بدھ، 29 مئی، 2013

اسلام کا دائرہ

اسلام کا دائرہ !


ایک صاحب نے انشاء کی کتاب سے مولوی پر پھبتی کسی ،


دائرے کی تعریف یوں تو دائروں کی بہت سی قسمیں ہوا کرتی ہیں لیکن ہمیں ایک ہی قسم کا دائرہ مہیا ہے جسے " دائرہ اسلام " کہا جاتا ہے کہ جوں جوں ملاؤں کا پیٹ پھیلتا تو اس دائرے کا حدود اربعہ سکڑتا جاتا ہے . سنا ہے کہ پہلے کبھی اس دائرے میں اندراج بھی ہوا کرتا تھا مگر آجکل داخلہ سختی سے منح ہے صرف اخراج ہی اخراج ہوا کرتا ہے !


اور پھر دردمندی سے گویا ہوے...


 سچائی یہ ہے کہ هم اللہ تعالیٰ کی کتاب کو ایک مانیں تب نہایسا کیوں ہوتا ہے؟جب ہم مذھب کی بات کرتے ہیں تو دیگر مذاھب کے لوگ ہمیں جہنمی نظر آتے ہیں لیکن جب بات فرقوں کی ہوں تو دیگر فرقوں کے لوگ ہمیں کافر لگتے ہیں۔ حد تو یہ کہ ایک ہی فرقے کے کسی دوسرے گروہ کے ساتھ ایک ہی دسترخوان پربیٹھنا اور ایک دوسرے کی مسجد میں نماز پڑھنا ہمیں گوارا نہیں کہ اس سے ہمارے عقیدے پہ آنچ آتی ہے۔


ایک دوسرے کو جنت کا صحیح راستہ دکھانے کی دوڑ میں ہم اتنے آگے نکل آے ہیں کہ ہم نے دنیا کو ہی جہنم بنا کے رکھ دیا ہے۔ حالانکہ مذھب چاہے کوی بھی ہو بنیادی طور پر پیارومحبت اور انسانیت کا درس دیتا ہے۔ لیکن ہم ہیں کہ مذھب کی بات سامنے آتے ہی پیار و محبت اور انسانیت بھول جاتے ہیں، تمام قانونی اور اخلاقی حدیں پار کرلیتے ہیں اور معاملہ زور زبردستی سے حل کرنا شروع کر دیتے ہیں


اور پھر سارا ملبہ مولوی پر ڈال کر فتویٰ صادر  کیا!


(ان جاہل مولویوں نے وہ تمام کام جو دنیا میں "حرام" ہیں وہ جنت میں "حلال" ہوں گے۔ انہی حرام کاریوں کو سرانجام دینے کیلئے مومنین جنت جانا چاہتے ہیں۔)


انکے سوالات سن کر کچھ اور سوالات پیدہ ہوتے ہیں ،،،،



سوال بہت سادہ اور آسان ہے!


 جناب مٹی ڈالیے مولویوں پر یہ بھی دور جدید کا فیشن ہے دو گالیاں مولوی کو دے دیجئے اب اپکا شمار جدت پسندوں میں کیا جا سکتا ہے مبارک ہو !


جدت پسندوں سے توقع ہوتی ہے کہ وہ معقولیت  پسند بھی ہوں اور معقولیت  متقاضی ہے کچھ معقول سوالات کے جوابات کی خاص کر ان احباب سے جنہوں نے بزعم خود مذہب سدھار کا ٹھیکہ لیا ہوا ہے ،


مختلف اشیا اپنے  مخصوص اوصاف سے پہچانی جاتی ہیں اور تقسیم در تقسیم کا یہ عمل کسی  زنجیری ردعمل کی طرح بڑھتا چلا جاتا ہے پھل ،پھول ،پودے ،نباتات ،جمادات ،حیوانات اور انسان اپنے اوصاف کی وجہ سے ایک دوسرے سے ممتاز ہیں ...اسی طرح ایک ہی نوع کو لیجئے پہاڑی پتھر صحرائی ڈھیلے سے مختلف ہے سمندری پانی دریائی پانی سے ممتاز کتا اور شیر دونوں گوشت خور ہیں ،سب جانور ایک جیسے نہیں سب پرندے ایک جیسے نہیں اسی طرح سب انسان بھی کوئی کالا اور کوئی گورا کوئی موٹا کوئی دبلا ،پھر انسانی نفسیات کا مشاہدہ کیجئے کوئی غصیل تو کوئی نرم مزاج کوئی مسخرگی کی حد تک خوش مزاج اور کوئی کرختگی کی حد تک سنجیدہ ،پھر ایک ہی انسان کی زندگی کے ادوار میں اسکے احساسات و کیفیات کا مختلف ہونا  بوڑھا بچہ جوان یا نوجوان ایک ہی شخص کے الگ روپ ،اور پھر رشتوں کی تقسیم وہ باپ ہے یا ماں ہے بھائی ہے یا بہن بیٹا ہے یا بیٹی دوست ہے دشمن ہے استاد ہے شاگرد ہے نوکر ہے اور غلام ہے بیک وقت بہت کچھ ہے ...


اگر ان  رنگوں کو ختم کر دیا جاۓ تو  انفرادیت کی موت ہے اور یکسانیت کا ہونا تعارف یا پہچان کی موت مختلف اضداد اپنی ضد کی پہچان کا ذریعہ ہیں ،،،،


اب ذرا یہی اصول دین ،مذہب فکر یا نظریات پر  لاگو کریں کیا تمام ادیان ایک ہی ہیں کیا بت کی پرستش کرنے والا اور ایک خدا کو ماننے والا تثلیث کا قائل یا نروان کا متلاشی ایک جیسے ہیں ....پھر ایک ہی مذہب کو لیجئے کیا اسکے کچھ اوصاف و کمالات ہیں اگر ہیں تو کیا جس میں وہ اوصاف و کمالات نہ ہونگے اسکو اس مذہب سے الگ سمجھا جا سکتا ہے ....


کیا ریشم و ٹاٹ ایک ہی ہیں اور اگر نہیں تو کیوں نہیں کیا ٹاٹ کو ریشم نہ ماننا دقیانوسیت ،فرقہ  واریت یا انتہا پسندی کہلانے گی ......


سادہ پانی اور مشروب میں فرق ہے کیا اس فرق کو فرق کہا جا سکتا ہے کیونکہ تکنیکی بنیادوں پر پانی بھی تو مشروب ہی ہے .......کیا یہی فرق ادیان و مذاہب میں نہیں اور کیا یہی فرق درون  مذاہب نہیں ہو سکتا ایک کہتا ہے الله کے رسول آخری نبی صل الله علیہ وسلم ہیں دوسرا کہتا ہے نہیں نہیں انکے بعد بھی ایک آیا ہے کیا دونوں ایک جیسے ہیں ......ایک کہتا ہے الله کے رسول کے ساتھی سارے سچے دوسرا کہتا ہے نہیں سب جھوٹے کیا دونوں برابر ہیں ......ایک کہتا ہے تمام طاقتیں الله کی وہی مددگار ہے دوسرا کہتا ہے نہیں کچھ شرکا بھی ہیں کیا دونوں سچے ....یہی وہ دائرہ ہے یا دائرے ہیں کیا یہ عقلی اور فطری ہیں یا نہیں 


سوچنے کی بات ہے .


حسیب احمد حسیب 

جدید دور کی محبوبہ


عورت کو کبھی کانچ کبھی نازک آبگینہ کبھی پھول کہا جاتا ھے کتنا اچھا ھو اگر اسے ایک نارمل جیتا جاگتا انسان سمجھا جائے احترام کیا جائے.

جدید دور کی محبوبہ جو ان تمام کمزوریوں سے پاک ہے .......

میری محبوب تیرا حسن چٹانوں جیسا 
تیری رفتار کسی تیز رو ویگن کی طرح
تیری آنکھیں ہیں کسی شیر کی آنکھوں جیسی 
تیرے رخسار کسی سخت پہاڑی جیسے 
تیری زلفیں کسی طوفان کے جیسی ہیں صنم
تیرے چتون کسی بپھرے ہوے بھینسے کی طرح
تو جو مسکاۓ تو ہنگام بپا ہو جاۓ
میری محبوب تیرے خوف سے کانپے ہے بدن
تیری قربت ہے کسی بھوت کے بچے جیسی
تیری حالت ہے کسی ریل کے ڈبے جیسی
تو جو مل جاۓ تو تقدیر زبوں ہو جاۓ
تیرے ہر چاہنے والے کو جنوں ہو جاۓ !

حسیب احمد حسیب

ایک فورم میں کچھ دہریوں کے اٹھاۓ گۓ سوالات پر ایک تجزیہ


ایک فورم میں کچھ دہریوں کے اٹھاۓ گۓ سوالات پر ایک تجزیہ ......


دھوکہ کیا ہے ...............
ایک شخص اعلان کر دے میں نے سورج کو مغرب سے نکلتے دیکھا ہے ........
کائناتی اصولوں کے خلاف ہے کوئی بھی تسلیم نہیں کرے گا .......
یہ کائناتی اصول کہاں سے معلوم ہوے........
مسلسل و مستقل مشاہدہ سے ...........
یہ ایک ایسا مشاہدہ ہے جو تمام انسان صدیوں سے کرتے چلے آے ہیں اسلئے سورج کو مشرق سے نکلتے دیکھ لینا ہی ثبوت ہے ............

ایک شخص کھڑے ہو کر اعلان کرے امریکہ نامی کوئی مملکت موجود نہیں ..........
یہ پہلے سے کم تر درجے کی حقیقت ہے لیکن یہ بھی قابل تسلیم ہے ......
کیوں کہ بہت سے لوگوں نے امریکہ کو دیکھا ہے اسکے بارے میں پڑھا ہے اسکے متعلق سنا ہے ......
اب بہت سے ایسے لوگ جنہوں نے امریکہ کو کبھی نہیں دیکھا وہ بھی اس کے ہونے کا یقین رکھتے ہیں گو انھیں مشاہدہ حاصل نہیں ہوا ........

ایک شخص کھڑے ہوکر اعلان کرے ڈائناسور کوئی چیز نہیں .........
اس عظیم الجثہ جاندار کو کسی نے نہیں دیکھا ........
ایک بڑی تعداد اس سے لاعلم ہے ......
ثبوت چند بکھرے ہوے سائنسی حقائق اور بس چند حاصل شدہ فوسلز اور کیا .........
لیکن دنیا اس کو ایسا ہی تسلیم کرتی ہے جیسے سامنے ٹیبل پر رکھی ہوئی کتاب ...........

اب ایک تجزیہ کیجئے ...........
تاریخ انسانی کے ابتدائی دور سے موجودہ دور تک ایک گروہ کثیر .........
فلسفی ،سائنسدان ،نفسیات دان ،مورخ ، ادیب ،شاعر ،لیڈر .......
یعنی عقل و احساس کے مختلف زاویوں سے دیکھنے والے احباب ..........

ایک بادشاہ سے لیکر ایک بھنگی تک ........
رنگ نسل قومیت اور علاقائیت ......
ادوار سے ماورا .........
ایک جدید ترین شہر میں بیٹھا ا علی دماغ شخص .....
یا کسی گھنے جنگل میں پتے باندھے کوئی وحشی .....

یہ سب کیوں ایک اندیکھے خدا کو مانتے ہیں ..........
کیا یہ انسانی فطرت نہیں ........

ایک اصول سمجھ لیں لادین فطرت کے مقابل ہیں اسی لیے ......
ناکام ہیں .........
آپ کے لاۓ ہوے نظام آپکا فلسفہ آپکی فکر ........
انسانیت نے آپ کو قبول کرنے سے انکار دیا ہے ......
اور آپ کا یہ رد ........
ہر دور میں ہر وقت ہر جگہ ہوا ہے .....

کیا اب وہ وقت نہیں آ گیا کہ آپ لوگ اپنی شکست تسلیم کر لیں .....

حق تو یہ ہے انسانیت نے آپ کو مردود کر کے .......
ایک ان دیکھے خدا کو چن لیا ہے .....!

منگل، 5 مارچ، 2013

!مولوی "منصف" اور "علامہ کلکل"!


  • مولوی "منصف" اور "علامہ کلکل"!


      ہمارے بھائی صاحب بھی عجیب چیز ہیں انہیں جامع المتفریقیں کہا جاۓ تو غلط نہ ہو گا اضداد کو اسطرح اپنی جانب کشش کرتے ہیں کہ جیسے کوئی مقناطیس ہو یا پھر کوئی دھوکے باز خوشبو دار پھول جو معصوم کیڑوں کو للچا کر اپنی جانب متوجہ کرے اور پھر انکی جان نہ چھوڑے انکے چنگل سے بچنا مشکل ہے ،بھائی صاحب یار باش آدمی ہیں اور بھائی صاحب کے توسط سے مختلف کرداروں سے تعارف ہوتا رہتا ہے لیکن بھائی صاحب کی ایک عادت بہت خراب ہے ،اسکا مطلب یہ نہیں کہ دوسری عادتیں اچھی ہیں لیکن ایک بہت خراب ہے لیکن یہ کوئی شرعی خرابی نہیں ہاں اسے اخلاقی کمزوری ضرور کہا جا سکتا ہے ،  بھائی صاحب اپنے احباب کی دلچسپ کہانیاں تو ضرور سناتے ہیں لیکن ان سے ملوانے میں بہت بخیل ہیں شاید انھیں خوف ہے انکا یہ چھوٹا بھائی انسے بڑا مقناطیس ثابت نا ہو جاۓ ،  ایسے ہی دو کرداروں کا تعارف گزشتہ دنوں بھائی صاحب کی زبانی حاصل ہوا اور جناب تعارف کیا اسے مکالماتی جنگ کا احوال کہنا زیادہ مناسب ہوگا جہاں بھائی صاحب مبصر کی حثیت سے موجود تھے !  تو سنتے ہیں بھائی صاحب کی زبانی !  راوی بھائی صاحب ،،،
      میاں  حسیب احمد حسیب تم خود کو شاید کوئی توپ چیز سمجتھے ہو ویسے تمھارے جثے کو دیکھ کر تمہیں توپ کا گولہ کہنا زیادہ مناسب ہوگا چلو تمہیں ایک مکالمے کا احوال سناتا ہوں تاکہ معلوم پڑے اہل علم کیسے گفتگو کرتے ہیں لو سنو اور منہ پھاڑ کر نہیں کان کھول کر سنو !  مولوی منصف میرے مدرسے کے استاد رہے ہیں اب میری جوانی دیکھ کر انکی عمر کا اندازہ لگا لو بلکہ چھوڑو تمھارے اندازے ہمیشہ غلط ہی ہوتے ہیں تو میں کیا کہ رہا تھا ہاں مولوی منصف مرنجا مرنج قسم کی شخصیت ہیں قدامت کا بھرپور نمونہ اور آجکل لوگ ایسے لوگوں کو نمونہ ہی سمجھتے ہیں ایک روز اچانک ملاقات ہو گئی شاید کسی کام سے تشریف لاۓ تھے میں با اصرار   گھر لے آیا قسمت کی ستم ظریفی دیکھو  وہیں ملاقات میرے پڑوسی علامہ کلکل سے ہو گئی جو جدیدیت کی اعلی ترین مثال ہیں مجھے مولوی صاحب کے ساتھ دیکھ کے گویا ہوے ارے بھائی صاحب کس کو لے اۓ زمانہ خراب ہے میں نے بتایا مولوی صاحب میرے استاد ہیں ان سے قرآن پڑھا ہے میں نے تو تیوری چڑھا کر بولے اچھا او ہو ویسے الفاظ کے رٹ لینے سے کیا حاصل اصل چیز تو مضمون ہے مضمون یہ تو بس مولویوں کا دھندہ ہے اور کچھ بھی نہیں ،مولوی صاحب مسکراۓ اور بولے ،بھائی کیا کریں تلاوت آیات بھی نبوی طریق ہے اور یہ میں نہیں خود قرآن کہتا ہے ،"وہی ہے جس نے ناخوانده لوگوں میں ان ہی میں سے ایک رسول بھیجا جو انہیں اس کی آیتیں پڑھ کر سناتا ہے اور ان کو پاک کرتا ہے اور انہیں کتاب وحکمت سکھاتا ہے۔ یقیناً یہ اس سے پہلے کھلی گمراہی میں تھے" اب تو علامہ بڑا تلملاۓ اور ہمارے ساتھ ہی گھر میں داخل ہو گۓ اور کہنے لگے میاں بھائی صاحب چاۓ تو بنوا دو آج تمھارے مولوی صاحب سے بھی گفتگو ہو ہی جاۓ،مولوی صاحب مسکرا کر گویا ہوے بسرو چشم .......اور مجھے معلوم پڑ گیا آج تو میدان سجے گا ! علامہ کلکل تنک کر کہنے لگے ،ہمارے اسلاف میں شامل ان لوگوں نے جن کی پرستش کی حد تک تقلید کی جاتی ہے، ہمارے لیے کوئی ایسی چیز بھی ورثے میں چھوڑی ہے، جو اس جدید ترقی یافتہ دورمیں فخر کے قابل سمجھی جاسکے اور اگر یہ ’لوگ‘ واقعی ایسے ہی تھے جیسا کہ مشرکانہ انداز کے قصیدہ نما تذکروں میں ان کی شخصیت کا نقشہ کھینچا جاتا ہے۔ یا دوسرے الفاظ میں اگر اسلاف پرستوں کے کہے کو سچ مان لیا جائے اور ان کی تقلید میں یہ تسلیم کرلیا جائے کہ ہمارے اکابر علمائے دین کے تبحر علمی کا یہ عالم تھا کہ ان کے قد و کاٹھ جیسا نہ پہلے کوئی تھا، نہ آئندہ کوئی پیدا ہوسکے گا اور ہمارے روحانی بزرگوں کاتو یہ درجہ تھا کہ کائنات ان کی مٹھی میں تھی اور مشیّت ایزدی گویا ان کے اشارے کی منتظر رہتی تھی، تو پھر ایسا کیوں ہے کہ آج ہم زندگی کے ہر معاملے میں غیر مسلموں کے محتاج ہیں؟ مولوی منصف پر سکون انداز میں گویا ہوے پہلی بات تو یہ کہ آپ اپنا سلف مانتے کسکو ہیں اور دوسری چیز یہ کہ آپ نے اپنے سلف سے لیا ہی کیا ہے غیر آج بھی آپکے سلف کے کئے گۓ کاموں سے استفادہ  کر رہے ہیں لیکن مشکل یہ ہے کہ غیروں نے آپکے اسلاف سے لیا اور آپ غیروں کی چاکری میں لگے پڑے ہیں بس یہی ہے آپ کے انحطاط کی سب سے بڑی وجہ جسوقت آپ علم کی معراج پر تھے اور آدھی دنیا پر آپکی حکومت تھی مغرب پاپائیت کے بوجھ تلے دبا اندھیروں کے دور میں جی رہا تھا اس وقت دنیا کی امامت آپکے ہاتھ میں تھی جب تک اپکا سر ایک خدا کے سامنے جھکا ہوا تھا ساری دنیا آپکے سامنے جھکی ہوئی تھی اور جب آپ ہزاروں خداؤں کے سامنے سر با سجود ہو گۓ دنیا آپکے سر پر سوار ہو گئی اگر آپ غیر مسلموں کے محتاج ہیں تو اس میں اسلاف کا کیا قصور وہ تو غیر مسلموں کے محتاج نہ تھے !  

    اچھا جی اچھا شدت جذبات سے علامہ کلکل کا چہرہ سرخ ہو گیا اور لعاب کی ایک لکیر انکے ہونٹوں سے بہ کر ٹھوڑھی تک آئ جسے جلدی سے انہوں نے رومال  سے صاف کیا اور ناک کے بانسے پر پھسل کر آ جانے

    والی عینک تو دوبارہ آنکھوں پر جمایا اور چندیا پر ہاتھ پھیر کر گویا ہوے !  





    ہماری حیثیت یہ ہے کہ ترقی یافتہ اقوام کے دسترخوانوں پر بچ جانے والے ٹکڑوں سے ہم اپنی معاشی، علمی اور شعوری تشنگی دور کرنے کا سامان کرتے ہیں۔ سوئی اور Nail Cutter سے لے کر دیو ہیکل مشینوں اور ہیوی انڈسٹریز انہی غیر مسلم اقوام سے حاصل کرنے پر مجبور ہیں جن کی سازشوں اور چیرہ دستیوں کا ہم دن رات رونا بھی روتے رہتے ہیں۔ ہر نماز جمعہ کے بعد مانگی جانے والی طویل بے روح دعاؤں میں ہم انہی غیر مسلم اقوام کی تباہی کی فریادیں کرتے ہیں جو ہمارے ہاں وبائی امراض کے خاتمے کے لیے مفت ویکسین فراہم کرتی ہیں۔





      مولوی منصف کا اطمینان دیدنی تھا مولوی صاحب فرمانے لگے جناب آپکے نوحے میں جان تو ضرور ہے لیکن اسکی حقیقت مغالطوں سے زیادہ نہیں ہمیں تمام جدید اور ترقی یافتہ قوموں سے تکلیف نہیں مسلہ وہاں آتا ہے جب انمیں سے کچھ اقوام دنیا کی خدائی کا دعویٰ کر بیٹھتی ہیں ہاں ان سے ہماری جنگ ضرور ہے اگر انکی چیرہ دستیوں کا ہم رونہ  روتے ہیں تو کیا انھیں ہنس کر قبول کر لیا جاۓ کیا خیال ہے کوئی آپکی مالی مدد کرے اور پھر آپکی مستورات سے دوستی کا طالب ہو تو کیونکہ اسنے آپکی مدد کی ہے آپ اسے اس بات کی اجازت دینے پر آمادہ ہو جائیںگے مجھے تو آپ ایسے با غیرت انسان سے اس بات کی امید ہرگز نہیں  دوسری بات آپ انکے دستر خوان کا بچا کچہ نہیں کھا رہے بلکہ وہ آپکے دستر خوانوں پر قابض ہیں اور آپکو بچا کچہ کھانے پر مجبور کر رہے ہیں ،باقی مولوی کی نماز جمعہ کے بعد مانگی جانے والی طویل اور بے روح دعاؤں کی بات تو وہ کرے جو نماز جمعہ پڑھتا ہو آپ نے آخری کب پڑھی تھی ! 



     علامہ کلکل تلملا کر رہ گۓ مولوی صاحب میں آپکی عزت کر رہا ہوں ذاتی حملوں سے پرہیز کریں آپ ،

    بہت معذرت مولوی صاحب گویا ہوے اگر آپکو برا لگا تو میں نے تو حقیقت حال دریافت کی تھی ،علامہ کلکل نے نیا پینترا بدلا اور پھر حملہ اور ہوے ،میاں صاحب چندوں کی کمائی پر پلنے والے امت کے فیصلوں کی بات کرتے ہیں ہے نا عجیب بات ؟مولوی صاحب فرمانے لگے بھائی صاحب چندوں کی پھبتی بہت پرانی ہے اور اس پھبتی سے ہم مولوی تو کیا یار لوگوں نے خدا کی ذات با برکت کو بھی نہیں بخشا ،



    لَقَدۡ سَمِعَ اللّٰہُ قَوۡلَ الَّذِیۡنَ قَالُوۡۤا اِنَّ اللّٰہَ فَقِیۡرٌ وَّ نَحۡنُ اَغۡنِیَآءُ ۘ سَنَکۡتُبُ مَا قَالُوۡا وَ قَتۡلَہُمُ الۡاَنۡۢبِیَآءَ بِغَیۡرِ حَقٍّ ۙ وَّ نَقُوۡلُ ذُوۡقُوۡا عَذَابَ الۡحَرِیۡقِ ﴿۱۸۱﴾



    بیشک اللہ نے سنی ان کی بات جنہوں نے کہا کہ اللہ فقیر ہے اور ہم مالدار اب لکھ رکھیں گے ہم انکی بات اور جو خون کئے ہیں انہوں نے انبیاء کے ناحق اور کہیں گے چکھو عذاب جلتی آگ کا



    ویسے اگر "این جی او" کے نام پر چندہ مانگا  جاۓ تو وہ چیرٹی اور خدمت خلق اور اگر مدارس کے نام پر چندہ کا سوال ہو تو خیرات کے ٹکڑے کیا یہ کھلا تضاد نہیں !ایک جگہ ایک ادیب کا اقتباس پڑھا تھا ! ہاں یاد آیا ذرا ملاحظہ کیجئے ،



    شہاب نامہ سے اقتباس: ہے آپکے جدت پسندوں میں کافی مقبول تھے حضرت ،،



    سنگلاخ پہاڑیوں اور خاردار جنگل میں گھرا ہوا ایک چھوٹا سا گاؤں تھا، جس میں مسلمانوں کے بیس پچیس گھر آباد تھے۔ ان کی معاشرت، ہندوانہ اثرات میں اس درجہ ڈوبی ہوئی تھی کہ رومیش علی، صفدر پانڈے، محمود مہنتی، کلثوم دیوی اور پر بھادئی جیسے نام رکھنے کا رواج عام تھا۔ گاؤں میں ایک نہایت مختصر کچی مسجد تھی جس کے دروازے پر اکثر تالا پڑا رہتا تھا جمعرات کی شام کو دروازے کے باہر ایک مٹی کا دیا جلایا جاتا تھا۔ کچھ لوگ نہا دھوکر آتے تھے اور مسجد کے تالے کو عقیدت سے چوم کر ہفتہ بھر کیلئے اپنے دینی فرائض سے سبکدوش ہوجاتے تھے۔



    ہر دوسرے تیسرے مہینے ایک مولوی صاحب اس گاؤں میں آکر ایک دو روز کے لئے مسجد کو آباد کر جاتے تھے۔ اس دوران میں اگر کوئی شخص وفات پا گیا ہوتا، تو مولوی صاحب اس کی قبر پر جاکر فاتحہ پڑھتے تھے۔ نوزائیدہ بچوں کے کان میں اذان دیتے تھے۔ کوئی شادی طے ہوگئی ہوتی تو نکاح پڑھوا دیتے تھے۔ بیماروں کو تعویذ لکھ دیتے تھے اور اپنے اگلے دورے تک جانور ذبح کرنے کے لئے چند چھریوں پر تکبیر پڑھ جاتے تھے۔ اس طرح مولوی صاحب کی برکت سے گاؤں والوں کا دین اسلام کے ساتھ ایک کچا سا رشتہ بڑے مضبوط دھاگے کے ساتھ بندھا رہتا تھا۔



    برہام پور گنجم کے اس گاؤں کو دیکھ کر زندگی میں پہلی بار میرے دل میں مسجد کے ملّا کی عظمت کا کچھ احساس پیدا ہوا۔ ایک زمانے میں ملّاا اور مولوی کے القاب علم و فضل کی علامت ہوا کرتے تھے لیکن سرکار انگلشیہ کی عملداری میں جیسے جیسے ہماری تعلیم اور ثقافت پر مغربی اقدار کا رنگ و روغن چڑھتا گیا، اسی رفتار سے ملّا اور مولوی کا تقدس بھی پامال ہوتا گیا۔ رفتہ رفتہ نوبت بایں جارسید کہ یہ دونوں تعظیمی اور تکریمی الفاظ تضحیک و تحقیر کی ترکش کے تیر بن گئے۔ داڑھیوں والے ٹھوٹھ اور ناخواندہ لوگوں کو مذاق ہی مذاق میں ملّا کا لقب ملنے لگا۔ کالجوں ، یونیورسٹیوں اور دفتروں میں کوٹ پتلون پہنے بغیر دینی رجحان رکھنے والوں کو طنز و تشنیع کے طور پر مولوی کہا جاتا تھا۔ مسجدوں کے پیش اماموں پر جمعراتی ، شبراتی، عیدی، بقرعیدی اور فاتحہ درود پڑھ کر روٹیاں توڑنے والے قل اعوذئے ملّاؤں کی پھبتیاں کسی جانے لگیں۔ لُو سے جھلسی ہوئی گرم دوپہر میں خس کی ٹٹیاں لگاکر پنکھوں کے نیچے بیٹھنے والے یہ بھول گئے کہ محلے کی مسجد میں ظہر کی اذان ہر روز عین وقت پر اپنے آپ کس طرح ہوتی رہتی ہے؟ کڑکڑاتے ہوئے جاڑوں میں نرم و گرم لحافوں میں لپٹے ہوئے اجسام کو اس بات پر کبھی حیرت نہ ہوئی کہ اتنی صبح منہ اندھیرے اٹھ کر فجر کی اذان اس قدر پابندی سے کون دے جاتا ہے؟



    دن ہو یا رات، آندھی ہو یا طوفان، امن ہو یا فساد، دور ہو یا نزدیک، ہر زمانے میں شہر شہر، گلی گلی ، قریہ قریہ، چھوٹی بڑی، کچی پکی مسجدیں اسی ایک ملّا کے دم سے آباد تھیں جو خیرات کے ٹکڑوں پر مدرسوں میں پڑا تھا اور دربدر کی ٹھوکریں کھا کر گھر بار سے دور کہیں اللہ کے کسی گھر میں سرچھپا کر بیٹھ رہا تھا۔ اس کی پشت پر نہ کوئی تنظیم تھی، نہ کوئی فنڈ تھا، نہ کوئی تحریک تھی۔ اپنوں کی بے اعتنائی، بیگانوں کی مخاصمت، ماحول کی بے حسی اور معاشرے کی کج ادائی کے باوجود اس نے نہ اپنی وضع قطع کو بدلا اور نہ اپنے لباس کی مخصوص وردی کو چھوڑا۔ اپنی استعداد اور دوسروں کی توفیق کے مطابق اس نے کہیں دین کی شمع ، کہیں دین کا شعلہ، کہیں دین کی چنگاری روشن رکھی۔ برہام پور گنجم کے گاؤں کی طرح جہاں دین کی چنگاری بھی گل ہوچکی تھی، ملّا نے اس کی راکھ ہی کو سمیٹ سمیٹ کر بادِ مخالف کے جھونکوں میں اڑ جانے سے محفوظ رکھا۔



    یہ ملّا ہی کا فیض تھا کہ کہیں کام کے مسلمان، کہیں نام کے مسلمان، کہیں محض نصف نام کے مسلمان ثابت و سالم و برقرار رہے اور جب سیاسی میدان میں ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان آبادی کے اعداد و شمار کی جنگ ہوئی تو ان سب کا اندارج مردم شماری کے صحیح کالم میں موجود تھا۔ برصغیرکے مسلمان عموماً اور پاکستان کے مسلمان خصوصاً ملّا کے اس احسان عظیم سے کسی طرح سبکدوش نہیں ہوسکتے جس نے کسی نہ کسی طرح کسی نہ کسی حد تک ان کے تشخص کی بنیاد کو ہر دور اور ہر زمانے میں قائم رکھا۔



     علامہ کلکل کی تلملاہٹ عروج پر تھی فرمانے لگے اجی مولانا چھوڑئیے ادھر ادھر کی باتیں یہ آپ لوگوں کی تنگ نظری ہے جسنے ہم لوگوں کا بیڑہ غرق کر کے رکھ دیا ہے ،مولوی منصف صاحب نے پوچھا بھائی اس تنگ نظری کی کوئی مثال ،علامہ کلکل صاحب فرمانے لگے ،میرے لیے وہ انتہائی اذیت ناک لمحات تھے کہ میں ایک مسلمان بھائی، اے آر رحمان کو گولڈن گلوب ایوارڈ ملنے اور آسکر ایوارڈ میں تین الگ الگ شعبوں میں نامزدگیوں پر اظہار فخر و شکر نہیں کرسکا۔



    اس حوالے سے میں کھل کراپنے قلبی جذبات کا اظہار نہیں کرسکتا تھا۔



    اوّل یہ کہ، اے آر رحمان ہندوستان کے شہری ہیں، اور وہ ہمارا ’ازلی دشمن‘ ہے۔



    دوم پاکستان میں ’’مروجہ‘‘ اسلام کے تحت موسیقی حرام ہے۔



    میں اس ’اسلامی‘ ملک میں، میں یہ دلیل بھی نہیں پیش کرسکا کہ اللہ کے ایک نبی حضرت داؤد علیہ السلام پر نازل ہونے والی کتاب ’زبور‘ دراصل الہامی گیتوں کا مجموعہ ہے، جسے حضرت دائود علیہ السلام سُر اور ساز کے ساتھ گایا کرتے تھے ۔



    چچ چچ   بڑے دکھ اور کرب کی بات ہے کتنے مجبور ہیں آپ لیکن آپکو اظہار فخر اور شکر سے روکا کسنے ہے ؟مولوی صاحب نے استفسار کیا !

    میں نے بھی ٹانگ اڑائ ذرا یہ بھی تو بتائیں علامہ صاحب اس اظہار تشکر کا انداز کیا ہوگا بریک ڈانس دیسی بھنگڑا یا پھر ہپ ہاپ اجی شرماتے کیوں ہیں دو چار ٹھمکیاں براۓ ایوارڈ موسیقی خاص واسطے شیطان کے ادا فرما لیجئے مگر اکیلے میں کیجئے گا ورنہ بچے وٹے ماریںگے ،

    جانے بھی دو  بھائی صاحب کچھ سنجیدہ کفتگو کر لیتے ہیں مولوی صاحب نے مجھے ٹوکا ،سوال یہ ہے کہ تفاخر کی بنیاد کیا ہے آپ کسی شخص کی کسی صلاحیت پر تفاخر کرنا چاہتے ہیں ضرور کیجئے آپکو روکا کسنے ہے لیکن یہ تفاخر شخصی ہے یا اسلامی اگر آپ کسی بھانڈ میراثی یا گویہ کی کسی اٹھک بیٹھک پر اسلامی تفاخر کے طالب تو شید اسکی اجازت آپکو نہ مل سکے ،باقی آپ نے فرمایا پاکستان میں ’’مروجہ‘‘ اسلام کے تحت موسیقی حرام ہے ! تو موسیقی حلال کس دور میں رہی یہ بھی بیان فرما دیجئے !

    ایک جگہ کسی عالم سے سنا تھا !

    ماتم کا مقام ہے کہ جس رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے راگ باجوں کا مٹانا اپنی بعثت کا مقصد بتایا اسی رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے نام نہاد اُمتی آج اس گناہ پر دل و جان سے فدا ہیں - بلکہ اس بے حیائی کو سند جواز مہیا کرنے کے لئے سردھڑ کی بازی لگارہے ہیں ، ان ظلمت جدیدہ کے متوالوں کو یہ موٹی سی حقیقت کون سمجھائے کہ اللہ تعالی کی شریعت چودہ سو سال سے مکمل ہے،اس کا ہر مسئلہ اٹل ،لازوال اور قیامت تک کے لئے محفوظ ہے - تمہاری موا فقت یا مخالفت سے کسی مسئلہ پر کوئی اثر نہیں پڑتاجو شرعاًحلال ہے وہ قیامت تک حلال رہے گی اور جو چیز ازروئے شرع حرام ہے وہ بھی رہتی دنیا تک حرام ہی رہے گی گو کہ دنیا بھر کے ووٹ اس کے خلاف پڑجائیں-شریعتِ مطہر ہ میں موسیقی کی حرمت کا مسئلہ بھی ایک ایسا ہی مسئلہ ہے جس پر دلیل پیش کرنے کی چنداں حاجت نہیں اس قسم کے قطعی حرام کو مباح وجائز قرار دینے کی جسارت بالکل ایسی ہی ہے جیسے کو ئی سرپھرا یہ کہنے لگے کہ شریعت کی رو سے زنا ،شراب نوشی ،سودخوری اور رشوت جائز ہے- ظاہر ہے اس قسم کی یا وہ گوئی کسی درجہ میں بھی لائق اعتناء نہیں نہ ہی اس قابل ہے کہ اسکی تردید میں وقت ضائع کیا جائے، مگر کیا کیاجائے ؟ اس دورِ ہوا پرستی میں علم و تحقیق کے عنواں سے جو خس و خاشاک بھی پیش کیا جائے اسے مبادیا ت دین سے نا آشنا جدید طبقے میںِ'' جدید تحقیق ''کے عنواں سے جلد پزیر ائی حاصل ہوجاتی ہے ، اس طرح کفر والحاد اس بد قسمت معاشرہ میں باسانی کھپ جاتاہے-اکبر نے مر حوم نے کیا خوب کہا ہے --



    اُنھوں نے دین کب سیکھا ہے رہ کر شیخ کے گھر میں

     پلے کا لج کے چکر میں مرے صا حب کے دفتر میں





    "" اور بعض آدمی ایسا ہے جو ان باتوں کا خریدار بنتا ہے جو غافل کرنے والی ہیں تاکہ اللہ کی راہ سے بے سمجھے بوجھے گمراہ کرے اور اسکی ہنسی اڑا دے، ایسے لوگوں کے لیے ذلت کا عذاب ہے ""امام ابنِ کثیر رحمہ اللہ تعالی اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں:عن ابی الصھباء البکری انہ سمع عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالی و ھوا یسال عن ھذہ الایۃ (وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَشْتَرِی لَھُوَ الْحَدِيثِ لِيُضِلَّ عَنْ سَبِيلِ اللہِ) فقال عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ الغناء واللہ الذی لاالہ الا ھویرددھاثلاث مرات۔وکذا قال ابن عباس و جابر رضی اللہ تعالی عنہم و عکرمۃ و سعیدبن جبیر و مجاھد و مکحول و عمرو بن شعیب و علی بن بذیمہ رحمہم اللہ تعالی:وقال الحسن البصری رحمہ اللہ تعالی نزلت ھذہ الایۃ(وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَشْتَرِی لَھُوَ الْحَدِيثِ لِيُضِلَّ عَنْ سَبِيلِ اللہِ) فی الغناء والمزامیر۔ (تفسیر ابن کثیر صفحہ ۴۵۷ جلد ۳)""حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ نے تین بار قسم اٹھا کر فرمایا کہ لھوالحدیث سے مراد گانا بجانا ہےحضرت ابنِ عباس و جابر رضی اللہ تعالی عنہما اور حضرت عکرمہ ، سعید بنِ جبیر ،مجاہد مکحول ، عمر بن شعیب اور علی بن ہذیمہ رحمہم اللہ تعالی سے بھی اس آیت کی یہی تفسیر منقول ہے-اور حضرت حسن بصری رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں یہ آیت گانے اور راگ باجوں کے متعلق اتری ہے""یہی تفسیر قرطبی ص ۵۱ج ۱۴ ، بغوی ص ۴۰۸ج ۴ ، خازن ص ۴۶۸ج ۳ ، مظہری ص ۲۴۶ج ۷ میں مفصل مذکور ہے



    (۲) واستفزز من استطعت منہم بصوتک الایہ (سورہ ۱۷ آیات نمبر ۶۴)""اور پھسلالے ان میں سے جس کو تو پھسلا سکے اپنی آواز سے""امام ابنِ کثیر رحمہ اللہ تعالی اس آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں:وقولہ تعالی( واستفزز من استطعت منہم بصوتک ) قیل ھو الغناء قال مجاھد رحمہ اللہ تعالی بالھو والغناء ای استخفھم بذٰلک و قال ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہما فی قولہ( واستفزز من استطعت منہم بصوتک) قال کل داع دعا الی معصیۃ اللہ عزہ وجل و قالہ ، قتادہ رحمہ اللہ تعالی واختارہ ابن جریر رحمہ اللہ تعالی (تفسیر ابن کثیر صفحہ ۵۰ جلد ۳)اس آیت میں شیطانی آواز سے گانا بجانا مراد ہے امام مجاہد رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں ۔ اس کا مطلب یہ ہے(اے ابلیس) تو اُنھیں کھیل تماشوں اور گانے بجانے کے ساتھ مغلوب کر۔ اور حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہما فرماتے ہیں-اس آیت میں ہر وہ آواز مراد ہے جو اللہ تعالی کی نافرمانی کی طرف دعوت دے،یہی حضرت قتادہ رحمہ اللہ تعالی کا ہے اور اسی کو ابن جریر رحمہ اللہ تعالی نے اختیار فرمایا ہے-



    حافظ ابن قیم رحمہ اللہ تعالی اسی کے ذیل میں فرماتے ہیںو من المعلوم ان الغناء من اعظم الدواعی الی المعصیۃ ولھذا فسر صوت الشیطان بہ (اغاثۃ اللھفان صفحہ ۲۵۵ جلد ۱ )اور سب کو معلوم ہے کہ مصیبت کی طرف دعوت دینے والوں میں گانا بجانا سب سے بڑھ کر ہے اسی وجہ سے شیطان کی آواز کی تفسیر اسی کے ساتھ کی گئی



    مجھے نہ سنائیں یہ قصے کہانیاں میں نہیں مانتا ان گڑھی ہوئی روایات کو علامہ پھنکارے

    !



    تو پھر آپ کسکو مانتے ہیں مولانا نے استفسار کیا !قرآن سے دلیل دو قرآن سے علامہ گرجے ،



    میرے بھائی اپنے جو کہانی سنائی وہ کہاں ہے قرآن میں ،

    میں اس ’اسلامی‘ ملک میں، میں یہ دلیل بھی نہیں پیش کرسکا کہ اللہ کے ایک نبی حضرت داؤد علیہ السلام پر نازل ہونے والی کتاب ’زبور‘ دراصل الہامی گیتوں کا مجموعہ ہے، جسے حضرت دائود علیہ السلام سُر اور ساز کے ساتھ گایا کرتے تھے ۔بس یہ مجھے دکھا دیجئے کہاں ہے قرآن میں ،مولانا نے پوچھا ..وہ وہ میں دیکھ کر بتاؤنگا علامہ منمناۓ ،،،،

    کوئی بات نہیں ڈھونڈتے رہے بے دلیل ہونا کوئی دلیل نہیں !لیکن خدا را سوچیے حضرت داوود علیہ سلام کا زبور کی تلاوت کرنا موسیقی تھا تو کیا قرآن کی تلاوت بھی موسیقی ہے الله کے رسول صلعم نے قرآن کی تلاوت کی یہ اسے گایا آپکے نظریہ کی بنیاد پر تو آذان بھی آرکسٹرا کے ساتھ دینی چاہئیے تھی لیکن ایسا کچھ بھی کبھی بھی نہ ہوا آنا پرستی اور آنکھوں پر پردہ پڑ جاۓ تو سیدھا الٹا اور الٹا سیدھا دکھائی دینے  لگتا ہے ،علامہ کلکل نے اپنی کور دبتی دیکھی تو بلند آہنگی میں پناہ ڈھونڈی ،آپ لوگ ترقی کے دشمن ہیں .میرا خیال ہے کہ یہاں ترقی تو کیا ایسے کسی انتہائی اقدام کے بعد اسے چند لمحے جینے کی اجازت ملنا بھی مشکل ہے۔



    یاد نہیں، ہم نے واحد نوبل انعام یافتہ پاکستانی سائنس دان ڈاکٹر عبدالسلام کے ساتھ کیا سلوک کیا تھا؟



    ڈاکٹر عبدالسلام جن مذہبی نظریات پر یقین رکھتے تھے، ان نظریات سے مجھے بھی اختلاف ہے، لیکن کیا عقائد سے اختلاف کا مطلب یہ ہے کہ انسانیت کا جامہ ہی اتار دیا جائے اور ’درندہ نما حیوانیت‘ کو کھلا چھوڑ دیا جائے؟









    دینی لوگ ہوتے ہی کم ظرف ہیں کلکل صاحب گویا ہوے،ہم اس قدر ظرف اور برداشت کے حامل ہیں کہ کوئی مسلمان فرد اسلام کو چھوڑ کر کوئی اور مذہب اختیار کرلے پھر ہم اسے اتنی ترقی کرنے اجازت بھی دیں کہ وہ ملک و قوم کے لیے باعث فخر بن سکے۔



    علامہ صاحب ہمارے نبی صل الله علیہ وسلم کا فرمان ہے !



    ”عن عبداللّٰہ قال: قال رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم… لایحل دم رجل مسلم یشہد ان لا الٰہ الا اللّٰہ و انی رسول اللّٰہ الا باحدی ثلاث: الثیب الزانی‘ والنفس بالنفس‘ والتارک لدینہالمفارق للجماعة۔“ (ابوداؤد ص: ۲۴۲‘ ج:۲‘ نسائی ۱۶۵‘ ج:۲‘ ابن ماجہ ص:۱۸۲‘ سنن کبریٰ بیہقی ۱۹۴‘ ج:۸‘ ترمذی ص:۲۵۹‘ ج:۱‘ مسلم ص:۵۹ ج:۲)ترجمہ:… ”حضرت ابن مسعود سے روایت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو مسلمان کلمہ لا الٰہ الا اللہ کی شہادت دے‘ اس کا خون بہانا جائز نہیں‘ سوائے ان تین آدمیوں کے: ایک وہ جو شادی شدہ ہوکر زنا کرے‘ دوسرا وہ جو کسی کو ناحق قتل کردے اور تیسرا وہ جو اسلام کو چھوڑ کر مرتد ہوجائے۔“



    سوال یہ ہے کیا آپ مسلمان ہیں .مولانا نے پوچھا ؟جی ہاں اور آپ سے بہتر .......کیا آپ اسلام کو دین حق سمجھتے ہیں ،مولانا نے پھر سوال کیا .ہر مذہب والا خود کو حق پر سمجھتا ہے ،علامہ بولے ،تو کیا حق متعدد ہیں سچ بھی حق اور جھوٹ بھی حق کسی کے سمجھنے سے کیا ہوتا ہے حق تو حق ہی رہے گا !تو کیا ہم اپنا حق دوسرے پر تھوپ دیں علامہ بولے ،نہیں کلکل صاحب اپنا یہ انکا حق نہیں حق تو حق ہے ہم کسی کو مجبور نہیں کرتے کہ وہ اسلام قبول کرے لیکن اگر وہ مسلمان ہو چکا ہے تو اسے ارتداد کی اجازت نہیں دی جا سکتی ورنہ دین بازیچہ اطفال بن کر رہ جاۓ گا ،لیکن دوسرے مذاہب میں تو ایسا نہیں ہوتا علامہ مچلے ،کیونکہ دوسرے مذاہب ہیں دین نہیں اسلام دین ہے جو پورے نظام حیات پر حاوی ہے اور اسکے مالک خود الله ہیں اگر کوئی کسی ریاست کے قانون سے بغاوت کرے تو اسکی سزا موت ہے لیکن اگر کوئی الله کے قانون سے بغاوت کرے تو اسکو ایسے ہی چھوڑ دیا جاۓ !



    لیکن یہ معاملہ ریاست کا  ہے اور یہ فیصلہ بھی ریاست کے ہاتھ میں ہے اور اسوقت کہیں بھی باقاعدہ اسلامی ریاست قائم نہیں اسلئے علامہ صاحب آپ بلکل بے فکر رہیں!

    ہنہ علامہ نے ناک سکیڑی.......





     جناب علامہ صاحب آپکی پوری بحث مغالطوں پڑ مبنی "کل کل " ہے اور کچھ نہیں ،آپ لوگوں کی پہچان یہ ہے کہ آپ زبردست خلط مبحث کے ماہر ہیں اور آپکو یہ بھی معلوم نہیں کہ آپ کس قدر تضاد بیانی میں مبتلا ہورہے ہیں۔ 



    ”مسلم دنیا میں ایک نامور سائنسدان ڈاکٹر عبد السلام پیدا ہوئے تو مولویوں نے اس پر بھی فتوے لگائے“۔اندازہ لگایئے کہ بات کہاں سے کہاں لے جائی جارہی ہے‘ یہ تو بتایے کہ مولویوں نے ڈاکٹر عبد السلام کے کس سائنسی نظریئے پر کون سا فتویٰ لگایا تھا؟ فتویٰ تو قادیانی دجل پر لگا یا گیا تھا ،



    10 ستمبر 1974ء کو ڈاکٹر عبدالسلام نے وزیراعظم کے سائنسی مشیر کی حیثیت سے وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کے سامنے اپنا استعفیٰ پیش کیا۔ اس کی وجہ انھوں نے اس طرح بیان کی:’’آپ جانتے ہیں کہ میں احمدیہ (قادیانی) فرقے کا ایک رکن ہوں۔ حال ہی میں قومی اسمبلی نے احمدیوں کے متعلق جو آئینی ترمیم منظور کی ہے، مجھے اس سے زبردست اختلاف ہے۔ کسی کے خلاف کفر کا فتویٰ دینا اسلامی تعلیمات کے منافی ہے۔ کوئی شخص خالق اور مخلوق کے تعلق میں مداخلت نہیں کر سکتا۔ میں قومی اسمبلی کے فیصلہ کو ہرگز تسلیم نہیں کرتا لیکن اب جبکہ یہ فیصلہ ہو چکا ہے اور اس پر عملدرآمد بھی ہو چکا ہے تو میرے لیے بہتر یہی ہے کہ میں اس حکومت سے قطع تعلق کر لوں جس نے ایسا قانون منظور کیا ہے۔ اب میرا ایسے ملک کے ساتھ تعلق واجبی سا ہوگا جہاں میرے فرقہ کو غیر مسلم قرار دیا گیا ہو۔‘‘



    آج بھی پاکستان کی غیر مذہبی ریاست میں قادیانیوں کی مذہبی ریاست موجود ہے جہاں انکی اپنی پولیس انکا ڈاک خانہ کاروبار میڈیا سب انکے ہاتھ میں ہے ،،،،،،،،،بات ہو رہی ہے "ربوہ" کی جو ویٹیکن کی طرح ریاست میں ریاست ہے .......اور جو الزام عبدالسلام قادیانی نے پاکستانیوں پر  لگا کر ملک چھوڑا تھا وہ خود بھی اسی جرم کے مرتکب ہیں ،



    معروف صحافی و کالم نویس جناب تنویر قیصر شاہد نے ایک دلچسپ مگر فکر انگیز واقعہ نقل کیا !



    ’ایک دفعہ لندن میں قیام کے دوران بی بی سی لندن کی طرف سے میں اپنے ایک دوست کے ساتھ بطور معاون، ڈاکٹر عبدالسلام کے گھر ان کا تفصیلی انٹرویو کرنے گیا۔ میرے دوست نے ڈاکٹر سام کا خاصا طویل انٹرویو کیا اور ڈاکٹر صاحب نے بھی بڑی تفصیل کے ساتھ جوابات دیئے۔ انٹرویو کے دوران میں بالکل خاموش، پوری دلچسپی کے ساتھ سوال و جواب سنتا رہا۔ دوران انٹرویو انہوں نے ملازم کو کھانا دسترخوان پر لگانے کا حکم دیا۔ انٹرویو کے تقریباً آخر میں عبدالسلام مجھ سے مخاطب ہوئے اور کہاں کہ آپ معاون کے طور پر تشریف لائے ہیں مگر آپ نے کوئی سوال نہیں کیا۔ میری خواہش ہے کہ آپ بھی کوئی سوال کریں۔ ان کے اصرار پر میں نے بڑی عاجزی سے کہا کہ چونکہ میرا دوست آپ سے بڑاجامع انٹرویو کر رہا ہے اور میں اس میں کوئی تشنگی محسوس نہیں کر رہا، ویسے بھی میں، آپ کی شخصیت اور آپ کے کام کو اچھی طرح جانتا ہوں۔ میں نے آپ کے متعلق خاصا پڑھا بھی ہے۔ جھنگ سے لے کر اٹلی تک آپ کی تمام سرگرمیاں میری نظرں سے گزرتی رہی ہیں لیکن پھر بھی ایک خاص مصلحت کے تحت میں اس سلسلہ میں کوئی سوال کرنا مناسب نہیں سمجھتا۔ اس پر ڈاکٹر عبدالسلام فخریہ انداز میں مسکرائے اور ایک مرتبہ اپنے علمی گھمنڈ اور غرور سے مجھے ’’مفتوح‘‘ سمجھتے ہوئے ’’فاتح‘‘ کے انداز میں ’’حملہ آور‘‘ ہوتے ہوئے کہا کہ ’’نہیں… آپ ضرور سوال کریں، مجھے بہت خوشی ہو گی۔‘‘ بالآخر ڈاکٹر صاحب کے پرزور اصرار پر میں نے انہیں کہا کہ آپ وعدہ فرمائیں کہ آپ کسی تفصیل میں گئے بغیر میرے سوال کا دوٹوک الفاظ ’’ہاں‘‘ یا ’’نہیں‘‘ میں جواب دیں گے۔ ڈاکٹر صاحب نے وعدہ فرمایا کہ ’’ٹھیک! بالکل ایسا ہی ہو گا؟‘‘ میں نے ڈاکٹر صاحب سے پوچھا کہ چونکہ آپ کا تعلق قادیانی جماعت سے ہے، جو نہ صرف حضور نبی کریمe کی بحیثیت آخری نبی منکر ہے، بلکہ حضور نبی کریمe کے بعد آپ لوگ (قادیان، بھارت کے ایک مخبوط الحواس شخض) مرزا غلام احمد قادیانی کو نبی اور رسول مانتے ہیں۔ جبکہ مسلمان مرزا قادیانی کی نبوت کا انکار کرتے ہیں۔ آپ بتائیں کہ مدعی نبوت مرزا غلام احمد قادیانی کو نبی نہ ماننے پر آپ مسلمانوں کو کیا سمجھتے ہیں؟ اس پر ڈاکٹر عبدالسلام بغیر کسی توقف کے بولے کہ ’’میں ہر اس شخص کو کافر سمجھتا ہوں جو مرزا غلام احمد قادیانی کو نبی نہیں مانتا۔‘‘ ڈاکٹر عبدالسلام کے اس جواب میں، میں نے انہیں کہا کہ مجھے مزید کوئی سوال نہیں کرنا۔ اس موقع پر انہوں نے اخلاق سے گری ہوئی ایک عجیب حرکت کی کہ اپنے ملازم کو بلا کر دستر خوان سے کھانا اٹھوا دیا۔ پھر ڈاکٹر صاحب کو غصے میں دیکھ کر ہم دونوں دوست ان سے اجازت لے کر رخصت ہوئے۔‘‘





     علامہ صاحب ہمیں قادیانیوں سے کیوں نفرت ہے کبھی اپنے سوچا بھی اسکی وجہ کیا ہے !



    اگر کوئی شخص آپکے گھر میں داخل ہو اور آپکے مرحوم والد کی جگہ لینے کی کوشش کرے آپکی والدہ سے صحبت کا طالب ہو اور کہے کہ آپکی پیدائش میں وہ آپکے والد کے ساتھ برابر کا حصے دار ہے تو دل پر ہاتھ رکھ کر بتائیں کیا آپ اسے محبّت سے پیش آئیںگے اسکی خاطر داری کرینگے اسکو وہی عزت اور مقام دینگے جو  آپکے والد کا تھا ؟



    علامہ کلکل کا چہرہ اتر چکا تھا اور انکے پاس کوئی جواب نہ تھا اور میں سوچ رہا تھا ،بولوں تو بولوں کیا ؟



    بھائی صاحب کی اس دلچسپ داستان کے بعد راقم کے پاس کہنے کو کچھ نہیں ہے لیکن سوچنے کو بہت کچھ !



    حسیب احمد حسیب .

اتوار، 10 فروری، 2013

سو سمار کے پیروکار !



عمومن پہاڑی یا ریتلے علاقوں میں ایک جانور اگوانا نام کا پایا جاتا ہے جو چھپکلی کی نسل کا ایک رینگنے والا جانور ہے اسے سوسمار یا گوہ بھی کہا جاتا ہے انتہائی مضبوط جسم کے اس جانور کی خاصیت اسکی انتہائی مضبوط پکڑ ہونا  ہے زمانہ قدیم میں اسے نقب لگانے کے لیے استعمال کیا جاتا تھا ہمارے جدید دور کے ڈاکو نقب اور نقاب دونوں سے مستغنی ہو 
چکے ہیں رکھ رکھاؤ اب کسی بھی طبقے میں باقی نہیں رہا ہے
یہ جانور پہاڑوں یا زمین میں سوراخ بنا کر رہتا ہے چھوٹے موٹے کیڑے مکوڑے اسکی غذا ہوتے ہیں انتہائی سخت جان ہوتا ہے اور آسانی سے نہیں مرتا سوسمار کا ذکر کچھ احادیث میں بھی آیا ہے جن میں سے ایک روایت بہت مشہور ہے 
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ـ رضى الله عنه ـ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ لَتَتَّبِعُنَّ سَنَنَ مَنْ قَبْلَكُمْ شِبْرًا بِشِبْرٍ، وَذِرَاعًا بِذِرَاعٍ، حَتَّى لَوْ سَلَكُوا جُحْرَ ضَبٍّ لَسَلَكْتُمُوهُ ‏"‏‏.‏ قُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ، الْيَهُودَ وَالنَّصَارَى قَالَ ‏"‏ فَمَنْ ‏"‏‏؟.‏
( صحيح البخاري :3456 ،الأنبياء – صحيح مسلم :2669 ، العلم )
 ترجمہ: حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم  نے ارشاد فرمایا : تم لوگ اپنے سے پہلی قوموں کی ضرور پیروی کروگے ، بالشت بالشت برابر اور ہاتھ ہاتھ کے برابر ، حتی کہ اگر وہ لوگ گوہ  کے سوراخ میں داخل ہوں گے تو تم لوگ بھی ان کی پیروی کروگے ، حضرت ابو سعید کہتے ہیں کہ یہ سننے کے بعد ہم لوگوں نے عرض کیا : اے اللہ کے رسول کیا [پہلی قوموں سے مراد ] یہود ونصاری ہیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ و سلم  نے فرمایا : پھر اور کون ۔
{ صحیح بخاری و صحیح مسلم }
دنیا میں مختلف اقوام پائی گئی ہیں کچھ وہ جنکی کوئی باقاعدہ تاریخ اور تہذیب ہے اور کچھ وہ جو بے تاریخ اور بد تہذیب گزری ہیں ایسی ہی قوم کے بارے میں  ایک اور روایت میں سوسمار کا ذکر بھی آتا ہے 
١٣٢٤  : سیدنا ابوسعید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک دیہاتی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور بولا کہ ہم ایسی زمین میں رہتے ہیں جہاں گوہ بہت ہیں اور میرے گھر والوں کا اکثر کھانا وہی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو جواب نہ دیا۔ ہم نے کہا کہ پھر پوچھ، اس نے پھر پوچھا، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین بار جواب نہ دیا۔ پھر تیسری دفعہ ( یا تیسری دفعہ کے بعد ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو آواز دی اور فرمایا کہ اے دیہاتی ! اللہ جل جلالہ نے بنی اسرائیل کے ایک گروہ پر لعنت کی یا غصہ کیا تو ان کو جانور بنا دیا، وہ زمین پر چلتے تھے۔ میں نہیں جانتا کہ گوہ انہی جانوروں میں سے ہے یا کیا ہے؟ اس لئے میں اس کو نہیں کھاتا اور نہ ہی حرام کہتا ہوں۔ مسلم 
عین ممکن ہے بنی اسرائیل کا وہ گمراہ گروہ ہی سوسمار میں تبدیل ہو گیا ہو لیکن یہ بات طے ہے کہ یہود و نصاریٰ اگر گوہ کے سوراخ میں گھسینگے تو ہم بھی انکی پیروی  میں گھس پڑینگے 
دور جدید کے نصاریٰ جو قریباً لا دین ہو چکے ہیں خاص طور پر امریکا مہاراج جسکا کوی مذہبی اور تاریخی ورثہ نہیں اور یہ بیچارے کبھی منگولیا کے پہاڑوں میں بدھ مت کے اندر کہیں ہندوستان کے مندروں میں کبھی بھولی ہوئی مایا تہذیب میں اور کبھی مصر کے اہراموں میں اپنی شناخت کھوجتے پھرتے ہیں ایسے میں کبھی بیتاب ہوکر یہ لوگ گوہ کے بلوں میں بھی گھس پڑتے ہیں اور قدیم فرعونی تہذیب سے بھی کچھ روایت ڈھونڈ لاتے ہیں 
قدیم روم میں  لوپرکالیہ  کے نام سے ایک جشن منایا جاتا تھا روایت کے مطابق لوپرکالیہ لاطینی زبان کے لفظ لوپس سے نکلا ہے جسکا مطلب ہے مادہ بھیڑیا اسکا ایک اور مطلب طوائف کا بھی ہے ،
قصہ کچھ یوں  ہے کہ دو بھائیوں رومیولاس اور رومس کو ایک مادہ بھیڑیے نے دودھ پلایا تھا ان دونوں بھائیوں نے لوپر کالیہ کا جشن منانا شروع کیا یہ تین دن کا تیوہار ہوتا تھا جو تیرہ فروری سے شروع ہوکر پندرہ فروری کو  اختتام پذیر ہو جاتا تھا مزے کی بات یہ ہے کہ لوپر کالیہ کا ایک اور نام فبراشیو یا فبراٹیو بھی ہے جسکے نام پر ہمارا انگریزی مہینہ فروری کہلاتا ہے 
  اس قدیم تیوہار کی تقریبات کچھ اسطرح ہوتی تھیں پہلے ایک بھیڑ اور کتے کو ذبح کیا جاتا ہے (بھیڑ بھیڑیے کا شکار اور کتا اسکا رکھوالا ہوتا ہے غالباً اسی لیے دونوں کی قربانی دی جاتی تھی )
اسکے بعد رومن شراب کے نشے میں دھت روم کی گلیوں میں برہنہ دوڑ لگاتے خوبصورت بے لباس عورتوں کو جبری راستوں میں کھڑا کر دیا جاتا رومی سورما  انکو ذبح شدہ جانوروں کے گوشت اور کھال کے ٹکڑوں سے نشانہ بناتے اور عقیدہ یہ رکھا جاتا کہ اس سے عورتوں کی بارآوری کی صلاحیت بڑھ جاۓ گی 
جشن کا دوسرا حصہ ایک خاص کھیل پر مشتمل ہوتا ایک بڑے جار میں کنواریوں کے نام لکھ کر ڈال دئیے جاتے اور اسکے بعد مرد قسمت آزمائی کرتے جسکے  کے نام جو عورت نکلتی  تقریبات کے اختتام تک وہ اس عورت سے لطف اندوز ہونے کا حق رکھتا 
معروف مفکر لانسکی کہتا ہے قدیم رومی جشن لوپر کالیہ جو رومیوں میں بہت مشہور تھا بادشاہ کونستینتین کے دور تک اسکی اہمیت کو کم یا ختم کرنے کے لیے ویلین ٹائین کے جشن کا آغاز کیا گیا 
تاریخ میں ہمیں تین مختلف ویلین ٹائین ملتے ہیں 
١ تیسری صدی عیسوی میں بادشاہ کلوڈیاس دوئم کے دور میں جنگ کے دنوں میں سپاہیوں کی شادیوں پر پابندی لگا دی تھی جسکے خلاف ویلین ٹائین صاحب نے بغاوت کی کسی عورت کو محبّت بھرے خط لکھے اور آخر موت کے گھاٹ اتارے گۓ
٢ دوسری کہانی میں ویلین ٹائین صاحب قید خانے میں ہوتے ہیں اور جیلر کی اندھی 
بیٹی 

 پر ڈورے ڈالنے کی پاداش میں موت کے گھاٹ اتارے جاتے ہیں 
٣ ایک کہانی کے مطابق یہ اطالوی بزرگ تھے وجوہات انکی جبری موت کی بھی پہلے دو جیسی ہی تھیں 

تحقیق بتاتی ہے کہ  ویلین ٹائین اصل میں گیلین ٹائین تھا جو گیلنٹ سے نکلا ہے جو لفظ کورٹشپ کے مترادف ہے جسکا مطلب مرد اور عورت کا بغیر شادی ایک عارضی معاہدے میں رہنے کے ہیں 
ایک روایت کہتی ہے یہ پرندوں کے ملن کا موسم ہے 
 اس جشن کی اصل رومن تیوہار سے لی گئی ہے اور اسے پندھرویں صدی میں باقاعدہ مقبولیت حاصل ہونا شروع ہوئی اسکا اصل گھر دور  جدید میں امریکی تجارتی منڈیاں بنیں جہاں اسے باقاعدہ کیش کیا گیا ہالووین ،نیو ایر، مایا فیسٹیول یا ولین ٹائین سب کی اصل منڈی جدید دجالی تہذیب کا نمائندہ امریکہ ہے ،

٢٠١٢ میں ایک اندازہ کے مطابق ١٧.٦ بلین امریکی ڈولر کی کمائی ہوئی ایک انگریز مفکر کہتا ہے ایسا لگتا ہے کوئی نادیدہ قوت ہماری زندگیوں کو اپنی مرضی کا رخ دے رہی ہے 
جدید دور کے فحش معاشروں میں اسطرح کا جشن جہاں نوجوان پہلے ہی جنسی نرگسیت کا شکار ہے اسے وہ تمام حالات فراہم کر دئیے جائیں جنمیں اسکی ذہنی ،جسمانی اور روحانی حالت بد سے بد تر ہوتی چلی جاۓ 
کیا ہم چند دنوں اور چند لمحوں کے لیے اتنی بڑی قربانی دینے کو تیار ہیں 


کیا ہمارا مذہب ہماری تہذیب ہماری معاشرت اور ہماری عمومی حالت اس طرح کی خرافات کی اجازت دیتی ہے اور کیا ہماری پستی کا واحد علاج کسی دجالی تہذیب کے رنگ میں رنگ جانا ہی ٹھہرا ہے کبھی رک کر سوچا بھی ہے ہمنے کہ ہم کہاں جا رہے ہیں 
آج کی حالت دیکھتے ہیں تو ہر طرح کا شک دور ہو جاتا ہے اور الله کے رسول صل الله علیہ وسلم کے کہے گۓ الفاظ بازگشت کی شکل میں سماعتوں سے ٹکراتے ہیں ،،،،
شِبْرًا بِشِبْرٍ، وَذِرَاعًا بِذِرَاعٍ، حَتَّى لَوْ سَلَكُوا جُحْرَ ضَبٍّ لَسَلَكْتُمُوهُ ‏"‏‏.‏

 کیا عقل آنے کی امید ہے سوسمار کے پیروکاروں سے 

حسیب احمد حسیب 






















ہفتہ، 19 جنوری، 2013

من شریف ؟ انا شریف

یہ واقعہ ہے "شریف" دور کا (یہ ٹو تھرڈ ،مینڈیٹ  والے شریف نہیں ) ذکر ہو رہا ہے شریف مکّہ کے دور کا جب سرزمین عرب سونا نہیں اگلتی تھی غربت کا دور تھا اور انارکی پھیلی ہوئی تھی جنگ عظیم دوم کے خاتمے کے بعد سورج برطانیہ غروب کے قریب تھا شیخ الحدیث مولانا زکریا رح کی جوانی کا دور تھا آپ سرزمین عرب میں مکّہ اور مدینہ کے درمیان محو سفر تھے عرب بدوی اس وقت کے واحد زریعہ سفر اونٹوں کے مالک تھے اور جب انسے انکے کسی ظلم پر کہا جاتا تمہاری شکایات شریف سے کر دی جاۓ گی تو وہ جواباً کہتے ،،

من شریف ؟ انا شریف  " کون شریف؟ میں ہوں شریف "

فطرت انسانی کی بوقلمونیاں عجیب و غریب ہیں یہ  کمزور مخلوق ذرا سی طاقت حاصل ہونے کے بعد" میں خدا ہوں !! کا نعرہ لگانے سے گریز نہیں کرتی مسلسل فنا کی دہلیز پر کھڑی یہ ہستی جانتی ہے اگلا قدم موت کی وادی میں لیجا سکتا ہے لیکن اس کو  کوئی پرواہ نہیں چند لمحے جو ادھار ملے ہیں ان میں صدیوں کی  منصوبہ بندی انسان ہی کا کمال ہے ،

گروہ بندی اور اجتماعیت اسکی بہترین معاشرتی قووتیں ہیں جنکی بنیاد پر تہذیب انسانی ارتقائی منازل تے کرتی ہے  کسی بھی گروہ کو جوڑنے والے اور چلانے والے کئی محرک ہو سکتے ہیں قومی قبائلی نظریاتی یہ پھر مذہبی عنوانات مگر ان سب کا بنیادی جوہر باہمی مفاد یہ پھر مشترکہ مفادات ہیں ،

مفادات کی نوعیت مختلف ہو سکتی ہے کہیں خیر اور کہیں شر کے عنوانات واضح ہوتے ہیں اس خیر اور شر کے توازن کے لیے کچھ اصول مرتب کئے جاتے ہیں یا  پھر فطری طور پر ہو جاتے ہیں تاکہ نظم اجتماعی قائم رہے ،،،
یہ نظم اجتماعی بقاء باہمی کے لیے لازم ترین امر ہے اسکے بغیر بقاء باہمی نا ممکن ہے اگر یہ نظم اجتماعی نہ ہو تو ہر بڑی قوت چھوٹی قووتوں کو کھا جاۓ اور انسانی معاشرہ جانوروں کا معاشرہ بن کر رہ جاۓ ،

یہ اصول اور قوانین مرتب کرنے والی قوت یا تو شعور انسانی ہے جسمیں غلطی کا احتمال انسانی کی فطرت کے تحت عین ممکن ہے یا  پھر الله کا نازل کیا ہوا قانون !!!!!!
وہ تمام معاشرے جو اپنی فطرت سلیم سے ہٹ جاتے ہیں اور کسی بھی قانون کی پاسداری وہاں موجود نہیں رہتی ان معاشروں میں اگر کوئی قانون باقی رہتا ہے تو وہ جنگل کا قانون کہلاتا ہے جسمیں بنیادی مقصود اپنی بقاء کی جنگ ہوتا ہے چاہے اسکیلئے دوسروں کو شکار ہی کیوں نہ کرنا پڑے ایسا معاشرہ ایک وحشی معاشرہ ہوتا ہے ،

"مافیا" اطالوی زبان کا لفظ ہے جسکی جاۓ پیدائش سسلی ہے اسکا وجود اٹھارویں صدی کے اواخر اور  انیسویں صدی کے اوائل میں ہوا تھا سسلی کا یہ مافیا سب سے پہلے ایک لسانی تنظیم کے طور پر وجود میں آیا جو ہسپانوی نژاد باشندوں کے سیاسی اور معاشی اقتدار کے خلاف بنی۔ ان کی شروع شروع کی کاروائیاں خفیہ تھیں۔ لیکن انہوں نے اپنے آپ کو ایک سیاسی تنظیم کے طور پر پیش کیا جو سسلی کے عوام کے حقوق کی جنگ لڑ رہی ہو۔ ان لوگوں نے اپنی صفوں میں ایسے غنڈے بھرتی کر رکے تھے جو حکومت، سرمایہ داروں اور جاگیرداروں کے خلاف استعمال ہوتے۔ کیونکہ یہ لوگ ایک ایسے شہر میں اپنی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے تھے جو تجارتی مرکز بھی تھا اور بحیرہ قلزم کی ایک اہم ترین بندرگاہ بھی۔ اس لئے انہیں حکومتوں کو دباؤ میں لانا بہت آسان تھا۔ یہ وہ دور تھا جب اس علاقے میں انارکی، قانون کی عدم موجودگی اور حکومتی اختیار کی بے بسی نمایاں تھی۔١٨٤٨ سے ١٨٦٠ تک مافیا نے اپنے آپ کو سسلی کا بلاشرکت غیرے مالک بنائے رکھا،

آج اس مافیا کلچر نے پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے جسکی لاٹھی اسکی بھینس کا قانون ہر جگہ لاگو ہے مفادات کی شراکت کے تحت بننے والے ہر گروہ کے ساتھ "مافیا" جڑا  نظر آتا ہے پیٹرول مافیا ، بھتہ مافیا ، سیاسی مافیا ، سرکاری مافیا ، دودھ مافیا ، ذخیرہ اندوز مافیا اور تو اور اب تو ڈاکٹر اور وکیل مافیا بھی میدان میں آ گۓ ہیں 
افسوس تو یہ ہے کہ وہ معاشرے  جو اسلامی کا لاحقہ اپنے ساتھ رکھتے ہیں وہاں بھی "مافیا " اسی اب و تاب کے ساتھ پرورش پا رہے ہیں بلکہ اگر یہ کہا جانے کہ انکی افزائش دو چند ہے تو غلط نہ ہوگا !

گروہی عصبیت ایسی دیمک ہے جو معاشروں کو خاموشی مگر تیز رفتاری سے کھوکھلا کرتی ہے اور لاٹھی کے ٹوٹنے پر معلوم پڑتا ہے کہ دکھائی دینے والی قوت کب کی رخصت ہو چکی تھی ،،،،،،،

اپنے ارد گرد نظر ڈالیں بہت خلوص سے کھڑی ہونے والی تحاریک کس طرح گذرتے دور کے ساتھ "مافیا" کی شکل اختیار کرتی چلی گیں امین احسن اصلاحی مرحوم کا جملہ یاد آ رہا ہے " جماعتیں مقاصد کو لیکر کھڑی ہوتی ہیں لیکن انکو مغالطہ جب لگتا ہے جب وہ جماعت خود مقصود بن جاۓ '

انحطاط اور پستی کی انتہا اسوقت دکھائی دیتی ہے جب لسانی اور قومی تحاریک چھوڑ خالص فکری اور دینی تحاریک بھی "مافیا" کی شکل اختیار کر جائیں ،

اب آئیں ذرا دین حق کا مزاج ملاحظہ کرتے ہیں !!!

وَ اِنْ طَآىِٕفَتٰنِ مِنَ الْمُؤْمِنِيْنَ اقْتَتَلُوْا فَاَصْلِحُوْا بَيْنَهُمَا١ۚ فَاِنْۢ بَغَتْ اِحْدٰىهُمَا عَلَى الْاُخْرٰى فَقَاتِلُوا الَّتِيْ تَبْغِيْ حَتّٰى تَفِيْٓءَ اِلٰۤى اَمْرِ اللّٰهِ١ۚ فَاِنْ فَآءَتْ فَاَصْلِحُوْا بَيْنَهُمَا بِالْعَدْلِ وَ اَقْسِطُوْا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ يُحِبُّ الْمُقْسِطِيْنَ۰۰۹اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ اِخْوَةٌ فَاَصْلِحُوْا بَيْنَ اَخَوَيْكُمْ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُوْنَؒ۰۰۱۰
اور اگر مسلمانوں کے دو گروہ آپس میں لڑیں تو ان میں صلح کراؤ پھر اگر ایک دوسرے پر زیادتی کرے تو اس زیادتی والے سے لڑو یہاں تک کہ وہ اللہ کے حکم کی طرف پلٹ آئے، پھر اگر پلٹ آئے تو انصاف کے ساتھ ان میں اصلاح کردو اور عدل کرو، بیشک عدل والے اللہ کو پیارے ہیں،  

لیکن بات یہاں تک  کی ہی  نہیں "قسط " تقاضہ اس سے بڑھ کر ہے يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْۤا اِنْ جَآءَكُمْ فَاسِقٌۢ بِنَبَاٍ فَتَبَيَّنُوْۤا اَنْ تُصِيْبُوْا قَوْمًۢا بِجَهَالَةٍ فَتُصْبِحُوْا عَلٰى مَا فَعَلْتُمْ نٰدِمِيْنَ۰۰۶ اے لوگو جو ایمان لائے ہو، اگر کوئی فاسق تمہارے پاس  کوئی خبر لے کر آئے تو تحقیق کر لیا کرو، کہیں ایسا نہ ہو کہ تم کسی گروہ کو نادانستہ نقصان پہنچا بیٹھو اور پھر اپنے کیے پر پشیمان ہو۔٨  خوب جان رکھو کے تمہارے درمیان اللہ کا رسول موجود ہے

بلا تحقیق کسی پر بھی جا پڑنا اور اپنے مفادات کے حصول کے لیے گروہی عصبیت میں اندھے ہو جانا کسی بھی درجہ میں اسلام کا منشا و مقصود نہیں سوال مسلمانو کے باہمی جدل کا ہی نہیں بلکہ دشمنوں پر بھی ظالم بن کر جا پڑنا "قسط " کے خلاف ہے ،

میرا خاندان میرا قبیلہ میری جماعت میرا طبقہ میرا گروہ میری قوم یا پھر میرے ہم پیشہ بھائی بند جہاں بھی جس بھی درجہ میں مفادات اصولوں پر فائق ہونگے "مافیا " جنم لیتے رہینگے ..........

حسیب احمد حسیب 
  




پیر، 14 جنوری، 2013

جشن احمد صل الله علیہ واسلام !


جشن احمد صل الله علیہ واسلام  !

ہر سال ربیع الاول کی آمد کے ساتھ ہی میلاد نبوی صل الله علیہ وسلم کی دینی بحث شروع ہو جاتی ہے اور خلقت کثیر اسکے جواز یا انکار کی بحث میں مبتلا ہوتی ہے

کیا کوئی مسلمان ایسا ہو سکتا ہے جسکو نبی صل الله علیہ وسلم کی خوشی نہ ہو اختلاف اسکے مشروع ہونے یا نا ہونے میں ہوتا ہے ایک گروہ کہتا ہے یہی تو موقع ہے نبی صلعم سے محبّت کے  اظہار کا

اور دوسرا کہتا ہے یہ سب ثابت کہاں سے ہے نبی صلعم کی زندگی سے یہ پھر اصحاب رسول رض کے طریقے سے

اس تمام شرعی بحث میں پڑے بغیر دین کے مزاج اور الله کے رسول کی زندگی کو سمجھا جاۓ  آخر انبیا کی بعثت کا مقصود کیا ہے انھیں اس دنیا میں کیوں بھیجا جاتا ہے دین ہم سے کس بات کا تقاضا کرتا ہے،

جب بھی اقوام عالم گمراہی اور فتنہ میں مبتلا ہوئی ہیں انبیا علیہ سلام کو معبوث کیا گیا ہے تاکہ لوگوں کو اس گمراہی سے نکال کر راہ راست پر لایا جا سکے ،
شَرَعَ لَکُمْ مِّنَ الدِّيْنِ مَا وَصّٰی بِه نُوْحًا وَّالَّذِیْۤ اَوْحَيْْنَآ اِلَيْكَ وَمَا وَصَّيْْنَا بِهۤ اِبْرٰهِيْمَ وَمُوْسٰی وَعِيْسٰۤی اَنْ اَقِيْمُوا الدِّيْنَ وَلَا تَتَفَرَّقُوْا فِيْهِ.(٤٢: ١٣)
''اس نے تمھارے لیے وہی دین مقرر کیا ہے جس کی ہدایت اس نے نوح کو فرمائی اور جس کی وحی ہم نے تمھاری طرف کی اور جس کا حکم ہم نے ابراہیم اور موسیٰ اور عیسیٰ کو دیا، اس تاکید کے ساتھ کہ اس دین کو قائم رکھنا اور اس میں تفرقہ نہ پیدا کرنا۔''

یہاں قرآن سے ہدایت حاصل کرنے پر معلوم پڑتا ہے کہ مقصود انبیا علیہ سلام دین پر قائم ہونا یہ پھر دین کو قائم کرنا ہے اگر الله کے رسول صل الله علیہ وسلم سے ہدایت حاصل کی جانے تو دین کا منشا معلوم ہوگا ،
 حجتہ الوداع سے واپسی کے بعد ایک دن آنحضرت علیہ سلام  صحابہؓ  کرام کے درمیان مسجد نبوی میں تشریف فرماتھے ،  حضرت عمرؓ روایت کرتے ہیں کہ اچانک ایک اجنبی حاضر ہوا ،  اس کے کپڑے نہایت سفید اور بال بے حد سیاہ تھے ،  لباس سے خوشبو کی مہک آرہی تھی ،  اجنبی ہونے کے باوجود اس پر سفر کے کچھ آثار نہ تھے ،  ہم میں سے کوئی اس نووارد کو جانتا نہیں تھا،  وہ آپ  علیہ سلام  کے قریب نہایت ادب سے دو زانو ہوکر بیٹھ گیا اور گھٹنے حضورعلیہ سلام کے گھٹنوں سے ملا دئیے ،اس شخص نے دریافت کیا …  اے  محمدعلیہ سلام  !  اسلام کیا ہے ؟

حضور علیہ سلام نے فرمایا : 

  اسلام یہ ہے کہ تم شہادت دو کہ اللہ کے سوا کوئی اِلہٰ نہیں اور محمدعلیہ سلام  اس کے رسول ہیں اور نماز قائم کر و ،  زکوٰۃ ادا کرو،  رمضان کے روزے رکھو اور اگر حج بیت اللہ کی استطاعت ہے تو حج کرو،   نووارد نے جواب سن کر کہا ،   آپ علیہ سلام  نے سچ کہا ،اس نے پھر پوچھا …   مجھے بتلائیے کہ ایمان کیا ہے ؟

فرمایا :

ایمان یہ ہے کہ تم اللہ کو ‘ اس کے فرشتوں کو ‘ اس کی کتاب کو ‘ اس کے رسولوں اور یوم آخر یعنی قیامت کو حق جانو اور حق مانو اور ہر خیر و شر کی تقدیر کو بھی حق جانو اور حق مانو ،  یہ سن کر بھی اس نے کہا کہ آپ علیہ سلام  نے سچ کہا،  

حضرت عمرؓ کہتے ہیں کہ مجھے بڑا تعجب ہوا کہ یہ شخص سوال بھی کرتا ہے اور خود ہی اس کی تصدیق کرتا ہے،   پھر اس نے پوچھا …  احسان کس چیز کا نام ہے ؟

فرمایا : احسان یہ ہے کہ اللہ کی عبادت ایسی دل لگاکر کرو کہ گویا تم اس کو دیکھ رہے ہو اگر یہ نہ ہوسکے تو یہ خیال رہے کہ وہ تمہیں دیکھ رہا ہے ،اس نے سوال کیا …  قیامت کب آئے گی  ؟فرمایا :  جس سے یہ بات پوچھی جا رہی ہے وہ پوچھنے والے سے زیادہ نہیں جانتا ، عرض کیا:   تو مجھے اس کی کچھ نشانیاں ہی بتلائیے ، فرمایا :   میں تمہیں اس کی علامتیں بتائے دیتا ہوں ،

(۱)  جب لونڈی اپنے آقا اور مالک کو جنے گی

(۲)  تم دیکھو گے کہ جن کے پاؤں میں جوتا اور تن پر کپڑا نہیں جو تہی دست اور بکریاں چرانے والے ہیں وہ بڑی بڑی عمارتیں بنائیں گے اور ایک دوسرے پر بازی لے جانے کی کوشش کریں گے، 

صحیح بخاری کے بموجب قیامت غیب کی ان پانچ باتوں میں سے ایک ہے جن کو اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا ،  پھر آنحضرت علیہ سلام  نے سورۂ لقمان کی آیت نمبر ۳۴ تلاوت فرمائی جس کا ترجمہ یہ ہے :
"  اللہ ہی کو قیامت کا علم ہے اور وہی مینہ برساتا ہے اور وہی (حاملہ کے ) پیٹ کی چیز وں جانتا ہے (نر ہے یا مادہ ) اور کوئی شخص نہیں جانتا کہ وہ کل کیا کام کرے گا اور کوئی شخص نہیں جانتا کہ کس سر زمین میں اُسے موت آئے گی،  بے شک اللہ ہی جاننے والا ہے،  خبر دار ہے "
 (سورۂ لقمان :  ۳۴ )

پھر وہ شخص پیٹھ موڑ کر چلا گیا ،  رسول اللہ علیہ سلام  نے فرمایا!   اس کو پھر لے آؤ ،  لوگوں نے جاکر دیکھا تو وہاں کسی کو نہ پایا ، 

حضرت عمرؓ کا بیان ہے کہ اس واقعہ کو کچھ عرصہ بیت گیا،  ایک دن حضور علیہ سلام  نے فرمایا: اے  عمر…  کیا تمہیں پتہ ہے کہ وہ شخص جو سوالات کر رہا تھا کون تھا ؟

حضرت عمرؓ نے عرض کیا : اللہ اور اُس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں ،  فرمایا:وہ جبرئیل ؑ تھے تمہاری مجلس میں اس لئے آئے تھے کہ تمہیں تمہارا دین سکھائیں ،یہ بہت مشہور حدیث ہے جو عام طور پر حدیث جبرئیل ؑ کے نام سے مشہور  ہے ،  اسے " اُم الاحادیث "  بھی کہا جاتا ہے ،  اسے حیات طیبہ کی ۲۳ سالہ جد وجہد کا نچوڑ کہا جاسکتا ہے ،  یہ واقعہ تکمیل دین کی آیت کے نزول کے بعد اس وقت ہوا جبکہ اس دنیا میں آپ علیہ سلام  کی عمر مبارک میں صرف تین دن باقی رہ گئے تھے، 

حضور علیہ سلام نے فرمایا کہ میں جبرئیل کو ہر شکل میں پہچان لیتا ہوں لیکن اس دفعہ نہ پہچان سکا کیونکہ وہ ایک بدو سائل کے بھیس میں آئے تھے،  امین وحی نہیں بلکہ ملائکہ کے نمائندہ بن کر آئے تھے،  میں نے انھیں افق اور سدرۃالمنتہیٰ پر ہیت اصلی میں بھی دیکھا،  یہ موقع عینی مخلوق کی نمائندگی کا تھا لہٰذا پردہ بعد میں اٹھا ،  دین مکمل ہوگیا ،  اب قیامت تک اس میں نہ کوئی کمی ہوسکتی ہے اور نہ بیشی ،  زمین وآسمان کی مخلوق نے گواہی دی.
(سیرت احمد مجتبیٰ)
خود الله کے رسول صلعم اور اور تمام انبیا علیہ سلام کی زندگیوں کا مقصود دین کو قائم کرنے رہا اسی مقصود کے لیے ابراہیم علیہ سلام کو آگ میں ڈالا گیا ،موسیٰ علیہ سلام کو ملک بدر کیا گیا یوسف علیہ سلام قید میں ڈالے گۓ اور الله کے رسول صلعم نے طائف کی بستی میں اپنا خون بہایا !
صحابہ رض کی جماعت قدسی کو کس مقصد کے لیے تیار کیا گیا تھا ،

كُنتُمْ خَيرَْ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَ تَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنكَرِ وَ تُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ وَ لَوْ ءَامَنَ أَهْلُ الْكِتَابِ لَكاَنَ خَيرًْا لَّهُم مِّنْهُمُ الْمُؤْمِنُونَ وَ أَكْثرَُهُمُ الْفَاسِقُون *سوره آل عمران آيت 110
تم بہترین امت ہو جسے لوگوں کے لئے منظر عام پر لایا گیا ہے تم لوگوں کو نیکیوں کا حکم دیتے ہو اور برائیوں سے روکتے ہو اور اللہ پر ایمان رکہتے ہو اگر اہل کتاب بہی ایمان لے آتے تو ان کے حق میں بہتر ہوتا لیکن ان میں صرف چند مومنین ہیں اور اکثريت فاسق ہے۔

ذرا غور کیجئے دین کیا ہے دین کا تقاضا کیا ہے اور دین کا مقصود کیا انبیا کیوں معبوث ہے الله کے رسول صلعم کا پیغام کیا تھا اور اصحاب رض رسول کی محنت کیا تھی !

جشن کیا ہے کیوں منایا جاتا ہے خوشی و غمی کے معیارات کیا ہیں ،

یہودی کیلنڈر کے مہینے کس لیو کی 25 تاریخ کو یہودیوں نے یروشلم کو آزاد کروا لیا تھا یعنی 165 قبل مسیح میں، اس آزادی کی خوشی میں یہودیوں کا آٹھ روزہ جشن شروع ہے جسے عبرانی زبان میں چنوکاہ کہا جاتا ہے۔ یہ جشن (فیسٹیول آف لائٹ) نومبر کے آخر یا دسمبر کے آخر میں شروع ہوتا ہے، جشن کا آغاز ہفتہ کی شب مخصوص قسم کے موم بتی اسٹینڈ پر ایک موم بتی روشن کر کے کیا جاتا ہے پھر آٹھ روز میں آٹھوں موم بتیاں جلائی جاتی ہیں موم بتیاں جلانے کا مخصوص طریقہ ہے، موم بتی اسٹینڈ بھی مخصوص بناوٹ کا ہے اس سال جشن چنوکاہ 8 دسمبر 2012ء بروز ہفتہ کی شب سے شروع ہو چکا ہے ان دنوں میں یہودی کثرت سے عبادت کرتے ہیں توریت کی تلاوت کرتے ہیں مخصوص حمد و ثنا کرتے ہیں موم بتی اسٹینڈ کو نمایاں کھڑکی پر رکھ دیا جاتا ہے یہ ایک طرح کا چراغاں ہوتا ہے۔ یہودیوں کی عبادت گاہ کو سنی گونگ کہا جاتا ہے عبادت کے وقت شانوں پر مخصوص قسم کا کپڑا ڈالا جاتا ہے، مرد سر پر مخصوص ٹوپی پہنتے ہیں توریت زور زور سے تلاوت کی جاتی ہے، عبادت گاہ میں یہودی پاک صاف ہو کر نہا دھو کر صاف لباس پہن کر داخل ہوتے ہیں، عبادت کے بعد دوپہر کا کھانا سنی گونگ میں ہی مل بیٹھ کر کھایا جاتا ہے جس کی وجہ سے ایک دوسرے کے ساتھ میل ملاقات بڑھتی ہے، یہودیوں کا مقدس دن ثبات کہلاتا ہے اسی دن صبح سے ہی یہودی سنی گونگ میں جمع ہو جاتے ہیں۔ کینیڈا کے شہر ٹورانٹو کے وسط میں بارتھرسٹ نامی علاقہ میں یہودی آباد ہیں یہ مل جل کر رہنے کے قائل ہیں، طرز رہائش سادہ اور خوراک کے مقابلے میں ذبیحہ کا ہونا لازمی ہے، دودھ دہی کے معاملے میں مذہبی قیود ہیں، ذبیحہ کو یہودی کوشر کہتے ہیں ایک دوسرے سے ملتے وقت شلام کہتے ہیں۔ عبادت کے وقت اللہ کے حضور سنی گونگ میں آہ و گریہ جاری رہتا ہے، لوگوں پر رقت طاری رہتی ہے، سنی گونگ میں بچوں سمیت خاندان کا ہر فرد حاضر ہوتا ہے، سنی گونگ کی باقاعدہ ممبرشپ ہوتی ہے تاکہ ایک دوسرے کے بارے میں جملہ معلومات حاصل رہیں، 

کرسمس(Christmas) دو الفاظ Christ اور Massکا مرکب ہے۔ Christمسیح کو کہتے ہیں اور Mass اجتماع، اکٹھا ہونا۔ مراد ہے، مسیح کے لیے اکٹھا ہونا، مسیحی اجتماع یامیلاد مسیؑح۔

یہ لفظ تقریباً چوتھی صدی کے قریب قریب پایا گیا، اس سے پہلے اس لفظ کا استعمال کہیں نہیں ملتا۔

دنیا کے مختلف خطوں میں کرسمس کو مختلف ناموں سے یاد کیا اور منایا جاتا ہے۔ اسے یول ڈے نیٹوئی اور نوائل جیسے ناموں سے بھی منایا جاتا ہے۔ (نوائے وقت 27دسمبر 2005ئ)

’’بڑا دن‘‘ بھی کرسمس کا مروجہ نام ہے۔ یہ دن ولادت مسیؑح کے سلسلہ میں منایا جاتا ہے۔ چونکہ مسیحیوں کے لیے یہ ایک اہم اور مقدس دن ہے، اس لیے اسے بڑا دن کہا جاتا ہے۔ رومن کیتھولک اور پروٹسٹنٹ کلیسائی اسے 25 دسمبر کو، مشرقی آرتھوڈوکس کلیسائی 6جنوری کو اور ارمینیا کلیسائی 19جنوری کو مناتے ہیں۔ کرسمس کا بطور تہوار 25 دسمبر کو منانے کا ذکر پہلی مرتبہ 325ء کو شاہِ قسطنطین کے عہد میں ملتا ہے۔ یہ بات صحیح طور پر معلوم نہیں کہ اولین کلیسائیں بڑا دن مناتی تھیں یانہیں۔

یادرہے کہ مسیحؑ کی صحیح تاریخ پیدائش کا کسی کو علم نہیں۔ تیسری صدی میں اسکندریہ کے کلیمنٹ نے رائے دی تھی کہ اسے 20مئی کو منایا جائے۔ لیکن 25دسمبر کو پہلے پہل رومہ میں اس لئے مقرر کیا گیا تاکہ اس وقت کے ایک غیر مسیحی تہوار، جشن زحل کو (Saturnalia) کو (جو رومیوں کا ایک بڑا تہوار تھا، اور جس میں رنگ رلیاں منائی جاتی تھیں) جو راس الجدی کے موقع پر ہوتا تھا پسِ پشت ڈال کر اُس کی جگہ مسیحؑ کی سالگرہ منائی جائے۔ (قاموس الکتاب: ص147)


٤ صدیوں تک 25دسمبر تاریخ ولادت مسیؑح نہیں سمجھی جاتی تھی۔ 530ء میں سیتھیا کا ایک ڈایونیس اکسیگز نامی راہب جو منجّم(ستاروں کا علم رکھنے والا) بھی تھا، تاریخ ولادت مسیؑح کی تحقیق اور تعین کے لیے مقرر ہوا۔ سو اُس نے حضرت مسیؑح کی ولادت 25دسمبر مقرر کی کیونکہ مسیؑح سے پانچ صدی قبل 25دسمبر مقدس تاریخ تھی۔ بہت سے سورج دیوتا اُسی تاریخ پر یا اُس سے ایک دو دن بعد پیدا ہونا تسلیم کیے جا چکے تھے۔ چنانچہ راہب نے آفتاب پرست اقوام میں عیسائیت کو مقبول بنانے کے لیے حضرت عیسیٰ ؑکی تاریخ ولادت 25دسمبر مقرر کر دی۔

قرآن مجید کی سورت مریم سے معلوم ہوتا ہے کہ جب حضرت مریم ؑکو دردزہ ہوئی تو اللہ تعالیٰ نے ان کو ہدایت کی کہ کھجوروں کے تنے کو ہلائے، تاکہ ان پر تازہ پکی کھجوریں گریں اور وہ اس کو کھائیں اور چشمہ کاپانی پی کر طاقت حاصل کریں۔ اب فلسطین میں موسم گرما کے وسط یعنی جولائی، اگست میں ہی کھجوریں ہوتی ہیں۔ اس سے بھی یہ امر واضح ہو جاتا ہے کہ حضرت مسیؑح کی ولادت جولائی یا اگست کے کسی دن میں ہوئی تھی اور 25دسمبر کی تاریخ غلط ہے۔ (’’مذاہب عالم کا تقابلی مطالعہ‘‘: ص435)

ہولی کا تہوار ہندووں کے ہاں ایک خاص مقام رکھتا ہے کیونکہ اس دن لوگ بغیر کسی امتیاز کے ایک دوسرے پر رنگ ڈالتے ہیں اور گلال ڈال کر خوشی مناتے ہیں۔ رنگوں سے بھر پور یہ تہوار قدیم زمانہ سے منایا جا رہا ہے۔ یہ تہوار ہولی، جو پھاگن کی پورنماشی کو منایا جاتا ہے، بھگت پرہلاد سے جڑی ایک کتھا ہے 
اس کو دھارمک طور پر اسلئے منایا جاتا ہے کہ ست یگ میں راجہ پرتھونام کا راجہ تھا اور اس کے راج میں ایک راکششنی نے لوگوں کوتنگ کر کے لوگوں کو خوفزدہ کر رکھا تھا تو اس راجہ نے اپنی رعایا کو اس مصیبت سے چھڑا نے کے لئے اپنی فوج بھیجی لیکن وہ کامیاب نہ ہو سکے۔ یہ راکششنی لوگوں کے بچوں تک اٹھا کر لے جاتی تھی۔ اس کے بعد راجہ کل گور و وششٹ سے اس کو حل کرنے کے لئے صلاح لی تو انہوں نے اس کو ڈرا کر بھگانے کے لئے صلاح دی تو اس پھاگن ماہ میں آگ جلا کر سب بچوں کو اکٹھا کر کے شور مچایا جس کی وجہ سے راکششنی ڈر کر بھاگ گئی اس وجہ سے اس خوشی میں یہ ہولی کا تہوار منایا ۔
اس کے علاوہ ایک اور کتھا ہے جو راجہ ہر نا کش کے دھرم پر ظلم اور اس کے معصوم بچے پر ہلاد کی بھگتی بھاونا سے جڑی ہوئی ہے ۔راجہ ہرنیہ کشیپ اپنے دور اقتدار میں اپنے آپ کو ہی بھگوان مانتا تھا اور کسی کو بھی بھگوان کا نام نہیں لینے دیتا تھا لیکن اس کا اپنا بیٹا بھگوان ہری کا بھکت تھا اس نے اپنے بیٹے ہی کو مارنے کی کوشش کی مگر کامیاب نہیں ہوا مگر راجہ کی بہن ہولیکا کو اگنی میں جلنے کا وردان ملا ہواتھا اس نے اپنی بہن کی گود میں بیٹھا کر پرہلاد کو جلانے کی کوشش کی مگر کامیاب نہیں ہوا تو لوگوں نے اس خوشی میں یہ تہوار منایا!

مسلمانوں میں بھی اسی طرح کے کچھ جشن اور تہواروں نے جنم لیا جیسے !
مشہور ایرانی  تاریخ دان یعقوبی رقم فرماتے ہیں کہ:

" ان کے سال کا پہلا دن  " نوروز  " کے نام سے ہے ، جس میں آب نیسان بھی برستا ہے یہ اس وقت ہے جب سورج برج حمل میں داخل ہوتا ہے اور یہ دن ایرانیوں کے لئے بڑی عید ہے۔ البتہ اس بات کو ایرانیوں کا حسن سلیقہ سمجھنا چاہیے کہ بہار کو سال کےآغاز کے لئے انتخاب کیا جس میں نباتات دوبارہ تروتازہ ہوتے ہیں اور ہریالی کا آغا ہوتا ہے، جس طرح کچھ ممالک عیسوی سال کو جشن کے طور پر مناتے ہیں۔ "

 جزیرہ عرب کے لوگ بھی اس تہوار کو مناتے تھے ۔  ایران میں پہلوی اور مانوی دور کی تحریروں میں بھی جشن نوروز کے متعلق ذکر کیا گیا ہے ۔ شیراز میں واقع تخت جمشید پر بھی جشن نوروز کا اہتمام کیا جاتا تھا ۔ تخت جمشید کو ہخامنشی دور میں ایک مقدس مقام کا درجہ  حاصل تھا ۔ ھخامنشی دور کے بادشاہ جشن نوروز کے موقع پر مختلف اقوام کے نمائندوں از جملہ مادی، ایلامی ،بابلی، خوزی، آشوری، ھندی، تونسی، آفریقائی  کو جشن میں مدعو کرتے تھے یہ سب اپنے اپنے قومی لباس میں تشریف لاتے اور جشن کے موقع پر بادشاہ کو تحائف پیش کرتے تھے ۔ اشکانی اور ساسانی دور میں بھی تاریخی روایات کے مطابق جشن کا اہتمام کیا جاتا تھا ۔

ایرانی قوم  عید نوروز کو سال کے سب سے بڑے تہوار کے طور پر مناتی ہے ۔ نیا سال شروع ہونے سے پہلے ہی لوگ اپنے گھروں کی صفائی شروع کر دیتے ہیں ۔ اس کو ""خانہ تکونی "" کا نام دیا جاتا ہے ۔ اس موقع پر لوگ ہر چیز نئی خریدنے کی کوشش کرتے ہیں ۔ بازاروں میں گہماں گہمی دیکھنے کو ملتی ہے ۔ ایران میں ایک دلچسپ رسم یہ ہے کہ وہ سال کے آغاز پر اپنے گھروں میں دسترخوان بچھاتے ہیں جن پر سات مختلف اور مخصوص اشیاء رکھی جاتی ہیں جن کا نام جروف تہجی کے مطابق "س " سے شروع ہوتا ہے ۔ اس رسم کو "ھفت سین " کا نام دیا جاتا ہے ۔
جناب صفدر ھمدانی صاحب اپنی ایک تحریر میں لکھتے ہیں کہ

" اہل تشیع کے ہاں روایت ہے کہ اسی نوروز کے دن بارہویں امام حضرت مہدی ابن العسکری دنیا میں ظہور فرمائیں گے اور اسی طرح اسلامی تاریخ میں تقویم کے اعتبار سے نوروز ہی کا دن ہے جب پہلی بار دنیا میں سورج طلوع ہوا،درختوں پر شگوفے پھوٹے،حضرت نوح کی کشتی کوہ جودی ہر اتری اور طوفان نوح ختم ہوا، نبی آخرالزمان پر نزول وحی کا آغاز ہوا،حضرت ابراہیم نے بتوں کو توڑا اور مقام غدیر خم پر ولایت امیرالمومنین علی ابن ابی طالب کا اعلان ہوا۔ "
اسلامی جمہوریہ ایران سمیت آج ساری دنیا میں عید غدیر کی مناسبت سے خوشیاں منائي جارہی ہیں۔ حجۃ الوداع کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حکم خدا سے حضرت علی علیہ السلام کو اپناخلیفہ اور جانشین معین فرمایا تھا۔ امیرالمومنین حضرت علی علیہ السلام کے خلیفۂ رسول معین ہونے کی خوشی میں آج سارے ایران میں چراغان کیا گيا ہے۔ ہرگلی کوچے میں چراغانی دیکھی جاسکتی ہے۔ سرکاری عمارتوں کےعلاوہ لوگوں نے اپنے گھروں، دوکانوں اور کمپنیوں کی عمارتوں پر چراغانی کی ہے۔مشہد مقدس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے فرزند حضرت امام رضا علیہ السلام اور قم مقدسہ میں آپ کی بہن حضرت فاطمہ معصومہ سلام اللہ علیھا کے روضوں کونہایت ہی خوبصورتی سے سجایا گیا ہے۔ عراق میں بھی کربلائے معلی، نجف اشرف، سامرا اور کاظمین میں اھل بیت عصمت و طہارت کی بارگاہوں پر بے مثال چراغانی کی گئي ہے۔ ان روضوں پر اس وقت لاکھوں زائرین کا اجتماع ہے۔ ایران میں علماء اور مراجع کرام کے گھروں میں محافل قصیدہ خوانی اور جشن کا سلسلہ جاری ہے۔ ایران میں ہر چھوٹے بڑے شہر کی مسجدوں اور امام باگاہوں میں جشن قصیدہ خوانی کا سلسلہ جاری ہے جو گذشتہ روز ہی سے شروع ہوچکا تھا۔ ساری دنیا میں اھل ولایت عید غدیر کی خوشی میں ا یک دوسرے کو مٹھائياں کھلارہے ہیں اور مبارک باد پیش کرکے خدا کا شکر ادا کررہے ہیں کہ خدا نے انہیں ولایت امیرالمومنین حضرت علی علیہ السلام کی نعمت سے مالامال کیا ہے۔ عراق سے موصولہ رپورٹ کے مطابق آج نجف اشرف میں لاکھوں زائرین بارگاہ امیر المومنین علیہ السلام میں حاضری دے کر آپ کو رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی جانشینی کی مبارک باد پیش کررہے ہیں۔لبنان اور شام سے موصولہ اطلاعات کے اھل بیت نبوت و عصمت و امامت کے عقیدت مندوں نے بڑے عقیدت و احترام سے عید غدیر منائي۔بحرین اور سعودی عرب میں اھل ولایت نے حکومت کی پابندیوں کے تحت اپنے گھروں میں عید غدیر کی مناسبت سے جشن منائے۔
ان تمام مذاہب اور مسالک میں خوشی و غمی کی بنیاد شخصیات و واقعات سے منسلک ہے جو ماضی قریب و بعید میں پیش اے جنپر انکے مذہب و فرقے کی بنیاد ہے !
قرآن مجید میں ذات باری تعالیٰ کے متعلق”رب العالمین“ آں حضرت صلی الله علیہ وسلم کی ذات اقدس کے لیے ”رحمة للعالمین“ قرآن مجید کے لیے ”ذکر للعالمین“ اور بیت الله شریف کے لیے ”ھدًی للعالمین“ فرمایا گیا ہے ، اس سے جہاں آں حضرت صلی الله علیہ وسلم کی نبوت ورسالت کی آفاقیت وعالم گیریت ثابت ہوتی ہے، وہاں آپ صلی الله علیہ وسلم کے وصف ختم نبوت کا اختصاص بھی آپ صلی الله علیہ وسلم کی ذات اقدس کے لیے ثابت ہوتا ہے، اس لیے کہ پہلے تمام انبیاء علیہم السلام اپنے اپنے علاقے، مخصوص قوم او رمخصوص وقت کے لیے تشریف لائے، جب آپ صلی الله علیہ وسلم تشریف لائے تو حق تعالیٰ نے کل کائنات کو آپ کی نبوت ورسالت کے لیے ایک اکائی  بنا دیا۔

جس طرح کل کائنات کے لیے الله تعالیٰ ”رب“ ہیں، اسی طرح کل کائنات کے لیے آں حضرت صلی الله علیہ وسلم نبی ہیں۔ آں حضرت صلی الله علیہ وسلم نے اپنے لیے جن چھ خصوصیات کا ذکر فرمایا، ان میں سے ایک یہ بھی ہے:﴿ارسلت الی الخلق کافة وختم بی النبیون﴾․

”میں تمام مخلوق کے لیے نبی بنا کر بھیجا گیا اور مجھ پر نبوت کا سلسلہ ختم کر دیا گیا۔“ (مشکوٰة ص512 ،باب فضائل سید المرسلین، مسلم ج1، ص199 ،کتاب المساجد)

سورہٴ احزاب کی آیت40 میں حضور صلی الله علیہ وسلم کے خاتم النبیین ہونے کا واضح اعلان ہے ، اس کے علاوہ چند دوسری آیات ملاحظہ ہوں:

*﴿ھو الذی ارسل رسولہ بالھدی ودین الحق لیظھرہ علی الدین کلہ﴾․ (توبہ:22 ،صف9)

” وہی ذات ہے کہ جس نے اپنے رسول ( صلی الله علیہ وسلم )کو ہدایت اور دین حق دے کر بھیجا ہے، تاکہ تمام ادیان پر بلند اور غالب کرے۔“
عن ابی موسی الاشعری قال: قال رسول اﷲ : ”امتی ھذہ امہ مرحومہ؛ لیس علیھا عذاب فی الاخرہ، عذابھا فی الدنیا: الفتن والزلازل والقتل (رواہ ابوداؤد، کتاب الفتن والملاحم، باب: ما یرجیٰ فی القتل حدیث٣٧٣٠)
ابوموسی الاشعری سے روایت ہے، کہا: فرمایا رسول اللہ نے: ”میری یہ امت ایک ایسی امت ہے جسے (اللہ کی) رحمت سے سرفراز کیا گیا ہے۔ اس پر آخرت میں (بطور مجموعی) (١) کوئی عذاب نہیں۔ اس کا (غالب) (٢) عذاب (یہیں) دنیا میں ہے: فتنے، زلزلے اور خونریزی“۔
سنن ابی داؤد کی اس حدیث کو محدث البانی صحیح کہتے ہیں۔ (٣) مسند احمدکی ایک روایت کے الفاظ ہیں: انما عذابھم فی الدنیا: القتل والبلابل والزلازل۔ ”ان کا عذاب (بطور قوم) جو ہے سو اسی دنیا میں ہے: مار دھاڑ، آفات و بحرانات اور بھونچال“۔ مسند احمد ہی کی ایک دوسری روایت کے الفاظ ہیں: لیس علیھا فی الاخرہعذاب الا عذابھا فی الدنیا القتل والبلاءوالزلازل ”اس (امت) پر (بطور مجموعی) آخرت میں کوئی عذاب نہیں سوائے اسی عذاب کے جو دنیا میں ہے (یعنی) قتل وغارت، بلائیں و آزمائشیں اور زلزلے“۔

اب ذرا غور کیجئے "قتل وغارت، بلائیں و آزمائشیں اور زلزلے“۔ کیا یہی مقام تھا اس امّت کا یہ پھر کچھ اور کیا یہی انجام تھا اس امّت کا یہ پھر کوئی اور ،
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ۔ وَعَدَاللّٰہُ الَّذینَ آمَنُوا مِنْکُم وَعمِلُوا الصَّالِحَاتِ لَیَسْتَخْلِفَنَّھُمْ فِی الاَرْضِ کَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِھِمْ۔ وَ لَیُمَکِّنَنَّ لَھُمْ دِیْنَھُمُ الَّذِی ارْتَضٰی لَھُمْ وَ لَیُبَدِّّلَنَّھُمْ مِنْ بَعْدِ خَوْفِھِمْ اَمْناً۔یَعْبُدُونَنِی لاَ یُشْرِکُونَ بِی شَیئًا۔وَمَنْ کَفَرَ بَعْدَ ذٰلِکَ فَاُوْلٓئِکَ ہُمُ الفٰسِقُوْنَ ۔ ( سورۃ النور:۵۶ )ترجمہ : اللہ نے تم میں سے ایمان لانے والوں سے وعدہ کیاہے کہ وہ ان کو زمین میں خلیفہ بنا دے گا۔ جس طرح ان سے پہلے لوگوں کو خلیفہ بنا دیا تھا اور جو دین اس نے ان کے لئے پسند کیا ہے وہ ان کے لئے اسے مضبوطی سے قائم کر دے گا اور ان کے خوف کی حالت کے بعد وہ ان کے لئے امن کی حالت تبدیل کر دے گا۔ وہ میری عبادت کریں گے (اور) کسی چیز کو میرا شریک نہیں بنائیں گے اور جو لوگ اس کے بعد بھی انکار کریں گے وہ نافرمانوں میں سے قرار دئے جائیں گے۔
  ذرا غور کیجئے کیا ختم نبوت صلعم کا مقصود حاصل ہو گیا کیا خلافت عرضی مسلمانوں کے پاس ہے کیا الله کے رسول صلعم کا دین غالب ہو گیا یہ نہیں !
تو پھر جشن کس بات کا خوشی کس چیز کی  کیا ہم حوض کوثر پر الله کے رسول صل الله و علیہ وسلم کو یہی جواب دینے والے ہیں کفر کے اندھیرے پھیل رہے ہیں اور ہم چراغاں کر رہے ہیں نبی صلعم کی شان میں گستاخیاں ہو رہی ہیں اور ہم جشن منا رہے ہیں مسلمان دنیا میں مغلوب ہیں اور ہم حلوے بانٹ رہے تھے ،
افسوس صد افسوس کیا مقصود تھا اور کیا ہو گیا !
مکی زندگی کے دورِ ابتلاءوآزمائش میں آپ صلى الله عليه وسلم کا گذر عمار بن یاسر ؓ اور ان کے گھر والوں کے پاس سے ہوا ، وہ ابوجہل کی اذیتوں کا نشانہ بنے ہوئے تھے ۔ آنحضرت صلى الله عليه وسلم  نے ان کو اس المناک حالت میں دیکھا توان کی دل جوئی اور ہمت افزائی کرتے ہوئے فرمایا : ابشروا آل یاسر فان موعدکم الجنة (طبرانی ، حاکم )

”اے یاسر کے خاندان والو ! تمہیں خوشخبری ہو ،تمہارے لیے جنت کا وعدہ ہے “ ۔
کیا ہم نے بھی خود کو جنّت کا حقدار بنا لیا ہے ،

مسلموں کا کفر پر غلبہ میلاد سے نہیں دعوت و جہاد سے ہوتا ہے اور اس طریق پر ہی اصحاب رض کے دور میں ہوا تاریخ اسلام پڑھ جائیے تاکہ معلوم ہو .....
ٹھنڈے بستر سے نکل کر سبز جھنڈیاں لگا دینے سے حب نبوی علیہ سلام کا حق ادا نہیں ہوتا نبی تو پیٹ پر پتھر باندھیں گھاٹیوں میں قید ہوں دندان مبارک شہید ہوں گھر بار چھوڑنا پڑے سنگباری سے بدن خون ہو جاۓ اور آپ جھنڈیاں لگا کر دین غالب کر دیں افسوس صد افسوس مزید کیا کہا جاۓ..

وائے ناکامی! متاع کارواں جاتا رہا
کارواں کے دل سے احساس زیاں جاتا رہا

حسیب احمد حسیب