ہفتہ، 26 اکتوبر، 2013

یہ مسائل فیس بک !

یہ مسائل فیس بک !

گو اس کتابی چہرے کی دنیا کے مسائل بے  شمار ہیں لیکن  اگر انکا اجمالی خاکہ پیش کیا جاۓ تو شکل کچھ یوں بنے گی .
انفرادی مسائل 

اکاونٹ کیسے بنے گا اکاونٹ سیٹنگز کیا ہونگی پوسٹ کیسے لگے گی پرائیویسی کیسے سیٹ ہوگی وغیرہ وغیرہ .....  

گروہی مسائل 

کسی گروپ میں کیسے ایڈ ہوا جاۓ گروپ معاملات سے کیسے نمٹا جاۓ پوسٹ کسطرح کی لگائی جاۓ وغیرہ وغیرہ ....

پھر ان مسائل کی مختلف پرتیں ہیں مسائل مابین فیس بک انتظامیہ اور صارفین یہاں ہمیشہ فیس بک انتظامیہ ہی غالب رہتی ہے جسکا تلخ ترین تجربہ ماضی قریب میں راقم کو ہو چکا ہے جب بغیر کسی وارننگ اکاونٹ بلاک کر دیا گیا گو اس مضمون میں مقصود دل کے پھپھولے پھوڑنا نہیں ......

کچھ مسائل فیس بک پیجز اور گروپس کو چلانے والے احباب کو بھی درپیش رہتے ہیں یعنی فیس بک صارفین کے مابین گروہی اعتبار سے گروپ ممبر اور اڈمن کا خوب صورت رشتہ بھی قائم ہوتا ہے جو کبھی کبھی خوف صورت ہو جاتا ہے .......

میری پوسٹ کیوں ڈیلیٹ ہوئی 
گروپ اڈمن متعصب ہے 
فلانے صاحب کو گروپ سے نکالا جاۓ 
یہ پوسٹ میری فکر و نظریے کے خلاف ہے 
.............
اکثر گروپس میں اڈمن حضرات ویلین کے رول میں نظر آئینگے اور ممبران مظلوم ہیروئن کی طرح فریاد کرتے ہوے یا پھر ہیرو کی ماں کی طرح دہائیاں دیتے ہوے کبھی کبھی ہیرو کی طرح للکار لگائیںگے 
اوے اڈمنا !  ساڈا حق ایتھے رکھ.

ممبران خود ہی مدعی خود ہی گواہ اور خود ہی منصف ہوتے ہیں 
اور اڈمنان نرے ڈکٹیٹر ......
گروپس میں کبھی  قبضہ مافیا بھی آ جاتی ہے یہ ایک ایک کرکے گروپ میں داخل ہوتے ہیں شریف بچوں کی طرح اور پھر گروپس کو ایسے چمٹتے ہیں کہ جان لے کر ہی چھوڑتے ہیں ....
کبھی گروپس صرف ذاتی پروموشن اور اپنی انا  کی تسکین کے لیے بھی تشکیل دئیے جاتے ہیں ایسے گروپس میں شمولیت اپنے قیمتی وقت کا زیاں یا ضیا ع ہے ہاں فارغ البال حضرات کی کمی نہیں غالب 
............
گو گروپنگ اچھی شے نہیں لیکن فیس بک کی دنیا کا جزو لازم ضرور ہے اچھے گروپ کا انتخاب اچھی بات ہے اور اچھے گروپ کی طرف سے شرف قبولیت ملنا اور بھی اچھی بات ......
گروپ کے مزاج کا سمجھنا اور سمجھنے  کے بعد گروپ مزاج کے مطابق سمجھ سمجھ کر چلنا سمجھداری کا کام ہے باقی آپ خود سمجھدار ہیں .........

حسیب احمد حسیب 
     

بدھ، 29 مئی، 2013

ایک دہریے کی داستان

  "ایک دہریے کی داستان"  

دہریت ایک نظریہ ہونے کے ساتھ ساتھ ایک نفسیاتی کیفیت بھی ہے 
ایک ملحد نرگسیت کا شکار ہوتا ہے ماہرین  نفسیات کے نزدیک نرگسیت ایک ایسی بیماری ہے جس میں انسان خود سے محبت میں مبتلا ہو جاتا ہے اور بعض اوقات نرگسیت عجیب تماشے دکھاتی ہے .........
 امریکہ میں تو ایک خاتون نے حد ہی کر دی ،بتایا گیا ہے کہ 36سالہ ندینہ شیوگرٹ کو خود سے ا تنی محبت تھی کہ اس نے خود سے ہی شادی کر لی،اس سلسلے میں شادی کی باقاعدہ تقریب منعقد کی گئی جس میں ندینہ نے نیلے رنگ کا لباس پہنا اور ہاتھوں میں روایتی گلدستہ بھی اٹھایا تاہم اس شادی میں کوئی دولہا موجود نہیں تھااور 45 کے قریب مہمانوں کے سامنے کھڑے ہو کر ندینہ نے کہا کہ برسوں کسی موزوں انسان کے انتظارکے بعد وہ اس نتیجے پر پہنچی ہے کہ وہ تنہائی میں اور اپنے ساتھ رہنا پسند کرتی ہے ، اسے خود سے محبت ہے اور وہ خود سے شادی کر رہی ہے ، ندینہ نے اپنے آپ کو خود ہی 
انگوٹھی پہنائی اور شادی کے بعد اکیلے ہی ہنی مون پر بھی روانہ ہو گئی۔
انکار حقائق بھی ایک دہریے  کے بنیادی عوارض میں سے ہے  عموم چونکہ مذہب پرست ہوتے ہیں اسلئے ایک دہریہ اپنے مسائل و مصائب سے متاثر ہوکر لامذہبیت میں پناہ ڈھونڈتا ہے .......
گو یہ سوال اٹھایا جا سکتا ہے کہ مسائل و مصائب میں ایک مذہب پرست مذہب کی پناہ ڈھونڈتا ہے ..............
بے شک ایسا ہی ہے لیکن مذہب رد عمل کی نفسیات سے محفوظ رکھتا ہے ایک خالق پر یقین اسکو ایک روحانی طاقت عطا کرتا ہے جو اسے منفی سرگرمی سے محفوظ رکھتی ہے 
ایک لادین تمام مسائل کی جڑ مذہب کو قرار دیکر اپنا پیچھا چھڑا لیتا ہے اور آسانی سے منفی رد عمل کی جانب پلٹتا ہے کیونکہ وہ کسی بھی طرح کی اخلاقی اقدار کا پابند نہیں ہوتا 
دہریت کا یہ سفر شروع کیسے ہوتا اگر اسکو ابتدا سے دیکھا جاۓ تو داستان کچھ اسطرح بنتی ہے ...
وسواسی اجباری اضطراب (Obsessive-compulsive disorder) سے مراد علم نفسیات میں ایسے خلل الدماغ یا مرضِ نفسی کی ہوتی ہے جس میں خصوصیاتِ وسواس (obsession) و اجبار (compulsion) دونوں پائی جاتی ہوں۔ اصل میں ہوتا یوں ہے کہ یہ مرض فی الحقیقت دماغ میں موجود فطرتی افعال کے میانہ روی سے تجاوز کر جانے کے باعث واقع ہوتا ہے؛ انسانی فطرت کے مطابق جب اسے کسی بات پر شک و شبہ محسوس ہو تو وہ اس کی یقین دہانی کے ليے اس کو ایک بار لوٹ کر اپنی تسلی کرتا ہے کہ کوئی غلطی تو نہیں رہ گئی؟ مثال کے طور پر رات سوتے وقت اگر کسی کو شبہ ہو کہ اس نے دورازہ اندر سے مقفل نہیں کیا تو وہ بستر پر لیٹنے سے قبل ایک بار جاکر دروازہ دیکھ کر اسکے بند ہونے کا یقین کرتا ہے؛ یہ ایک فطری عمل ہے۔ لیکن اگر یہی شک و شبہ کی کیفیت حد سے تجاوز کر جاۓ اور ایک بار دیکھ کر واپس بستر تک آنے کے بعد وہ شخص دوبارہ مشکوک ہو جاۓ کہ ؛ آیا دروازہ واقعی بند تھا یا اندھیرے کی وجہ سے وہ درست دیکھ نہیں پایا؟ اور پھر دوبارہ دروازہ بند ہونے کی تصدیق کرنے جاۓ ، واپس آۓ اور پھر شبے میں مبتلا ہو جاۓ کہ؛ آیا دروازہ میں کنڈی درست بند ہوئی تھی یا ڈھیلی رہ گئی؟ اور پھر دوبارہ تصدیق کرنے کو جاۓ تو اس قسم کے بیجا اور حد سے بڑھے ہوئے شک و شبہ کو وسوسہ (obsession) کہا جاتا ہے۔ چونکہ اس وسواس یا وسوسے کی وجہ سے وہ شخص بار بار اسی کام کی تکرار پر نفسیاتی طور پر مجبور ہو جاتا ہے ، حتیٰ کہ اگر وہ خود بھی اس بار بار دہرانے کے عمل سے پریشان ہو جاۓ مگر اسکے باوجود وہ اس تکرار پر خود کو مجبور پاتا ہے اور وسوسے کی وجہ سے پیدا ہونے والی اسی مجبوری کی کیفیت کی وجہ سے اسے اجباری (compulsive) کہا جاتا ہے یعنی وسوسہ اور پھر اس وسوسے سے ہونے والی مجبوری (جبر ، اجبار) کے باھم پائے جانے کی وجہ سے ان اضطرابات کو وسواسی اجباری اضطرابات کہا جاتا ہے۔

ایسی ہی مثال ایک ملحد کی ہے وہ اپنے معاشرتی مسائل کا جب اعلی مذہبی اقدار سے موازنہ کرتا ہے تو تشکیک کا شکار ہوتا ہے یہ ایک ابتدائی بیج ہے آہستہ آہستہ یہ بیج ایک تناور درخت کی شکل اختیار کر لیتا ہے جو اندر ہی اندر جڑ پکڑتا ہے اور اس کا انجام کلی انکار یا انحراف ہوتا ہے 
اٹھارویں صدی کا انگریز فلسفی ہیوم ایک معاملے میں بڑی اہمیت رکھتا ہے اس نے کہا ہے کہ ہر ایسے لفظ کو شک کی نظر سے دیکھنا چاہئے جو کسی ایسی چیز پر دلالت کرتا ہو جسے حسی تجربے میں نہ لیا جا سکے. یعنی وہ چاہتا تھا کہ انسانی زبان و بیان سے ایسے لفظ بھی خارج کردیۓ جائیں جن کا تعلق روحانیت سے ہو...

سی طرح دیکارت نے انسانی وجود کی تعریف ایک مشہور لاطینی فقرے میں یوں کی ہے.

Cogito ergo sum  (I think therefore i am )

“میں سوچتا ہوں” اس لئے میں ہوں”. گویا اس کےنزدیک وجود کا انحصار ذہن پر ہے. 

اب ذرا ایک داستان سنیے...

یہ ایک موروثی مسلمان ہیں (مسیحی ،سکھ یا ہندو بھی ہو سکتے ہیں ) لیکن دینی تعلیمات سے نابلد کمزور یقین کا شکار ہیں انکے نزدیک حقائق صرف وہ ہیں جو ان کی عقل شریف میں سما جائیں .........
ابتدا مجھول قسم کے سوالات سے ہوتی ہے بنیادی دینی تعلیمات سے ناواقف ہونے کے باوجود یہ خود کو ایک عظیم عالم سمجھتے ہیں بلکہ واحد عظیم عالم گو رہتے یہ طالب علم کے بھیس میں ہیں ......
کسی کی ذہنی اور فکری تشنگی دور کرنا ان کے بس کی بات نہیں ہاں یہ سوالات اٹھائینگے اور بیشمار اٹھائینگے لیکن ان تمام سوالات کے جوابات صرف وہی ہونگے جو انکو قبول ہوں .......
یہ سائل کے بھیس میں چھپے ممتحن  ہیں جو آپ کا امتحان لے رہے ہیں اور نتیجہ صرف اور صرف آپ کی ناکامی ہے ...
ابتدا میں یہ ایک چھوٹی بیماری ہوتی ہے یہ مذہب کی تعلیمات میں اہل علم اور اکابرین کی چھوڑ کر حریت فکر کا نعرہ بلند کرینگے پچھلے آثار و قرائن اور اور نظائر سے بالاتر ہوکر مذہب کے بنیادی ماخذ سے لینے کے دعویدار ہونگے ......
سلف کی تحقیق کو پرِ کاہ کی اہمیت نہیں بلکہ سلف انکی عدالت میں سر جھکانے کھڑے ہیں اور یہ فیصلے پر فیصلے سنا رہے ہیں .......

لیکن یہ صرف ابتدا ہے ......
اب انکو بنیادی ماخذات پر ہی اشکال ہوگا اعترضات اٹھاۓ جائینگے کہیں مذہبی قانون (فقہ ) پر سوال اٹھے گا اور پھر براہ راست شارح(حدیث ) پر انگلیاں اٹھ جائینگی .........
گو ابھی تقدس باقی ہے اسلئے براہ راست پیغمبر پر انگلی نہیں اٹھائی گئی مگر کتنی دیر پہلے تعلیمات پیغمبر کے واسطوں کو غلط قرار دیا جاۓ گا تاکہ (کتاب ) سے من مانی تعبیرات نکالی جا سکیں اور اپنی ضرورت اور نفسانی خواہشات کو دین کا نام دیا جا سکے .......
لیکن کتنی ہی تاویل کیوں نہ کرلی جاۓ انکی جدید و عجیب تعبیرات مقبول نہیں انکو ہر جگہ ذلت کا سامنے ہے انکی ہر جگہ سبکی ہوتی ہے .......
یہاں سے رد عمل کی نفسیات کا آغاز ہوگا (کتاب ) کی صحت پر شک ہوگا صاحب کتاب کی شخصیت پر الزامات لگیںگے............لیجئے ایک پکا پکایا ملحد تیار ہے ..........
اب سوال انکار خدا کا ہے ابتدا خدا کو ایک ذہنی اور معاشرتی ضرورت قرار دینے سے ہوگی ان کے نزدیک خدا ایک تصوراتی شے ہے جسکو انسان نے اپنی مطلب براری کے لیے تخلیق کیا ہے ......
یعنی خالق مخلوق اور مخلوق خالق ......

اصل میں یہ ایک عظیم دھوکے کے سوا اور کچھ بھی نہیں .....
دھوکہ کیا ہے ...............
ایک شخص اعلان کر دے میں نے سورج کو مغرب سے نکلتے دیکھا ہے ........
کائناتی اصولوں کے خلاف ہے کوئی بھی تسلیم نہیں کرے گا .......
یہ کائناتی اصول کہاں سے معلوم ہوے........
مسلسل و مستقل مشاہدہ سے ...........
یہ ایک ایسا مشاہدہ ہے جو تمام انسان صدیوں سے کرتے چلے آے ہیں اسلئے سورج کو مشرق سے نکلتے دیکھ لینا ہی ثبوت ہے ............

ایک شخص کھڑے ہو کر اعلان کرے امریکہ نامی کوئی مملکت موجود نہیں ..........
یہ پہلے سے کم تر درجے کی حقیقت ہے لیکن یہ بھی قابل تسلیم ہے ......
کیوں کہ بہت سے لوگوں نے امریکہ کو دیکھا ہے اسکے بارے میں پڑھا ہے اسکے متعلق سنا ہے ......
اب بہت سے ایسے لوگ جنہوں نے امریکہ کو کبھی نہیں دیکھا وہ بھی اس کے ہونے کا یقین رکھتے ہیں گو انھیں مشاہدہ حاصل نہیں ہوا ........

ایک شخص کھڑے ہوکر اعلان کرے ڈائناسور کوئی چیز نہیں .........
اس عظیم الجثہ جاندار کو کسی نے نہیں دیکھا ........
ایک بڑی تعداد اس سے لاعلم ہے ......
ثبوت چند بکھرے ہوے سائنسی حقائق اور بس چند حاصل شدہ فوسلز اور کیا .........
لیکن دنیا اس کو ایسا ہی تسلیم کرتی ہے جیسے سامنے ٹیبل پر رکھی ہوئی کتاب ...........

اب ایک تجزیہ کیجئے ...........
تاریخ انسانی کے ابتدائی دور سے موجودہ دور تک ایک گروہ کثیر .........
فلسفی ،سائنسدان ،نفسیات دان ،مورخ ، ادیب ،شاعر ،لیڈر .......
یعنی عقل و احساس کے مختلف زاویوں سے دیکھنے والے احباب ..........

ایک بادشاہ سے لیکر ایک بھنگی تک ........
رنگ نسل قومیت اور علاقائیت ......
ادوار سے ماورا .........
ایک جدید ترین شہر میں بیٹھا ا علی دماغ شخص .....
یا کسی گھنے جنگل میں پتے باندھے کوئی وحشی .....

یہ سب کیوں ایک اندیکھے خدا کو مانتے ہیں ..........
کیا یہ انسانی فطرت نہیں ........

ایک اصول سمجھ لیں لادین فطرت کے مقابل ہیں اسی لیے ......
ناکام ہیں .........
آپ کے لاۓ ہوے نظام آپکا فلسفہ آپکی فکر ........
انسانیت نے آپ کو قبول کرنے سے انکار دیا ہے ......
اور آپ کا یہ رد ........
ہر دور میں ہر وقت ہر جگہ ہوا ہے .....

کیا اب وہ وقت نہیں آ گیا کہ آپ لوگ اپنی شکست تسلیم کر لیں .....

حق تو یہ ہے انسانیت نے آپ کو مردود کر کے .......
ایک ان دیکھے خدا کو چن لیا ہے .....!
یہ تصور خدا پر سوالات اٹھاتے اشکالات پیدہ کرتے ہیں اور جب انکے بچگانہ سوالات کا جواب علمی انداز میں دیا جاۓ تو اپنی کم عقلی پر بغلیں بجاتے ہیں ....
 اگر تصور خدا کی بات کی جانے اور موضوع تحقیق خدا کی ذات ہو چاہے راستہ کوئی بھی ہو فلسفہ ،سائنس،مذہب یہ پھر وہ فطری احساس جو کسی جنگل بیابان کسی صحرا یہ پھر کسی دور دراز جزیرے میں بیٹھا کوئی تہذیب نا شناس شخص جو اپنی فطری ضرورت سے مجبور ہوکر کسی خدا کا اسیر ہو ،
آخر ہمیں کسی خدا کے ہونے کی حاجت ہی کیوں ہے آخر کیوں نوع انسانی جو کبھی پہاڑوں میں آباد تھی یہ وہ جدید ترین انسان جسنے چاند پر جھنڈا لہرایا تھا کسی خدا کے اسیر ہیں خدا کے ہونے کا یہ احساس کیوں صدیوں کا سفر طے کرتے ہوے آج بھی غالب ترین اکثریت کو اپنے جال میں پھانسے ہوے ہے ،
قوموں قبیلوں جغرافیائی حدود کو پھلانگتا ہوا ادوار کی قید سے آزاد یہ تصور کہ کوئی خدا ہے کیا اک مغالطہ ہی ہے ؟
آخر بے خدا گروہ ہمیشہ انتہائی قلیل ہی کیوں رہا ہے اور انکے ہاں بھی سب سے بڑا تذکرہ خدا ہی رہا ہے
یعنی نا چاہتے ہوے بھی تردید کی راہ سے تذکرہ تو اسی کا ہے 

یہ سوال اک طویل عرصے تک پیش نظر رہا کہ اسکی کیا وجہ ہے نوع انسانی بحثیت مجموعی خدا کے تصور کی قائل رہی ہے ، پھر جب انسانی نفسیات اور اسکے سوچنے کے فطری انداز سے واقفیت ہوئی تو یہ بات آشکار ہوئی کہ انسان عافیت پسند ہے آسانی کی طرف بھاگتا ہے کائنات کے عظیم الشان حقائق اسے اگر آسان اور سادہ انداز میں سمجھا دئیے جائیں تو اسکا دماغ انھیں آسانی سے جذب کر لیتا ہے ،

انسان چیزوں کو انکے تضادات سے پہچانتا ہے سچ کی پہچان جھوٹ کے ہونے سے ہوتی ہے طاقت کمزوری کی وجہ سے جانی جاتی ہے اونچائی کا احساس پستی کی وجہ سے ہوتا ہے حق باطل کے ہونے سے معتبر ہے مثبت منفی سے برآمد ہوتا ہے تیزی کا تعارف آہستگی کی وجہ سے ہوتا ہے مذکر مونث کے ملاپ سے وجود میں آتا ہے خشکی تری کی وجہ سے منفرد ہوتی ہے غرض تضادات اک دوسرے کی پہچان کا موجب ہیں موت کے بغیر حیات کی اہمیت سے واقف ہونا ممکن نہیں !
یہاں اصحاب عقل کی جانب سے یہ سوال اٹھایا جا سکتا ہے کہ عدل کیا ہے جو ان دو متناقص کے درمیان واقع ہوا ہے تو جواب میں ہم کہینگے عدل ضد ہے بے اعتدالی کی اضداد اس کائنات کی سب سے بڑی حقیقت ہیں ،
کسی بھی انسان کے شعور کی دنیا میں قدم رکھتے ہی اسکو سب سے پہلی واقفیت اضداد سے ہی ہوتی ہے یہ اک ایسی حقیقت ہے جس سے ہر سوچنے والی مخلوق واقف اور ہر شعور رکھنے والا اسکا قائل ہے ،
انسان اپنی اسی فطری صلاحیت کے تحت کسی خالق کو تسلیم کرتا ہے اگر مخلوق موجود ہے اپنی تمام تر حدود و قیود اور کمزوریوں اور خامیوں کے ساتھ تو پھر لازم ہے اسکی مکمّل ضد خالق کا ہونا اپنی تمام خوبیوں لامحدودیت اپنی پوری قوت اور شان کے ساتھ 

مذاہب کو ماننے والی کثیر خلقت خالق و مخلوق کے سادہ ترین تعلق سے واقف ہے ہم کہ سکتے ہیں کہ علما مذاہب کے مابین خالق کی بابت بہت سے اختلافات موجود ہیں لیکن اک عام مذہبی آدمی سادہ ترین شکل میں جانتا ہے کہ اک ایسی عظیم الشان قوت جو اسکی احتیاجات کو پورا کرتی ہے دور و قریب سے اسکی التجاؤں کو سنتی ہے وہ پر یقین ہے اک ایسے وجود کے ہونے کا جو اس کا آخری سہارا ہو سکتا ہے ،
اور یہ فلسفہ اسے کسی مکتب میں نہیں پڑھایا گیا بلکہ وہ خالق کے ہونے کو ایسے ہی جانتا ہے جیسے اپنے ہونے سے واقف ہے ،
علما مذاہب خالق کے ہونے کی مختالب تعبیرات پیش کرتے ہیں اور یہیں سے مذہبی مباحیث کا آغاز ہوتا ہے اس بات میں کوئی شک نہیں کہ ان تعبیرات میں سے اک صحیح ترین تعبیر بھی ہوگی جو حق سے قریب تر بھی ہوگی لیکن وہ اسوقت موضوع بحث نہیں حاصل گفتگو یہ ہے کہ خدا شناس لوگ اک اصل پر متفق ہیں اور وہ ہے کسی خالق کا ہونا اور اسکا سادہ ترین ضابطے میں مخلوق سے متعلق ہونا !


اک جانا پہچانا اصول یہ ہے کہ خالق کو اسکی تخلیق سے پہچانا جانے آج جدید سائنس ترقی کرکے اس مقام تک آپوھنچی ہے کہ آپکے دستخط سے آپکی شخصیت کی پرتوں کو کھولا جا سکتا ہے ،
اگر کسی کو شاعری درک حاصل ہو تو اسکے سامنے اقبال کا کوئی شعر غالب کے نام سے نقل کردیجئے فورن پہچان لیا جانے گا شاعر کے الفاظ ہونگے "میاں یہ غالب کا رنگ نہیں " کسی شاعر کا مخصوص رنگ کسی مصنف کا مخصوص طرز تحریر یہ کسی مصور کی تخلیق کا منفرد انداز ،
گھریلو خواتین کا ہی مشاہدہ کیجئے مختلف خواتین کے ہاتھ کے کھانوں کا ذائقہ الگ ہوتا انہی اجزاء سے بنی چاۓ الگ مزہ کیوں دیتی ہے روٹی کا نقشہ پکانے والے کی پہچان کیوں کروا دیتا ہے !
ذات خدا وندہ منبع ہے تمام جذبات احساسات اور ان تمام صفات کی جو مخلوقات کو بہت ادنا درجے میں عطا ہوئی ہیں اور خاص طور پر انسان جسے "خلیفہ " قرار دیا جاتا ہے جسکے بارے میں الہامی کتب میں ملتا ہے اسے خدا نے اپنے ہاتھ سے تخلیق کیا ہے بلاشبہ غضب ،محبت ،دوستی ،دشمنی یہ سارے جذبات اور سب سے بڑھ کر صفات تخلیق خدا کی صفات کا پرتو ہیں لیکن کہاں وہ ذات جہاں سے تمام صفات کی ابتداء ہوتی ہے اور کہاں وہ مخلوق جسکو عارضی طور پر کچھ صلاحیتوں سے مزین کیا گیا ہو !
پس معلوم ہوا کہ انسان کی خواہش بادشاہت کی ہمیشہ زندہ رہنے کی آرزو زمان و مکان کی قید سے چھٹکارا حاصل کرنے کی لاحاصل کوششیں اور سب کچھ جان لینے کی خلش !
کوئی کیسے کہ سکتا ہے کہ انسان اپنی صفات کی روشنی میں خدا تخلیق کرتا ہے ہاں قیاس کے تمام زاویے اس حقیقت تک رہنمائی کرتے ہیں کہ خدا کی صفات کا ادنی سا پرتو انسان پر پڑا ہے !


ہم کون ہیں 
کہاں سے آے
کسلئیے آے 
ہماری ابتدا کیا ہے 
اور انتہا کیا ہے 
ان تمام سوالات کا جواب داستان دہریت میں کہیں نہیں ملتا ..........
اسکی ابتدا شک ہے 
اسکی انتہا ریب ہے 

اور یہ انجام ہے ایسے شخص کا جو لاریب کا منکر ہے
یہ سوالات اٹھاتا ہے جواب کوئی نہیں 
یہ مسائل کھڑے کرتا ہے حل کوئی نہیں 
یہ ایک ایسی مادی مشین ہے جو حواس خمسہ میں مقید ہو کر کائناتی حقائق کو کھولنے کا دعوے دار ہے ..

ہم کہ سکتے ہیں کہ دہریت کوئی علمی یا فکری چیز نہیں بلکہ ایک نفسیاتی عارضہ ہے 
اور یہ لوگ فتوی کے نہیں علاج کے مستحق ہیں .......

حسیب احمد حسیب  



!کیا آئین کے اسلامی ہونے سے ریاست مسلمان ہو جاتی ہے!

  • کیا آئین کے اسلامی ہونے سے ریاست مسلمان ہو جاتی ہے !

  • اگر آئین کے مسلے کو آسان مثال سے سمجھیں تو معاملہ کچھ یوں بنتا ہے ....
    جب ہم شخص واحد کی بات کرتے ہیں تو اسکے لیے آئین کلمہ طیبہ ہے  لَا اِلَہَ اِلّا اللّٰہُ مُحَمَّدُ رَّسُولُ اللّٰہِ "اللّٰہ کو سوا کوئی عبادت کو لائق نہیں، محمد ( صلی اللّٰہ علیہ وسلم) اللّٰہ کے رسول ہیں" ہے اب الله کی حاکمیت اور الله کے رسول  صلی اللّٰہ علیہ وسلم کا قانون تسلیم کر لینے کے بعد اسپر کچھ عبادات لازم ہو جاتی ہیں 
     جیسا کہ صحیح بخاری وصحیح مسلم  کی روایت میں ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی  ہے۔
    "بنی الإسلام علی خمس؛ شھادۃ أن لا إلہ إلا اللہ و أن محمدا رسول اللہ، و إقام الصلاۃ و إیتاء الزکاۃ وصوم رمضان وحج البیت"
     اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر  رکھی  گئی ہے:
    ۱۔ اس بات کی گواہی دینا کہ اللہ کے علاوہ  کوئی سچا معبود  نہیں اور یہ کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول  ہیں۔
    ۲۔  نماز قائم   کرنا ۔
    ۳۔ زکاۃ ادا کرنا۔
    ۴۔ ماہ رمضان کا روزہ رکھنا   ۔
    ۵۔ خانۂ کعبہ  کا حج کرنا ۔

    اب یہ شخص ان تمام عبادات کو ترک کر دے بلکہ انپر زور آور ہو جاۓ اور کھلے عام انکی مخالفت کرے تو اسکو طغیان کہیںگے اور یہ باغیانہ عمل اسکے اسلام کو فاسد کر دے گا !

    ایسا ہی معاملہ ریاستوں کا ہے کسی ریاست میں حاکمیت اعلی الله کی اور قانون قرآن و سنت کا ہے لیکن عمل اسکے بر عکس ہے تو کیا حکم لگے گا .......
    اب مسلے کی اور وضاحت کرتے ہیں "جب اشخاص کلمہ پڑھتے ہیں تو انپر عبادات لازم ہو جاتی ہیں اور جب ریاستیں کلمہ پڑھتی ہیں تو انپر حدود لازم ہو جاتی ہیں "
    ڈاکٹر عبدالعزیز عامر نے اپنی تالیف ”التعزیر فی الشریعة الاسلامیہ “میں صرف سات جرائم کو قابل حد قرار دیا ہے ۔ (التعزیرفی الشریعة الاسلامیة۔ ص 13)لیکن جن جرائم کے حدود ہونے پر جمہور فقہاء کا اتفاق ہے وہ سب قرآن پاک سے ثابت ہیں۔
    .1زنا کی حد کا ثبوت سورة النور کی آيت نمبر2میں ہے۔
    .2 تہمت کی حدکا ثبوت سورة النور کی آیت نمبر 4میں ہے۔
    . 3 راہزنی کی حدسورة المائدة کی آیت نمبر 34-33 میں ہے۔
    .4 چوری کی حدسورة المائدة کی آیت نمبر 38 میں ہے۔
    .5 شراب نوشی کی حد سورة المائدة کی آیت نمبر 90 میں ہے۔
    .6 باغی کی حد سورة الحجرات کی آیت نمبر 9 میں ہے۔
    .7مرتد کی حد سورة البقرة کی آیت نمبر 217 میں ہے۔

    حضرت شاہ ولی اللہ  لکھتے ہیں” بعض معاصی کے ارتکاب پر شریعت نے حد مقرر کی ہیں۔ یہ وہی معاصی ہیں جن کے ارتکاب سے زمین پر فساد پھیلتاہے۔ نظامِ  تمدن میں خلل پیدا ہوتا ہے اور مسلم معاشرے کی طمانیت اور سکون ِقلب رخصت ہو جاتاہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ وہ معاصی کچھ اس قسم کی ہوتی ہیں کہ دو چار بار ان کا ارتکاب کرنے سے ان کی لت پڑ جاتی ہے۔ ا ور پھر ان سے پیچھا چھڑانا مشکل ہو جاتا ہے۔ اس طرح کی معاصی میں محض آخرت کے عذاب کا خوف دلانا اور نصیحت کرنا کافی نہیں ہوتا۔ بلکہ ضروری ہے کہ ایسی عبرتناک سزامقر ر کی جائے کہ اس کا مرتکب ساری زندگی کے ليے معاشرے میں نفرت کی نگاہ سے دیکھا جائے اور سوسائٹی کے دیگر افراد کے لیے سامانِ عبرت بنا رہے۔ اور اسکے انجام کو دیکھ کر بہت کم لوگ اس قسم کے جرم کی جرا ت کریں“ ۔
        (حجة اللہ البالغہ ، شاہ ولی اللہ دہلوی۔ ج 2 ص 158 )

    اب ایک ایسا معاشرہ جہاں حدود الله کا نفاذ تو دور کو بات انکی باقاعدہ پامالی ہو رہی ہو اور انکے خلاف قوانین نافذ ہوں جنکو ریاست کی مکمل سپورٹ حاصل ہو تو لاکھ اسلامی آئین کی بات کیجئے ریاست کے کافر ہونے میں کوئی شبہ نہیں رہ جاتا !

    اب ریاست پاکستان کو دیکھیں یہاں باقاعدہ سودی نظام رائج ہے فحاشی کے ادارے فلم انڈسٹری کی شکل میں موجود ہیں شرک و بدعات کو باقاعدہ ریاستی سپرستی حاصل ہے حدود ساقط ہیں کفر کی چاکری ہو رہی ہے اور لوگوں کی جانیں اور اموال محفوظ نہیں ان تمام حالات میں آئین کی چند شقیں کیا کسی ریاست کو اسلامی قرار دینے کے لیے کافی ہو سکتی ہیں "

    بقول ڈاکٹر محمود احمد غازی کے:

    "اسلامی نظام میں ریاست اور دین مذہب اور سلطنت دونوں ساتھ ساتھ چلتے ہیں، دونوں ایک دوسرے کی تکمیل کرتے ہیں دونوں ایک دوسرے کے مددگار ہیں، دونوں کے تقاضے ایک دوسرے سے پورے ہوتے ہیں، چناںچہ ماوردی نے یہ بات لکھی ہے کہ جب دین کمزور پڑتا ہے تو حکومت بھی کمزور پڑ جاتی ہے اورجب دین کی پشت پناہ حکومت ختم ہوتی ہے تو دین بھی کمزور پڑ جاتا ہے، اس کے نشانات مٹنے لگتے ہیں۔
    (محاضراتِ شریعت :ص287)"

    اپنے سلسلہ مضامین ’’اسلامی ریاست‘‘ میں اسلام کی سیاسی تعلیمات پر روشنی ڈالتے ہوئے جناب سید ابوالا علیٰ مودودیؒ لکھتے ہیں:

    ’’ (حاکمیت الہٰ کے ) اصل الاصول کی بنا پر قانون سازی کا حق انسان سے سلب کرلیا گیا ہے۔ کیونکہ انسان مخلوق اور رعیت ہے۔ بندہ اور محکوم ہے، اور اس کا کام صرف اس قانون کی پیروی کرنا جو مالک الملک نے بنایا ہو۔ البتہ قانونِ الہٰی کی حدود کے اندر استنباط واجتہاد سے تفصیلات فقہی مرتب کرنے کا معاملہ دوسرا ہے۔ جس کی اجازت ہے۔ نیز جن امور میں اللہ اور اس کے رسول نے کوئی صریح حکم نہ دیا ہو، ان میں روح شریعت اور مزاجِ اسلام کو ملحوظ رکھتے ہوئے قانون بنانے کا حق اہلِ ایمان کو حاصل ہے۔ کیونکہ ایسے امور میں کسی صریح حکم کا نہ ہونا بجائے خود یہ معنی رکھتا ہے کہ ان کے متعلق ضوابط واحکام مقرر کرنے کا حق اہلِ ایمان کو دے دیا گیا ہے۔ لیکن جو بنیادی بات سامنے رکھنے کی ہے وہ یہ ہے کہ اللہ کے قانون کو چھوڑ کر جو شخص یا ادارہ خود کوئی قانون بناتا ہے یا کسی دوسرے کے بنائے ہوئے قانون کو (برحق) تسلیم کرکے اس کے مطابق فیصلہ کرتا ہے وہ طاغوت وباغی اور خارج ازاطاعتِ حق ہے اور اس سے فیصلہ چاہنے والا اور اس کے فیصلہ پر عمل کرنے والا بھی بغاوت کا مجرم ہے۔"

    جب تک دین کسی کے بدن میں اتر کر اسکے اعمال کو اپنے مطابق نہیں بنا لیتا "اسلامی " کا لاحقہ اسکے نام کے ساتھ لگا دینا  اسکو کوئی نفع نہیں پھنچا سکتا  !

اسلام کا دائرہ

اسلام کا دائرہ !


ایک صاحب نے انشاء کی کتاب سے مولوی پر پھبتی کسی ،


دائرے کی تعریف یوں تو دائروں کی بہت سی قسمیں ہوا کرتی ہیں لیکن ہمیں ایک ہی قسم کا دائرہ مہیا ہے جسے " دائرہ اسلام " کہا جاتا ہے کہ جوں جوں ملاؤں کا پیٹ پھیلتا تو اس دائرے کا حدود اربعہ سکڑتا جاتا ہے . سنا ہے کہ پہلے کبھی اس دائرے میں اندراج بھی ہوا کرتا تھا مگر آجکل داخلہ سختی سے منح ہے صرف اخراج ہی اخراج ہوا کرتا ہے !


اور پھر دردمندی سے گویا ہوے...


 سچائی یہ ہے کہ هم اللہ تعالیٰ کی کتاب کو ایک مانیں تب نہایسا کیوں ہوتا ہے؟جب ہم مذھب کی بات کرتے ہیں تو دیگر مذاھب کے لوگ ہمیں جہنمی نظر آتے ہیں لیکن جب بات فرقوں کی ہوں تو دیگر فرقوں کے لوگ ہمیں کافر لگتے ہیں۔ حد تو یہ کہ ایک ہی فرقے کے کسی دوسرے گروہ کے ساتھ ایک ہی دسترخوان پربیٹھنا اور ایک دوسرے کی مسجد میں نماز پڑھنا ہمیں گوارا نہیں کہ اس سے ہمارے عقیدے پہ آنچ آتی ہے۔


ایک دوسرے کو جنت کا صحیح راستہ دکھانے کی دوڑ میں ہم اتنے آگے نکل آے ہیں کہ ہم نے دنیا کو ہی جہنم بنا کے رکھ دیا ہے۔ حالانکہ مذھب چاہے کوی بھی ہو بنیادی طور پر پیارومحبت اور انسانیت کا درس دیتا ہے۔ لیکن ہم ہیں کہ مذھب کی بات سامنے آتے ہی پیار و محبت اور انسانیت بھول جاتے ہیں، تمام قانونی اور اخلاقی حدیں پار کرلیتے ہیں اور معاملہ زور زبردستی سے حل کرنا شروع کر دیتے ہیں


اور پھر سارا ملبہ مولوی پر ڈال کر فتویٰ صادر  کیا!


(ان جاہل مولویوں نے وہ تمام کام جو دنیا میں "حرام" ہیں وہ جنت میں "حلال" ہوں گے۔ انہی حرام کاریوں کو سرانجام دینے کیلئے مومنین جنت جانا چاہتے ہیں۔)


انکے سوالات سن کر کچھ اور سوالات پیدہ ہوتے ہیں ،،،،



سوال بہت سادہ اور آسان ہے!


 جناب مٹی ڈالیے مولویوں پر یہ بھی دور جدید کا فیشن ہے دو گالیاں مولوی کو دے دیجئے اب اپکا شمار جدت پسندوں میں کیا جا سکتا ہے مبارک ہو !


جدت پسندوں سے توقع ہوتی ہے کہ وہ معقولیت  پسند بھی ہوں اور معقولیت  متقاضی ہے کچھ معقول سوالات کے جوابات کی خاص کر ان احباب سے جنہوں نے بزعم خود مذہب سدھار کا ٹھیکہ لیا ہوا ہے ،


مختلف اشیا اپنے  مخصوص اوصاف سے پہچانی جاتی ہیں اور تقسیم در تقسیم کا یہ عمل کسی  زنجیری ردعمل کی طرح بڑھتا چلا جاتا ہے پھل ،پھول ،پودے ،نباتات ،جمادات ،حیوانات اور انسان اپنے اوصاف کی وجہ سے ایک دوسرے سے ممتاز ہیں ...اسی طرح ایک ہی نوع کو لیجئے پہاڑی پتھر صحرائی ڈھیلے سے مختلف ہے سمندری پانی دریائی پانی سے ممتاز کتا اور شیر دونوں گوشت خور ہیں ،سب جانور ایک جیسے نہیں سب پرندے ایک جیسے نہیں اسی طرح سب انسان بھی کوئی کالا اور کوئی گورا کوئی موٹا کوئی دبلا ،پھر انسانی نفسیات کا مشاہدہ کیجئے کوئی غصیل تو کوئی نرم مزاج کوئی مسخرگی کی حد تک خوش مزاج اور کوئی کرختگی کی حد تک سنجیدہ ،پھر ایک ہی انسان کی زندگی کے ادوار میں اسکے احساسات و کیفیات کا مختلف ہونا  بوڑھا بچہ جوان یا نوجوان ایک ہی شخص کے الگ روپ ،اور پھر رشتوں کی تقسیم وہ باپ ہے یا ماں ہے بھائی ہے یا بہن بیٹا ہے یا بیٹی دوست ہے دشمن ہے استاد ہے شاگرد ہے نوکر ہے اور غلام ہے بیک وقت بہت کچھ ہے ...


اگر ان  رنگوں کو ختم کر دیا جاۓ تو  انفرادیت کی موت ہے اور یکسانیت کا ہونا تعارف یا پہچان کی موت مختلف اضداد اپنی ضد کی پہچان کا ذریعہ ہیں ،،،،


اب ذرا یہی اصول دین ،مذہب فکر یا نظریات پر  لاگو کریں کیا تمام ادیان ایک ہی ہیں کیا بت کی پرستش کرنے والا اور ایک خدا کو ماننے والا تثلیث کا قائل یا نروان کا متلاشی ایک جیسے ہیں ....پھر ایک ہی مذہب کو لیجئے کیا اسکے کچھ اوصاف و کمالات ہیں اگر ہیں تو کیا جس میں وہ اوصاف و کمالات نہ ہونگے اسکو اس مذہب سے الگ سمجھا جا سکتا ہے ....


کیا ریشم و ٹاٹ ایک ہی ہیں اور اگر نہیں تو کیوں نہیں کیا ٹاٹ کو ریشم نہ ماننا دقیانوسیت ،فرقہ  واریت یا انتہا پسندی کہلانے گی ......


سادہ پانی اور مشروب میں فرق ہے کیا اس فرق کو فرق کہا جا سکتا ہے کیونکہ تکنیکی بنیادوں پر پانی بھی تو مشروب ہی ہے .......کیا یہی فرق ادیان و مذاہب میں نہیں اور کیا یہی فرق درون  مذاہب نہیں ہو سکتا ایک کہتا ہے الله کے رسول آخری نبی صل الله علیہ وسلم ہیں دوسرا کہتا ہے نہیں نہیں انکے بعد بھی ایک آیا ہے کیا دونوں ایک جیسے ہیں ......ایک کہتا ہے الله کے رسول کے ساتھی سارے سچے دوسرا کہتا ہے نہیں سب جھوٹے کیا دونوں برابر ہیں ......ایک کہتا ہے تمام طاقتیں الله کی وہی مددگار ہے دوسرا کہتا ہے نہیں کچھ شرکا بھی ہیں کیا دونوں سچے ....یہی وہ دائرہ ہے یا دائرے ہیں کیا یہ عقلی اور فطری ہیں یا نہیں 


سوچنے کی بات ہے .


حسیب احمد حسیب 

جدید دور کی محبوبہ


عورت کو کبھی کانچ کبھی نازک آبگینہ کبھی پھول کہا جاتا ھے کتنا اچھا ھو اگر اسے ایک نارمل جیتا جاگتا انسان سمجھا جائے احترام کیا جائے.

جدید دور کی محبوبہ جو ان تمام کمزوریوں سے پاک ہے .......

میری محبوب تیرا حسن چٹانوں جیسا 
تیری رفتار کسی تیز رو ویگن کی طرح
تیری آنکھیں ہیں کسی شیر کی آنکھوں جیسی 
تیرے رخسار کسی سخت پہاڑی جیسے 
تیری زلفیں کسی طوفان کے جیسی ہیں صنم
تیرے چتون کسی بپھرے ہوے بھینسے کی طرح
تو جو مسکاۓ تو ہنگام بپا ہو جاۓ
میری محبوب تیرے خوف سے کانپے ہے بدن
تیری قربت ہے کسی بھوت کے بچے جیسی
تیری حالت ہے کسی ریل کے ڈبے جیسی
تو جو مل جاۓ تو تقدیر زبوں ہو جاۓ
تیرے ہر چاہنے والے کو جنوں ہو جاۓ !

حسیب احمد حسیب

ایک فورم میں کچھ دہریوں کے اٹھاۓ گۓ سوالات پر ایک تجزیہ


ایک فورم میں کچھ دہریوں کے اٹھاۓ گۓ سوالات پر ایک تجزیہ ......


دھوکہ کیا ہے ...............
ایک شخص اعلان کر دے میں نے سورج کو مغرب سے نکلتے دیکھا ہے ........
کائناتی اصولوں کے خلاف ہے کوئی بھی تسلیم نہیں کرے گا .......
یہ کائناتی اصول کہاں سے معلوم ہوے........
مسلسل و مستقل مشاہدہ سے ...........
یہ ایک ایسا مشاہدہ ہے جو تمام انسان صدیوں سے کرتے چلے آے ہیں اسلئے سورج کو مشرق سے نکلتے دیکھ لینا ہی ثبوت ہے ............

ایک شخص کھڑے ہو کر اعلان کرے امریکہ نامی کوئی مملکت موجود نہیں ..........
یہ پہلے سے کم تر درجے کی حقیقت ہے لیکن یہ بھی قابل تسلیم ہے ......
کیوں کہ بہت سے لوگوں نے امریکہ کو دیکھا ہے اسکے بارے میں پڑھا ہے اسکے متعلق سنا ہے ......
اب بہت سے ایسے لوگ جنہوں نے امریکہ کو کبھی نہیں دیکھا وہ بھی اس کے ہونے کا یقین رکھتے ہیں گو انھیں مشاہدہ حاصل نہیں ہوا ........

ایک شخص کھڑے ہوکر اعلان کرے ڈائناسور کوئی چیز نہیں .........
اس عظیم الجثہ جاندار کو کسی نے نہیں دیکھا ........
ایک بڑی تعداد اس سے لاعلم ہے ......
ثبوت چند بکھرے ہوے سائنسی حقائق اور بس چند حاصل شدہ فوسلز اور کیا .........
لیکن دنیا اس کو ایسا ہی تسلیم کرتی ہے جیسے سامنے ٹیبل پر رکھی ہوئی کتاب ...........

اب ایک تجزیہ کیجئے ...........
تاریخ انسانی کے ابتدائی دور سے موجودہ دور تک ایک گروہ کثیر .........
فلسفی ،سائنسدان ،نفسیات دان ،مورخ ، ادیب ،شاعر ،لیڈر .......
یعنی عقل و احساس کے مختلف زاویوں سے دیکھنے والے احباب ..........

ایک بادشاہ سے لیکر ایک بھنگی تک ........
رنگ نسل قومیت اور علاقائیت ......
ادوار سے ماورا .........
ایک جدید ترین شہر میں بیٹھا ا علی دماغ شخص .....
یا کسی گھنے جنگل میں پتے باندھے کوئی وحشی .....

یہ سب کیوں ایک اندیکھے خدا کو مانتے ہیں ..........
کیا یہ انسانی فطرت نہیں ........

ایک اصول سمجھ لیں لادین فطرت کے مقابل ہیں اسی لیے ......
ناکام ہیں .........
آپ کے لاۓ ہوے نظام آپکا فلسفہ آپکی فکر ........
انسانیت نے آپ کو قبول کرنے سے انکار دیا ہے ......
اور آپ کا یہ رد ........
ہر دور میں ہر وقت ہر جگہ ہوا ہے .....

کیا اب وہ وقت نہیں آ گیا کہ آپ لوگ اپنی شکست تسلیم کر لیں .....

حق تو یہ ہے انسانیت نے آپ کو مردود کر کے .......
ایک ان دیکھے خدا کو چن لیا ہے .....!

منگل، 5 مارچ، 2013

!مولوی "منصف" اور "علامہ کلکل"!


  • مولوی "منصف" اور "علامہ کلکل"!


      ہمارے بھائی صاحب بھی عجیب چیز ہیں انہیں جامع المتفریقیں کہا جاۓ تو غلط نہ ہو گا اضداد کو اسطرح اپنی جانب کشش کرتے ہیں کہ جیسے کوئی مقناطیس ہو یا پھر کوئی دھوکے باز خوشبو دار پھول جو معصوم کیڑوں کو للچا کر اپنی جانب متوجہ کرے اور پھر انکی جان نہ چھوڑے انکے چنگل سے بچنا مشکل ہے ،بھائی صاحب یار باش آدمی ہیں اور بھائی صاحب کے توسط سے مختلف کرداروں سے تعارف ہوتا رہتا ہے لیکن بھائی صاحب کی ایک عادت بہت خراب ہے ،اسکا مطلب یہ نہیں کہ دوسری عادتیں اچھی ہیں لیکن ایک بہت خراب ہے لیکن یہ کوئی شرعی خرابی نہیں ہاں اسے اخلاقی کمزوری ضرور کہا جا سکتا ہے ،  بھائی صاحب اپنے احباب کی دلچسپ کہانیاں تو ضرور سناتے ہیں لیکن ان سے ملوانے میں بہت بخیل ہیں شاید انھیں خوف ہے انکا یہ چھوٹا بھائی انسے بڑا مقناطیس ثابت نا ہو جاۓ ،  ایسے ہی دو کرداروں کا تعارف گزشتہ دنوں بھائی صاحب کی زبانی حاصل ہوا اور جناب تعارف کیا اسے مکالماتی جنگ کا احوال کہنا زیادہ مناسب ہوگا جہاں بھائی صاحب مبصر کی حثیت سے موجود تھے !  تو سنتے ہیں بھائی صاحب کی زبانی !  راوی بھائی صاحب ،،،
      میاں  حسیب احمد حسیب تم خود کو شاید کوئی توپ چیز سمجتھے ہو ویسے تمھارے جثے کو دیکھ کر تمہیں توپ کا گولہ کہنا زیادہ مناسب ہوگا چلو تمہیں ایک مکالمے کا احوال سناتا ہوں تاکہ معلوم پڑے اہل علم کیسے گفتگو کرتے ہیں لو سنو اور منہ پھاڑ کر نہیں کان کھول کر سنو !  مولوی منصف میرے مدرسے کے استاد رہے ہیں اب میری جوانی دیکھ کر انکی عمر کا اندازہ لگا لو بلکہ چھوڑو تمھارے اندازے ہمیشہ غلط ہی ہوتے ہیں تو میں کیا کہ رہا تھا ہاں مولوی منصف مرنجا مرنج قسم کی شخصیت ہیں قدامت کا بھرپور نمونہ اور آجکل لوگ ایسے لوگوں کو نمونہ ہی سمجھتے ہیں ایک روز اچانک ملاقات ہو گئی شاید کسی کام سے تشریف لاۓ تھے میں با اصرار   گھر لے آیا قسمت کی ستم ظریفی دیکھو  وہیں ملاقات میرے پڑوسی علامہ کلکل سے ہو گئی جو جدیدیت کی اعلی ترین مثال ہیں مجھے مولوی صاحب کے ساتھ دیکھ کے گویا ہوے ارے بھائی صاحب کس کو لے اۓ زمانہ خراب ہے میں نے بتایا مولوی صاحب میرے استاد ہیں ان سے قرآن پڑھا ہے میں نے تو تیوری چڑھا کر بولے اچھا او ہو ویسے الفاظ کے رٹ لینے سے کیا حاصل اصل چیز تو مضمون ہے مضمون یہ تو بس مولویوں کا دھندہ ہے اور کچھ بھی نہیں ،مولوی صاحب مسکراۓ اور بولے ،بھائی کیا کریں تلاوت آیات بھی نبوی طریق ہے اور یہ میں نہیں خود قرآن کہتا ہے ،"وہی ہے جس نے ناخوانده لوگوں میں ان ہی میں سے ایک رسول بھیجا جو انہیں اس کی آیتیں پڑھ کر سناتا ہے اور ان کو پاک کرتا ہے اور انہیں کتاب وحکمت سکھاتا ہے۔ یقیناً یہ اس سے پہلے کھلی گمراہی میں تھے" اب تو علامہ بڑا تلملاۓ اور ہمارے ساتھ ہی گھر میں داخل ہو گۓ اور کہنے لگے میاں بھائی صاحب چاۓ تو بنوا دو آج تمھارے مولوی صاحب سے بھی گفتگو ہو ہی جاۓ،مولوی صاحب مسکرا کر گویا ہوے بسرو چشم .......اور مجھے معلوم پڑ گیا آج تو میدان سجے گا ! علامہ کلکل تنک کر کہنے لگے ،ہمارے اسلاف میں شامل ان لوگوں نے جن کی پرستش کی حد تک تقلید کی جاتی ہے، ہمارے لیے کوئی ایسی چیز بھی ورثے میں چھوڑی ہے، جو اس جدید ترقی یافتہ دورمیں فخر کے قابل سمجھی جاسکے اور اگر یہ ’لوگ‘ واقعی ایسے ہی تھے جیسا کہ مشرکانہ انداز کے قصیدہ نما تذکروں میں ان کی شخصیت کا نقشہ کھینچا جاتا ہے۔ یا دوسرے الفاظ میں اگر اسلاف پرستوں کے کہے کو سچ مان لیا جائے اور ان کی تقلید میں یہ تسلیم کرلیا جائے کہ ہمارے اکابر علمائے دین کے تبحر علمی کا یہ عالم تھا کہ ان کے قد و کاٹھ جیسا نہ پہلے کوئی تھا، نہ آئندہ کوئی پیدا ہوسکے گا اور ہمارے روحانی بزرگوں کاتو یہ درجہ تھا کہ کائنات ان کی مٹھی میں تھی اور مشیّت ایزدی گویا ان کے اشارے کی منتظر رہتی تھی، تو پھر ایسا کیوں ہے کہ آج ہم زندگی کے ہر معاملے میں غیر مسلموں کے محتاج ہیں؟ مولوی منصف پر سکون انداز میں گویا ہوے پہلی بات تو یہ کہ آپ اپنا سلف مانتے کسکو ہیں اور دوسری چیز یہ کہ آپ نے اپنے سلف سے لیا ہی کیا ہے غیر آج بھی آپکے سلف کے کئے گۓ کاموں سے استفادہ  کر رہے ہیں لیکن مشکل یہ ہے کہ غیروں نے آپکے اسلاف سے لیا اور آپ غیروں کی چاکری میں لگے پڑے ہیں بس یہی ہے آپ کے انحطاط کی سب سے بڑی وجہ جسوقت آپ علم کی معراج پر تھے اور آدھی دنیا پر آپکی حکومت تھی مغرب پاپائیت کے بوجھ تلے دبا اندھیروں کے دور میں جی رہا تھا اس وقت دنیا کی امامت آپکے ہاتھ میں تھی جب تک اپکا سر ایک خدا کے سامنے جھکا ہوا تھا ساری دنیا آپکے سامنے جھکی ہوئی تھی اور جب آپ ہزاروں خداؤں کے سامنے سر با سجود ہو گۓ دنیا آپکے سر پر سوار ہو گئی اگر آپ غیر مسلموں کے محتاج ہیں تو اس میں اسلاف کا کیا قصور وہ تو غیر مسلموں کے محتاج نہ تھے !  

    اچھا جی اچھا شدت جذبات سے علامہ کلکل کا چہرہ سرخ ہو گیا اور لعاب کی ایک لکیر انکے ہونٹوں سے بہ کر ٹھوڑھی تک آئ جسے جلدی سے انہوں نے رومال  سے صاف کیا اور ناک کے بانسے پر پھسل کر آ جانے

    والی عینک تو دوبارہ آنکھوں پر جمایا اور چندیا پر ہاتھ پھیر کر گویا ہوے !  





    ہماری حیثیت یہ ہے کہ ترقی یافتہ اقوام کے دسترخوانوں پر بچ جانے والے ٹکڑوں سے ہم اپنی معاشی، علمی اور شعوری تشنگی دور کرنے کا سامان کرتے ہیں۔ سوئی اور Nail Cutter سے لے کر دیو ہیکل مشینوں اور ہیوی انڈسٹریز انہی غیر مسلم اقوام سے حاصل کرنے پر مجبور ہیں جن کی سازشوں اور چیرہ دستیوں کا ہم دن رات رونا بھی روتے رہتے ہیں۔ ہر نماز جمعہ کے بعد مانگی جانے والی طویل بے روح دعاؤں میں ہم انہی غیر مسلم اقوام کی تباہی کی فریادیں کرتے ہیں جو ہمارے ہاں وبائی امراض کے خاتمے کے لیے مفت ویکسین فراہم کرتی ہیں۔





      مولوی منصف کا اطمینان دیدنی تھا مولوی صاحب فرمانے لگے جناب آپکے نوحے میں جان تو ضرور ہے لیکن اسکی حقیقت مغالطوں سے زیادہ نہیں ہمیں تمام جدید اور ترقی یافتہ قوموں سے تکلیف نہیں مسلہ وہاں آتا ہے جب انمیں سے کچھ اقوام دنیا کی خدائی کا دعویٰ کر بیٹھتی ہیں ہاں ان سے ہماری جنگ ضرور ہے اگر انکی چیرہ دستیوں کا ہم رونہ  روتے ہیں تو کیا انھیں ہنس کر قبول کر لیا جاۓ کیا خیال ہے کوئی آپکی مالی مدد کرے اور پھر آپکی مستورات سے دوستی کا طالب ہو تو کیونکہ اسنے آپکی مدد کی ہے آپ اسے اس بات کی اجازت دینے پر آمادہ ہو جائیںگے مجھے تو آپ ایسے با غیرت انسان سے اس بات کی امید ہرگز نہیں  دوسری بات آپ انکے دستر خوان کا بچا کچہ نہیں کھا رہے بلکہ وہ آپکے دستر خوانوں پر قابض ہیں اور آپکو بچا کچہ کھانے پر مجبور کر رہے ہیں ،باقی مولوی کی نماز جمعہ کے بعد مانگی جانے والی طویل اور بے روح دعاؤں کی بات تو وہ کرے جو نماز جمعہ پڑھتا ہو آپ نے آخری کب پڑھی تھی ! 



     علامہ کلکل تلملا کر رہ گۓ مولوی صاحب میں آپکی عزت کر رہا ہوں ذاتی حملوں سے پرہیز کریں آپ ،

    بہت معذرت مولوی صاحب گویا ہوے اگر آپکو برا لگا تو میں نے تو حقیقت حال دریافت کی تھی ،علامہ کلکل نے نیا پینترا بدلا اور پھر حملہ اور ہوے ،میاں صاحب چندوں کی کمائی پر پلنے والے امت کے فیصلوں کی بات کرتے ہیں ہے نا عجیب بات ؟مولوی صاحب فرمانے لگے بھائی صاحب چندوں کی پھبتی بہت پرانی ہے اور اس پھبتی سے ہم مولوی تو کیا یار لوگوں نے خدا کی ذات با برکت کو بھی نہیں بخشا ،



    لَقَدۡ سَمِعَ اللّٰہُ قَوۡلَ الَّذِیۡنَ قَالُوۡۤا اِنَّ اللّٰہَ فَقِیۡرٌ وَّ نَحۡنُ اَغۡنِیَآءُ ۘ سَنَکۡتُبُ مَا قَالُوۡا وَ قَتۡلَہُمُ الۡاَنۡۢبِیَآءَ بِغَیۡرِ حَقٍّ ۙ وَّ نَقُوۡلُ ذُوۡقُوۡا عَذَابَ الۡحَرِیۡقِ ﴿۱۸۱﴾



    بیشک اللہ نے سنی ان کی بات جنہوں نے کہا کہ اللہ فقیر ہے اور ہم مالدار اب لکھ رکھیں گے ہم انکی بات اور جو خون کئے ہیں انہوں نے انبیاء کے ناحق اور کہیں گے چکھو عذاب جلتی آگ کا



    ویسے اگر "این جی او" کے نام پر چندہ مانگا  جاۓ تو وہ چیرٹی اور خدمت خلق اور اگر مدارس کے نام پر چندہ کا سوال ہو تو خیرات کے ٹکڑے کیا یہ کھلا تضاد نہیں !ایک جگہ ایک ادیب کا اقتباس پڑھا تھا ! ہاں یاد آیا ذرا ملاحظہ کیجئے ،



    شہاب نامہ سے اقتباس: ہے آپکے جدت پسندوں میں کافی مقبول تھے حضرت ،،



    سنگلاخ پہاڑیوں اور خاردار جنگل میں گھرا ہوا ایک چھوٹا سا گاؤں تھا، جس میں مسلمانوں کے بیس پچیس گھر آباد تھے۔ ان کی معاشرت، ہندوانہ اثرات میں اس درجہ ڈوبی ہوئی تھی کہ رومیش علی، صفدر پانڈے، محمود مہنتی، کلثوم دیوی اور پر بھادئی جیسے نام رکھنے کا رواج عام تھا۔ گاؤں میں ایک نہایت مختصر کچی مسجد تھی جس کے دروازے پر اکثر تالا پڑا رہتا تھا جمعرات کی شام کو دروازے کے باہر ایک مٹی کا دیا جلایا جاتا تھا۔ کچھ لوگ نہا دھوکر آتے تھے اور مسجد کے تالے کو عقیدت سے چوم کر ہفتہ بھر کیلئے اپنے دینی فرائض سے سبکدوش ہوجاتے تھے۔



    ہر دوسرے تیسرے مہینے ایک مولوی صاحب اس گاؤں میں آکر ایک دو روز کے لئے مسجد کو آباد کر جاتے تھے۔ اس دوران میں اگر کوئی شخص وفات پا گیا ہوتا، تو مولوی صاحب اس کی قبر پر جاکر فاتحہ پڑھتے تھے۔ نوزائیدہ بچوں کے کان میں اذان دیتے تھے۔ کوئی شادی طے ہوگئی ہوتی تو نکاح پڑھوا دیتے تھے۔ بیماروں کو تعویذ لکھ دیتے تھے اور اپنے اگلے دورے تک جانور ذبح کرنے کے لئے چند چھریوں پر تکبیر پڑھ جاتے تھے۔ اس طرح مولوی صاحب کی برکت سے گاؤں والوں کا دین اسلام کے ساتھ ایک کچا سا رشتہ بڑے مضبوط دھاگے کے ساتھ بندھا رہتا تھا۔



    برہام پور گنجم کے اس گاؤں کو دیکھ کر زندگی میں پہلی بار میرے دل میں مسجد کے ملّا کی عظمت کا کچھ احساس پیدا ہوا۔ ایک زمانے میں ملّاا اور مولوی کے القاب علم و فضل کی علامت ہوا کرتے تھے لیکن سرکار انگلشیہ کی عملداری میں جیسے جیسے ہماری تعلیم اور ثقافت پر مغربی اقدار کا رنگ و روغن چڑھتا گیا، اسی رفتار سے ملّا اور مولوی کا تقدس بھی پامال ہوتا گیا۔ رفتہ رفتہ نوبت بایں جارسید کہ یہ دونوں تعظیمی اور تکریمی الفاظ تضحیک و تحقیر کی ترکش کے تیر بن گئے۔ داڑھیوں والے ٹھوٹھ اور ناخواندہ لوگوں کو مذاق ہی مذاق میں ملّا کا لقب ملنے لگا۔ کالجوں ، یونیورسٹیوں اور دفتروں میں کوٹ پتلون پہنے بغیر دینی رجحان رکھنے والوں کو طنز و تشنیع کے طور پر مولوی کہا جاتا تھا۔ مسجدوں کے پیش اماموں پر جمعراتی ، شبراتی، عیدی، بقرعیدی اور فاتحہ درود پڑھ کر روٹیاں توڑنے والے قل اعوذئے ملّاؤں کی پھبتیاں کسی جانے لگیں۔ لُو سے جھلسی ہوئی گرم دوپہر میں خس کی ٹٹیاں لگاکر پنکھوں کے نیچے بیٹھنے والے یہ بھول گئے کہ محلے کی مسجد میں ظہر کی اذان ہر روز عین وقت پر اپنے آپ کس طرح ہوتی رہتی ہے؟ کڑکڑاتے ہوئے جاڑوں میں نرم و گرم لحافوں میں لپٹے ہوئے اجسام کو اس بات پر کبھی حیرت نہ ہوئی کہ اتنی صبح منہ اندھیرے اٹھ کر فجر کی اذان اس قدر پابندی سے کون دے جاتا ہے؟



    دن ہو یا رات، آندھی ہو یا طوفان، امن ہو یا فساد، دور ہو یا نزدیک، ہر زمانے میں شہر شہر، گلی گلی ، قریہ قریہ، چھوٹی بڑی، کچی پکی مسجدیں اسی ایک ملّا کے دم سے آباد تھیں جو خیرات کے ٹکڑوں پر مدرسوں میں پڑا تھا اور دربدر کی ٹھوکریں کھا کر گھر بار سے دور کہیں اللہ کے کسی گھر میں سرچھپا کر بیٹھ رہا تھا۔ اس کی پشت پر نہ کوئی تنظیم تھی، نہ کوئی فنڈ تھا، نہ کوئی تحریک تھی۔ اپنوں کی بے اعتنائی، بیگانوں کی مخاصمت، ماحول کی بے حسی اور معاشرے کی کج ادائی کے باوجود اس نے نہ اپنی وضع قطع کو بدلا اور نہ اپنے لباس کی مخصوص وردی کو چھوڑا۔ اپنی استعداد اور دوسروں کی توفیق کے مطابق اس نے کہیں دین کی شمع ، کہیں دین کا شعلہ، کہیں دین کی چنگاری روشن رکھی۔ برہام پور گنجم کے گاؤں کی طرح جہاں دین کی چنگاری بھی گل ہوچکی تھی، ملّا نے اس کی راکھ ہی کو سمیٹ سمیٹ کر بادِ مخالف کے جھونکوں میں اڑ جانے سے محفوظ رکھا۔



    یہ ملّا ہی کا فیض تھا کہ کہیں کام کے مسلمان، کہیں نام کے مسلمان، کہیں محض نصف نام کے مسلمان ثابت و سالم و برقرار رہے اور جب سیاسی میدان میں ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان آبادی کے اعداد و شمار کی جنگ ہوئی تو ان سب کا اندارج مردم شماری کے صحیح کالم میں موجود تھا۔ برصغیرکے مسلمان عموماً اور پاکستان کے مسلمان خصوصاً ملّا کے اس احسان عظیم سے کسی طرح سبکدوش نہیں ہوسکتے جس نے کسی نہ کسی طرح کسی نہ کسی حد تک ان کے تشخص کی بنیاد کو ہر دور اور ہر زمانے میں قائم رکھا۔



     علامہ کلکل کی تلملاہٹ عروج پر تھی فرمانے لگے اجی مولانا چھوڑئیے ادھر ادھر کی باتیں یہ آپ لوگوں کی تنگ نظری ہے جسنے ہم لوگوں کا بیڑہ غرق کر کے رکھ دیا ہے ،مولوی منصف صاحب نے پوچھا بھائی اس تنگ نظری کی کوئی مثال ،علامہ کلکل صاحب فرمانے لگے ،میرے لیے وہ انتہائی اذیت ناک لمحات تھے کہ میں ایک مسلمان بھائی، اے آر رحمان کو گولڈن گلوب ایوارڈ ملنے اور آسکر ایوارڈ میں تین الگ الگ شعبوں میں نامزدگیوں پر اظہار فخر و شکر نہیں کرسکا۔



    اس حوالے سے میں کھل کراپنے قلبی جذبات کا اظہار نہیں کرسکتا تھا۔



    اوّل یہ کہ، اے آر رحمان ہندوستان کے شہری ہیں، اور وہ ہمارا ’ازلی دشمن‘ ہے۔



    دوم پاکستان میں ’’مروجہ‘‘ اسلام کے تحت موسیقی حرام ہے۔



    میں اس ’اسلامی‘ ملک میں، میں یہ دلیل بھی نہیں پیش کرسکا کہ اللہ کے ایک نبی حضرت داؤد علیہ السلام پر نازل ہونے والی کتاب ’زبور‘ دراصل الہامی گیتوں کا مجموعہ ہے، جسے حضرت دائود علیہ السلام سُر اور ساز کے ساتھ گایا کرتے تھے ۔



    چچ چچ   بڑے دکھ اور کرب کی بات ہے کتنے مجبور ہیں آپ لیکن آپکو اظہار فخر اور شکر سے روکا کسنے ہے ؟مولوی صاحب نے استفسار کیا !

    میں نے بھی ٹانگ اڑائ ذرا یہ بھی تو بتائیں علامہ صاحب اس اظہار تشکر کا انداز کیا ہوگا بریک ڈانس دیسی بھنگڑا یا پھر ہپ ہاپ اجی شرماتے کیوں ہیں دو چار ٹھمکیاں براۓ ایوارڈ موسیقی خاص واسطے شیطان کے ادا فرما لیجئے مگر اکیلے میں کیجئے گا ورنہ بچے وٹے ماریںگے ،

    جانے بھی دو  بھائی صاحب کچھ سنجیدہ کفتگو کر لیتے ہیں مولوی صاحب نے مجھے ٹوکا ،سوال یہ ہے کہ تفاخر کی بنیاد کیا ہے آپ کسی شخص کی کسی صلاحیت پر تفاخر کرنا چاہتے ہیں ضرور کیجئے آپکو روکا کسنے ہے لیکن یہ تفاخر شخصی ہے یا اسلامی اگر آپ کسی بھانڈ میراثی یا گویہ کی کسی اٹھک بیٹھک پر اسلامی تفاخر کے طالب تو شید اسکی اجازت آپکو نہ مل سکے ،باقی آپ نے فرمایا پاکستان میں ’’مروجہ‘‘ اسلام کے تحت موسیقی حرام ہے ! تو موسیقی حلال کس دور میں رہی یہ بھی بیان فرما دیجئے !

    ایک جگہ کسی عالم سے سنا تھا !

    ماتم کا مقام ہے کہ جس رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے راگ باجوں کا مٹانا اپنی بعثت کا مقصد بتایا اسی رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے نام نہاد اُمتی آج اس گناہ پر دل و جان سے فدا ہیں - بلکہ اس بے حیائی کو سند جواز مہیا کرنے کے لئے سردھڑ کی بازی لگارہے ہیں ، ان ظلمت جدیدہ کے متوالوں کو یہ موٹی سی حقیقت کون سمجھائے کہ اللہ تعالی کی شریعت چودہ سو سال سے مکمل ہے،اس کا ہر مسئلہ اٹل ،لازوال اور قیامت تک کے لئے محفوظ ہے - تمہاری موا فقت یا مخالفت سے کسی مسئلہ پر کوئی اثر نہیں پڑتاجو شرعاًحلال ہے وہ قیامت تک حلال رہے گی اور جو چیز ازروئے شرع حرام ہے وہ بھی رہتی دنیا تک حرام ہی رہے گی گو کہ دنیا بھر کے ووٹ اس کے خلاف پڑجائیں-شریعتِ مطہر ہ میں موسیقی کی حرمت کا مسئلہ بھی ایک ایسا ہی مسئلہ ہے جس پر دلیل پیش کرنے کی چنداں حاجت نہیں اس قسم کے قطعی حرام کو مباح وجائز قرار دینے کی جسارت بالکل ایسی ہی ہے جیسے کو ئی سرپھرا یہ کہنے لگے کہ شریعت کی رو سے زنا ،شراب نوشی ،سودخوری اور رشوت جائز ہے- ظاہر ہے اس قسم کی یا وہ گوئی کسی درجہ میں بھی لائق اعتناء نہیں نہ ہی اس قابل ہے کہ اسکی تردید میں وقت ضائع کیا جائے، مگر کیا کیاجائے ؟ اس دورِ ہوا پرستی میں علم و تحقیق کے عنواں سے جو خس و خاشاک بھی پیش کیا جائے اسے مبادیا ت دین سے نا آشنا جدید طبقے میںِ'' جدید تحقیق ''کے عنواں سے جلد پزیر ائی حاصل ہوجاتی ہے ، اس طرح کفر والحاد اس بد قسمت معاشرہ میں باسانی کھپ جاتاہے-اکبر نے مر حوم نے کیا خوب کہا ہے --



    اُنھوں نے دین کب سیکھا ہے رہ کر شیخ کے گھر میں

     پلے کا لج کے چکر میں مرے صا حب کے دفتر میں





    "" اور بعض آدمی ایسا ہے جو ان باتوں کا خریدار بنتا ہے جو غافل کرنے والی ہیں تاکہ اللہ کی راہ سے بے سمجھے بوجھے گمراہ کرے اور اسکی ہنسی اڑا دے، ایسے لوگوں کے لیے ذلت کا عذاب ہے ""امام ابنِ کثیر رحمہ اللہ تعالی اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں:عن ابی الصھباء البکری انہ سمع عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالی و ھوا یسال عن ھذہ الایۃ (وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَشْتَرِی لَھُوَ الْحَدِيثِ لِيُضِلَّ عَنْ سَبِيلِ اللہِ) فقال عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ الغناء واللہ الذی لاالہ الا ھویرددھاثلاث مرات۔وکذا قال ابن عباس و جابر رضی اللہ تعالی عنہم و عکرمۃ و سعیدبن جبیر و مجاھد و مکحول و عمرو بن شعیب و علی بن بذیمہ رحمہم اللہ تعالی:وقال الحسن البصری رحمہ اللہ تعالی نزلت ھذہ الایۃ(وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَشْتَرِی لَھُوَ الْحَدِيثِ لِيُضِلَّ عَنْ سَبِيلِ اللہِ) فی الغناء والمزامیر۔ (تفسیر ابن کثیر صفحہ ۴۵۷ جلد ۳)""حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ نے تین بار قسم اٹھا کر فرمایا کہ لھوالحدیث سے مراد گانا بجانا ہےحضرت ابنِ عباس و جابر رضی اللہ تعالی عنہما اور حضرت عکرمہ ، سعید بنِ جبیر ،مجاہد مکحول ، عمر بن شعیب اور علی بن ہذیمہ رحمہم اللہ تعالی سے بھی اس آیت کی یہی تفسیر منقول ہے-اور حضرت حسن بصری رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں یہ آیت گانے اور راگ باجوں کے متعلق اتری ہے""یہی تفسیر قرطبی ص ۵۱ج ۱۴ ، بغوی ص ۴۰۸ج ۴ ، خازن ص ۴۶۸ج ۳ ، مظہری ص ۲۴۶ج ۷ میں مفصل مذکور ہے



    (۲) واستفزز من استطعت منہم بصوتک الایہ (سورہ ۱۷ آیات نمبر ۶۴)""اور پھسلالے ان میں سے جس کو تو پھسلا سکے اپنی آواز سے""امام ابنِ کثیر رحمہ اللہ تعالی اس آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں:وقولہ تعالی( واستفزز من استطعت منہم بصوتک ) قیل ھو الغناء قال مجاھد رحمہ اللہ تعالی بالھو والغناء ای استخفھم بذٰلک و قال ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہما فی قولہ( واستفزز من استطعت منہم بصوتک) قال کل داع دعا الی معصیۃ اللہ عزہ وجل و قالہ ، قتادہ رحمہ اللہ تعالی واختارہ ابن جریر رحمہ اللہ تعالی (تفسیر ابن کثیر صفحہ ۵۰ جلد ۳)اس آیت میں شیطانی آواز سے گانا بجانا مراد ہے امام مجاہد رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں ۔ اس کا مطلب یہ ہے(اے ابلیس) تو اُنھیں کھیل تماشوں اور گانے بجانے کے ساتھ مغلوب کر۔ اور حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہما فرماتے ہیں-اس آیت میں ہر وہ آواز مراد ہے جو اللہ تعالی کی نافرمانی کی طرف دعوت دے،یہی حضرت قتادہ رحمہ اللہ تعالی کا ہے اور اسی کو ابن جریر رحمہ اللہ تعالی نے اختیار فرمایا ہے-



    حافظ ابن قیم رحمہ اللہ تعالی اسی کے ذیل میں فرماتے ہیںو من المعلوم ان الغناء من اعظم الدواعی الی المعصیۃ ولھذا فسر صوت الشیطان بہ (اغاثۃ اللھفان صفحہ ۲۵۵ جلد ۱ )اور سب کو معلوم ہے کہ مصیبت کی طرف دعوت دینے والوں میں گانا بجانا سب سے بڑھ کر ہے اسی وجہ سے شیطان کی آواز کی تفسیر اسی کے ساتھ کی گئی



    مجھے نہ سنائیں یہ قصے کہانیاں میں نہیں مانتا ان گڑھی ہوئی روایات کو علامہ پھنکارے

    !



    تو پھر آپ کسکو مانتے ہیں مولانا نے استفسار کیا !قرآن سے دلیل دو قرآن سے علامہ گرجے ،



    میرے بھائی اپنے جو کہانی سنائی وہ کہاں ہے قرآن میں ،

    میں اس ’اسلامی‘ ملک میں، میں یہ دلیل بھی نہیں پیش کرسکا کہ اللہ کے ایک نبی حضرت داؤد علیہ السلام پر نازل ہونے والی کتاب ’زبور‘ دراصل الہامی گیتوں کا مجموعہ ہے، جسے حضرت دائود علیہ السلام سُر اور ساز کے ساتھ گایا کرتے تھے ۔بس یہ مجھے دکھا دیجئے کہاں ہے قرآن میں ،مولانا نے پوچھا ..وہ وہ میں دیکھ کر بتاؤنگا علامہ منمناۓ ،،،،

    کوئی بات نہیں ڈھونڈتے رہے بے دلیل ہونا کوئی دلیل نہیں !لیکن خدا را سوچیے حضرت داوود علیہ سلام کا زبور کی تلاوت کرنا موسیقی تھا تو کیا قرآن کی تلاوت بھی موسیقی ہے الله کے رسول صلعم نے قرآن کی تلاوت کی یہ اسے گایا آپکے نظریہ کی بنیاد پر تو آذان بھی آرکسٹرا کے ساتھ دینی چاہئیے تھی لیکن ایسا کچھ بھی کبھی بھی نہ ہوا آنا پرستی اور آنکھوں پر پردہ پڑ جاۓ تو سیدھا الٹا اور الٹا سیدھا دکھائی دینے  لگتا ہے ،علامہ کلکل نے اپنی کور دبتی دیکھی تو بلند آہنگی میں پناہ ڈھونڈی ،آپ لوگ ترقی کے دشمن ہیں .میرا خیال ہے کہ یہاں ترقی تو کیا ایسے کسی انتہائی اقدام کے بعد اسے چند لمحے جینے کی اجازت ملنا بھی مشکل ہے۔



    یاد نہیں، ہم نے واحد نوبل انعام یافتہ پاکستانی سائنس دان ڈاکٹر عبدالسلام کے ساتھ کیا سلوک کیا تھا؟



    ڈاکٹر عبدالسلام جن مذہبی نظریات پر یقین رکھتے تھے، ان نظریات سے مجھے بھی اختلاف ہے، لیکن کیا عقائد سے اختلاف کا مطلب یہ ہے کہ انسانیت کا جامہ ہی اتار دیا جائے اور ’درندہ نما حیوانیت‘ کو کھلا چھوڑ دیا جائے؟









    دینی لوگ ہوتے ہی کم ظرف ہیں کلکل صاحب گویا ہوے،ہم اس قدر ظرف اور برداشت کے حامل ہیں کہ کوئی مسلمان فرد اسلام کو چھوڑ کر کوئی اور مذہب اختیار کرلے پھر ہم اسے اتنی ترقی کرنے اجازت بھی دیں کہ وہ ملک و قوم کے لیے باعث فخر بن سکے۔



    علامہ صاحب ہمارے نبی صل الله علیہ وسلم کا فرمان ہے !



    ”عن عبداللّٰہ قال: قال رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم… لایحل دم رجل مسلم یشہد ان لا الٰہ الا اللّٰہ و انی رسول اللّٰہ الا باحدی ثلاث: الثیب الزانی‘ والنفس بالنفس‘ والتارک لدینہالمفارق للجماعة۔“ (ابوداؤد ص: ۲۴۲‘ ج:۲‘ نسائی ۱۶۵‘ ج:۲‘ ابن ماجہ ص:۱۸۲‘ سنن کبریٰ بیہقی ۱۹۴‘ ج:۸‘ ترمذی ص:۲۵۹‘ ج:۱‘ مسلم ص:۵۹ ج:۲)ترجمہ:… ”حضرت ابن مسعود سے روایت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو مسلمان کلمہ لا الٰہ الا اللہ کی شہادت دے‘ اس کا خون بہانا جائز نہیں‘ سوائے ان تین آدمیوں کے: ایک وہ جو شادی شدہ ہوکر زنا کرے‘ دوسرا وہ جو کسی کو ناحق قتل کردے اور تیسرا وہ جو اسلام کو چھوڑ کر مرتد ہوجائے۔“



    سوال یہ ہے کیا آپ مسلمان ہیں .مولانا نے پوچھا ؟جی ہاں اور آپ سے بہتر .......کیا آپ اسلام کو دین حق سمجھتے ہیں ،مولانا نے پھر سوال کیا .ہر مذہب والا خود کو حق پر سمجھتا ہے ،علامہ بولے ،تو کیا حق متعدد ہیں سچ بھی حق اور جھوٹ بھی حق کسی کے سمجھنے سے کیا ہوتا ہے حق تو حق ہی رہے گا !تو کیا ہم اپنا حق دوسرے پر تھوپ دیں علامہ بولے ،نہیں کلکل صاحب اپنا یہ انکا حق نہیں حق تو حق ہے ہم کسی کو مجبور نہیں کرتے کہ وہ اسلام قبول کرے لیکن اگر وہ مسلمان ہو چکا ہے تو اسے ارتداد کی اجازت نہیں دی جا سکتی ورنہ دین بازیچہ اطفال بن کر رہ جاۓ گا ،لیکن دوسرے مذاہب میں تو ایسا نہیں ہوتا علامہ مچلے ،کیونکہ دوسرے مذاہب ہیں دین نہیں اسلام دین ہے جو پورے نظام حیات پر حاوی ہے اور اسکے مالک خود الله ہیں اگر کوئی کسی ریاست کے قانون سے بغاوت کرے تو اسکی سزا موت ہے لیکن اگر کوئی الله کے قانون سے بغاوت کرے تو اسکو ایسے ہی چھوڑ دیا جاۓ !



    لیکن یہ معاملہ ریاست کا  ہے اور یہ فیصلہ بھی ریاست کے ہاتھ میں ہے اور اسوقت کہیں بھی باقاعدہ اسلامی ریاست قائم نہیں اسلئے علامہ صاحب آپ بلکل بے فکر رہیں!

    ہنہ علامہ نے ناک سکیڑی.......





     جناب علامہ صاحب آپکی پوری بحث مغالطوں پڑ مبنی "کل کل " ہے اور کچھ نہیں ،آپ لوگوں کی پہچان یہ ہے کہ آپ زبردست خلط مبحث کے ماہر ہیں اور آپکو یہ بھی معلوم نہیں کہ آپ کس قدر تضاد بیانی میں مبتلا ہورہے ہیں۔ 



    ”مسلم دنیا میں ایک نامور سائنسدان ڈاکٹر عبد السلام پیدا ہوئے تو مولویوں نے اس پر بھی فتوے لگائے“۔اندازہ لگایئے کہ بات کہاں سے کہاں لے جائی جارہی ہے‘ یہ تو بتایے کہ مولویوں نے ڈاکٹر عبد السلام کے کس سائنسی نظریئے پر کون سا فتویٰ لگایا تھا؟ فتویٰ تو قادیانی دجل پر لگا یا گیا تھا ،



    10 ستمبر 1974ء کو ڈاکٹر عبدالسلام نے وزیراعظم کے سائنسی مشیر کی حیثیت سے وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کے سامنے اپنا استعفیٰ پیش کیا۔ اس کی وجہ انھوں نے اس طرح بیان کی:’’آپ جانتے ہیں کہ میں احمدیہ (قادیانی) فرقے کا ایک رکن ہوں۔ حال ہی میں قومی اسمبلی نے احمدیوں کے متعلق جو آئینی ترمیم منظور کی ہے، مجھے اس سے زبردست اختلاف ہے۔ کسی کے خلاف کفر کا فتویٰ دینا اسلامی تعلیمات کے منافی ہے۔ کوئی شخص خالق اور مخلوق کے تعلق میں مداخلت نہیں کر سکتا۔ میں قومی اسمبلی کے فیصلہ کو ہرگز تسلیم نہیں کرتا لیکن اب جبکہ یہ فیصلہ ہو چکا ہے اور اس پر عملدرآمد بھی ہو چکا ہے تو میرے لیے بہتر یہی ہے کہ میں اس حکومت سے قطع تعلق کر لوں جس نے ایسا قانون منظور کیا ہے۔ اب میرا ایسے ملک کے ساتھ تعلق واجبی سا ہوگا جہاں میرے فرقہ کو غیر مسلم قرار دیا گیا ہو۔‘‘



    آج بھی پاکستان کی غیر مذہبی ریاست میں قادیانیوں کی مذہبی ریاست موجود ہے جہاں انکی اپنی پولیس انکا ڈاک خانہ کاروبار میڈیا سب انکے ہاتھ میں ہے ،،،،،،،،،بات ہو رہی ہے "ربوہ" کی جو ویٹیکن کی طرح ریاست میں ریاست ہے .......اور جو الزام عبدالسلام قادیانی نے پاکستانیوں پر  لگا کر ملک چھوڑا تھا وہ خود بھی اسی جرم کے مرتکب ہیں ،



    معروف صحافی و کالم نویس جناب تنویر قیصر شاہد نے ایک دلچسپ مگر فکر انگیز واقعہ نقل کیا !



    ’ایک دفعہ لندن میں قیام کے دوران بی بی سی لندن کی طرف سے میں اپنے ایک دوست کے ساتھ بطور معاون، ڈاکٹر عبدالسلام کے گھر ان کا تفصیلی انٹرویو کرنے گیا۔ میرے دوست نے ڈاکٹر سام کا خاصا طویل انٹرویو کیا اور ڈاکٹر صاحب نے بھی بڑی تفصیل کے ساتھ جوابات دیئے۔ انٹرویو کے دوران میں بالکل خاموش، پوری دلچسپی کے ساتھ سوال و جواب سنتا رہا۔ دوران انٹرویو انہوں نے ملازم کو کھانا دسترخوان پر لگانے کا حکم دیا۔ انٹرویو کے تقریباً آخر میں عبدالسلام مجھ سے مخاطب ہوئے اور کہاں کہ آپ معاون کے طور پر تشریف لائے ہیں مگر آپ نے کوئی سوال نہیں کیا۔ میری خواہش ہے کہ آپ بھی کوئی سوال کریں۔ ان کے اصرار پر میں نے بڑی عاجزی سے کہا کہ چونکہ میرا دوست آپ سے بڑاجامع انٹرویو کر رہا ہے اور میں اس میں کوئی تشنگی محسوس نہیں کر رہا، ویسے بھی میں، آپ کی شخصیت اور آپ کے کام کو اچھی طرح جانتا ہوں۔ میں نے آپ کے متعلق خاصا پڑھا بھی ہے۔ جھنگ سے لے کر اٹلی تک آپ کی تمام سرگرمیاں میری نظرں سے گزرتی رہی ہیں لیکن پھر بھی ایک خاص مصلحت کے تحت میں اس سلسلہ میں کوئی سوال کرنا مناسب نہیں سمجھتا۔ اس پر ڈاکٹر عبدالسلام فخریہ انداز میں مسکرائے اور ایک مرتبہ اپنے علمی گھمنڈ اور غرور سے مجھے ’’مفتوح‘‘ سمجھتے ہوئے ’’فاتح‘‘ کے انداز میں ’’حملہ آور‘‘ ہوتے ہوئے کہا کہ ’’نہیں… آپ ضرور سوال کریں، مجھے بہت خوشی ہو گی۔‘‘ بالآخر ڈاکٹر صاحب کے پرزور اصرار پر میں نے انہیں کہا کہ آپ وعدہ فرمائیں کہ آپ کسی تفصیل میں گئے بغیر میرے سوال کا دوٹوک الفاظ ’’ہاں‘‘ یا ’’نہیں‘‘ میں جواب دیں گے۔ ڈاکٹر صاحب نے وعدہ فرمایا کہ ’’ٹھیک! بالکل ایسا ہی ہو گا؟‘‘ میں نے ڈاکٹر صاحب سے پوچھا کہ چونکہ آپ کا تعلق قادیانی جماعت سے ہے، جو نہ صرف حضور نبی کریمe کی بحیثیت آخری نبی منکر ہے، بلکہ حضور نبی کریمe کے بعد آپ لوگ (قادیان، بھارت کے ایک مخبوط الحواس شخض) مرزا غلام احمد قادیانی کو نبی اور رسول مانتے ہیں۔ جبکہ مسلمان مرزا قادیانی کی نبوت کا انکار کرتے ہیں۔ آپ بتائیں کہ مدعی نبوت مرزا غلام احمد قادیانی کو نبی نہ ماننے پر آپ مسلمانوں کو کیا سمجھتے ہیں؟ اس پر ڈاکٹر عبدالسلام بغیر کسی توقف کے بولے کہ ’’میں ہر اس شخص کو کافر سمجھتا ہوں جو مرزا غلام احمد قادیانی کو نبی نہیں مانتا۔‘‘ ڈاکٹر عبدالسلام کے اس جواب میں، میں نے انہیں کہا کہ مجھے مزید کوئی سوال نہیں کرنا۔ اس موقع پر انہوں نے اخلاق سے گری ہوئی ایک عجیب حرکت کی کہ اپنے ملازم کو بلا کر دستر خوان سے کھانا اٹھوا دیا۔ پھر ڈاکٹر صاحب کو غصے میں دیکھ کر ہم دونوں دوست ان سے اجازت لے کر رخصت ہوئے۔‘‘





     علامہ صاحب ہمیں قادیانیوں سے کیوں نفرت ہے کبھی اپنے سوچا بھی اسکی وجہ کیا ہے !



    اگر کوئی شخص آپکے گھر میں داخل ہو اور آپکے مرحوم والد کی جگہ لینے کی کوشش کرے آپکی والدہ سے صحبت کا طالب ہو اور کہے کہ آپکی پیدائش میں وہ آپکے والد کے ساتھ برابر کا حصے دار ہے تو دل پر ہاتھ رکھ کر بتائیں کیا آپ اسے محبّت سے پیش آئیںگے اسکی خاطر داری کرینگے اسکو وہی عزت اور مقام دینگے جو  آپکے والد کا تھا ؟



    علامہ کلکل کا چہرہ اتر چکا تھا اور انکے پاس کوئی جواب نہ تھا اور میں سوچ رہا تھا ،بولوں تو بولوں کیا ؟



    بھائی صاحب کی اس دلچسپ داستان کے بعد راقم کے پاس کہنے کو کچھ نہیں ہے لیکن سوچنے کو بہت کچھ !



    حسیب احمد حسیب .