جمعہ، 23 نومبر، 2012

انسان الله کا خلیفہ ہے ( حصّہ: دوم )


انسان الله کا خلیفہ ہے  ( حصّہ: دوم )

اقسام خلافت  !
 خلافت عامہ!
حضرت شاہ اسماعیل شہید اس کا جواب دیتے ہوئے لکھتے ہیں:

'' پس جیسا کہ کبھی کبھی دریائے رحمت سے کوئی موج سربلند ہوتی ہے اور آئمہ ہدیٰ میں سے کسی امام کو ظاہر کرتی ہے ایسا ہی اللہ کی نعمت کمال تک پہنچتی ہے تو کسی کو تخت خلافت پر جلوہ افروز کر دیتی ہے اور وہی امام اس زمانے کا خلیفہ راشد ہے اور وہ جو حدیث میں وارد ہے کہ خلافت ِراشدہ کا زمانہ رسول مقبول علیہ الصلوٰة والسلام کے بعد تیس سال تک ہے اس کے بعد سلطنت ہو گی تو اس سے مراد یہ ہے کہ خلافت راشد متصل اور تو اتر طریق پر تیس ٣٠ سال تک رہے گی۔ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ قیام قیامت تک خلافت ِراشدہ کا زمانہ وہی تیس سال ہے اور بس۔ بلکہ حدیث مذکورہ کا مفہوم یہی ہے کہ خلافت راشد ہ تیس سال گزرنے کے بعد منقطع ہو گی نہ یہ کہ اس کے بعد پھر خلافت ِراشدہ کبھی آہی نہیں سکتی۔ بلکہ ایک دوسری حدیث خلافت ِراشدہ کے انقطاع کے بعد پھر عود کرنے پر دلالت کرتی ہے۔ چنانچہ نبی ﷺنے فرمایا ہے:

تکون النبوة فیکم ماشاء اﷲ ان تکون ثم یرفعہا اﷲ تعالیٰ ثم تکون خلافة علی منہاج النبوة فیکم ماشاء اﷲ ان تکون ثم یرفعہا اﷲ ثم تکون ملکاً عاضا فیکون ماشاء اﷲ ان یکون ثم یرفعہا اﷲ ثم یکون ملکاً جبرّیاً فیکون ماشاء اﷲ ان یکون ثم یرفعہا اﷲ تعالیٰ ثم تکون خلافة علیٰ منہاج النبوة ثم سکت.(منصب امامت ص١١٦۔١١٧)

'' نبوت تم میں رہے گی جب تک اللہ چاہے گا پھر اللہ تعالیٰ اسے اٹھالے گا اور بعد نبوت کے طریقے پر خلافت ہو گی جو اللہ کے منشاء تک رہے گی پھر اسے بھی اللہ اٹھا لے گا۔پھر بادشاہی ہو گی اور اسے بھی اللہ جب تک چاہے گا رکھے گا پھر اسے بھی اٹھا لے گا۔ پھر سلطنت جابرانہ ہو گی جو منشاء باری تعالیٰ تک رہے گی۔ پھر اسے بھی اُٹھالے گا اور اس کے بعد پھر نبوت کے طریقے پر خلافت ہو گی، پھر آپﷺ خاموش ہو گئے۔''

حدیث کے الفاظ پر غور کریں !
١. پہلے نبوت 
٢.خلافة علی منہاج النبوة
٣.ملکاً عاضا(خلافت ) عام 
٤.ملکاً جبرّیاً(خلافت )جابرانہ 
٥. ثم یرفعہا اﷲ تعالیٰ(یعنی خلافت سرے سے مفقود ہو جانے گی )
٦.ثم تکون خلافة علیٰ منہاج النبوة ثم سک(دوبارہ قیام خلافت )

طریق انتخاب !
خلیفہ کے تقرر کے چار طریقے ہیں۔

۱۔ اہل الحل والعقدکا بیعت کرلینا: یہ طریقہ دو مواقع پر جاری ہوتا ہے۔ (١)خلیفہ ولی عہد اور شوریٰ بنائے بغیر فوت ہو جائے۔(٢)خلیفہ خود ان امور کی وجہ سے خلافت سے معزول ہو جائے، جو اس کے بذات خود خلافت سے معزول ہونے کا تقاضا کرتے ہیں یا اہل حل وعقد خلیفہ کوان امور کی وجہ سے معزول کر دیں جن کے ذریعہ وہ خلیفہ کو معزول کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔


٢ .تولیت ،ولی عہدی: اس کی صورت یہ ہے کہ خلیفۂ عادل مسلمانوں کی خیر خواہی کو مد نظررکھتے ہوئے جامع شروط خلافت لوگوں میں سے کسی شخص کو منتخب کر کے لوگوں کے سامنے اس کی ولی عہد کا اعلان کرے کہ میری وفات کے بعد یہ شخص تمہارا خلیفہ ہو گا اور تم اس کی اتباع کرنا۔ اب ولی عہد تمام جامع شروط الخلافۃ لوگوں میں سے خلافت کے لیے مخصوص ہو جائے گا اور خلیفہ کی وفات کے بعد اسی کو خلیفہ بنانا امت پر لازم ہے۔ خلیفہ اپنی زندگی تک خودمنصبِ خلافت پر فائز رہے گا اور اس کی وفات کے بعد ولی عہد کی بیعت ِاطاعت کی جائے گی جس سے وہ خلیفہ بن جائے گا۔


۳۔ شورٰی۔ شوریٰ کا مطلب یہ ہے کہ خلیفہ جامع الشروط لوگوں میں سے چند آدمیوں کو منتخب کرے اور اہل حل وعقد کو اختیار دیدے کہ ان میں سے جس کو چاہیں خلیفہ منتخب کر لیں خلیفہ کی وفات کے بعد اہل حل وعقد مشاورت کے بعد مقررہ لوگوں میں سے جس کو منتخب کریں گے وہ خلیفہ بن جائے گا۔


٤. (استیلائ): یعنی کوئی شخص استخلاف اور اہل حل و عقد کی بیعت کے بغیر مسندِ خلافت پر غالب ہو جائے۔خلیفہ نے نہ کسی کو ولی عہد بنایا نہ شورٰی بنائی تو خلیفہ کی وفات کے بعد کوئی شخص اہل حل و عقد کی بیعت کے بغیر مسند خلافت پر زبردستی غالب ہو جائے ۔ اس طریقے (یعنی غلبہ وجبر) سے انعقادِ خلافت کی کچھ صورتیں ہیں۔پہلی یہ کہ غلبہ سے مسند خلافت پر غالب شخص میں شروط خلافت کا مل طور پر پائی جائیں۔ دوسری صورت یہ کہ مسند خلافت پر غالب شخص میں اگرچہ منصب ِ خلافت کی شرائط نہیں پائی جاتی ہیں لیکن وہ امور ِریاست سر انجام دینے کا اہل ہے۔تیسری صورت یہ کہ منصب خلافت کی اہلیت نہیں رکھتا، نہ اس کو طاقت و سختی حاصل ہو اور نہ اسے کفایت و استغناء یعنی خود امور سلطنت چلانا اور دوسروں کا محتاج نہ ہونے کی خوبی حاصل ہے۔


جانشینی کا دو درجات ہیں!
١ اپنے اہل میں جانشیں بنانا
٢ اپنے اغیار میں جانشیں بنانا 

١ .


وَوَاعَدْنَا مُوسَى ثَلاَثِينَ لَيْلَةً وَأَتْمَمْنَاهَا بِعَشْرٍ فَتَمَّ مِيقَاتُ رَبِّهِ أَرْبَعِينَ لَيْلَةً وَقَالَ مُوسَى لأَخِيهِ هَارُونَ اخْلُفْنِي فِي قَوْمِي وَأَصْلِحْ وَلاَ تَتَّبِعْ سَبِيلَ الْمُفْسِدِينَ
(بنی اسرائیل وہاں سے آگے بڑھے تو) ہم نے موسیٰ سے تیس راتوں کا وعدہ ٹھیرایا اور دس مزید راتوں سے اُس کو پورا کیا تو (اِس کے نتیجے میں) اُس کے پروردگار کی ٹھیرائی ہوئی مدت، چالیس راتیں پوری ہو گئی۔ ۴۹۵(اِس وعدے کے لیے جاتے ہوئے) موسیٰ نے اپنے بھائی ہارون سے کہا: میرے پیچھے تم میری قوم میں میری جانشینی کرو گے اور (لوگوں کی) اصلاح کرتے رہو گے
٢.

اب ذرا یہ روایت ملاحظہ کریں !
ایک حدیث جو خاص اہل سنت کی روایت سے اس امر کا قطعی فیصلہ کرتی ہے جس میں آنحضرت نے مرض الموت میں حضرت عائشہؓ کو فرمایا تھا: عن عائشة قالت قال لي رسول اﷲ! في مرضه: اُدعي لي أبا بکر أباک وأخاک حتی أکتب کتابًا فإنی أخاف أن يتمنّٰی متمنّ ويقول قائل: أنا ويأبی اﷲ والمؤمنون إلا أبابکر (صحيح مسلم: رقم ۲۳۸۷) ''اپنے باپ ابوبکرؓ اور بھائی عبدالرحمنؓ کوبلا کہ میں خلافت کا فیصلہ لکھ دوں۔ ایسا نہ ہو کہ میرے بعد کوئی کہنے لگے کہ میں خلافت کا حق دار ہوں حالانکہ اللہ کو اور سب مؤمنوں کو ابوبکرؓ کے سوا کوئی بھی منظور نہ ہوگا۔''
انتخاب امیر کا دوسرا طریقہ جس کو فقہاء نے بالاتفاق درست قرار دیا ہے، وہ یہ کہ خلیفہٴ وقت خود اپنی زندگی میں اپنے بعد کے لیے امیر نامزد کردے، علامہ ماوردی نے اس کے جواز پر اجماع امت نقل کیا ہے،اس کا سب سے بڑا مأخذ حضرت صدیق اکبر کا عمل ہے، کہ آپ نے اپنی وفات سے پیشتر حضرت عمر فاروق کو اپنا جانشین تجویز فرمایا اوراس کا اعلان بھی اپنی زندگی میں فرمادیا، حضرت صدیق کی وفات کے بعد مسلمانوں نے بالاتفاق حضرت عمر کو اپنا خلیفہ تسلیم کیا، کسی ایک شخص نے بھی حضرت صدیق کے اس انتخاب کی مخالفت نہیں کی، حضرت عمر بن خطاب نے اپنے جانشین کے انتخاب کا یہ طریقہ اختیار فرمایاکہ کسی ایک شخص کو نامزد کرنے کے بجائے معاملہ ارباب حل وعقد کی ایک جماعت کے حوالے کردیا، یہ ایک محفوظ راستہ تھا؛ البتہ اس میں امیر کے اس اختیار پر روشنی پڑتی ہے کہ امیر کے معاملے کو تمام مسلمانوں کے بجائے ایک مخصوص کمیٹی کے حوالے کرسکتا ہے، اس چیز کو بھی تمام صحابہ نے من وعن تسلیم کیا، چنانچہ حضرت عمر کی وفات کے بعد جس وقت اس مجلس منتخبہ کی میٹنگ ہورہی تھی حضرت عباس نے اس مجلس میں شرکت کی خواہش کی تو حضرت علی نے جو اس کمیٹی کے اہم رکن تھے سختی کے ساتھ ان کو روک دیا۔ (الموسوعة الفقہیہ)
حضرت صدیق کے عمل سے ولی عہدی کا دستور جاری ہوا، یعنی امیر کو یہ اختیار حاصل ہوا کہ وہ اپنی حیات میں اپنا جانشین نامزد کردے


حنفیہ کی رائے یہ ہے کہ نابالغ کو ولی عہد بنایا جاسکتا ہے، بشرطیکہ امام کی وفات کے بعد ملکی معاملات اور ذمہ داریوں کے لیے عارضی طور پر اس کا کوئی نائب مقرر کردیا جائے، جو ولی عہد کے بلوغ تک امورِ مملکت انجام دے، وعلی عہد کے بالغ ہونے کے بعد نائب خود بخود معزول ہوجائے گا۔ (حاشیہ ابن عابدین ۱/۳۶۹)
دور جدید اور انتخاب خلیفہ (جب خلافت مفقود ہے )


جو حکمراں عوامی انقلاب اور افرادی قوت کے ذریعہ اقتدار میںآ تے ہیں وہ بھی اسی زمرہ میں آتے ہیں، الا یہ کہ خواص اور اہل علم وفضل کا طبقہ بھی اس کی تائید کررہا ہو ، اسلامی تاریخ میں ایسی کئی مثالیں ملتی ہیں جن میں عوامی طاقت کے ذریعہ حکومت کا تختہ پلٹنے کی کوشش کی گئی، اورمتعدد کامیابی بھی ملی، خود حضرت امام حسین کا سفر کوفہ اسی سلسلے کی ایک کڑی تھی، حضرت عبداللہ بن زبیر نے عوامی انقلاب کے ذریعہ مکہ معظمہ میں اپنی حکومت قائم فرمائی، وغیرہ۔ بعد کے ادوار میں بھی ایسی کئی کوششوں کا تذکرہ ملتا ہے جن میں بعض کو ہمارے مشہور ائمہ کی تائید بھی حاصل ہوئی، مثلاً خلافتِ بنی امیہ کے زمانے۔ (صفر ۱۲۲ھ م ۷۴۰/) میں حضرت زید بن علی نے عوامی تحریض پر حکومت کا تختہ پلٹنے کی کوشش فرمائی، جس کو حضرت امام ابوحنیفہ کی تائید حاصل ہوئی، آپ نے ان کو مالی مدد بھی فراہم کی۔ (الجصاص:۱/۸۱، الخیرات الحسان للمکی:۱/۲۶۰)

کیا خلافت مفقود ہو گئی تھی !

 خلافت عامہ!
حضرت شاہ اسماعیل شہید اس کا جواب دیتے ہوئے لکھتے ہیں:

'' پس جیسا کہ کبھی کبھی دریائے رحمت سے کوئی موج سربلند ہوتی ہے اور آئمہ ہدیٰ میں سے کسی امام کو ظاہر کرتی ہے ایسا ہی اللہ کی نعمت کمال تک پہنچتی ہے تو کسی کو تخت خلافت پر جلوہ افروز کر دیتی ہے اور وہی امام اس زمانے کا خلیفہ راشد ہے اور وہ جو حدیث میں وارد ہے کہ خلافت ِراشدہ کا زمانہ رسول مقبول علیہ الصلوٰة والسلام کے بعد تیس سال تک ہے اس کے بعد سلطنت ہو گی تو اس سے مراد یہ ہے کہ خلافت راشد متصل اور تو اتر طریق پر تیس ٣٠ سال تک رہے گی۔ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ قیام قیامت تک خلافت ِراشدہ کا زمانہ وہی تیس سال ہے اور بس۔ بلکہ حدیث مذکورہ کا مفہوم یہی ہے کہ خلافت راشد ہ تیس سال گزرنے کے بعد منقطع ہو گی نہ یہ کہ اس کے بعد پھر خلافت ِراشدہ کبھی آہی نہیں سکتی۔ بلکہ ایک دوسری حدیث خلافت ِراشدہ کے انقطاع کے بعد پھر عود کرنے پر دلالت کرتی ہے۔ چنانچہ نبی ﷺنے فرمایا ہے:

تکون النبوة فیکم ماشاء اﷲ ان تکون ثم یرفعہا اﷲ تعالیٰ ثم تکون خلافة علی منہاج النبوة فیکم ماشاء اﷲ ان تکون ثم یرفعہا اﷲ ثم تکون ملکاً عاضا فیکون ماشاء اﷲ ان یکون ثم یرفعہا اﷲ ثم یکون ملکاً جبرّیاً فیکون ماشاء اﷲ ان یکون ثم یرفعہا اﷲ تعالیٰ ثم تکون خلافة علیٰ منہاج النبوة ثم سکت.(منصب امامت ص١١٦۔١١٧)

'' نبوت تم میں رہے گی جب تک اللہ چاہے گا پھر اللہ تعالیٰ اسے اٹھالے گا اور بعد نبوت کے طریقے پر خلافت ہو گی جو اللہ کے منشاء تک رہے گی پھر اسے بھی اللہ اٹھا لے گا۔پھر بادشاہی ہو گی اور اسے بھی اللہ جب تک چاہے گا رکھے گا پھر اسے بھی اٹھا لے گا۔ پھر سلطنت جابرانہ ہو گی جو منشاء باری تعالیٰ تک رہے گی۔ پھر اسے بھی اُٹھالے گا ا

 · 

  • یہ درست ہے کہ خلافت اسلام کا اصل نظام ہے البتہ اگر بادشاہ اللہ کے قانون کو لوگوں پر نافذ کرے تو اسلام ایسی ملوکیت کو بالکلیہ غلط نہیں کہتا ۔آج مغربی جمہوریت سے متاثر ہو کر لوگ ملوکیت کو برا سمجھتے ہیں حالانکہ ملوکیت فی نفسہ مذموم نہیں۔دلائل ملاحظہ فرمائیں ۔
    ۱۔ ۔۔رسول اللہ ﷺ نے شاہِ فارس خسر و پرویز کو یہ پیغام بھی بھیجا کہ اگر تم مسلمان ہو جائو تو جو کچھ تمہارے زیر ِاقتدار ہے وہ سب میں تمہیں دے دوں گا اور تمہیں تمہاری قوم کا بادشاہ بنا دوں گا (رحیق المختوم)
    ۲۔۔رسول اللہ ﷺ نے بادشاہت کو رحمت قرار دیا :عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا
    ‘‘اس دین کا ابتدائی حصہ نبوت اور رحمت ہے پھر خلافت اور رحمت ہو گا پھر بادشاہت اور رحمت ہو گی پھر اس بادشاہت پر لوگ گدھو ں کی طرح ایک دوسرے کو کاٹیں گے تب تم پر جہاد لازم ہو گا ۔اور افضل جہا د سرحدوں کی حفاظت ہے ۔(سلسلۃ الصحیحہ للالبانی :3270،المعجم الکبیر للطبرانی رقم:۱۰۹۷۵)
    ۳۔۔ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل پر احسان جتلاتے ہوئے بادشاہت کو انعام قرار دیا:{وَإِذْ قَالَ مُوسَی لِقَوْمِہِ یَا قَوْمِ اذْکُرُواْ نِعْمَۃَ اللّہِ عَلَیْْکُمْ إِذْ جَعَلَ فِیْکُمْ أَنبِیَاء وَجَعَلَکُم مُّلُوکاً وَآتَاکُم مَّا لَمْ یُؤْتِ أَحَداً مِّن الْعَالَمِیْن}(المائدہ20)
    اورجب موسیٰ نے اپنی قوم سے کہا اے میری قوم اللہ کی ان نعمتوں کو یاد کرو جو اس نے تم پر کیں جب تم میں سے انبیاء بنائے اور تمہیں بادشاہ بنایا اور تمہیں وہ کچھ عطا فرمایا جو تم سے پہلے دنیا میں کسی کونہ دیا گیا۔
    ۴۔۔۔دائود علیہ السلام کے بیٹے سلیمان علیہ السلام نے خود اللہ تعالیٰ سے بادشاہت کے لئے یوں دعا فرمائی۔{قَالَ رَبِّ اغْفِرْ لِیْ وَہَبْ لِیْ مُلْکاً لَّا یَنبَغِیْ لِأَحَدٍ مِّنْ بَعْدِیْ إِنَّکَ أَنتَ الْوَہَّاب}
    اے میرے رب مجھے معاف فرما اور مجھے ایسی بادشاہت دے جو میرے بعد کسی کو نہ ملے بلاشبہ تو بڑا عطا فرمانے والا ہے (صٓ ۳۵)
    ۵۔۔داود علیہ السلا م بیک وقت بادشاہ بھی تھے اور خلیفہ بھی {وَآتَاہُ اللّہُ الْمُلْکَ وَالْحِکْمَۃ} اور اللہ نے (داود کو )بادشاہت اور حکمت عطا فرمائی‘‘(البقرہ ۲۵۱)){یَا دَاوُودُ إِنَّا جَعَلْنَاکَ خَلِیْفَۃً فِیْ الْأَرْضِ فَاحْکُم بَیْْنَ النَّاسِ بِالْحَقِّ} (صٓ ۲۶)’’اے دائود ہم نے تمہیں زمین میں خلیفہ بنایا ہے لہٰذا لوگوں میں انصاف سے فیصلہ کرنا‘‘
    ۶۔۔۔بنی اسرائیل نے اپنے نبی سے عرض کیا کہ ہمارے لئے کوئی بادشاہ مقرر کر دیجئے تو اللہ نے ان پر بادشاہ مقرر کردیا:
    وَقَالَ لَہُمْ نَبِیُّہُمْ إِنَّ اللّہَ قَدْ بَعَثَ لَکُمْ طَالُوتَ مَلِکاً }(البقرہ ۲۴۷)
    ان کے نبی نے ان سے کہا اللہ نے تمہارے لئے طالوت کو بودشاہ مقرر کیا ہے
    ان حوالہ جات سے واضح ہے کہ بادشاہت فی نفسہ بری چیز نہیں۔ جو بادشاہ اللہ تعالیٰ کو قانون ساز تسلیم کرے پھر اس کے احکام پر خود بھی چلے اور لوگوں پر بھی ان احکام کو نافذ کرے تو یقینا وہ ’’الامیر‘‘اور ’’خلیفۃ المسلمین‘‘ہی کے حکم میںہے۔
    ۷۔۔۔رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ بنی اسرائیل کی سیاست انبیاء کیا کرتے تھے جب ایک نبی فوت ہوتا تو دوسرا نبی اس کا جانشین بن جاتا اور میرے بعد کوئی نبی نہیں اور میرے بعد خلفاء ہوں گے اور بہت ہوں گے۔ (بخاری۳۴۵۵، مسلم۱۸۴۲)
    جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ ﷺنے فرمایا کہ اسلام بارہ خلیفوں تک ہمیشہ قوی رہے گا اور وہ سب قریش میں سے ہیں ۔ (بخاری۷۲۲۲ و مسلم۱۸۲۱)
    اس حدیث نے وضاحت کردی کہ خلافت صرف چار خلفاء تک محدود نہیں۔ یقینا بنوامیہ اور بنو عباس کے حکمرانوں میں سے بہت سے خلفاء بھی تھے۔
    عبداللہ بن عمررضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا کہ خلافت ہمیشہ قریش میں رہے گی جب تک کہ ان میں دو آدمی باقی رہیں۔ (بخاری۳۵۰۱ و مسلم۱۸۲۰)
    ۸۔۔صحابہ کرام تابعین اور تبع تابعین کے بہترین ادوار میں مسلمانوں نے بنو امیہ اور بنو عباس کے حکمرانوں کی بیعت کی ان کی غلط بات کا انکار کیا لیکن جماعت اور امیر جماعت سے الگ نہ ہوئے۔ کیونکہ رسولﷺ نے ایسا کرنے کا حکم دیا۔
    آپ ﷺنے فرمایا ’’تم پر امیر ہوں گے ان کے بعض کام تم اچھے سمجھو گے اور بعض کو برا سمجھو گے جس نے ان کی غلط بات کا انکار کیا وہ بری ہوا اور جس نے ان کی بری بات کو مکروہ جانا وہ سالم رہا اور لیکن جو ان کی بری بات پر راضی ہوا اور ان کی پیروی کی (وہ نقصان میں رہا)‘‘ صحابہ کرام نے عرض کیا ’’کیا ہم ان سے لڑائی نہ کریں؟‘‘ فرمایا ’’نہیں جب تک وہ نماز پڑھیں۔ نہیں جب تک وہ نماز پڑھیں ‘‘۔(مسلم۱۸۵۴)
    رسول اللہ ﷺ نے فرمایاکہ جو شخص اپنے امیر میں کوئی ایسی چیز دیکھے جس کو وہ مکروہ سمجھتا ہے پس چاہئے کہ وہ صبر کرے کیونکہ جو شخص جماعت سے ایک بالشت بھی جدا ہوا اور اس حال میں مرگیا تو وہ جاہلیت کی موت مرے گا ۔ (بخاری ۷۰۵۳و مسلم۱۸۴۹)



    • حافظ  صلاح الدین یوسف حفظہ اللہ لکھتے ہیں:بات دراصل یہ ہے کہ اسلام میں اصل مطاع اور قانون ساز اللہ ہے۔ خلیفہ کا منصب نہ قانون سازی ہے نہ اس کی ہر بات واجب الاطاعت ہے۔ وہ اللہ کے حکم کا پابند اور اس کو نافذ کرنے والا ہے اور اس کی اطاعت بھی اسی شرط کے ساتھ مشروط ہے۔حکمرانی کا یہ اسلامی تصور پہلے چار خلفاء کے دل و دماغ میں جس شدت کے ساتھ جاگزیں تھا بعدمیں یہ تصور بتدریج دھندلاتا چلا گیا۔ اسی کیفیت کو بادشاہت کے نام سے تعبیر کیا گیا ہے ورنہ فی الواقع بادشاہت اسلام میں مذموم نہیں۔ عمر بن عبدالعزیزرحمہ اللہ اصطلاحی طور پر بادشاہ ہی تھے یعنی طریقہ ولی عہدی ہی سے خلیفہ بنے تھے لیکن اپنے طرزِ حکمرانی کی بناء پر اپنا نیک نام چھوڑ گئے۔ اسی طرح اسلامی تاریخ میں اور بھی متعدد بادشاہ ایسے گزرے ہیں جن کے روشن کارناموں سے تاریخ اسلام کے اوراق مزین اور جن کی شخصیتیں تمام مسلمانوں کی نظروں میں محمود و مستحسن ہیں … پھر یہ بات بھی سمجھنے کی ہے کہ اسلام میں فی نفسہٖ بادشاہت کوئی مذموم شے نہیں۔ صرف وہ بادشاہت مذموم ہے جو اللہ اور رسول کی بتلائی ہوئی حدود سے ناآشنا ہو جس طرح ہمارے دور کے حکمران ہیں۔ موجودہ حکمرانوں کو اگر کوئی شخص ’’امیرالمومنین‘‘ کا لقب بھی دیدے تب بھی وہ مشرف بہ اسلام نہیں ہوسکتے۔ اللہ کی نظروں میں وہ مبغوض ہی ہیں تاآنکہ وہ اللہ کو مطاع حقیقی اور قانون ساز تسلیم کرکے اپنے آپ کو اس کے احکامات کا پابند اور ان کو نافذ کرنے کی کوشش نہ کریں۔ (خلافت و ملوکیت کی شرعی حیثیت صفحہ399)


انسان الله کا خلیفہ ہے ! حصہ: اول

انسان الله کا خلیفہ ہے !( حصہ: اول )

رشاد باری تعالیٰ ہے :
”ولقد کرمنا بنی آدم وحملنھم فی البر والبحر ورزقنھم من الطیبت وفضلنھم علی کثیر ممن خلقنا تفضیلا “ (سورة الاسراء ،۷۰)
ترجمہ: ” اور ہم نے آدم کی اولا دکو عزت دی اور ہم نے ان کو خشکی اور دریا میں سوار کیا اور نفیس نفیس چیزیں ان کو عطافرمائیں اور ہم نے ان کو بہت سی مخلوقات پر فوقیت دی“۔
اس کے ساتھ ہی اللہ جل شانہ نے انسان کو اشرف المخلوقات کا درجہ عطا فرماکر انسان کو خلافت سے بھی نوازا اور فرشتوں کے سامنے اعلان فرمادیا :
”واذقال ربک للملئکة انی جاعل فی الارض خلیفة “ (سورةالبقرة،۳۴)
ترجمہ: ”اورجس وقت آپ کے رب نے فرشتوں کے سامنے ارشاد فرمایا کہ ضرور میں بناوٴں گا زمین پر ایک نائب“۔ 

انسان کے لیے کائنات کو تسخیر کیا گیا !
اسکے دو درجات ہیں !
١. خلافت عقلی : بقول وحید الدین خان،
کائنات اک بہت بڑی کتاب کی مانند ہمارے سامنے پھیلی ہوئی ہے مگر یہ اک ایسی انوکھی کتاب ہے جس کے کسی صفحہ پر اس کا موضوع اور اسکے مصنف کا نام تحریر نہیں اگر چہ اس کتاب کا اک اک حرف یہ بول رہا ہے کہ اس کا موضوع کیا ہوسکتا ہے اور اسکا مصنف کون ہے – جب کوئی شخص آنکھ کھولتا ہے اور دیکھتا ہے کہ وہ اک وسیع و عریض کائنات کے درمیان کھڑا ہے تو بالکل قدرتی طور پر اس کے ذہن میں سوال آتا ہے کہ ---- " میں کون ہوں اور یہ کائنات کیا ہے –" وہ اپنے آپ کو اور کائنات کو سمجھنے کیلئے بے چین ہوتا ہے اپیہ فطرت میں سموئے ہوئے اشارات کو پڑھنے کی کوشش کرتا ہے دنیا میں وہ جن حالات سے دوچار ہورہا ہے چاہتا ہے کہ وہ انکے حقیقی اسباب معلوم کرے غرض اس کے ذہن میں بہت سے سولات اٹھتے ہیں جنکا جواب معلوم کرنے کیلئے وہ بیقرار رہتا ہے مگر وہ نہیں جانتا کہ اس کا جواب کیا ہوسکتا ہے یہ سوالات محض فلسفیانہ قسم کے سوالات نہیں ہیں بلکہ یہ انسان کی فطرت اور اسکے حالات کا قدرتی نتیجہ ہیں – یہ ایسے سوالات ہیں جن سے دنیا میں تقریبا ہر شخص کو اک بار گزرنا ہوتا ہے – جن کا جواب نہ پانے کی صورت میں کوئی پاگل ہوجاتا ہے ،کوئی خودکشی کرلیتا ہے ،کسی کی ساری زندگی بے چینیوں میں گذرجاتی ہے اور کوئی اپنے حقیقٰی سوال کا جواب نہ پاکر دنیا کی دلچسپیوں میں کھوجاتا ہے اور چاہتا ہے اسی میں گم ہوکر اس ذہنی پریشانی سے نجات حاصل کرے – وہ جو کچھ حاصل کرسکتا ہے اسکو حاصل کرنے کی کوشش میں اسکو بھلا دیتا ہے جس کو وہ حاصل نہ کرسکا -

یہ عمل قیامت تک جاری رہے گا ،
علامہ کہتے ہیں !وہ حرف راز کہ مجھ کو سکھا گیا ہے جنوں
خدا مجھے نفس جبرئیل دے تو کہوں
ستارہ کیا مری تقدیر کی خبر دے گا
وہ خود فراخی افلاک میں ہے خوار و زبوں
حیات کیا ہے ، خیال و نظر کی مجذوبی
خودی کی موت ہے اندیشہ ہائے گونا گوں
عجب مزا ہے ، مجھے لذت خودی دے کر
وہ چاہتے ہیں کہ میں اپنے آپ میں نہ رہوں
ضمیر پاک و نگاہ بلند و مستی شوق
نہ مال و دولت قاروں ، نہ فکر افلاطوں
سبق ملا ہے یہ معراج مصطفی سے مجھے
کہ عالم بشریت کی زد میں ہے گردوں
یہ کائنات ابھی ناتمام ہے شاید
کہ آرہی ہے دما دم صدائے ‘کن فیکوں’
علاج آتش رومی کے سوز میں ہے ترا
تری خرد پہ ہے غالب فرنگیوں کا فسوں
٢ . خلافت تکوینی  !
یعنی مادی اصولوں کے خلاف غیر مادی اسباب سے تسخیر اسباب جسکو معجزہ یا کرامت کہینگے ،
شیخ صالح الفوزان حفظہ اللہ فرماتے ہیں:
لغت کے اعتبار سے"کرامات" لفظ "کرامۃ" کی جمع ہے، جس کا معنی ہے "خارقِ عادت امر" یعنی انسانوں میں معلوم ومعروف امر کے برعکس امر کا وقوع۔
کرامت کی شرعی تعریف
شرعی اصطلاح میں کرامت سے مراد وہ خرق ِعادت امور جنہیں اللہ تعالی اپنے اولیاء کے ہاتھوں پر جاری فرماتا ہے۔
ولی کی شرعی تعریف
"الاولیاء" لفظ "ولی" کی جمع ہے۔ اور ولی (ہر) مومن ومتقی شخص کو کہتے ہیں۔ جیسا کہ اللہ تعالی کا فرمان ہے:
أَلَا إِنَّ أَوْلِيَاءَ اللَّهِ لَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ (62) الَّذِينَ آمَنُوا وَكَانُوا يَتَّقُونَ

(یونس: 62-63)
(یاد رکھو اللہ تعالی کے دوستوں (اولیاء اللہ) پر نہ کوئی اندیشہ ہے اور نہ وہ غمگین ہوتے ہیں۔ یہ وہ ہیں کہ جو ایمان لائے اور (برائیوں) سے پرہیز کرتے ہیں یعنی تقوی اختیار کرتے ہیں)
شیخ الاسلام امام ابن تیمیہؒ نے فرمایا: ‘‘اہل سنت کے (عقیدے کے) اصول میں سے یہ بات بھی ہےکہ کرامات اولیاء اور جو خرقِ عادت امور، مختلف علوم ومکاشفات اور مختلف قسم کی قدرتوں اور تأثیرات کے حوالے سے ان کے ہاتھوں رونما ہوتے ہیں، کی تصدیق کی جائے۔ اسی طرح سے سابقہ امت سے سورۂ کہف وغیرہ میں جو منقول ہے اور اس امت کے اول طبقہ صحابہ کرام، تابعین y اور امت کے دیگر افراد سے جو کرامات منقول ہیں، کی تصدیق کی جائے۔ اور یہ کرامات اس امت میں قیامت تک موجود رہیں گی’’۔



خلافت بہ معنا حکومت !


'' یقینا میں زمین میں ایک نائب بنانے والا ہوں۔''

امام قرطبی اس آیت کی تفسیر کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

۲۔(ہٰذِہ الاٰیةُ اَصْل فِی نَصْبِ اَمِامٍ وَخَلَیفة یُسْمَعُ لہُ ویْطَاعْ لتجتمع بہ الکلمة وتَنْفُذُ بِہ احکام الخَلِیْفَةِ ولا خلافَ فیِ وُجُوبِ ذٰلِکَ بَیْنَ الأمةولَابَیْنَ الأئمة )[الجامع لاحکام القرآن١/٢٥١]

'' یہ آیت امام و خلیفہ کے تقرر کے بارے میں قاعدہ کلیہ کی حیثیت رکھتی ہے۔ ایسا امام جس کی بات سنی جائے اور اس کی اطاعت کی جائے تاکہ کلمہ (اسلام کی شیرازہ بندی) اس سے مجتمع رہے اور خلیفہ کے احکام نافذ ہوں۔ امت اور آئمہ میں خلیفہ کے تقرر کے واجب (فرض کفایہ) ہونے میں کوئی اختلاف نہیں ہے۔'
انبیاء علیہم السلام کی بعثت ایسے وقت میں ہوتی ہے جبکہ دنیا میں ظلمت اور تاریکی کا دور دورہ ہوتا ہے اور’’ظھر الفساد فی البر والبحر‘‘ کی کیفیت ہوتی ہے۔ انبیاء علیہم السلام کی بعثت کے طفیل اللہ تعالیٰ ان ظلمتوں اور اندھیروں کو اپنے نور کے ذریعہ زائل کرتا ہے اور ایمان لانے والی اور عمل صالح کرنے والی جماعتیں کھڑی کر دیتا ہے۔ 



  •  قرآن کریم میں جہاں جہاں خلیفہ کا لفظ استعمال ہوا ہے اس کے بعد الارض کا لفظ بھی ضرور آیا ہے اور "إِنِّي جَاعِلٌ فِي الْأَرْضِ خَلِيفَةً" سے ثابت ہوا ہے کہ خدائے تعالیٰ نے آدمی یعنی بنی آدم کو زمین میں خلیفہ بنایا ہے ،بنی آدم کا اشرف المخلوقات ہونا ظاہر اور نوع انسان کا زمینی مخلوقات پر حکمراں ہونا عیاں ہے پس یہ خلافت انسان کی جو زمین کے ساتھ مخصوص ہے یقیناً خلافت الٰہیہ ہے اور نوع انسان خلیفۃ اللہ ؛لیکن خدائے تعالیٰ کی ذات جو سب کی خالف ومالک ہے،اس سے بہت اعلیٰ وارفع ہے کہ من کل الوجوہ کوئی مخلوق چاہے وہ اشرف المخلوقات ہی کیوں نہ ہو اس کی جانشین یعنی خلیفہ ہوسکے پس نوع انسان کی خلافت الہیہ من وجہ تسلیم کرنی پڑے گی اور وہ بجز اس کے اورکچھ نہیں ہوسکتی کہ جس طرح خدائے تعالیٰ تمام موجودات مخلوقات کا حقیقی حکمراں اورشہنشاہ ہے اسی طرح زمین میں صرف نوع انسان ہی تمام دوسری مخلوقات پر بظاہر حکمراں نظر آتی ہے اور ہر چیز اورہر زمینی مخلوق سے اپنی فرماں برداری انسان کرالیتا ہے


انبیا کی خلافت !
''لَقَدْ اَرْسَلْنَا رُسُلَنَا بِالْبَےِّنٰتِ وَاَنْزَلْنَامَعَھُمُ الْکِتٰبَ وَالْمِےْزَانَ لِےَقُوْمَ النَّاسُ بِا لْقِسْطِ۔۔۔'' ٢
''اور ہم نے اپنے انبیاء کو واضح نشانیاں دے کر بھیجا اور ان کے ساتھ کتاب (قانون ) اور میزان (عدالت )کو بھی نازل کر دیا تاکہ لو گوں میں انصاف کو قائم کریں ''
انبیا کا مقام پوری امّت سے بالاتر ہوتا ہے اسلئے انبیا کے بعد خلافت امتوں تفویض ہوتی ہے !

 وَعَدَ اﷲ ُالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا مِنْکُمْ وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَيَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِی الْاَرْضِ کَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ وَلَيُمَکِّنَنَّ لَهُمْ دِيْنَهُمُ الَّذِی ارْتَضٰی لَهُمْ وَلَيُبَدِّلَنَّهُمْ مِّنْ بَعْدِ خَوْفِهِمْ اَمْنًا يَعْبُدُوْنَنِیْ لَا يُشْرِکُوْنَ بِیْ شَيْئًا وَمَنْ کَفَرَ بَعْدَ ذٰلِكَ فَاُولٰۤئِكَ هُمُ الْفٰسِقُوْنَ. (نور ٢٤:٥٥)'' تم میں سے جو لوگ ایمان لائے اور جنھوں نے نیک عمل کیے، ان سے اللہ کا وعدہ ہے کہ وہ ان کو اس ملک میں اقتدار عطا فرمائے گا۔جس طرح اس نے ان لوگوں کو عطا فرمایا جو ان سے پہلے گزرے اور ان کے اس دین کو مضبوطی سے قائم کردے گا جو اس نے ان کے لیے پسند فرمایااور ان کے خوف کو امن سے بدل دے گا۔ وہ میری ہی عبادت کریں گے اور کسی چیز کو میرے ساتھ شریک نہ کریں گے۔اور جو اس کے بعد پھر منکر ہوں گے وہی ہیں جو نافرمان ٹھیریں گے۔ ''
خلافت راشدہ !

''اللہ کے جو پیغمبر بھی اس دنیا میں آئے،قرآن سے معلوم ہوتا ہے کہ اسی دعوت الی اللہ اور انذار و بشارت کے لیے آئے۔ سورہ بقرہ کی آیت 'کان الناس امة واحدة فبعث اللّة النبيين مبشرين و منذرين ' میں یہی بات بیان ہوئی ہے۔ ان نبیوں میں سے اللہ تعالیٰ نے جنھیں رسالت کے منصب پر فائز کیا،ان کے بارے میں البتہ، قرآن بتاتا ہے کہ وہ اس انذار کو اپنی قوموں پر شہادت کے مقام تک پہنچا دینے کے لیے بھی مامور تھے۔ قرآن کی اصطلاح میں اس کے معنی یہ ہیں کہ حق لوگوں پر اس طرح واضح کر دیا جائے کہ اس کے بعد کسی شخص کے لیے اس سے انحراف کی گنجایش نہ ہو: 'لئلا يکون للناس علی اللّٰه حجة بعد الرسل' ( تاکہ رسولوں کے بعد لوگوں کے لیے اللہ کے سامنے کوئی عذر پیش کرنے کے لیے باقی نہ رہے )۔ اس کی صورت یہ ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ ان رسولوں کو اپنی دینونت کے ظہور کے لیے منتخب فرماتے اور پھر قیامت سے پہلے ایک قیامت صغریٰ ان کے ذریعے سے اسی دنیا میں برپا کر دیتے ہیں۔ انھیں بتا دیا جاتا ہے کہ وہ خدا کے ساتھ اپنے میثاق پر قائم رہیں گے تو اس کی جزا اور اس سے انحراف کریں گے تو اس کی سزا انھیں دنیا ہی میں مل جائے گی۔ اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ان کا وجود لوگوں کے لیے ایک آیت الٰہی بن جاتا ہے اور وہ خدا کو گویا ان کے ساتھ زمین پر چلتے پھرتے اور عدالت کرتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ یہی شہادت ہے۔ یہ جب قائم ہو جاتی ہے تو جن کے ذریعے سے قائم ہوتی ہے، اللہ تعالیٰ انھیں غلبہ عطا فرماتے اور ان کی دعوت کے منکرین پر اپنا عذاب نازل کر دیتے ہیں۔''(قانون دعوت 
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت مختلف مراحل طے کرتے ہوئے، جب اپنے اتمام کو پہنچی تو عرب کی سر زمین سیاسی اعتبار سے ایک ریاست کی صورت اختیار کر چکی تھی۔ قبل ازیں عرب قبائل اپنے اپنے علاقوں میں خود مختار حیثیت سے رہتے تھے۔اگرچہ ان میں رہن سہن، رسوم ورواج، لباس وطعام اور مذہبی عقائد و اعمال کااشتراک تھا، لیکن یہ اشتراک انھیں کسی سیاسی وحدت میں تبدیل کرنے میں ناکام رہا تھا۔ہماری مراد یہ ہے کہ وہ کسی ایک سیاسی یا اجتماعی نظام میں جڑے ہوئے نہیں تھے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کی کامیابی کے دو پہلو ہیں۔ ایک یہ کہ آپ کی اٹھائی ہوئی دینی اور اخلاقی اصلاح کی تحریک بڑے پیمانے پر کامیاب ہوئی۔ دوسرا یہ کہ عرب منتشر اور متفرق گروہوں میں منقسم نہیں رہے، بلکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سربراہی میں ایک سیاسی وحدت کی صورت اختیار کر گئے۔

شرائط خلافت !
نبیﷺ کا ارشاد ہے کہ
مَا بَالُ رِجَالٍ یَشْتَرِطُوْنَ شُرُوْ طًا لَیْسَتْ فِیْ کِتَابِ اللّٰہِ مَا کَانَ مِنْ شَرْطٍ لَیْسَ فِیْ کِتَابِ اللّٰہِ فَھُوَ بَاطِلٌ وَ اِنْ کَانَ مِائَۃَ شَرْطٍ قَضَاءُ اللّٰہِ اَحَقُّ وَ شَرْطُ اللّٰہ اَوْثَقُ
لوگوں کو کیا ہو گیا ہے کہ وہ ایسی شرطیں لگاتے ہیں جن کا اللہ کی کتاب میں پتہ نہیں۔ جو شرط اللہ کی کتاب میں نہ ہو وہ باطل ہے اگرچہ ایسی سو شرطیں بھی ہوں ۔ اللہ ہی کا حکم حق ہے اور اللہ ہی کی شرط پکی ہے ۔ ( بخاری ،کتاب البیوع۔ ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا)
 عاقل و بالغ ہو
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ !
وَلَا تُؤْتُوا السُّفَھَآءَ اَمْوَالَکُمُ الَّتِیْ جَعَلَ اللّٰہُ لَکُمْ قِیٰمًا وَّارْزُقُوْھُمْ فِیْھَا وَاکْسُوْھُمْ وَقُوْلُوْا لَھُمْ قَوْلًا مَّعْرُوْفًا ﴿﴾ وَابْتَلُوا الْیَتٰمٰی حَتّٰٓی اِذَا بَلَغُوْا النِّکَاحَ فَاِنْ اٰنَسْتُمْ مِّنْھُمْ رُشْدًا فَادْفَعُوْآ اِلَیْھِمْ اَمْوَالَھُمْ 
اور نہ دو کم عقلوں کو اپنے مال جس کو بنایا اللہ نے تمہارے لیے ذریعہ گزران اور کھلاؤ انہیں اس میں سے اور پہناؤ بھی اور سمجھاؤ انہیں اچھی بات۔ اور جانتے پرکھتے رہو یتیموں کو یہاں تک کہ جب پہنچ جائیں نکاح کی عمر کو ، پھر اگر تم پاؤ ان میں عقل کی پختگی تو دے دو ان کو مال ان کے۔ (۴:النساء۔۵،۶)
درج بالا آیات میں یتیموں کوان کے مال صرف اس وقت حوالے کرنے کا حکم نکلتا ہے جب وہ عاقل و بالغ ہو جائیں۔ جب کسی کو اس کا مال اس وقت تک نہیں دیا جا سکتا جب تک کہ وہ عاقل و بالغ نہ ہو جائے تو اہل ِ ایمان کی سیاست کی ذمہ داری کسی ایسے فردکو کیونکر دی جا سکتی ہے جو عاقل و بالغ نہ ہو۔ اس سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ خلیفہ صرف اسی کو بنایا جائے گا جو عاقل و بالغ ہو ۔
 خلافت کی خواہش سے بے نیاز ہو
جیسا کہ نبیﷺ کا ارشاد ہے کہ!
تَجِدُوْنَ النَّاسِ مَعَادِنَ فَخِیَارُھُمْ فِی الْجَاہِلِیَّۃِ خِیَارُھُمْ فِی الْاِسْلَامِ اِذَا فَقُھُوْا وَ تَجِدُوْنَ مِنْ خَیْرِ النَّاسِ فِی ھٰذَا الْاَمْرِ اَکْرَھُھُمْ لَہ‘ قَبْلُ اَنْ یَّقَعَ فِیْہِ 
تم لوگوں کو معدن (معدنی کان سے نکلی ہوئی چیز) کی مانند پاؤ گے جو جاہلیت میں اچھا ہوتا ہے وہی اسلام میں بھی اچھا ہوتا ہے جب وہ دین کی سمجھ پیدا کرلے اور تم اس امر(خلافت) کے لیے وہی آدمی زیادہ موزوں پاؤ گے جو اس کو بہت بری چیز خیال کرے تا آنکہ ایسا شخص خلیفہ بنا دیا جائے۔ 
 مرد ہو
نبیﷺ کا ارشاد ہے کہ!
لَنْ یُّفْلِحَ قَومٌ وَلَّوْا اَمْرَھُمْ اِمْرَاَۃً
وہ قوم کبھی فلاح نہیں پاسکتی جو عورت کو اپنا حاکم بنائے۔ 
(بخاری ،کتاب المغازی ۔ابو بکرہ رضی اللہ عنہ)
 اہل ِ ایمان میں سے ہو 
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ ! 
یٰٓاَ یُّھَاا لَّذِیْنَ اٰمَنُوْ ٓا اَطِیْعُوا اللّٰہَ وَ اَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ وَاُولِی ا لْاَ مْرِ مِنْکُمْ 
اے ایمان والو اطاعت کرو اللہ کی اور اطاعت کرو رسول کی اور صاحبانِ امر کی جو تم (اہل ایمان) میں سے ہوں۔ 
(۴:النساء ۔ ۵۹)
اک اور اہم معاملہ قرشی ہونے کا ہے !
نبیﷺ کے ارشادات ہیں کہ!
اَلاَئِمَّۃُ مِنْ قُرَیْشٍ
امامت قریش میں رہے گی۔ (احمد: باقی مسند المکثرین۔ انس بن مالک رضی اللہ عنہ) 
لَا یَزَالُ ھٰذَا الْاَمْرُ فِیْ قُرَیْش ٍمَا بَقِیَ مِنْھُمُ اثْنَان ِ
یہ خلافت ہمیشہ قریش میں رہے گی بے شک ان (قریش ) میں سے دو ہی آدمی باقی رہ جائیں۔
(بخاری ،کتاب الاحکام ۔عبداللہ بن عمررضی اللہ عنہ)
لَا یَزَالُ ھٰذَا الْاَمْرُ فِیْ قُرَیْش ٍمَا بَقِیَ مِنَ النَّاسِ اثْنَانِ
یہ خلافت ہمیشہ قریش میں رہے گی بے شک انسانوں میں سے دو ہی آدمی باقی رہ جائیں۔ 
(مسلم:کتاب الامارۃ۔ عبداللہ رضی اللہ عنہ)
اِنَّ ھٰذَا الْاَمْرَ فِیْ قُرَیْشٍ لَا یُعَادِیْھِمْ اَحَدَ اِلَّا کَبَّہُ اللّٰہُ عَلَی وَجْھِہٖ مَٓا اَ قَامُوْا الدِّیْنَ
یہ خلافت قریش میں رہے گی جب تک وہ دین کو قائم رکھیں گے اور جو کوئی ان سے دشمنی کرے گا اللہ اس کو اوندھے منہ جہنم میں گرائے گا۔ ( بخاری: کتاب الاحکام۔امیر معاویہ رضی اللہ عنہ)
حدیث بالا سے عام طور پر لوگ یہ سمجھ لیتے ہیں کہ جب قریش دین کو قائم نہ رکھیں گے تو خلافت ان سے چھن کر غیر قریشیوں کے سپرد ہو جائیگی لیکن جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے یہ ارشادات واضح ہیں کہ ’’یہ خلافت ہمیشہ قریش میں رہے گی‘‘ اس بنا پر آپ کے اس ارشاد کہ ’’ یہ خلافت قریش میں رہے گی جب تک وہ دین کو قائم رکھیں گے‘‘ کا صاف مطلب یہ سامنے آتا ہے کہ جب قریش دین کو قائم نہ رکھ سکیں گے تو خلافت سرے ہی سے ختم ہو جائیگی نہ کہ غیر قریش کو منتقل ہو جائیگی درج بالا احادیث سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ غیر قریشی کی خلافت غیر شرعی ہو گی۔
ہنگامی حالات !
حبشی غلام کی خلافت کا مسئلہ 
نبی ﷺ کے ارشادات ہیں کہ!
اِسْمَعُوْا وَ اَطِیْعُوْا وَ اِنِ اسْتُعْمِلَ عَلَیْکُمْ عَبْدٌ حَبَشِیٌ کَانَ رَأَسُہ‘ زَبِیْبَۃٌ
حکم سنو اور اس کی اطاعت کرو بے شک تم پر ایک حبشی غلام مقرر کیا جائے جس کا سر منقے کی طرح ہو۔
(بخاری:کتاب الاحکام۔ انس بن مالک رضی اللہ عنہ)
اِنْ اُمِّرَ عَلَیْکُمْ عَبْدٌ مُجَدَّعٌحَسِبْتُھَا قَالَتْ اَسْوَدُ یَقُوْدُکُمْ بِکِتَابِ اللّٰہِ فَاسْمَعُوْا لَہٗ وَاَطِیْعُوْا۔
اگر تمہارے اوپر ہاتھ پاؤں کٹا کالا غلام بھی امیر بنایا جائے اور وہ تمہیں کتاب اللہ کے ساتھ چلائے تو اس کا حکم سنو اور اس کی اطاعت کرو۔ ( مسلم: کتاب الامارۃ ۔جدت یحیٰ بن حصین رضی اللہ عنہا)
بعض لوگ نبیﷺ کے درج بالا ارشاد ات کی بنا پرغیر قریشی کے علاوہ کسی غلام کو بھی خلیفہ بنانا جائز سمجھتے ہیں ۔جبکہ آپﷺ کے ارشادات کو غور سے پڑھنے سے بات بالکل واضح ہو جاتی ہے کہ آپ نے اسْتَعْمِلَ(استعمال کیا جائے) اور اُمِّرَ( امیرمقرر کیا جائے ) کے الفاظ استعمال کیے ہیں۔جو اس بات کو واضح کرتے ہیں کہ اس استعمال کیے جانے والے یا مقرر کیے جانے والے امیرکے پس منظر میں اس سے بھی بڑی کوئی ایسی اتھارٹی موجود ہے جو اس کو استعمال کر رہی ہے یا امیرمقرر کر رہی ہے اور یہ بات طے ہے کہ کتاب و سنت میں امت کے اندر اللہ کے بعد سب سے بڑی اتھارٹی نبی کی ہوتی ہے اور اُس کے بعد خلیفہ کی جو امیر مقرر کرتی ہے جیسا کہ ذیل کی حدیث سے واضح ہوتا ہے ۔ 
بَعَثَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ سَرِیَّۃً وَاسْتَعْمَلَ عَلَیْہِمْ رَجُلًا مِّنَ الْاَنْصَارِ وَاَمَرَ ھُمْ اَنْ یَّسْمَعُوْا لَہٗ وَ یُطِیْعُوْ ہُ 
رسول اللہ ﷺ نے ایک لشکر بھیجا اور اس پر ایک انصاری کو امیر مقررکیا اور لوگوں کو اس کا حکم سننے اور اس کی اطاعت کرنے کا حکم دیا ۔ (مسلم :کتاب الامارۃ۔علی رضی اللہ عنہ)
درج بالا احادیث سے یہ بات بھی واضح ہو جاتی ہے کہ مقرر کیا جانے والا امیرخلیفہ نہیں بلکہ خلیفہ کی طرف سے مقرر کیا جانے والا کوئی ذیلی حاکم (سپہ سالار یا کسی صوبے یا محکمے کا امیر) ہے جو غیر قریشی بھی ہو سکتا ہے اور غلام بھی لیکن وہ خلیفہ نہیں ہوسکتا ۔ 
حبشی غلام کی خلافت کا مسئلہ 
نبی ﷺ کے ارشادات ہیں کہ!
اِسْمَعُوْا وَ اَطِیْعُوْا وَ اِنِ اسْتُعْمِلَ عَلَیْکُمْ عَبْدٌ حَبَشِیٌ کَانَ رَأَسُہ‘ زَبِیْبَۃٌ
حکم سنو اور اس کی اطاعت کرو بے شک تم پر ایک حبشی غلام مقرر کیا جائے جس کا سر منقے کی طرح ہو۔
(بخاری:کتاب الاحکام۔ انس بن مالک رضی اللہ عنہ)
اِنْ اُمِّرَ عَلَیْکُمْ عَبْدٌ مُجَدَّعٌحَسِبْتُھَا قَالَتْ اَسْوَدُ یَقُوْدُکُمْ بِکِتَابِ اللّٰہِ فَاسْمَعُوْا لَہٗ وَاَطِیْعُوْا۔
اگر تمہارے اوپر ہاتھ پاؤں کٹا کالا غلام بھی امیر بنایا جائے اور وہ تمہیں کتاب اللہ کے ساتھ چلائے تو اس کا حکم سنو اور اس کی اطاعت کرو۔ ( مسلم: کتاب الامارۃ ۔جدت یحیٰ بن حصین رضی اللہ عنہا)
بعض لوگ نبیﷺ کے درج بالا ارشاد ات کی بنا پرغیر قریشی کے علاوہ کسی غلام کو بھی خلیفہ بنانا جائز سمجھتے ہیں ۔جبکہ آپﷺ کے ارشادات کو غور سے پڑھنے سے بات بالکل واضح ہو جاتی ہے کہ آپ نے اسْتَعْمِلَ(استعمال کیا جائے) اور اُمِّرَ( امیرمقرر کیا جائے ) کے الفاظ استعمال کیے ہیں۔جو اس بات کو واضح کرتے ہیں کہ اس استعمال کیے جانے والے یا مقرر کیے جانے والے امیرکے پس منظر میں اس سے بھی بڑی کوئی ایسی اتھارٹی موجود ہے جو اس کو استعمال کر رہی ہے یا امیرمقرر کر رہی ہے اور یہ بات طے ہے کہ کتاب و سنت میں امت کے اندر اللہ کے بعد سب سے بڑی اتھارٹی نبی کی ہوتی ہے اور اُس کے بعد خلیفہ کی جو امیر مقرر کرتی ہے جیسا کہ ذیل کی حدیث سے واضح ہوتا ہے ۔ 
بَعَثَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ سَرِیَّۃً وَاسْتَعْمَلَ عَلَیْہِمْ رَجُلًا مِّنَ الْاَنْصَارِ وَاَمَرَ ھُمْ اَنْ یَّسْمَعُوْا لَہٗ وَ یُطِیْعُوْ ہُ 
رسول اللہ ﷺ نے ایک لشکر بھیجا اور اس پر ایک انصاری کو امیر مقررکیا اور لوگوں کو اس کا حکم سننے اور اس کی اطاعت کرنے کا حکم دیا ۔ (مسلم :کتاب الامارۃ۔علی رضی اللہ عنہ)
درج بالا احادیث سے یہ بات بھی واضح ہو جاتی ہے کہ مقرر کیا جانے والا امیرخلیفہ نہیں بلکہ خلیفہ کی طرف سے مقرر کیا جانے والا کوئی ذیلی حاکم (سپہ سالار یا کسی صوبے یا محکمے کا امیر) ہے جو غیر قریشی بھی ہو سکتا ہے اور غلام بھی لیکن وہ خلیفہ نہیں ہوسکتا ۔ 




پیر، 12 نومبر، 2012

غزل

                                                                غزل 


مجھ   سے   بچھڑ کر جان    جاناں تمکو کوئی غم تو نہیں ہے 
میری   پلکیں   ہی   بھیگی ہیں   آنکھ تمہاری نم تو  نہیں ہے !

وحشت دل  ،  بے درد    زمانہ ،  اور  دہکتی     تنہائی   ہے   
اک  غزل  کے  ہو   جانے   کو یہ موقع کچھ کم تو نہیں ہے !

اتنے   برس   کے   بعد   بھی   اسنے آج  ہمیں پہچان لیا ہے 
اسکی آنکھوں،  میں جو لکھا ہے  کچھ اتنا مبہم تو نہیں ہے !

لوگوں   نے  بیکار   میں  ہمکو   لوگوں میں   بدنام   کیا ہے 
اسکی   گلی میں    آنا جانا   کچھ   اتنا   پیہم   تو   نہیں ہے !

اسکے   ہاتھ کی   ریکھاؤں   میں   اب  بھی شاید نام ہے میرا 
ہجرکےدھارےمیں ہی کہیں پروصل کااک سنگم تو نہیں ہے !

سرد   ہوا   برسات  برستی   گھور اندھیرے   کا   عالم   ہے 
آج   یہیں   پر   رک   جاؤ   تم   جانے  کا موسم تو نہیں ہے !

پھر   اسکے   دیدار   کو   احمد    دل   اپنا    بیتاب    ہوا ہے 
لیکن   اسکے   گھر   کی مسافت کچھ اتنی بھی کم تو نہیں ہے !

حسیب احمد حسیب 

ہفتہ، 10 نومبر، 2012

عافیہ کے نام معذرت نامہ !








عافیہ کے نام معذرت نامہ !

قوم کی بیٹی ہمیں افسوس ہے 
کفر کے پنجہ میں تیری جان ہے 
ٹوٹتی ہیں روز تجھ پر ظلمتیں 
دور تجھسے ہو گئی ہیں نعمتیں 
ہم کو تیری مشکلوں پر دکھ تو ہے 
کیا کریں پر ہم بڑے معذور ہیں 
ہم کو اپنی زندگی سے پیار ہے 
تیری نصرت آج ہم پر بار ہے !
حسیب احمد حسیب