک ذہنی اور معاشرتی ضرورت قرار دینے سے ہوگی ان کے نزدیک خدا ایک تصوراتی شے ہے جسکو انسان نے اپنی مطلب براری کے لیے تخلیق کیا ہے ......
یعنی خالق مخلوق اور مخلوق خالق ......

اصل میں یہ ایک عظیم دھوکے کے سوا اور کچھ بھی نہیں .....
دھوکہ کیا ہے ...............
ایک شخص اعلان کر دے میں نے سورج کو مغرب سے نکلتے دیکھا ہے ........
کائناتی اصولوں کے خلاف ہے کوئی بھی تسلیم نہیں کرے گا .......
یہ کائناتی اصول کہاں سے معلوم ہوے........
مسلسل و مستقل مشاہدہ سے ...........
یہ ایک ایسا مشاہدہ ہے جو تمام انسان صدیوں سے کرتے چلے آے ہیں اسلئے سورج کو مشرق سے نکلتے دیکھ لینا ہی ثبوت ہے ............

ایک شخص کھڑے ہو کر اعلان کرے امریکہ نامی کوئی مملکت موجود نہیں ..........
یہ پہلے سے کم تر درجے کی حقیقت ہے لیکن یہ بھی قابل تسلیم ہے ......
کیوں کہ بہت سے لوگوں نے امریکہ کو دیکھا ہے اسکے بارے میں پڑھا ہے اسکے متعلق سنا ہے ......
اب بہت سے ایسے لوگ جنہوں نے امریکہ کو کبھی نہیں دیکھا وہ بھی اس کے ہونے کا یقین رکھتے ہیں گو انھیں مشاہدہ حاصل نہیں ہوا ........

ایک شخص کھڑے ہوکر اعلان کرے ڈائناسور کوئی چیز نہیں .........
اس عظیم الجثہ جاندار کو کسی نے نہیں دیکھا ........
ایک بڑی تعداد اس سے لاعلم ہے ......
ثبوت چند بکھرے ہوے سائنسی حقائق اور بس چند حاصل شدہ فوسلز اور کیا .........
لیکن دنیا اس کو ایسا ہی تسلیم کرتی ہے جیسے سامنے ٹیبل پر رکھی ہوئی کتاب ...........

اب ایک تجزیہ کیجئے ...........
تاریخ انسانی کے ابتدائی دور سے موجودہ دور تک ایک گروہ کثیر .........
فلسفی ،سائنسدان ،نفسیات دان ،مورخ ، ادیب ،شاعر ،لیڈر .......
یعنی عقل و احساس کے مختلف زاویوں سے دیکھنے والے احباب ..........

ایک بادشاہ سے لیکر ایک بھنگی تک ........
رنگ نسل قومیت اور علاقائیت ......
ادوار سے ماورا .........
ایک جدید ترین شہر میں بیٹھا ا علی دماغ شخص .....
یا کسی گھنے جنگل میں پتے باندھے کوئی وحشی .....

یہ سب کیوں ایک اندیکھے خدا کو مانتے ہیں ..........
کیا یہ انسانی فطرت نہیں ........

ایک اصول سمجھ لیں لادین فطرت کے مقابل ہیں اسی لیے ......
ناکام ہیں .........
آپ کے لاۓ ہوے نظام آپکا فلسفہ آپکی فکر ........
انسانیت نے آپ کو قبول کرنے سے انکار دیا ہے ......
اور آپ کا یہ رد ........
ہر دور میں ہر وقت ہر جگہ ہوا ہے .....

کیا اب وہ وقت نہیں آ گیا کہ آپ لوگ اپنی شکست تسلیم کر لیں .....

حق تو یہ ہے انسانیت نے آپ کو مردود کر کے .......
ایک ان دیکھے خدا کو چن لیا ہے .....!
یہ تصور خدا پر سوالات اٹھاتے اشکالات پیدہ کرتے ہیں اور جب انکے بچگانہ سوالات کا جواب علمی انداز میں دیا جاۓ تو اپنی کم عقلی پر بغلیں بجاتے ہیں ....
 اگر تصور خدا کی بات کی جانے اور موضوع تحقیق خدا کی ذات ہو چاہے راستہ کوئی بھی ہو فلسفہ ،سائنس،مذہب یہ پھر وہ فطری احساس جو کسی جنگل بیابان کسی صحرا یہ پھر کسی دور دراز جزیرے میں بیٹھا کوئی تہذیب نا شناس شخص جو اپنی فطری ضرورت سے مجبور ہوکر کسی خدا کا اسیر ہو ،
آخر ہمیں کسی خدا کے ہونے کی حاجت ہی کیوں ہے آخر کیوں نوع انسانی جو کبھی پہاڑوں میں آباد تھی یہ وہ جدید ترین انسان جسنے چاند پر جھنڈا لہرایا تھا کسی خدا کے اسیر ہیں خدا کے ہونے کا یہ احساس کیوں صدیوں کا سفر طے کرتے ہوے آج بھی غالب ترین اکثریت کو اپنے جال میں پھانسے ہوے ہے ،
قوموں قبیلوں جغرافیائی حدود کو پھلانگتا ہوا ادوار کی قید سے آزاد یہ تصور کہ کوئی خدا ہے کیا اک مغالطہ ہی ہے ؟
آخر بے خدا گروہ ہمیشہ انتہائی قلیل ہی کیوں رہا ہے اور انکے ہاں بھی سب سے بڑا تذکرہ خدا ہی رہا ہے
یعنی نا چاہتے ہوے بھی تردید کی راہ سے تذکرہ تو اسی کا ہے 

یہ سوال اک طویل عرصے تک پیش نظر رہا کہ اسکی کیا وجہ ہے نوع انسانی بحثیت مجموعی خدا کے تصور کی قائل رہی ہے ، پھر جب انسانی نفسیات اور اسکے سوچنے کے فطری انداز سے واقفیت ہوئی تو یہ بات آشکار ہوئی کہ انسان عافیت پسند ہے آسانی کی طرف بھاگتا ہے کائنات کے عظیم الشان حقائق اسے اگر آسان اور سادہ انداز میں سمجھا دئیے جائیں تو اسکا دماغ انھیں آسانی سے جذب کر لیتا ہے ،

انسان چیزوں کو انکے تضادات سے پہچانتا ہے سچ کی پہچان جھوٹ کے ہونے سے ہوتی ہے طاقت کمزوری کی وجہ سے جانی جاتی ہے اونچائی کا احساس پستی کی وجہ سے ہوتا ہے حق باطل کے ہونے سے معتبر ہے مثبت منفی سے برآمد ہوتا ہے تیزی کا تعارف آہستگی کی وجہ سے ہوتا ہے مذکر مونث کے ملاپ سے وجود میں آتا ہے خشکی تری کی وجہ سے منفرد ہوتی ہے غرض تضادات اک دوسرے کی پہچان کا موجب ہیں موت کے بغیر حیات کی اہمیت سے واقف ہونا ممکن نہیں !
یہاں اصحاب عقل کی جانب سے یہ سوال اٹھایا جا سکتا ہے کہ عدل کیا ہے جو ان دو متناقص کے درمیان واقع ہوا ہے تو جواب میں ہم کہینگے عدل ضد ہے بے اعتدالی کی اضداد اس کائنات کی سب سے بڑی حقیقت ہیں ،
کسی بھی انسان کے شعور کی دنیا میں قدم رکھتے ہی اسکو سب سے پہلی واقفیت اضداد سے ہی ہوتی ہے یہ اک ایسی حقیقت ہے جس سے ہر سوچنے والی مخلوق واقف اور ہر شعور رکھنے والا اسکا قائل ہے ،
انسان اپنی اسی فطری صلاحیت کے تحت کسی خالق کو تسلیم کرتا ہے اگر مخلوق موجود ہے اپنی تمام تر حدود و قیود اور کمزوریوں اور خامیوں کے ساتھ تو پھر لازم ہے اسکی مکمّل ضد خالق کا ہونا اپنی تمام خوبیوں لامحدودیت اپنی پوری قوت اور شان کے ساتھ 

مذاہب کو ماننے والی کثیر خلقت خالق و مخلوق کے سادہ ترین تعلق سے واقف ہے ہم کہ سکتے ہیں کہ علما مذاہب کے مابین خالق کی بابت بہت سے اختلافات موجود ہیں لیکن اک عام مذہبی آدمی سادہ ترین شکل میں جانتا ہے کہ اک ایسی عظیم الشان قوت جو اسکی احتیاجات کو پورا کرتی ہے دور و قریب سے اسکی التجاؤں کو سنتی ہے وہ پر یقین ہے اک ایسے وجود کے ہونے کا جو اس کا آخری سہارا ہو سکتا ہے ،
اور یہ فلسفہ اسے کسی مکتب میں نہیں پڑھایا گیا بلکہ وہ خالق کے ہونے کو ایسے ہی جانتا ہے جیسے اپنے ہونے سے واقف ہے ،
علما مذاہب خالق کے ہونے کی مختالب تعبیرات پیش کرتے ہیں اور یہیں سے مذہبی مباحیث کا آغاز ہوتا ہے اس بات میں کوئی شک نہیں کہ ان تعبیرات میں سے اک صحیح ترین تعبیر بھی ہوگی جو حق سے قریب تر بھی ہوگی لیکن وہ اسوقت موضوع بحث نہیں حاصل گفتگو یہ ہے کہ خدا شناس لوگ اک اصل پر متفق ہیں اور وہ ہے کسی خالق کا ہونا اور اسکا سادہ ترین ضابطے میں مخلوق سے متعلق ہونا !


اک جانا پہچانا اصول یہ ہے کہ خالق کو اسکی تخلیق سے پہچانا جانے آج جدید سائنس ترقی کرکے اس مقام تک آپوھنچی ہے کہ آپکے دستخط سے آپکی شخصیت کی پرتوں کو کھولا جا سکتا ہے ،
اگر کسی کو شاعری درک حاصل ہو تو اسکے سامنے اقبال کا کوئی شعر غالب کے نام سے نقل کردیجئے فورن پہچان لیا جانے گا شاعر کے الفاظ ہونگے "میاں یہ غالب کا رنگ نہیں " کسی شاعر کا مخصوص رنگ کسی مصنف کا مخصوص طرز تحریر یہ کسی مصور کی تخلیق کا منفرد انداز ،
گھریلو خواتین کا ہی مشاہدہ کیجئے مختلف خواتین کے ہاتھ کے کھانوں کا ذائقہ الگ ہوتا انہی اجزاء سے بنی چاۓ الگ مزہ کیوں دیتی ہے روٹی کا نقشہ پکانے والے کی پہچان کیوں کروا دیتا ہے !
ذات خدا وندہ منبع ہے تمام جذبات احساسات اور ان تمام صفات کی جو مخلوقات کو بہت ادنا درجے میں عطا ہوئی ہیں اور خاص طور پر انسان جسے "خلیفہ " قرار دیا جاتا ہے جسکے بارے میں الہامی کتب میں ملتا ہے اسے خدا نے اپنے ہاتھ سے تخلیق کیا ہے بلاشبہ غضب ،محبت ،دوستی ،دشمنی یہ سارے جذبات اور سب سے بڑھ کر صفات تخلیق خدا کی صفات کا پرتو ہیں لیکن کہاں وہ ذات جہاں سے تمام صفات کی ابتداء ہوتی ہے اور کہاں وہ مخلوق جسکو عارضی طور پر کچھ صلاحیتوں سے مزین کیا گیا ہو !
پس معلوم ہوا کہ انسان کی خواہش بادشاہت کی ہمیشہ زندہ رہنے کی آرزو زمان و مکان کی قید سے چھٹکارا حاصل کرنے کی لاحاصل کوششیں اور سب کچھ جان لینے کی خلش !
کوئی کیسے کہ سکتا ہے کہ انسان اپنی صفات کی روشنی میں خدا تخلیق کرتا ہے ہاں قیاس کے تمام زاویے اس حقیقت تک رہنمائی کرتے ہیں کہ خدا کی صفات کا ادنی سا پرتو انسان پر پڑا ہے !


ہم کون ہیں 
کہاں سے آے
کسلئیے آے 
ہماری ابتدا کیا ہے 
اور انتہا کیا ہے 
ان تمام سوالات کا جواب داستان دہریت میں کہیں نہیں ملتا ..........
اسکی ابتدا شک ہے 
اسکی انتہا ریب ہے 

اور یہ انجام ہے ایسے شخص کا جو لاریب کا منکر ہے
یہ سوالات اٹھاتا ہے جواب کوئی نہیں 
یہ مسائل کھڑے کرتا ہے حل کوئی نہیں 
یہ ایک ایسی مادی مشین ہے جو حواس خمسہ میں مقید ہو کر کائناتی حقائق کو کھولنے کا دعوے دار ہے ..

ہم کہ سکتے ہیں کہ دہریت کوئی علمی یا فکری چیز نہیں بلکہ ایک نفسیاتی عارضہ ہے 
اور یہ لوگ فتوی کے نہیں علاج کے مستحق ہیں .......

حسیب احمد حسیب  



!کیا آئین کے اسلامی ہونے سے ریاست مسلمان ہو جاتی ہے!

  • کیا آئین کے اسلامی ہونے سے ریاست مسلمان ہو جاتی ہے !

  • اگر آئین کے مسلے کو آسان مثال سے سمجھیں تو معاملہ کچھ یوں بنتا ہے ....
    جب ہم شخص واحد کی بات کرتے ہیں تو اسکے لیے آئین کلمہ طیبہ ہے  لَا اِلَہَ اِلّا اللّٰہُ مُحَمَّدُ رَّسُولُ اللّٰہِ "اللّٰہ کو سوا کوئی عبادت کو لائق نہیں، محمد ( صلی اللّٰہ علیہ وسلم) اللّٰہ کے رسول ہیں" ہے اب الله کی حاکمیت اور الله کے رسول  صلی اللّٰہ علیہ وسلم کا قانون تسلیم کر لینے کے بعد اسپر کچھ عبادات لازم ہو جاتی ہیں 
     جیسا کہ صحیح بخاری وصحیح مسلم  کی روایت میں ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی  ہے۔
    "بنی الإسلام علی خمس؛ شھادۃ أن لا إلہ إلا اللہ و أن محمدا رسول اللہ، و إقام الصلاۃ و إیتاء الزکاۃ وصوم رمضان وحج البیت"
     اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر  رکھی  گئی ہے:
    ۱۔ اس بات کی گواہی دینا کہ اللہ کے علاوہ  کوئی سچا معبود  نہیں اور یہ کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول  ہیں۔
    ۲۔  نماز قائم   کرنا ۔
    ۳۔ زکاۃ ادا کرنا۔
    ۴۔ ماہ رمضان کا روزہ رکھنا   ۔
    ۵۔ خانۂ کعبہ  کا حج کرنا ۔

    اب یہ شخص ان تمام عبادات کو ترک کر دے بلکہ انپر زور آور ہو جاۓ اور کھلے عام انکی مخالفت کرے تو اسکو طغیان کہیںگے اور یہ باغیانہ عمل اسکے اسلام کو فاسد کر دے گا !

    ایسا ہی معاملہ ریاستوں کا ہے کسی ریاست میں حاکمیت اعلی الله کی اور قانون قرآن و سنت کا ہے لیکن عمل اسکے بر عکس ہے تو کیا حکم لگے گا .......
    اب مسلے کی اور وضاحت کرتے ہیں "جب اشخاص کلمہ پڑھتے ہیں تو انپر عبادات لازم ہو جاتی ہیں اور جب ریاستیں کلمہ پڑھتی ہیں تو انپر حدود لازم ہو جاتی ہیں "
    ڈاکٹر عبدالعزیز عامر نے اپنی تالیف ”التعزیر فی الشریعة الاسلامیہ “میں صرف سات جرائم کو قابل حد قرار دیا ہے ۔ (التعزیرفی الشریعة الاسلامیة۔ ص 13)لیکن جن جرائم کے حدود ہونے پر جمہور فقہاء کا اتفاق ہے وہ سب قرآن پاک سے ثابت ہیں۔
    .1زنا کی حد کا ثبوت سورة النور کی آيت نمبر2میں ہے۔
    .2 تہمت کی حدکا ثبوت سورة النور کی آیت نمبر 4میں ہے۔
    . 3 راہزنی کی حدسورة المائدة کی آیت نمبر 34-33 میں ہے۔
    .4 چوری کی حدسورة المائدة کی آیت نمبر 38 میں ہے۔
    .5 شراب نوشی کی حد سورة المائدة کی آیت نمبر 90 میں ہے۔
    .6 باغی کی حد سورة الحجرات کی آیت نمبر 9 میں ہے۔
    .7مرتد کی حد سورة البقرة کی آیت نمبر 217 میں ہے۔

    حضرت شاہ ولی اللہ  لکھتے ہیں” بعض معاصی کے ارتکاب پر شریعت نے حد مقرر کی ہیں۔ یہ وہی معاصی ہیں جن کے ارتکاب سے زمین پر فساد پھیلتاہے۔ نظامِ  تمدن میں خلل پیدا ہوتا ہے اور مسلم معاشرے کی طمانیت اور سکون ِقلب رخصت ہو جاتاہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ وہ معاصی کچھ اس قسم کی ہوتی ہیں کہ دو چار بار ان کا ارتکاب کرنے سے ان کی لت پڑ جاتی ہے۔ ا ور پھر ان سے پیچھا چھڑانا مشکل ہو جاتا ہے۔ اس طرح کی معاصی میں محض آخرت کے عذاب کا خوف دلانا اور نصیحت کرنا کافی نہیں ہوتا۔ بلکہ ضروری ہے کہ ایسی عبرتناک سزامقر ر کی جائے کہ اس کا مرتکب ساری زندگی کے ليے معاشرے میں نفرت کی نگاہ سے دیکھا جائے اور سوسائٹی کے دیگر افراد کے لیے سامانِ عبرت بنا رہے۔ اور اسکے انجام کو دیکھ کر بہت کم لوگ اس قسم کے جرم کی جرا ت کریں“ ۔
        (حجة اللہ البالغہ ، شاہ ولی اللہ دہلوی۔ ج 2 ص 158 )

    اب ایک ایسا معاشرہ جہاں حدود الله کا نفاذ تو دور کو بات انکی باقاعدہ پامالی ہو رہی ہو اور انکے خلاف قوانین نافذ ہوں جنکو ریاست کی مکمل سپورٹ حاصل ہو تو لاکھ اسلامی آئین کی بات کیجئے ریاست کے کافر ہونے میں کوئی شبہ نہیں رہ جاتا !

    اب ریاست پاکستان کو دیکھیں یہاں باقاعدہ سودی نظام رائج ہے فحاشی کے ادارے فلم انڈسٹری کی شکل میں موجود ہیں شرک و بدعات کو باقاعدہ ریاستی سپرستی حاصل ہے حدود ساقط ہیں کفر کی چاکری ہو رہی ہے اور لوگوں کی جانیں اور اموال محفوظ نہیں ان تمام حالات میں آئین کی چند شقیں کیا کسی ریاست کو اسلامی قرار دینے کے لیے کافی ہو سکتی ہیں "

    بقول ڈاکٹر محمود احمد غازی کے:

    "اسلامی نظام میں ریاست اور دین مذہب اور سلطنت دونوں ساتھ ساتھ چلتے ہیں، دونوں ایک دوسرے کی تکمیل کرتے ہیں دونوں ایک دوسرے کے مددگار ہیں، دونوں کے تقاضے ایک دوسرے سے پورے ہوتے ہیں، چناںچہ ماوردی نے یہ بات لکھی ہے کہ جب دین کمزور پڑتا ہے تو حکومت بھی کمزور پڑ جاتی ہے اورجب دین کی پشت پناہ حکومت ختم ہوتی ہے تو دین بھی کمزور پڑ جاتا ہے، اس کے نشانات مٹنے لگتے ہیں۔
    (محاضراتِ شریعت :ص287)"

    اپنے سلسلہ مضامین ’’اسلامی ریاست‘‘ میں اسلام کی سیاسی تعلیمات پر روشنی ڈالتے ہوئے جناب سید ابوالا علیٰ مودودیؒ لکھتے ہیں:

    ’’ (حاکمیت الہٰ کے ) اصل الاصول کی بنا پر قانون سازی کا حق انسان سے سلب کرلیا گیا ہے۔ کیونکہ انسان مخلوق اور رعیت ہے۔ بندہ اور محکوم ہے، اور اس کا کام صرف اس قانون کی پیروی کرنا جو مالک الملک نے بنایا ہو۔ البتہ قانونِ الہٰی کی حدود کے اندر استنباط واجتہاد سے تفصیلات فقہی مرتب کرنے کا معاملہ دوسرا ہے۔ جس کی اجازت ہے۔ نیز جن امور میں اللہ اور اس کے رسول نے کوئی صریح حکم نہ دیا ہو، ان میں روح شریعت اور مزاجِ اسلام کو ملحوظ رکھتے ہوئے قانون بنانے کا حق اہلِ ایمان کو حاصل ہے۔ کیونکہ ایسے امور میں کسی صریح حکم کا نہ ہونا بجائے خود یہ معنی رکھتا ہے کہ ان کے متعلق ضوابط واحکام مقرر کرنے کا حق اہلِ ایمان کو دے دیا گیا ہے۔ لیکن جو بنیادی بات سامنے رکھنے کی ہے وہ یہ ہے کہ اللہ کے قانون کو چھوڑ کر جو شخص یا ادارہ خود کوئی قانون بناتا ہے یا کسی دوسرے کے بنائے ہوئے قانون کو (برحق) تسلیم کرکے اس کے مطابق فیصلہ کرتا ہے وہ طاغوت وباغی اور خارج ازاطاعتِ حق ہے اور اس سے فیصلہ چاہنے والا اور اس کے فیصلہ پر عمل کرنے والا بھی بغاوت کا مجرم ہے۔"

    جب تک دین کسی کے بدن میں اتر کر اسکے اعمال کو اپنے مطابق نہیں بنا لیتا "اسلامی " کا لاحقہ اسکے نام کے ساتھ لگا دینا  اسکو کوئی نفع نہیں پھنچا سکتا  !